ظاہر ا ور باطن ۔۔۔ کاشف شہزاد

ایک شرابی برہنہ پا چکارا بجاتا ہوا چلا جا رہا تھا کہ راستے میں اسکی حضرت عثمان الخیری رح پر نظر پڑی تو اسنے فورا ساز بغل میں چھپایا سر پر ٹوپی اوڑھ لی . شرابی کا یہ ادب دیکھ کر آپ اسے گھر لے گئے ، غسل کروا کر اپنا خرقہ پہنا دیااور اللہ کے حضور دعا فرمائی : اے الله جو میرے اختیار میں تھا وہ میں نے انجام دے دیا اب جو تیرے اختیار میں ہے اسکی تکمیل فرما دے .اس دعا کے ساتھ ہی شرابی کے قلب میں ایسا نور پیدا ہوا کے اسکے باطنی درجات دیکھ کر آپ بھی خیران ہو گئے . اسوقت حضرت ابو عثمان مغربی بھی وہاں موجود تھے جنہوں نے اسکا درجہ کمال دیکھ کر کہا : آج میں رشک کی آگ میں عود کیطرح سلگ رہا ہوں کہ جس کمال کی خواہش حصول میں عبادت و ریاضت کرتے میری ساری عمر گزر گئی وہ آج بلا طلب ایک ایسے شحص کو عطا کر دیا گیا جس کے منہ سے شراب کی بدبو آ رہی تھی . اس پر آپ نے فرمایا کہ فضل خداوندی کا انحصار اسکے ظاہری عمل پر نہیں بلکہ قلبی کیفیت پر ہے .
حضور والا فیصلہ کرنے کا اختیار تو ہمارے پاس ہے لیکن ہم اکثر یہ اختیار صرف دوسروں کے لیے استعمال کرتے ہیں . کسی کی داڑھی دیکھ کر اسے صوفی کا لقب دے دینا ، کسی کی شلوار اونچی دیکھ کر اسے وہابی کا لقب دینا ، کسی کی لمبھی مونچھ دیکھ کر اسے چودھری بنا دینا ، کسی کے کپڑے دیکھ کر اسے ملنگ کہہ دینا ،کوئی دینی باتیں سمجھا نے لگے تو اسے مولوی سے تشبیہ دے دینا ، کسی کا محراب دیکھ کر اسے درویش سمجھنا شروع کر دینا، کسی کا خرقہ دیکھ کر اسے پیر سمجھنا شروع کر دینا غرضیکہ معاشرے میں کوئی ایسا شعبہ نہیں جس پر ہم نے اپنی ججمنٹ کا ٹیگ نہ لگایا ہو . بد قسمتی سے ہماری سوچ تو اتنی تنگ ہے کہ بہن بھائی کو اکٹھے جاتے ہوے دیکھ کر بھی آوازیں کسنے سے گریز نہیں کرتے . شاید ہمارے پاس فالتو وقت ہی اتنا ہے کہ ہمیں دوسروں پر انگلی اٹھانے اور جملے کسنے میں ایک عجیب سا لطف آتا ہے . کہتے ہیں کہ کوئی بندہ جب آپ پر حد سے زیادہ تنقید کرتا ہے تو اسکے دو ہی مطلب ہیں : یا تو آپ اسکے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں یا پھر اسکے پاس وقت ہی اتنا ہے کہ اسے اور کوئی کام ہی نہیں آپ پر تنقید کرنے کے علاوہ . پہلی صورت حسد کہلاتی ہے جبکہ دوسری صورت نکمے پن اور نا اہلی کو ظاہر کرتی ہے .
ہمارے اندر یہ سوچ کبھی پیدا ہی نہیں ہوئی نہ ہی کسی نے بتایا ہے کہ ہم کیوںکر کسی پر اپنی سوچ کا لیبل لگا سکتے ہیں ؟. کیا واقعی یہ ہمارا کام ہے ؟ اس طرح ہمارے گھر میں ہمارے بچوں کی سوچ زیادہ تر ہمارے ری ایکشن سے بنتی ہے (جو کہ غلط ہے ) اسی طرح ظاہری شکل و صورت اور خد و خال کو دیکھ کر جج کرنے سے ایک بہت بڑا نقصان ہوا ہے ہماری سوسائٹی کو . وہ یہ کہ ہر بندہ اور ہر کمپنی ظاہری شکل /طرز کو سنوارتا ہے بھلے اسے اسکے لیے جو بھی کرنا پڑے . ایک بندہ جسکے پاس دولت آتی ہے وہ نئے کپڑے لے لیتا ہے ، نئے جوتے خرید لیتا ہے اور نیا گھر بنا لیتا ہے مگر اندر سے اس کی سوچ کا میعار وہی رہتا ہے جو دولت آنے سے پہلے تھا اور جسکے پاس دولت اتنی نہیں ہوتی وہ ساری زندگی انہی چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے تگ و دو کرتا رہتا ہے اور زندگی ختم ہو جاتی ہے. ایسے ہی لوگ مل کر کمپنیاں / آرگنائزیشنز بناتے ہیں اور اپنے آفس اور اشتہاری مہم پر اتنا پیسہ خرچ کر دیتی ہیں کہ لوگ انھیں دیکھ کر حواس باختہ ہو جاتے ہیں اور بڑ ی آسانی سے دھوکہ کھا جاتے ہیں کیونکہ انھیں اندازہ ہوتا ہے کہ ہم لوگ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے . ہمارے لیے سچ اور جھوٹ کی پہچان کرنا حد سے زیادہ مشکل اور تقریباً نا ممکن ہو گیا ہے . حضور والا حرص ہمیشہ سے انسان کو دھوکہ دیتا آ رہا ہے . زیادہ حاصل کرنے کا لالچ ، زیادہ جمع کرنے کا لالچ ، فورا امیر ہونے کا لالچ ، فورا کسی مقام پر پہنچنے کا لالچ . یہ سب وہ لالچ ہیں جو ہمیں دھوکہ کھانے پر مجبور کرتے ہیں . جب تک ہم حر ص کے اس گرداب سے نہیں نکلیں گے ہم دھوکہ کھاتے رہیں گے اور لوگ ہمیں دھوکہ دیتے رہیں گے . ہم اگر صرف چند چیزوں پر غور و فکر کرنا شروع کر دیں تو ان مسائل سے نکل سکتے ہیں .
— کامیابی محنت کے بغیر نہیں ملتی 
—محنت میں ایمان داری ، استقامت اور صبر ضروری ہیں 
—ایمان داری ، استقامت اور صبر سے الله پر یقین مضبوط ہوتا ہے 
—الله پر یقین کرنے والا کسی خوف اور لالچ میں نہیں آتا 
—خوف اندیشے پیدا کرتا ہے اور لالچ دھوکے کیطرف لے کر جاتی ہے 
—اندیشے آپکے حال کو خراب کر دیتے ہیں اور یوں مستقبل سے یقین اٹھ جاتا ہے 
—اچھے مستقبل کی امید الله پر یقین کی نشانی ہے 
الله تعا لی ہمیں دوسروں پر انگلی اٹھانے کی بجائے اپنے آپ کو پہچاننے کی توفیق دے . دوسروں کے بارے میں فیصلہ دینے سے پہلے وہی فیصلہ اپنے بارے میں کرنے کی توفیق دے . اور یہ یقین دے کہ برے کو سزا ملنی ہے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ہم خوامخواہی اس کی برائی کے بارے میں فیصلہ دے کر اس کی سزا کے حصہ دار بن جاتے ہیں . الله ہم پر اپنا فضل کرے نہ کہ انصاف کرے کیونکے اگر اس نے انصاف کیا تو ہم بچ نہیں پائیں گے . الله ہم سب کا حامی و ناصر ہو .امین

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}