روسی جیل کی کہانی نہرو کی زبانی ۔۔۔ ھدایت اللہ سندھی۔

ہمیں نے ایک روسی جیل کا وزٹ کیا، جو شہر سے دور ایک پرانی عمارت زارِ روس کے زمانے کی تھی، یہ جیل سنگین مجرموں کے لیے مختص تھا۔ عمارت پرانی ہونی کی وجہ کی یہ تھی کہ بالشویکوں کے پاس روپیہ کم ہے اور جو کچھ ہے اسے صنعتی و زراعتی اور اشاعت تعلیم میں خرچ کرنا چاہتے ہیں۔
وہاں جیل خانے کا لفظ بھی پسند نہیں کیا جاتا کیونکہ اس سے ازیت دینے اور انتقام لینے کے پرانے طریقوں کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ اس لیے انہوں نے جیل کو کوئی اور نام دیا ہے جس کا نام تو نہرو صاحب بھول گئے لیکن اس کا مفھوم تھا کہ ‘وہ مقام جہاں کام لینے کے زریعے لوگوں کی اصلاح کی جاتی ہے’۔
ان کے پیش نظر مقصد یہ ہے کہ قیدیوں میں شرافت،انسانیت کا جذبہ پامال نہ ہونے پائے۔
قیدی کو کبھی یہ محسوس نھیں ہونے دیتے  کہ وہ کم۔درجے کا انسان بن گیا ہے یا گِر گیا ہے۔
وہاں جرم کو تعلیم کی کمی یا فھم کے نقص یا خراب حالات، گرد و پیش کا نتیجہ خیال کیاجاتا ہے۔
اس لئے مجرموں کے ساتھ اقتصادی حالات کے شکار یا مریض یا نادان لوگوں کی طرح برتاؤ کیا جاتاہے۔
بہر حال، اس جیل خانہ میں 450 سے زیادہ قیدی تھے۔ اور بعض کوٹھڑیوں میں دو،تین یا چار چارپائیان تھی اور کوٹھڑیاں تنگ اور آرام دہ نہ تھی۔
اکثر قیدی سنگین جرائم کے مجرم تھے۔ زیادہ سے زیادہ دس سال سزا کے مجرم قید تھے اور انکی اچھی چال چلنی سے سزا دو، تین سال کم کی جاتی ہے۔
ھم نے وہاں دیکھا وارڈروں کے پاس کوئی نہ ہھتیار تھا نہ لاٹھی سوائے مین دروازے پر دو ہتھیاروں کے۔ قیدیوں کو نہ کوئی نمبر اور نہ کوئی خاص قسم کی وردی دی گئی تھی اور اسکے ساتھ ساتھ نہ کوئی بیڑیاں اور نہ ہی ہتھکڑیاں لگائی جاتی ہیں جیل کے اندر یا باہر لے جاتے وقت۔
تمام قیدیوں کو یومیہ آٹھ(8)گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے۔ کچھ قیدیوں کو پہلے سے کسی کام میں مہارت ہوتی ہے تو اس کو اس پر معمور کیا جاتا ہے، اور باقی لوگ کپڑے کے کارخانے میں کپڑے بننے اور دھاگہ سُوتنے کا کام کرتے ہیں اور وہ کارخانے جیل سے متصل ہیں۔
جیل میں نائی کی دوکان، جیل خانہ کے اسٹور(خورد نوشت اور ضروری اشیاء کی جگہ) کے انچارج قیدی تھے۔ اور وہاں پر دو سیاسی قیدی مقید تھے جن میں سے ایک ہواباز(پائلٹ) جس کو جیل کی برقی سامان کا انچارج اور دوسرا جو کے موسیقی کا ماہر تھا اسے موسیقی کا ڈائریکٹر تعینات کردیا گیا تھا۔ ان سارے کاموں کی قیدیوں کواُجرت دی جاتی تھی جو باہر کے کارخانوں کی توسط سے 30 سے 50 فیصد تک تھی، جس میں سے کچھ ریزیرورڈ فنڈ میں جمع کی جاتی ہے اور اسکے استعمال کا حق قیدی کو نہیں ہوتا اور بقیہ کمائی سے وہ جیل یا جیل کے باھر سے اشیاء خرید سکتا ہے اور رشتے داراور دوست بھی باہر سے سامان و اشیاء ارسال کر سکتے ہیں۔ ریزیرورڈ فنڈ میں جمع شدہ اور دوسری جمع کی ہوئی پونجی قیدی کو رہائی کے وقت دی جاتی ہے تاکہ نئی زندگی کی شروعات کے لیے کچھ سرمایہ میسر ہو۔ قیدیوں کو سگریٹ پینے،آپس میں گفتگو کرنے اور کام کے اوقات بعد کھیلوں کی سھولتیں میسر ہیں۔
یہ کہانی تھی سنگین مجرموں کے جیل کی اور کم سنگین جرائم کے قیدیوں کی حالت بہت اچھی اور ان کو بہت زیادہ آزادی حاصل ہے۔ یہاں تاکہ مچل کے(ایگریمنٹ) لکھ کر چند دن اپنے گھر بھی جاسکتے ہیں اور یہ سہولت کسان قیدیوں کو بوقت فصل دی جاتی تاکہ وہ اپنی اس آزادی کا بھرپور فائدہ لے سکیں۔
وہاں کُل عملہ کی تعداد 53 تھی جو تین ٹولیوں میں منقسم ہو کر آٹھ آٹھ گھنٹہ کام کرتے تھے۔
ایک بات واضع ہونی چاھیے کہ روس حکومت کے سیاسی مخالفوں اور انقلاب کی خوبی سرگرمیوں میں ملوث قیدی اس سے مثتثنی ہیں۔ کیوں کہ انکے ساتھ نہایت بے رحمانہ سلوک کیا جاتا ہے۔
یہ تو تھی روس کے جیل خانہ کے قیدیوں کی  کہانی ہم اگر وطن عزیز کے کارخانے کے آزاد مزدوروں کی حالتِ زار پر ایک نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اُن سے 12 سے 14 گھنٹوں تک کام لیا جاتا ہے  اور  اُجرت بھی قابل گذر نہیں دی جاتی سہولت تو دور کی بات۔  اور اگر وطن عزیز کے جیل خانہ یا علاقے کے تھانے کے حالات پر غور و حوض کیا جائے تو یہ بات چودھویں کے چاند کی مانند روشن ہوکر سامنے آئیےگی کہ ذہنی اور جسمانی اذیت، شرافت،عزت نفس، ضمیر کُشی اور دیگر انسانی اوصاف کی پامالی جیل خانہ میں شہ رگ کی سی جگہ رکھتے ہیں۔
قیدیوں کو جس طرح قید و بند کے مراحل سے گزارا جاتا ہے قابل رشک ہیں۔ اور جس طرح تذلیل انسانیت کرتے  جس طرح انسانی اقدار کو ٹھیس پہنچائی جاتی ہے وہ بھی کسی کی آنکھوں سے اوجھل نہیں۔
نہ کوئی جسمانی و ذہنی نشونما کے لیے تربیت اور نہ ہی انھیں سوسائٹی کے لئے کارآمد فرد بنانے کہ لیے کوئی تگ و دو کی جاتی ہے۔ جیل کے اندر کوئی سہولیات میسر نھیں ہوتی۔ قیدیوں کو  محض کوئی گِری ہوئی مخلوق اور قابل نفرت تصور کیا جاتا ہے۔ بہت لکھا جاسکتا ہے اسپیس اور معلومات کی کمی کی وجہ سے اس پر ہی اکتفا کرتا ہوں۔ یہ موضوع لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ نوجوان نسل اپنے مقتدروں اور حاکموں کے پالیسیوں اور ترجیحات پر تَدبُر کرے اور اپنے کردار کا تعین کرے کہ روس انقلاب کے چند سال میں اپنے قیدیوں کے ساتھ اعلی انسانی سلوک روا رکھ کر بام عروج کو چھو سکتا ہے اور ھم ستر(70) سال کہ بعد بھی قیدی تو دور  آزاد شھریوں کے ساتھ بھی انسانی سلوک روا رکھنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔
آخرہم ترقی سے دور  روز بروز تنزلی کے گڑھے میں کیوں دھنسے جارہے ہیں؟۔
عابد مکھنوی نے خوب کھا ہے۔
اگر وہ خواب سچا تھا تو یہ تعبیر کیسی ہے؟
اگر معمار مُخلص تھے تو یہ تعمیر کیسی ہے ؟؟
نوٹ۔ روس کے جیل کے متعلق معلومات روس کے انقلاب کے چند سال بعد کے حالات یعنی1927-1937 کی ہے۔ جو جواھر لال نہرو کی کتاب ‘سیاحت روس’ کے باب ‘جیل خانہ’ سے ماخذ ہے۔

You may also like this

18 February 2017

کافرکافرکاکھیل اور وسط ایشیاء کے اسلامی ممالک -- زوھیب گل

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 24px;">جس وقت(1989ء) ھمارے مفتیان کرام س

admin

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}