منفی سوچ کیسے ختم کی جائے ۔۔۔ قاسم علی شاہ


’’اگر تم اپنی زندگی بدلنا چاہتے ہو تو سب سے پہلے تمہیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا!‘‘

لاطینی کہاوت


سوچ۔۔۔ انسانی زندگی کے اہم ترین عوامل میں سے ہے۔ آپ ویسے ہی ہیں جیسی آپ کی سوچ ہے۔ لہٰذا، سوچ کے طریقہ کار کو سمجھنا اور اسے قابو میں رکھنے کا فن سیکھنا بہت ضروری ہے۔ کامیابی کے ماہرین آج سوچ کی اہمیت سے واقف ہیں، اس لیے اس وقت خود نموئی (پرسنل ڈیویلپمنٹ) کے موضوع پر جتنا کام ہورہا ہے، اس میں سب سے زیادہ تحقیق سوچ پر کی جارہی ہے۔
منفی سوچ کیوں پیدا ہوتی ہے
سوچ دو طرح کی ہوتی ہے۔ مثبت سوچ اور منفی سوچ۔ ہم یہاں منفی سوچ کی بات کریں گے۔ سوچ منفی اس لیے ہوتی ہے کہ آدمی کو سوچنا نہیں آتا۔ اگر سوچنا آجائے تو مثبت اور منفی سوچ کا آپشن مل جاتا ہے۔ عام طور پر، ہمارے پاس ایک ہی انتخاب (آپشن) ہوتا ہے، اوروہ منفی سوچ ہے۔ اس وجہ سے ہم ہمیشہ منفی سوچتے رہتے ہیں۔
منفی سوچ کی ایک بہت بڑی وجہ ابتدائی زندگی کے واقعات و سانحات بھی ہیں۔ بعض حادثات ایسے ہوتے ہیں جن کے نتائج منفی ہوتے ہیں اور وہ فرد کی شخصیت پر گہرے منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ یہ اثرات آگے چل کر منفی سوچ کا ذریعہ بنتے ہیں۔ یہیں سے انسان شعوری یا لاشعوری طور پر منفی سوچنا شروع کردیتا ہے۔ پھر پندرہ بیس سال منفی سوچ سوچ کر منفی سوچنے کا ماہر بن جاتا ہے۔ اکثریت کے ساتھ ایسا ہے۔ چنانچہ منفی سوچنا آسان تر ہوجاتا ہے، جبکہ مثبت سوچ اختیار کرنا مشکل تر ہوتا ہے۔
اپنی زندگی کے پہلے بارہ پندرہ سال جس ماحول میں آدمی پرورش پاتا ہے، یعنی اس کا گھر بار بھی آدمی کے سوچ کا خاص انداز (Thought Pattern) تشکیل کرتے ہیں۔ یہ اندازِ خیال آدمی کی عمر کے ساتھ ساتھ پختہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک گھر کے تمام افراد کی سوچ میں عموماً مماثلت پائی جاتی ہے۔
فطرتاً سوچ مثبت ہوتی ہے اور نہ منفی
پیدائشی طور پر سوچ نہ مثبت ہوتی ہے اور نہ منفی ہوتی ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں بیان فرمایا گیا، ہر انسان فطری سوچ رکھتا ہے۔ پھر اس کا ماحول (والدین، اساتذہ، رشتے دار وغیرہ) اس کی فطری سوچ کو گہنا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا انسان پر خاص کرم ہے کہ اس نے انسان کی جبلت میں سیکھنا رکھا ہے۔ ہم کسی چیز کو پہلی بار سوچتے ہیں تو وہ کچھ اور طرح کی لگتی ہے، پھر سوچتے ہیں تو کچھ اور طرح کی ہوتی ہے۔ جب ایک شے کو بار بار سو چا جاتاہے تو اس کی ایک واضح صورت بن جاتی ہے۔ پھر اس کے متعلق سوچنا آسان ہوجاتا ہے اور پہلے سے بہتر بھی۔
پہلی سوچ کسی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ وہ کوئی واقعہ ہوسکتا ہے، کوئی حادثہ ہوسکتا ہے۔ اس واقعے یا اس حادثے کے متعلق جو بھی سوچ بنتی ہے، آدمی اسی طرح سوچنا شروع کردیتا ہے۔ یہی سوچ کا انداز ہے۔ بعض اوقات کوئی بولتا ہے تو ہم اس کی آواز سن کر ویسا ہی سوچنا شروع کردیتے ہیں۔ البتہ بار بار کا سوچنا سوچ کے عمل کو آسان کردیتا ہے، تاہم شرط یہ ہے کہ یہ سوچنا۔۔۔ شعوری ہو۔
منفی سوچ کا تازیانہ
عام طور پر ہمیں پتا ہی نہیں لگتا کہ کسی موضوع پر ہم غیر محسوس طور پر منفی ہوتے چلے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ٹی وی پر کسی شخصیت کے بارے میں کوئی غلط رائے پیش کی گئی۔ اب وہ رائے خواہ کتنی ہی غلط ہو، ہم اسے حقیقت تسلیم کرتے ہیں اور پھر ہر محفل، ہر موقع پر جب بھی اس شخصیت کے بارے میں کوئی ذکر چھیڑا گیا، ہم اسی غلط رائے کی بنیاد پر بحث شروع کردیتے ہیں۔ ہم Judgemental ہوجاتے ہیں۔
ہمارے اندر منفی سوچ کے راستے بنے ہوئے ہیں اور ہم انھیں کبھی روکنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم اپنی منفی سوچ کو مثبت بنانے کی خواہش کرتے ہیں اور نہ کوشش۔
سوچ پر صحبت کے اثرات
آدمی کی صحبت کا ہماری سوچ پر گہرے اثرات پڑتے ہیں۔ چنانچہ کسی منفی سوچ والے شخص کے پاس رہنے سے کچھ ہی عرصے میں آپ کی سوچ بھی منفی ہوجائے گی۔ جس کے ساتھ رہتے ہیں، اس کی سوچ کا اثر پڑتا ہے اور وہیں سے منفی سوچ قوی ہونا شروع ہوتی ہے۔ رفتہ رفتہ منفی سوچنا آسان ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہی معاملہ الٹ بھی ہوتا ہے۔ جب آدمی مثبت یا منفی سوچ کو ایک عرصے تک برقرار رکھتا ہے تو اس کے اندر کی شعاعیں بھی مثبت یا منفی ہوجاتی ہیں۔ اپنے دل، دماغ اور ذات کوشعوری طور پر مثبت رکھنا سیکھئے۔ جس طرح آدمی گھر میں کوڑاکرکٹ کو برداشت نہیں کرتا، یہ برداشت نہیں کرتا کہ اس کے گھر کا دروازہ کھلا رہے اور آوارہ کتا اس کے گھر میں داخل ہوجائے۔ جس طرح آدمی کسی غیر ضروری شے کو اپنے گھر میں لانا پسند نہیں کرتا، اسی طرح منفی سوچ بھی آپ کے ذہن میں نہیں آنے دینا چاہیے۔ یہ پتا ہونا چاہیے کہ اندر آنے والا خیال کیا ہے؟ کیا یہ مثبت ہے یا منفی؟ کیا یہ میرے بھلے کا ہے یا مجھے گمراہ کرنے والا ہے؟ کیا یہ خیال میرے کام کا ہے کہ نہیں؟
مثبت سوچ کے حصول کے ذرائع بہت کم ہیں۔ البتہ ان پر بہت کام ہورہا ہے۔ جن قوموں اور ملکوں نے سوچ کے فن کو اپنے معاشروں میں پروان چڑھایا، وہ بہت زیادہ ترقی کرگئے۔ ہمیں اپنے ملک میں اس بارے میں ضرور غور کرنا چاہیے اور ایسے پلیٹ فارم بنانے چاہئیں تعمیری سوچ کو پروان چڑھانے والے ہوں۔
ہم دوسروں کو بدلنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں جو لوگ منفی سوچتے ہیں، وہ مثبت سوچنا شروع کردیں۔ سدھار کا یہ طریقہ غلط ہے۔ دوسروں کو بدلنے کی بجائے پہلے خود کو بدلنے کی ذمے داری قبول کیجیے۔ جو شخص منفی سوچ سوچ کر منفی ہوچکا ہے، سب سے پہلے اسے مان لینا چاہیے کہ میرے ساتھ یہ مسئلہ ہے اور مجھے یہ مسئلہ حل کرنا ہے؛ خود کو مثبت سوچ والا بنانا ہے۔ جب آدمی یہ فیصلہ کرلیتا ہے کہ مجھے مثبت سوچنا ہے تو پھر چاہے عمر جتنی ہی کیوں نہ ہو، مثبت سوچ پیدا ہوسکتی ہے۔
سوچ کی ویکسی نیشن


بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی و یکسی نیشن چار پانچ سال میں مکمل ہو تی ہے۔ اس ویکسی نیشن کا اثر عمر بھر رہتا ہے۔ سوچ کے حوالے سے پہلی ویکسی نیشن یہ ہے کہ ایسا شخص تلاش کیا جائے جو مثبت سوچ کا حامل ہو۔ پھر اس کی پیروی بھی کی جائے۔ ہمیں شعور ی طور پر یہ کوشش کرنی چاہیے کہ جہاں سے بھی مثبت سوچ ملے، اسے ضرور حاصل کیا جائے۔ وہ کتاب کے ذریعے ہو سکتی ہے ، وہ انٹرنیٹ کے ذریعے ہو سکتی ہے، وہ کوئی محفل ہوسکتی ہے۔ چار دوستوں کا ایک ایسا گرو پ بنا کر روازنہ بیٹھئے اور طے کیجیے کہ ہمیں ایک گھنٹہ صرف مثبت باتیں ہی کرنی ہیں۔ جب یہ عمل روزانہ ہوگا تو پھر مثبت سوچنا، مثبت کہنا اور مثبت بولنا بہت آسان ہوجائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ زندگی کا مقصد بنائیے۔ جو لوگ مقصد اور ہدف کے مطابق زندگی گزارتے ہیں، وہ ذرا مشکل ہی سے منفیت کا شکار ہوتے ہیں۔
ڈگری سے علم نہیں ملتا
مثبت سوچ کی تشکیل میں کتابوں کا کردار بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ہم کسی نہ کسی شکل میں کتابیں پڑھتے ہیں، چاہے وہ نصابی کتابیں ہوں یا غیر نصابی۔ جس معاشرے میں کتابیں زیادہ پڑھی جاتی ہیں، معلومات زیادہ ہے، علم اور ذرائع علم زیادہ ہیں، وہاں منفی سوچ کم ہوتی ہے۔ جہاں روشنی ہو، وہاں اندھیرا ختم ہوجاتا ہے۔ علم کی روشنی کے ذریعے جہالت کا اندھیراختم کیا جاسکتا ہے۔ علم وہ ہوتا ہے جو آپ کی ذات اور آپ سے جڑے لوگوں کو فائدہ دے۔ بعض اوقات آدمی بڑی بڑی ڈگریاں لے لیتا ہے، لیکن اس کے باجود سوچ منفی رہتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے تعلیمی ادارہ سے علم حاصل نہیں کیا گیا، سند حاصل کی گئی ہے۔ بعض اوقات تعلیم کچھ ہوتی ہے اور علم کچھ اور ہوتا ہے۔ اگر آپ نصابی اور غیر نصابی کتابوں کی وجہ سے مثبت بن گئے ہیں تو یہ بہت بڑی بات ہے۔ آج ہمارے لیے خوش قسمتی ہے کہ ہمارے ہاں اشفاق احمد، بانو قدسیہ، حضرت واصف علی واصفؒ اور دیگر دانشوروں کا علم دستیاب ہے جو موٹیویشن پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ مثبت سوچ پیدا کرتا ہے۔ کوشش کیجیے کہ جو لیٹریچر پڑھیں، وہ مثبت ہو۔ اس معاشرے کو مثبت لوگ چاہئیں۔ اس ملک کو اُن لوگوں کی ضرورت ہے جو ذمے داری قبول کریں اور تحریک کا سبب بنیں۔
اسلام منفی سوچ سے منع کرتا ہے
اسلام میں ہر وہ شے حرام ہے جو مثبت سوچ چھین لے، جو منفی سو چ والا بنا دے، جو گمان خراب کردے۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ تم سے ویسا ہی معاملہ کرے گا جیسا تم نے اللہ تعالیٰ سے گمان کیا۔‘‘ اگر آپ کا گمان ہی درست نہیں ہے ، سوچ ہی مثبت نہیں ہے تو پھر اپنے ایمان کی فکر کیجیے۔ قرآن مجید میں یہ فرمایا گیا ہے کہ کثرتِ بدگمانی سے بچو، بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ جو لوگ زیادہ شکی مزاج ہوتے ہیں، زیادہ منفی سوچتے ہیں، ایک دن آتا ہے کہ وہ شعوری یا لاشعوری طورپر کفر کی طرف چلے جاتے ہیں۔ پامسٹری چونکہ انسانی سوچ میں دیمک لگاتی ہے، اور طرح طرح کے واہمے پیدا کرتی ہے، اس لیے اسلام میں پامسٹری حرام ہے۔ یہ منفی سوچ ہے۔ یہ تب ہی ختم ہو سکتی ہے کہ جب منفی سوچ کی جگہ مثبت سوچ اختیار کی جاتی ہے۔ مثبت سوچ میں اتنی طاقت ہے کہ وہ آپ کا ایمان قوی کرتی ہے اور ایک اچھا انسان بناتی ہے۔ جہاں مثبت سوچ نہیں ہوگی، شعوری یا لاشعور ی طور پر وہاں منفی سوچ آجائے گی۔
منفی سوچ ختم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آپ ایسے ذرائع سے جڑجائیں جہاں سے مثبت سوچ ملے۔ اگر آپ مثبت سوچنے والے بن گئے تو پھر منفی سوچ کو جگہ ہی نہیں ملے گی اور آپ کے مسائل گویا خود حل ہونے لگیں گے۔ آپ کی زندگی میں مثبت لوگ بھی آنا شروع ہوجائیں گے اور آپ کے ساتھ اچھے واقعات ہونے لگیں گے۔

اونچی اڑان : مصنف – قاسم علی شاہ

کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیجیے

0304-4802030

You may also like this

11 October 2017

ذاتی ترقی کے لئے پانچ اہم اقدامات --- قاسم علی شاہ

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;"><span style="font-family: 'Mehr Nastaliq W

محمد سلیم چشتی
09 October 2017

مستقل پر نظر رکھیں اور ماضی کو بھول جائیں ۔۔۔ تجمل یوسف

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;"><span style="font-family: 'Mehr Nastaliq W

admin
09 October 2017

اپنی پریشانیوں کو کم کیجیے: تجمل یوسف

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;"><span style="font-family: 'Mehr Nastaliq W

admin

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}