ارکان اسلام، مفہوم اور نفاذ ۔۔۔ ابو وامض ہمدرد

ہم آۓ روز مختلف مذہبی جماعتوں کے راہ نماٶں سے سنتے رہتے ہیں کہ پاکستان میں اسلامی نظام قائم ہونا چاہیے ،جب تک شریعت کا نفاذ نہیں ہوتا ، پاکستان اور اس کی عوام کی قسمت نہیں بدلے گی۔ خدا کی زمین پر خدا کا نظام، پاکستان کا مطلب کیا؟ لا إله إلا الله ، یہ ملک اسلام کے نام پر لیا گیا تھا تو اس میں اسلام نافذ ہو کر رہے گا۔ اسلام اس دھرتی کا مقدر ہے ۔ وغیرہ وغیرہ۔  ۔ ۔ اور میری دَانست میں یہ ہر شخص کی خواہش بھی ہے۔۔ ۔ ۔
یہ اور اس طرح کہ بے شمار نعرے اور تقاریر ہماری مذہبی قیادت کی جانب سے سنائی دیتے رہتے ہیں۔  ۔ ۔
اتفاقا جب بھی میری ان راہنماٶں سے ملاقات ہوئی میں نے ان سے اسلامی نظام کے مُتعلق ضرور پوچھا۔ آپ سب تو جانتے ہیں کہ پورے عالَمِ اسلام میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص اسلام کے حوالے سے مختلف تَشریحات پائی جاتی ہیں۔ فِقہی، شَرعی اور فُروعی اختلافات کے ساتھ ساتھ عَقائد کی حد تک بھی یہ جماعتیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ مگر پھر بھی ان کو اگر کسی ایک ” نُقطہِ اشتراک “ پر جمع کیا جاۓ تو وہ ان کا مطالبہ نِفاذِ اسلام ہے۔
یا بالفاظ مختلف شریعت اسلامی کے قوانین کا نفاذ ہے۔
میں اس بحث میں نہیں جاتا نہ ان سے یہ پوچھتا ہوں کہ آپ کس فرقہ کے اسلام کا مطالبہ کرتے ہیں کیوں کہ اس قسم کے سوالات دین بیزار قسم کے افراد کی جانب سے بھی اٹھاۓ گۓ ہیں اگر چہ وہ مبنی بر حقیقت ہوں لیکن میں اسے ایک طرف رکھتا ہوں میرا سوال تو بڑا سادہ ہے کہ آپ کی نظر میں اسلامی نظام ہے کیا؟ شریعت کے مطالبہ سے کیا مراد ہے؟ آپ مجھے سمجھا دیں۔
کیوں اکثر علماء و فقہاہ سے جب نظام کے عملی خد و خال کے بارے میں اِستفسار کیا گیا تو انہوں نے فقہی حدود و تعزیرات قائم کرنے کا حوالہ دیا۔ مثلا: چور کا ہاتھ کاٹنا، بغیر معاہدہ نکاح قائم کیے جسمانی تعلقات بنانے والا اگر کنوارہ ہے تو ١٠٠ کوڑے برسانا اگر ثَیب (شادی شدہ) ہے تو سنگسار کرنا، یعنی پتھر مار مار کر قتل کردینا، شراب پینے والوں کو تعزیرا اسی کوڑے لگانا، نمازوں پر سختی سے عمل کرانا خواتین کو پردہ کا پابند کرنا وغیرہ وغیرہ۔ ۔ ۔ ؎
(قارئین کرام! شاید آپ اس سے متفق ہوں یا آپ نے بھی اگر کسی مذہبی لیڈر سے اس قسم کا سوال پوچھا ہو تو یقینا آپ کو بھی ایسا ہی جواب سننے کو ملا ہوگا اور اگر ابھی تک نہیں پوچھا تو ہماری بات کی تصدیق کی غرض سے ضرور پوچھیے گا)
ان کا کہنا ہے کہ آپ یہ نظام ملک میں قائم کردیں تو اس عوام کا ہر مسئلہ حل ہوجائے گا، ملک میں خوش حالی آجاۓ گی، کرپشن ہونا رک جاۓ گی، لوگ قانون کا احترام کرنے لگ جائیں گے، فرقہ واریت ختم ہوجاۓ گی، اسلام کے نام پر گلے کاٹنا بند ہوجائنیں گے، دھرتی سونا اُگلے گی، وغیرہ وغیرہ۔ ۔ ۔ ۔
میرے خیال میں یہ اسلام نہیں، بلکہ فقہی کتب کے ابواب کا ایک جزو ہے۔ یا ایک مختصر سی عبارت ہے جسے آپ نے کُل کے طور پر پیش کیا ہے، اس قسم کی تشریحات کی وجہ سے دنیا اسلام سے خائف ہے، یا مُعتَرِض!
اسلامی نظام ہے کیا؟
میرے نزدیک اسلامی نظام ایک وسیع مفہوم پر مشتمل ہے، اسلام نے کچھ چیزوں کو قرآن مجید میں رُکن اور اَساس کے طور پر پیش کیا ہے، اور کچھ چیزیں شریعت بنا کر۔ ان دونوں کو سمجھنا نہایت اھم ہے ورنہ ہم اصول کو جز اور جُز کو اصول بنا دیں گے۔
اسلام اپنے ماننے والوں سے معاشرے میں ان اصولوں کو نافذ کرنے کا مطالبہ کرتا ہے نہ کہ جزئیات کا۔
وہ اصول کون سے ہیں؟ ہم بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ اسلام کے پانچ ارکان ہیں، کلمہ ، نماز ، روزہ، زکوة ، حج ۔ 
یہ دراصل اسلام کے ظاہری مظاہر ہیں، جو کہ ذرائع ہیں ان اَرکان کو معاشرے میں عَملی مشق کرنے کی، ارکان اسلام درج ذیل ہیں؛
1-حریة الاعتقاد۔
2-العدل
3-التقوی
(١)حریة الاعتقاد ( عقیدہ کی آزادی) ہر شخص کو اپنی مرضی کا عقیدہ مذہب فرقہ یا نظریہ رکھنے کی اجازت ۔ اس پر جبر نہیں کیا جاۓ گا۔ کہ وہ اس کو مانے اور اس کو نہیں۔ وہ اس کی پیروی کرے اور اس کی نہیں۔ اسے آپ حریة التعبیر یا حریة الرای بھی موسوم کر سکتے ہیں۔ یہ اصول بڑے واضح لفظوں میں قرآن مجید میں بیان ہوا ہے۔
لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ ۖ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ لَا انفِصَامَ لَهَا ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (سورةالبقرة:256)
ترجمہ عرفان عرفان القرآن:
دین میں کوئی زبردستی نہیں، بیشک ہدایت گمراہی سے واضح طور پر ممتاز ہو چکی ہے، سو جو کوئی معبودانِ باطلہ کا انکار کر دے اور اﷲ پر ایمان لے آئے تو اس نے ایک ایسا مضبوط حلقہ تھام لیا جس کے لئے ٹوٹنا (ممکن) نہیں، اور اﷲ خوب سننے والا جاننے والا ہے o
(2)دوسرا رکن یا اصول “العدل” ہے.
اسلام اپنے ماننے والوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ہر حال میں عدل و انصاف سے کام لیں۔ حتی کہ کوئی قوم ان پر حد سے تجاوز بھی کرے تب بھی مومنوں کو العدل سے کام لینا چاہیے
وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا ﴿٨ المائدة ﴾
ترجمه عرفان القرآن:
اور کسی قوم کی سخت دشمنی (بھی) تمہیں اس بات پر برانگیختہ نہ کرے کہ تم (اس سے) عدل نہ کرو۔ عدل کیا کرو (کہ) وہ پرہیزگاری سے نزدیک تر ہے،
یہ اسلام کا سب سے اہم رکن ہے
جس پر اسلامی معاشرے کے تمام انفرادی اور اجتماعی اداروں کا قیام ہوگا
قرآن مجید میں عدل و انصاف باقاعدہ امر کے لفظ سے حکم دیا گیا ہے ۔ نماز روزہ اور زکوة  کا بھی اس لفظ سے حکم نہیں ہوا
تو اس سے العدل کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے
قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ ﴿٩٠ النحل﴾
ترجمہ عرفان القرآن:
بیشک اللہ (ہر ایک کے ساتھ) عدل اور احسان کا حکم فرماتا ہے اور قرابت داروں کو دیتے رہنے کا.
هَلْ يَسْتَوِي هُوَ وَمَنْ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَهُوَ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ﴿٧٦ النحل﴾
ترجمه عرفان القرآن:
(دوسرا) وہ شخص جو (اس منصب کا حامل ہے کہ) لوگوں کو عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے اور وہ خود بھی سیدھی راہ پر گامزن ہے (دونوں) برابر ہو سکت
(3)تیسرا اہم رکن ” التقوی ” ہے.
تقوی کا لفظ سنتے ہی عجیب قسم کا خیالی تصور ہمارے ذہنوں میں آجاتا ہے گویا یہ کسی دوپٹہ اوڑھنے یا برقعہ پہننے یا بس ہر وقت نظریں نیچی رکھنے کے عمل کا نام تقوی ہے
ایسا نہیں ہے۔ تقوی کی یہ شکل انتہائی سطحی قسم کی ہے۔ قرآن مجید میں تقوی کو ہر عمل کی اساس قرار دیا گیا ہے ارشاد باری تعالی ہے :
لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا ۚ لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ ۚ فِيهِ رِ‌جَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُ‌وا ۚ وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِ‌ينَ
اس مسجد میں تم کبھی کھڑے نہ ہونا، بیشک وہ مسجد کہ پہلے ہی دن سے جس کی بنیاد پرہیزگاری پر رکھی گئی ہے وہ اس قابل ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو، اس میں وہ لوگ ہیں کہ خوب ستھرا ہونا چاہتے ہیں اور ستھرے اللہ کو پیارے ہیں،
ترجمہ امام احمد رضا(108)
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُواْ رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
ترجمہ:
اے لوگو! اپنے رب کو پوجھو جس نے تمہیں اور تم سے اگلوں کو پیدا کیا، یہ امید کرتے ہوئے ، کہ تمہیں پرہیز گاری ملے –
وَلَوْ أَنَّهُمْ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَمَثُوبَةٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ خَيْرٌ﴿١٠٣ البقرة ﴾
اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیز گاری کرتے تو اللہ کے یہاں کا ثواب بہت اچھا ہے کسی طرح انہیں علم ہوتا –
وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ
لَعلَّكُمْ تَتَّقُونَ ﴿١٧٩ البقرة ﴾
ترجمه عرفان القرآن:
اور تمہارے لئے قصاص (یعنی خون کا بدلہ لینے) میں ہی زندگی (کی ضمانت) ہے اے عقلمند لوگو! تاکہ تم (خوں ریزی اور بربادی سے) بچو o
لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ  مِنْكُمْ ﴿٣٧ الحج ﴾
. ہرگز نہ (تو) اﷲ کو ان (قربانیوں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون مگر اسے تمہاری طرف سے تقوٰی پہنچتا ہے، اس طرح (اﷲ نے) انہیں تمہارے تابع کر دیا ہے تاکہ تم (وقتِ ذبح) اﷲ کی تکبیر کہو جیسے اس نے تمہیں ہدایت فرمائی ہے، اور آپ نیکی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں۔
حضورغوث الأعظم شیخ عبد القادر الجیلانی نے التقوی کو العدل سے تعبیر کیا
امام ولی اللہ الدھلوی نے انہیں اخلاق اللہ سے تعبیر کیا ہے
میرے نزدیک اسلامی نظام سے مراد ان اصولوں کا معاشرے پر غلبہ ہے کہ معاشرے کے تمام ادارے العدل کی اساس پر قائم ہوں، ان کے چلانے والے التقوی کو اپنا کر اپنا تزکیہ کرچکے ہوں کہ وہ ریاست کے ہر شخص کے حقوق ادا کرنے والے ہوں ان کا سیاسی اور معاشی استحصال کرنے والے نہ ہوں۔ ہر شخص کی راۓ کا احترام کرنے والے ہوں
اگر کسی معاشرے میں یہ اصول قائم ہیں تو وہ اسلامی معاشرہ ہے اس کو ہم کہیں گے ملک میں اسلام نافذ ہے اور اگر یہ اصول قائم نہ ہوں بلکہ ہر طرف اس کا الٹ الظلم ہو التقوی کی جگہ الفحشاء اور المنکر ( قانون کی خلاف ورزی) ہو
حریة کہ بجاۓ الاکراہ ( جبر) ہو
تو ہم کہیں گے معاشرے میں اسلام نافذ نہیں اگرچہ اس ملک میں مسلمان اکثریت میں ہوں اورنماز کے اوقات میں نماز پر پابندی سے عمل کروایا جاتا ہو ۔ ۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}