میری آپ بیتی ۔۔۔ قاسم علی شاہ


’’جہاں مشقت نہیں، وہاں کامیابی نہیں!‘‘
فریڈرک ڈگلس


جن دنوں میں پری انجینئرنگ کا طالب علم تھا، امتحانات سے تقریباً چھے ماہ پہلے اکتوبر کے مہینے میں میر ے پاس ایک اسٹوڈنٹ آیا جس کا نام خرم شہزاد تھا (جو اِس وقت پنجاب یونیورسٹی، کیمیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں پروفیسر ہیں)۔ انھوں نے مجھ سے کہا کہ قاسم صاحب، مجھے آپ سے فرسٹ ایئر کا میتھ پڑھنا ہے۔ کیا آپ مجھے یہ پڑھا دیں گے؟ میں ان دنوں فارغ تھا، میں نے ہامی بھرلی۔ پھر اْن سے کہا کہ میں خود بھی اکیڈمی جاتا ہوں، اکیڈمی جانے سے پہلے آپ میرے پاس آ جایا کریں۔ یوں وہ اسٹوڈنٹ میرے پاس پڑھنے لگا۔ ایک مہینہ گزرنے کے بعد اس نے کہا کہ مجھے مزید پڑھا دیں۔ میں نے مزید ایک ماہ پڑھا دیا۔ تیسرے ماہ اس نے کہا، آپ کے سمجھانے کا انداز بہت اچھا ہے اور مجھے بہت اچھا سمجھ آ رہا ہے، اس لیے آپ مجھے مزید پڑھا دیں۔ یوں، میں نے خرم شہزاد کو سالانہ امتحان تک پڑھایا۔
جب میں سیکنڈایئر میں تھا تو ایک دن خرم شہزاد دو تین اسٹوڈنٹس کو لے کر میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ کے پڑھانے کا انداز بہت اچھا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں پڑھا دیں۔ میرے ساتھ یہ مسئلہ تھا کہ میرے گھر میں جگہ نہیں تھی۔ گھر کا گیراج تھا جس میں تھوڑی سی جگہ تھی۔ میں نے اسی جگہ پر گھر کی دو تین کرسیاں رکھ کر انھیں پڑھانا شروع کر دیا اور یوں با قاعدہ تدریس کا سلسلہ چل نکلا۔ آہستہ آہستہ طلبہ کی تعداد بڑھنے لگی۔ ڈیڑھ سال کے اندر اندر پچاس کے قریب طلبہ ہو گئے۔ میں صرف ایک مضمون’’میتھ‘‘ پڑھاتا تھا۔ میرا پڑھانے کا طریقہ کار یہ تھا کہ میں پانچ یا چھے شیٹیں لگاتا اور ان کے درمیان کاربن پیپر رکھ لیتا اور انھیں سمجھاتا۔ پھر وہ شیٹیں طلبہ آپس میں تقسیم کرلیتے۔
گیراج میں کلاس
لیکن جب طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہو گیا تو کاربن پیپر والے طریقہ کار کا چلنا مشکل ہو گیا۔ تب میں نے طلبہ کو گروپس میں تقسیم کردیا۔ ایک گروپ کو پڑھاتا، جبکہ دوسرا گروپ انتظار کرتا۔ اس سے یہ مسئلہ ہو ا کہ مجھے ایک ہی سوال کو کئی دفعہ کرانا پڑتا تھا جس کی وجہ سے میرا بہت زیادہ وقت لگتا۔ میں نے اس کا یہ حل نکالا کہ میں نے دو بائی تین سائز کا ایک وائٹ بورڈ خریدا ( جو آج بھی میرے پاس موجود ہے)۔ اسے گیراج کے دروازے کے ساتھ لٹکا کر پڑھاناشروع کر دیا۔ تمام طلبہ گروپ کی شکل میں آتے اور پڑھتے جاتے۔ اس طرح یہ سلسلہ تین یا چار سال چلتا رہا۔
جب طلبہ کی تعداد اور زیادہ ہوگئی تو مجھے جگہ کا مسئلہ درپیش ہوا۔ میں نے گھر والوں سے بات کی کہ طلبہ کیلئے جگہ ناکافی ہے اور مجھے ٹیوشن سے خاصی آمدن ہونے لگی ہے، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے ڈرائنگ روم دے دیں۔ میری والدہ کا مزاج کچھ سخت ہے۔ انھوں ں نے مجھے ڈرائنگ روم کے استعمال کی اجازت دے تو دی لیکن ساتھ ہی کہہ دیا کہ یہ یاد رہے، مجھے شام کو ڈرائنگ روم ویسے ہی چاہیے، جیسے صبح تھا۔ میں نے ان کا یہ فیصلہ قبول کر لیا اور پھر طویل عرصہ یہاں ٹیوشن پڑھاتا اور روزانہ شام کو ڈرائنگ روم صاف کرکے اپنے گھر والوں کو دیا کرتا۔
2003ء کی بات ہے کہ میں نے گھر والوں سے درخواست کی کہ اس گھر میں میرا سسٹم چل پڑا ہے، اس لیے میںچاہتا ہوں کہ پورے گھر کو اکیڈمی کے طور پر استعمال کروں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ کرائے کے گھر میں چلے جائیں۔ یہ بات سن کر سارے گھر والے آگ بگولہ ہوگئے اور میرے خلاف ہوگئے۔ دراصل، وہ سمجھ رہے تھے کہ میں انھیں گھر سے نکال رہا ہوں۔ خیر، میں نے ان سے کہا کہ گھر کا کرایہ، ہرطرح کے بلز اور اس کے علاوہ ہر ماہ پانچ سے دس ہزار روپے بھی دیا کروں گا۔ یہ بات سن کر گھر والے مان گئے۔
گھر کو اکیڈ می میں بدلنے کی وجہ سے کام تو اچھا چلنے لگا، لیکن میری پڑھائی متاثر ہونا شروع ہو گئی۔ تاہم چو نکہ مجھے اس کے رزلٹ اچھے مل رہے تھے، اس لیے میں زیادہ فکر مند نہیں تھا۔
ایک اور مسئلہ آدھمکا
جب اکیڈمی کامیابی کے ساتھ چلنا شروع ہو گئی تو مجھے ایک اور مسئلہ درپیش ہوا۔ وہ یہ تھا کہ میں چونکہ اکیلا ہی سارے طلبہ کو پڑھا رہا تھا، اس لیے مجھے اکیڈمی کے پورے نظام کو منظم کرنا مشکل ہوگیا۔ پھر میں نے سوچا کہ اور ٹیچرز کہاں سے لائوں؟ یہ وہ وقت تھا کہ جب میرے اندر ’’لیڈرشپ‘‘ جاگی۔ میرے مطابق، استاد بن جانا اہم نہیں ہوتا بلکہ اہم یہ ہوتا ہے کہ کام کو کس طرح manage کیا جائے۔ بعض لوگ اچھے استاد ہوتے ہیں، لیکن وہ ادارہ نہیں بنا سکتے۔ بعض ادارہ بنا سکتے ہیں، لیکن استاد اچھے نہیں ہوتے۔ ان دونوں میں فرق ہے۔ اس مسئلے کا حل میں نے یہ نکالا کہ جو طلبہ مجھ سے پڑھ چکے تھے اور ان میں جو سمجھ دار تھے، انھیں بات کرنی اور سمجھانی بھی آتی تھی،ان کی شخصیت بھی اچھی تھی، وہ کام کرنا چاہتے تھے اور انھیں پیسوں کی بھی ضرورت تھی، ایک دن ان سب کو میں نے اکھٹا کیا، انھیں چائے پلائی اور ان سے کہا کہ میں ایک ادارہ بنانا چاہتا ہوں، کیا آپ میرے ساتھ چلیں گے؟ وہ سب راضی ہو گئے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ چو نکہ میرے شاگرد ہیں اور اد ب کی وجہ سے ہاں کہہ رہے ہیں، لیکن یاد رکھو، جب ادارہ بن جائے گا اور کام چلنے لگے گا تو آپ کو مجھے پرنسپل کی صورت میں برداشت کرنا پڑے گا۔ اور یہ بہت مشکل ہے۔ لیکن اس کے باوجود انھوں نے میرے ساتھ کام کرنے کی ہامی بھرلی۔
جب دوافراد کا بطوراستاد اور شاگرد کا تعلق ہوتا ہے تو طالب علم کی استاد کے ساتھ عقیدت ہوتی ہے اور یہی عقیدت اس کے علم حاصل کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ لیکن جب استاد پرنسپل کے روپ میں آتا ہے تورویے میں تبدیلی آجاتی ہے۔ ٹیم بنانے کے بعد میں نے یہ اصول بنایا کہ ادارہ چلے یا نہ چلے، ٹیم کو تنخواہ ملتی رہے گی۔ لوگوں کی اکثریت یہ غلطی کرتی ہے کہ ادارہ چلنے پر تنخواہ دی جاتی ہے۔ جب ادارہ نہیں چلتا تو تنخواہ بند کردی جاتی ہے۔ اس وجہ سے وہ لوگ اپنا ادارہ چلا نہیں پاتے۔ آج بھی میرے ادارے میں تنخواہیں ہر حال میں پہلی تاریخ کو ملازمین کو مل جاتی ہیں۔
ایک لیڈر کو اپنا ادارہ چلانے اور اسے کامیاب کرنے کیلئے اپنی ٹیم پر اعتماد ہونا بہت ضروری ہے۔ اعتماد کے بغیر ادارہ نہیں بن سکتا۔ اگر بن بھی گیا تو وہ چل نہیں سکے گا۔ اگر چل گیا تو دردِ سر بن جائے گا۔
خدشہ کا ٹیکس
جو شخص لیڈر کی حیثیت سے کام کرنا چاہتا ہے، اسے سب سے پہلے اپنے خدشے کا ٹیکس دینا ہوگا۔ مثال کے طور پر، مجھے خدشہ ہے کہ ٹیچر چھوڑ جائے گا تو میں اس کے متبادل کے طور ایک اور ٹیچر رکھ لوں گا۔ اس کو تنخواہ دینا خدشے کا ٹیکس ہوگا۔ اس سے یہ بھی ہوگا کہ ٹیچر کو بھی پتا رہے گا کہ میرے چھوڑنے سے ادارے کو کسی قسم کا نقصان نہیں ہوگا۔
ہزاروں طلبہ مجھ سے پڑھ چکے ہیں۔ ان میں اکثر مجھے یادہیں، لیکن جو پہلے ڈیڑھ سو طلبہ ہیں، میں ان سب کو جانتا ہوں۔ مجھے ان کا، ان کے بہن بھائیوں کا اور ان کے خاندان تک کا پتا تھا۔ جن لوگوں کا پڑھانے سے تعلق ہے، انھیں معلوم ہوگا کہ ا ن میں اکثر کے ساتھ یہ مسئلہ ہوتا ہے کہ وہ بچوں کو پڑھاتے تو ضرورہیں، لیکن ان کو جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پھر طالب علم، طالب علم نہیں رہتا، وہ گاہگ بن جاتا ہے۔
میرا پڑھانے کا انداز یہ ہے کہ میں پڑھانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھتا تھا کہ وہ سوچتا کیسے ہے اور اْس کے کیا مسائل ہیں۔ میں اس کی اجازت سے اس کے مسائل کو دیکھتا تھا۔ شاید طلبہ کے بڑھنے کی ایک وجہ یہی تھی کہ طلبہ کو میتھ ، فزکس اور کیمسٹری کے علاوہ لائف کوچنگ مل جاتی تھی۔ اگر طالب علم کو پڑھائی کے ساتھ ساتھ زندگی گزارنے کا سبق بھی دے دیا جائے تو وہ طالب علم آپ کو زندگی بھریاد رکھے گا۔
ایک ایسا خاندان جس کی پشتوں میں کبھی کسی نے نہ اپنا کام کیا ہو اورنہ کوئی ادارہ بنایا ہو، اس خاندان میں ایک بائیس سال کا لڑکا اٹھے اور وہ ایسا ادارہ بنا دے جس میں چار سو سے زائد طلبہ ہوں اور آمدن بھی لاکھوں میں ہو تو یہ اچھنبے کی بات لگتی ہے۔ چو نکہ میر ی پشتوں میں کسی نے یہ کام نہیں کیا تھا، اس لیے میرے گھر والوں کو ڈر تھا کہ کہیں میں ناکام نہ ہوجاؤں۔ مجھ سے کئی لوگ کاروبار کے متعلق پوچھتے ہیں کہ ہم اپنا کاروبار کیسے چلائیں؟ میں انھیں جواب دیتا ہوں: ایک عمارت لیں اور شروع کر دیں۔ وہ سن تو لیتے ہیں، لیکن عمل نہیں کرتے۔ وجہ یہ ہے کہ کاروبار چلانے کیلئے جو توانائی اور خطرات لینے چاہئیں، وہ صلاحیت ان میں نہیں ہوتی۔
طویل عرصہ میرے گھر والے مجھ سے یہ باتیں کرتے رہے کہ جو تم کماتے ہو، وہ لگادیتے ہو۔ میں انھیں جواب دیتا کہ پڑھانے سے کمانا میری ترجیح نہیں ہے۔ یہ میرا شوق ہے۔ آج بھی بے شمار لوگ مجھے کہتے ہیں کہ آپ پیسے کما کر مزید ترقی کیوں نہیں کرتے۔ میں انھیں جواب دیتا ہوں کہ یہ میرے ویژن میں شامل نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں، پھر آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ میں ان سے کہتا ہوں کہ تعلیمی ادارہ ایک ٹول ہوتا ہے جس کے ذریعے آپ کو کچھ کام کرکے دکھانا ہوتے ہیں۔ اگر آپ اس ٹول کو صحیح استعمال نہیں کر رہے تو پھر وہ چاہے یونیورسٹی بھی بن جائے، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔


اسٹریس کا دَور
جیسے جیسے ادارہ بڑا ہونے لگا، مجھے اسٹریس (Stress) ہونا شروع ہو گیا۔ میرے لیے یہ سب سے بڑا چیلنج تھا۔ تقریباً ایک سال میں اس اسٹریس میں رہا۔ ہر روز مجھے کوئی نہ کوئی صحت کا مسئلہ رہنے لگا۔ کبھی پیٹ خراب ہوجاتا تو کبھی زکام اور کبھی نیند نہ آتی۔ بہت جگہ چیک اپ کرایا، مگر بات نہ بنی۔ آخر کار مجھے بہت اچھے فزیشن ملے۔ انھوں نے میرے والد صاحب کو کہا کہ اپنے بیٹے کو کہیں کہ یا تو اپنی ہمت کو بڑا کر لے یا پھر اپنے کام کو چھوٹا کرلے۔ یہ بات میرے دل میں بیٹھ گئی اور میں نے فیصلہ کیا کہ میں کبھی اپنی ہمت کو کم نہیں ہونے دوں گا۔ وہ دن اور آج کادن۔۔۔ حالات جس طرح کے بھی ہوں، میں نے کبھی اپنی ہمت کم نہیں ہونے دی۔
میں نے اپنے ادارے کی سب سیٹوں پر کام کیا۔ مثال کے طور پر، استقبالیہ۔ استقبالیہ پر وقت گزارنے سے پتا چلا کہ وہاں کس طرح کے مسائل ہوتے ہیں، کالیں کیسے آتی ہیں، کیا سوالات ہوتے ہیں، لوگ کیا پوچھتے ہیں، کون سے جواب دینے سے تسلی ہوتی ہے۔
جنوری 2006ء میں طالب علموں کو آفر کی کہ آپ اتوار کے دن اکیڈمی آئیں گے تو آپ کو مفت پڑھایا جائے گا۔ اتوار والے دن پڑھانے کیلئے میں ٹیچرز کو الگ سے پیسے دیتا تھا۔ پڑھانے کے دوران مجھے یہ بات سمجھ آئی کہ صرف نمبر دلانا کافی نہیں ہے، بلکہ طلبہ میں لائف اسکلز پیدا کردی جائیں تو انھیں زندگی کے ہر معاملے میں آسانی پیدا ہو جائے گی اور ساتھ ہی ادارہ بھی دوسروں سے منفرد ہوجائے گا۔ طلبہ میں صلاحیتیں پیدا کرنا ایسا کام ہے جس پر لوگوں نے بہت کم کام کیا ہے، خاص کر اسکولوں نے جس کی وجہ سے خاطر خواہ کامیابی ملی اور یہی سے ٹرینرر بننے کا سفر شروع ہوا۔
ادارے میں ایک اور نئی چیز کا یہ اضافہ کیا کہ اتوار کے دن سیمینار کرانا شروع کر دیے۔ شروع میں، میں نے غزالہ موسیٰ کی کتاب ’’تعلیمی راز‘‘ پڑھی اور اس کتاب میں سے سیمینار بنائے۔ اسی طرح اور بہت سی کتابوں میں دی گئی معلومات کی بنیاد پر سیمینار کیے۔ پھر وہی سیمینار تعلیم سے ہوتے ہوئے کامیابی کی طرف چلے گئے اور کامیابی کے موضوعات پر بھی لیکچر دینا شروع کر دیے۔ پھر اِن سیمینار ز میں بڑے بڑے ناموں کو بھی بلانا شروع کر دیا۔ جیسے جاوید چوہدری، بلال قطب، اختر عباس وغیر ہ وغیرہ۔اچھا کام یہ کیا کہ ہم نے ان سیمینارز کی ویڈیوز بھی بنانا شروع کر دی۔ اس حوالے سے ہم نے ’’علم کی دنیا‘‘ والوں کو اپنے ساتھ ملایا۔ یہی چیزیں اکیڈمی کی کامیابی کا باعث بنیں۔ ان سیمینار ز میں بچوں کے ساتھ ساتھ ان کے والدین بھی آنے لگے۔ یوں، بچوں کے گھر والوں سے تعلقات بننا شروع ہوگئے۔ بچوں کے گھر والوں کو باشعور کرنے کیلئے ہم نے بے شمار مواد رسالوں کی شکل میں، کتابچوں کی شکل میں، پمفلٹ کی شکل میں، کارڈز اور کوٹیشن کی شکل میں بچوں کے گھروں پر پہنچانا شروع کردیا۔ 2011ء میں ہم نے ایک چھوٹا سا سروے کیا توپتا چلا کہ جتنی کتابیں ایک نہم دہم کے بچے کی ہوتی ہیں، اتنا ہی مٹیریل ہم بچوں کے گھر وں تک بجھوا چکے ہیں۔
کیا آپ فیس کا نعم البدل دیتے ہیں؟
میرے مطابق مارکیٹنگ کا سب سے بہتر ین ٹول کوالٹی ہے۔ ہم لوگ بینرز،پوسٹرز جیسی چیزوں پر اکتفا کرتے ہیں، مگر اس سے اتنا رزلٹ نہیں ملتا۔ یہ یاد رہے کہ چھے سال تک میرے ادارے کے باہر کوئی بورڈ نہیں لگا تھا۔ اکیڈمی کے باہر جو دوسو کے قریب سائیکلیں کھڑی ہوتی تھیں، وہی ہمارا بورڈتھا۔ گلی سے ہر گزرنے والا سوچتا تھا کہ یہاں پر کیا ہورہا ہے۔ میرے نزدیک باہر کا بورڈ اہم نہیں ہوتا، جتنا اہم کام ہوتا ہے۔ ہماری بہترین مارکیٹنگ ہمارا پروڈکٹ تھا۔ بچہ پڑھتا تھا، بچے کی فیملی مطمئن ہوتی تھی، لوگ خوشی سے فیس دیتے تھے۔ جبکہ آ پ دوسرے اداروں میں جا کر دیکھیں کہ لوگ فیس بڑی تکلیف سے دیتے ہیں۔اس کے برعکس، بچہ ہمارے پاس اپنے شوق سے آتا تھا۔
جب میں نے انجینئرنگ یونیورسٹی چھوڑی تو یونیورسٹی کے دوستوں نے باتیں کرناشروع کردیں۔ میں نے ان کی باتوں کا کوئی جواب نہیں دیا، کیونکہ میرے نزدیک میرا کام ان کو جواب دے گا۔ ایک دفعہ ہم نے اپنے ادارے کا آڈٹ کیا تو پتا چلا کہ دو سو تیئس طالب علم ایسے تھے جنہوں نے انجینئرنگ یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور وہ انجینئر بنے۔ پچپن طلبہ ایسے تھے جنھوں نے ایم بی بی ایس کیا اور اٹھارہ چارٹرڈ اکائونٹنٹ بنے۔ یہ اْن باتوں کا جواب تھا جو میرے دوستوں نے میرے بارے میں کی تھیں۔ میرے مطابق، آدمی کے پاس جب خطرہ لینے کی جرات زیادہ ہو تو اسی وقت اسے فیصلہ کرلینا چاہیے۔
محنت کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ اس کا مجھے بہت جلد ہی پتاچل گیا تھا۔ کامیابی کیلئے محنت کے ساتھ ساتھ صبر بہت ضروری چیز ہے۔ مجھے یہ کام کرتے ہوئے سولہ سال سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے۔ کسی بھی چیز کو بننے کیلئے پندرہ برس سے زائد کا عرصہ لگ جاتا ہے۔
تعلیمی نظام جان دار بنائیے
تعلیم کے کام کا بنیادی وصف دیانت داری ہے۔ اگر کوئی شخص استاد ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنا ادارہ چلا رہا ہے، لیکن وہ بد دیانت ہے تو ادارہ ناکام ہو جائے گا۔ آج بھی ہمارے ادارے میں کوئی پندرہ تاریخ کو کوئی چھوڑنا چاہتا ہے تو اْس کو آدھی فیس واپس مل جاتی ہے۔ دس تاریخ کو فارم دیں تو فیس بیس دن کی لی جائے گی۔ ہم نے کبھی پورے مہینے کی فیس نہیں چارج کی۔ اس کے علاوہ کوئی بھی آ کر کہے کہ میں فیس اد ا نہیں کر سکتا اور اس کا ہمیں اس بات کی شہادت مل جائے کہ وہ سچ کہہ رہا ہے تو ہم اْس طالبعلم سے فیس نہیں لیتے۔ آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ اس سے کتنی برکت ہوتی ہے۔ جب کسی کو آسانی ملتی ہے تو اس سے اللہ تعالیٰ آپ کے کام میں آسانیاں پیدا کردیتا ہے۔ ہم ایسے بچے کا رول نمبر بھی سب کے درمیان رکھتے ہیں اور اس سے فیس کے متعلق پوچھا بھی نہیں جاتا، تاکہ اس کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔ آج بھی جتنے بچے میرے ادارے میں پڑھ رہے ہیں، ان کے پاس میرا موبائل نمبر موجود ہے۔ کوئی بھی بچہ مجھے نام بتائے بغیر میسج کرسکتا ہے اور میں اس کلا س کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
ہم جیسے ہی سسٹم سے باہر آتے ہیں تو بچوں سے دور ہو جاتے ہیں۔ لیڈر ہونے کے ناتے بچوں سے رابطہ اور تعلق رہنا چاہیے۔
اخلا ق بہت اہم چیز ہے۔ اگر آ پ استاد ہیں، پرنسپل ہیں تو اخلاق بھی استاد والا ہونا چاہیے۔ اگر چہرے پر مسکراہٹ نہیں ہے، گرم جوشی نہیں ہے تو پھر مطلوبہ نتائج نہیں مل سکتے۔ مثال کے طور پر، یہ بہت اہم ہے کہ آپ خود بچوں کو سلام کریں۔ اس سے ان میں خود اعتمادی آتی ہے۔ اگر آپ لیڈر ہیں اور ادارہ چلا رہے ہیں اور اسٹریس کا بھی شکار ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ لیڈر نہیں ہیں، کیو نکہ لیڈر خود کو سنبھالنا جانتا ہے۔ اسے پتا ہوتا ہے کہ ایسا تو ہونا ہی ہے اور مجھے ہر حال میں ان حالات کا سامنا کرنا ہے۔
جب میں اکیڈمی بنا رہا تھا تو اْس وقت مجھے اس کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ اس وجہ سے بہت غلطیاں ہو ئیں۔ لیکن میں نے ان غلطیوں سے بہت کچھ سیکھا۔ اکیڈمی میں چھٹی کا ایک طریقہ کار ہے۔ لڑکیوں اور لڑکوں کے نکلنے کا وقت مقرر ہے۔ اکیڈمی صبح سے شام تک کھلی ہوتی ہے۔ کوئی لڑکی کسی لڑکے کو نہیں دیکھ سکتی اور کوئی لڑکا کسی لڑکی کو نہیں دیکھ سکتا۔ اس میں سختی نہیں ہے۔ ایک دن ہم نے چیک کرنے کیلئے سیکیورٹی والے لوگ ہٹا دیے، تب بھی کسی لڑکے اور لڑکی نے ایک دوسرے کی طرف نہیں دیکھا۔ پھر ہمیں یہ بات سمجھ آئی کہ ایسا سسٹم کی وجہ سے ہے۔
مستقل بہتری لائیے
ابتدا کے آٹھ سال اکیڈمی میں، میں نے صرف میتھ، فزکس اور کیمسٹری پڑھائی، لیکن میرے اندر ایک احساس تھا کہ مجھ میں کوئی کمی ہے۔ میر ی کمیو نیکیشن ٹھیک نہیں ہے۔ میرے دوست علی عباس نے مجھ سے کہا کہ قاسم صاحب، آپ یونیورسٹی میں پڑھائیں۔ میں نے اس کی وجہ پوچھی تو انھوں نے کہا کہ جب تم ان لوگوں کا سامنا کرو گے جو آزاد ہیں، آوازے کسنے والے ہیں تو تم میں برداشت پیدا ہوگی۔ لہٰذا، میں نے یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کردیا۔ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ میرے اندر برداشت آگئی۔ اس کے علاوہ ڈاریکٹوریٹ اسٹاف کو پڑھانے سے میر ی کمیونیکیشن اچھی ہو گئی۔
جب آپ دنیا کا سامنا کرتے ہیں تو آپ کو بھانت بھانت کے لوگ ملتے ہیں۔ آپ ان کے رویوں پر اپنے ردِعمل کا اظہار نہیں کرتے جس سے آپ کے اندر بہتری آتی ہے۔ اگر آپ کے پاس یہ آرٹ ہے تو پھر آپ کلاس کو اپنی مرضی کے مطابق چلائیں گے۔ اگر یہ آرٹ نہیں ہے تو پھر کلاس آپ کو چلائے گی۔ کیمونیکیشن کی انتہا یہ ہے کہ لوگ کچھ بھی چاہ رہے ہوں، آپ ان کو اپنی مرضی کے مطابق لے کر چلیں گے۔
آپ کتنے مخلص ہیں؟
مجھے رفارم کا شوق ہمیشہ سے رہا ہے۔ میرے اندر یہ جذبہ فطری ہے۔ اسٹیفن کوے کے مطابق، ’’اپنا ایر یاآف انٹرسٹ تلاش کیجیے۔‘‘ میں نے اپنا ایریا آف انٹرسٹ تلاش کیا ہوا ہے۔ میں اس سے با ہر نہیں سوچتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ آدمی کو اپنے کا م کے ساتھ مخلص ہونا چاہیے۔ اگر آپ اپنے کام کے ساتھ، اپنے ادارے کے ساتھ مخلص نہیں ہیں تو پھر آپ پاکستان کے ساتھ بھی مخلص نہیں ہیں۔ میں سمجھتا ہوںکہ یہ بھی وطن کے ساتھ غداری ہے۔
کام سے اعتماد ملتا ہے۔ آپ کبھی اسپورٹس مین سے ملیں، اس میں اعتماد نظر آئے گا۔ آپ کسی مقابلے کے امتحان پاس کرنے والے سے ملیں، اس میں اعتماد ہوتا ہے۔ یہی اعتماد ہر شعبے میں نظر آتا ہے۔ جس فرد میں اعتماد کی کمی ہوتی ہے، اصل میں وہ اپنے کام میں کمزور ہوتا ہے۔ اگر آپ کو اپنے کام پر پورا اعتماد ہے تو پھر تاثیر پیدا ہوگی۔ پھر لوگ مثال دیں گے، عزت کریں گے اور نیٹ ورک بھی بڑھے گا۔ زندگی میں جو کام بھی کریں، اس میں رنگ بھریے۔ رنگ بھرنے کا مطلب ہے کہ وہ کام لوگوںکو کشش کرے۔ اگر آپ ایسا کرلیتے ہیں تو خود بہ خود اعتماد آنا شروع ہوجائے گا۔
لوگوں کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنا اہم نہیں ہے، اہم یہ ہے کہ میں کیوں کھڑا کر رہا ہوں۔ عمارتیں بنا لینا، پیسہ کما لینا، خوشحال ہو جانا کامیابی نہیں ہے۔ اصل کامیابی وہ قابلیت ہے جو آدمی کے اندر ہوتی ہے۔ کامیابی چھونے والی چیز نہیں ہے، چیزیں جمع کرلینے کا نام نہیں ہے بلکہ اعتماد کے آنے کا نام کامیابی ہے۔ ویژن آنے کا نام کامیابی ہے۔ کامیابی آگے بڑھنے کا نام ہے۔

اونچی اڑان : مصنف قاسم علی شاہ سے اقتباس

کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیجیے 

0304-4802030

You may also like this

11 October 2017

ذاتی ترقی کے لئے پانچ اہم اقدامات --- قاسم علی شاہ

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;"><span style="font-family: 'Mehr Nastaliq W

محمد سلیم چشتی
09 October 2017

مستقل پر نظر رکھیں اور ماضی کو بھول جائیں ۔۔۔ تجمل یوسف

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;"><span style="font-family: 'Mehr Nastaliq W

admin
09 October 2017

اپنی پریشانیوں کو کم کیجیے: تجمل یوسف

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;"><span style="font-family: 'Mehr Nastaliq W

admin

People Comments (1)

  • noor ula ain September 19, 2017 at 3:08 pm

    A story of true man and straggler.

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}