مسلم اُمہ کا موہوم تصور اور فرسودہ طبقے ۔۔۔ محمد عباس شاد

بعض خواہشات بہت اچھی ہوتی ہیں، لیکن زمانے کی حقیقتیں انھیں ردّ کردیتی ہیں۔ کیوں کہ اس مادی دنیا میں خواہش اور خواب کے ساتھ اگر عمل، جدوجہد اور زمانی حقیقتوں کا ادراک نہ ہو تو خواب کبھی بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوتے۔ انھیں خوابوں میں سے ایک خواب مسلم اُمہ کے اتحاد یا پوری دنیا کے مسلمانوں کی ایک ایسی عالمی حکومت ہے، جس کا ڈنکا پوری دنیا میں ہر چہار سُو بجتا ہو اور دنیا کے کونے کونے میں اس کا طُوطی بولتا ہو۔ اور پھر اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پوری دنیا کے مسلمان جہاں اپنے حکمرانوں سے بالعموم توقعات رکھتے ہیں، وہاں وہ مقدس سرزمین حجاز کے حکمرانوں سے بالخصوص امیدیں لگائے رہتے ہیں کہ اس فریضے کو وہ وقت اور موقع آنے پر ضرور سرانجام دیں گے۔ ہمیں اس خواہش کے پیچھے مسلمانوں کے کارفرما جذبات کی پوری پوری قدر ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں چند عصری حقیقتوں کا ادراک بھی کرنا ہوگا کہ ہماری خواہش اور زمانے کے تقاضوں میں کتنی مطابقت ہے۔ 
ہمیں جذبات سے بالا تر ہوکر غور کرنا چاہیے کہ کیا یہ دور کسی ایک بین الاقوامی حکومت کا دور ہے؟ اس سلسلے میں حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ فرماتے ہیں:’’یہ قومی حکومتوں کا دور ہے۔ اس دور میں ایک مسلمان قوم کسی دوسری مسلمان قوم کی حکومت قبول کرنے کو تیار نہیں۔ 133 مسلمانوں کی نجات اب اس میں ہے کہ پہلے تو وہ اپنے اپنے علاقوں میں آزاد ہوں۔ 133 اس وقت تو مقدم یہ ہے کہ ہر ملک آزاد ہو۔ اسلامی بین الاقوامیت اس کے بعد کی چیز ہے۔‘‘ (شعوروآگہی)
اس وقت کم وبیش پوری مسلم دنیا نام نہاد آزادی حاصل کرنے کے باوجود استعمار کے چنگل میں بُری طرح پھنسی ہوئی ہے۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد استعمار نے دنیا کے بعض اہم حصوں کے جغرافیے کو اپنی ضروریات کے مطابق ازسرنو ترتیب دیتے ہوئے اپنی مرضی کے خاندانوں کو عوام پر مسلط کیا، تاکہ بہ وقتِ ضرورت ان کواپنے مفادات کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ اگر ہم انصاف پسندی سے مسلمان ملکوں پر مسلط حکمرانوں، نام نہاد مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کا جائزہ لیں تو کیا وہ مسلم اُمہ کے جمہور عوام کے ترجمان بننے کے لائق ہیں؟ کیا ان کے دل اپنے عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں؟ یا وہ عالمی استعماری نظام کے نمائندوں کی چاکری میں اپنی بقا کا راز تلاش کرچکے ہیں۔ مسلمان معاشروں کے شاہی خاندان، سرمایہ دار حکمران، صنعت کار و جاگیردار سیاست دان اور مذہب کے نام پر سیاست کرنے والے مذہبی رہنما، یہ وہ فرسودہ اور ناکارہ طبقے ہیں جو اسلام اور مسلم امہ کے نام کو استعمال کرکے اپنے جمہور عوام کو دھوکا دے رہے ہیں۔ 
جب کوئی طبقہ فرسودہ اور ناکارہ ہوجائے تو وہ معاشرے میں نئی تبدیلیوں اور تشکیل نو میں رہنمائی کے قابل نہیں رہتا۔ البتہ اپنی بقا کی جنگ میں اپنے ہی ملک، معاشرے اور عوام کے خلاف استعماری قوتوں کے لیے بہ طور آلہ کار ضرور استعمال ہوتا ہے اور صدیوں سے معاشرے میں حاصل اپنی حیثیت اور تقدس کو بچانے کے لیے قیادت کے منصب سے سامراجی سہاروں کے باعث ناحق چمٹا رہتا ہے۔ اور سامراج کا مفاد بھی اسی میں ہوتا ہے کہ وہ انھیں فرسودہ اور ناکارہ طبقوں کو ملک وقوم پر مسلط رہنے میں مدد دے اور معاشرے میں ابھرتی ہوئی نئی اورحقیقی عوامی قوتوں کے خلاف ان فرسودہ طبقوں کو کُمک فراہم کرتا رہے۔ استعمار مسلم امہ کے ایسے تصور کو سپورٹ کرتا ہے، جس میں دنیا بھر کے غلام اکٹھے ہوکر آقا کے مفادات کا تحفظ کریں۔ کم و بیش آج مسلم دنیا کے معاشرے اسی صورتِ حال سے دوچار ہیں۔ 
مسلم اُمہ کے نام پر اپنے ہی مفادات کے محافظ حکمران طبقے اور مذہبی قوتیں اگر مسلم اُمہ کا اتنا ہی درد رکھتے ہیں تو پھر یہ اپنے قومی سطح کے نظاموں میں ایسی جوہری تبدیلیاں کیوں نہیں لاتے، جس سے ان کے اپنے جمہور عوام آسودہ، خوش حال اور انصاف سے مالا مال ہوں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک فریب ہے، جس کے ذریعے اسلام، عوام، ملک اور معاشروں کے ساتھ بہت ہی بھیانک کھیل کھیلا جارہا ہے۔ اب نئے دور میں یہ پُرانے فرسودہ طبقے اس قابل نہیں کہ اپنے عوام اور معاشروں کو زوال سے نکال سکیں۔ 
مسلم دنیا کی آرزوؤں کے مرکز حجاز وسعودیہ عربیہ میں امریکی صدر کے اپنے دورِ اقتدار کے پہلے دورے نے جہاں یہ ثابت کردیا ہے کہ ابھی بھی دنیا ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کے اصول پر چلائی جارہی ہے۔ امریکا اپنی لاٹھی سے جدھر چاہتا ہے، مسلمان حکمرانوں کو ہانکتا ہے اور وہ باجماعت مؤدب ہوکر کورنش بجالاتے ہیں۔ وہاں دوسری بات یہ بھی ثابت ہوگئی کہ پوری مسلم دنیا میں سعودی شاہی خاندان کی عقیدت پیدا کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے مذہبی رہنما جو سال ہا سال سے خدمت سرانجام دے رہے ہیں، اور تحفظِ حرمین پر بچہ بچہ کے کٹ مرنے کے سلوگنوں کو نظر انداز کرتے ہوئے شاہی خاندان نے نہ صرف اپنے مفادات، اقتدار کی بقا کے اصولوں پر امریکی صدر کو ڈیل کیا، بلکہ مسلم دنیا کے حکمرانوں کو اپنا قبلہ سیدھا رکھنے کے لیے مشورہ دیتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ عادل بن احمد الجبیر نے کہا کہ: ’’یہ اسلامی دنیا کے لیے بہت بھرپور پیغام ہے کہ امریکا اور مغرب آپ کے دشمن نہیں ہیں۔ اور یہ مغرب کے لیے بھی بھرپور پیغام ہے کہ اسلام آپ کا دشمن نہیں ہے۔‘‘ 
پاکستان میں امریکی اور مغرب دشمنی کا محض نعرہ لگانے اور تحفظِ حرمین کا سعودی حکومت سے ٹھیکہ لینے والی جماعتیں سعودی امریکی دوستی پر کیا فرماتی ہیں؟ اور اسی طرح پاکستان میں توحیدِ خالص کا درس دینے والی سعودی عرب کی ہم نوا مذہبی جماعتیں سعودی دارالحکومت ریاض میں واقع سب سے بڑی شاہراہ کا نام ڈونلڈ ٹرمپ سے منسوب کرنے اور اس شاہراہ کے شروع میں ٹرمپ کی شکل کا ایک مجسمہ لگانے اور امریکا میں واقع مشہور ’’مجسمہ آزادی‘‘ کا ایک چھوٹا سا ہم شکل سونے، ہیرے اور جواہرات سے تیار شدہ، جسے ایک خاص سعودی طیارے کے ذریعے وائٹ ہاؤس منتقل کیا جائے گا، کے بارے کیا سوچ رہی ہیں!؟؟
آج کی مسلم دنیا کو ایک نئی قیادت کی ضرورت ہے۔ جو جدید عہد کے جمہوری اور قومی تقاضوں کو سمجھتے ہوئے پہلے اپنے اپنے ملکوں میں آزاد اور خود مختار قومی حکومتوں کے ذریعے اپنے وقار کو بحال کرے۔ 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}