لولی پاپ چوس قوم ! ۔۔۔ عثمان حبیب

 گذشتہ دو دن سے جو بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو مل رہی ہیں، بہت معذرت کےساتھ اب تو پکا یقین ہوگیاہے کہ بحیثیت مجموعی ہم “لولی پاپ” چوسنے والی قوم ہے۔
یہ اغیار کا پرانا طریقہ کار ہے کہ کسی قوم کو اتنا مایوس کیا جائے اتنا مایوس کیا جائے کہ اس کا اعتماد اور یقین سب ختم ہوکر رہ جائیں، اور پھر اسے تھوڑی سی امید اور روشنی کی ہلکی سی کرن دکھائی جائے تو وہ اصل مقصد اور منزل چھوڑ کر اسی کے پیچھے چلنے اور اسی کو سب کچھ سمجھنے لگے گی۔
اب بھی کچھ اس طرح ہی لگ رہاہے ۔ قوم اس نظام اور اس نظام کے چلانے والوں سے تقریبا مایوس ہوچکی تھی کہ ایک موقع پیدا کیا گیا کہ یہاں کی ” عدالتوں ‌” سے اب بھی ” انصاف ‌” پر مبنی فیصلےصادر ہوسکتے ہیں لہذا اب بھی یہی نظام رہنا چاہیے ۔ 
یہ وہی عدالتیں ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قانون کے بجائے انگریز کے مرتب کردہ …PPC Act 1860… پر فیصلےہوتے ہیں ………
یہ وہی عدالتیں ہیں جو حدیث اور سنت کو کوٹ کرنے کے بجائے …The Registration Act 1908…کو کوٹ کرتی ہیں۔
یہ وہی عدالتیں ہیں جہاں شریعت کے بجائے …The Just Act 1882… اور اس طرح کی انگریز کے مرتب کردہ مختلف ایکٹوں پر فیصلے ہوتے ہیں۔
انصاف انصاف کرتے ہو؟؟؟
اگر انصاف دینا ہے تو اس بے چارے راہ گیر کو دلائیں جسے آپ کی پولیس روز کسی نا کسی بہانے لوٹتی ہے۔ 
انصاف اس طبقے کے گریبانوں میں ہاتھ ڈال کر دلائیں جو ملکی بجٹ کا بہت بڑا حصہ کھاکر بھی ظالم کافروں کے بجائے  مظلوم مسلمانوں سے لڑتے ہیں، اپنوں پر بم برساتے ہیں اور اپنے ہی ملک کے باشندوں کو ” ‌فتح ” کرتے ہیں ‍………
دوسری طرف اگر آپ ایک چور اور لٹیرے کے جانے پر خوش ہیں، تو یاد رکھیں کہ آپ کی یہ خوشی چند لمحوں کی مہمان ہے۔ کیوں کہ اس نام نہاد جمہوری نظام کے ہوتے ہوئے اگر ایک چور چلا بھی جائے تو اگلا اس سے بڑھ کر ڈاکو نکل آتاہے ……… ایک فرعون جاتا ہے تو دوسرا دجال آتا ہے ……… ایک ظالم چلتا ہے تو دوسرا آجاتا ہے ………
یہاں بدلاؤ چہرے بدلنے سے نہیں بلکہ نظام بدلنے سے آئے گا۔ اس جمہوری نظام کے ہوتے ہوئے چاہے کوئی داڑهی پگڑی والا آجائے یا پینٹ پتلون والا، تبدیلی کسی صورت نہیں آنی ……… اس نام نہاد جمہوری نظام میں سب برابر ہیں، کوئی اچھا برانہیں ہوتا۔  ……… اسی طرح سرمایہ دارانہ جمہوریت کے حمام میں سب کے سب ننگے ہیں، کیا مذہبی کیا سیکولر ……… یہاں اگر کوئی شریف بھی ہے تو اس حد تک کہ اسے موقع نہیں ملا ……… جسے بھی یہاں موقع ملا اس نے غریب مسلمانوں کے خون چوسنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ………!
یہ لوگ تو اقتدار کے حصول کے لیے کچھ بھی کرتے رہیں گے۔ کسی کو اہل اور کسی کو نااہل قرار دیتے رہیں گے ………
لیکن اے میری ” ‌لولی پاپ چوس” قوم!
آپ اپنے بارے میں سوچیں، آج اپنے گریبان میں ذراجھانکیں!
کب تک آپ ٹرک کی بتیوں کے پیچھے چلتے رہیں گے ‍؟ ‍؟ ‍؟
کب تک آپ اس سرمایہ دارانہ جمہوری سوراخ سے بار بار ڈستے رہیں گے ‍؟ ‍؟ ‍؟
کب تک یہ انگریز کے غلام تم پر حکمرانی کرتے رہیں گے ‍؟ ‍؟ ‍؟
اللہ اور اس کے رسولﷺ سے بغاوت پر مبنی یہ نظام آخر کب تک آپ پر مسلط رہے گا ‍؟ ‍؟ ‍؟
یہ چور، لیٹرے اور ڈاکو کب تک آپ کو لوٹ لوٹ کر آپ کا خون چوستےرہیں گے؟ ‍؟ ‍؟
آخر کب آپ عقل وشعور، فہم ودانش اور سمجھ بوجھ سے کام لیں گے ‍؟ ‍؟ ‍؟
اپنا ذہن وفکر، میڈیا کے جادوگروں کے پاس گروی رکھ آخر کب تک ان کے ہاتھوں کا کھلونا بنے رہو گے ‍؟ ‍؟ ‍؟
میڈیا پر ایمان لاکر اور اس کے جادو سے متاثر ہوکر کب تک اپنے افکار ونظریات بگاڑتے رہو گے ‍؟ ‍؟ ‍؟
“ان ‌” کی طرف سے دیے گئے لولی پاپ کو چوس چوس کر کب تک اس پر گزارہ کرتے رہو گے ‍؟ ‍؟ ‍؟
معذرت بہت بہت معذرت میرے الفاظ یقینا سخت ہیں لیکن آپ الفاظ کے بجائے پیغام پر توجہ دیں اور خود کو بدلنے کی کوشش کریں !
 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}