شکر گزاری سے زندگی بدلیے ۔۔۔ قاسم علی شاہ

’’جب ہم شکر گزاری کی بات کرتے ہیں تو یہ سمجھ لیجیے کہ شکر گزاری الفاظ کی ادائیگی نہیں، طرزِ حیات کا نام ہے!‘‘
جان ایف کینیڈی

انسان کی اصل کمائی اس کے وہ دوست ہوتے ہیں جو مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ آخر اس کے پیچھے کیا راز ہے؟ اس کا جواب ایک جادو ہے جسے سیکھے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ سوشل سرکل کا ٹارگٹ بڑھانے کیلئے یہ جادو سیکھنا پڑ تاہے اور اس جادو کا نام ہے، شکر گزاری۔
شکر گزاری کے دو حصے ہیں: ایک اظہار کرنااور دوسرا محسوس کرنا۔ ہرشخص کے ساتھ کچھ لوگ جڑے ہوتے ہیں جن میں کچھ کام کے ہوتے ہیں۔ اور جو کام کے ہوتے ہیں، ان کے ساتھ بھی کچھ لوگ جڑے ہوتے ہیں اور وہ بھی آپ کے کام کے ہوتے ہیں۔ یوں، آپ کا نیٹ ورک بنتا ہے اور انسانوں کے ساتھ مل کر زندگی کا سفر مکمل ہوتا ہے۔
میں ایک سیمینار میں ٹکٹ لے کر بیٹھ گیا۔ مجھے لیکچر بہت پسند آیا۔ باتیں بہت شان دار تھیں۔ اس لیکچر سے مجھے بہت موٹیویشن ملی۔ بیٹھے بیٹھے میں نے اس ٹیچر کو اپنا استاد تسلیم کرلیا، لیکن میرے دل میں خیال آیا کہ میں نے تو ان کو ٹیچر تسلیم کرلیا ہے، لیکن انھیں کیسے پتا چلے گا کہ میں اْن کا شاگرد بن گیا ہوں۔ پرانے زمانے میں رواج تھا کہ جس کو استاد ماناجاتا تھا، اس کیلئے کپڑوں کے دو جوڑے اور مٹھائی کا ڈبا لے کر اس کے پاس جایا جاتا تھا۔ آج بھی جو لوگ موسیقی سیکھتے ہیں، وہ ایسا ہی کرتے ہیں۔ دیکھا جائے تو درحقیقت انھیں مٹھائی کا ڈبا اور کپڑے دینے نہیں جاتے بلکہ وہ شکر گزاری کا اظہار ہوتا ہے۔ میں نے لیکچر کے دوران چیزوں کو دیکھنا شروع کردیا۔ ان میں کچھ ایسی چیزیں تھیں جن میں بہتری کی گنجائش تھی۔ میں نے دیکھا کہ شرکا جو کارڈ اپنے سینے پر لگائے ہوئے تھے، وہ خوبصورت نہیں تھے۔ ان پر ہاتھ سے نام لکھا ہوا تھا اور ان کا کور بھی اچھا نہیں تھا۔ میں وہاں سے اٹھا اور پرنٹنگ پریس چلا گیا۔ وہاں سے شان دار کارڈ بنوائے۔ اس کے بعد اْردو بازار سے کارڈ جیکٹس لیں۔ اگلے دن میں نے سر کو کال کی اور کہا کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہا، ٹھیک ہے۔ میں ان کے دفتر چلا گیا اور ان سے کہا کہ سر میں آپ کیلئے ایک چھوٹا سا تحفہ لایا ہوں۔ انہوں نے کہا، جی ضرور پیش کریں۔ میں نے وہ کارڈ اْن کے سامنے رکھ دیے۔ انہوں نے پوچھا، یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا، سر، آپ کا سیشن زبردست رہا، میرا جی چاہا کہ اس میں کچھ نیا ایڈ ہو جائے لہٰذا مجھے اس کیلئے اور تو کچھ نہیں ملا، میرا پر نٹنگ اور اسٹیشنری کی چیزوں سے شغف ہے تو سوچا کہ میں یہ چیزیں آپ کیلئے لیتا چلوں۔
اس ملاقات سے میرا اور استاد کے ساتھ تعلق بن گیا۔ پھر یہ تعلق اور آگے بڑھا تو پتا چلا کہ سر کا کوئی بیٹا نہیں ہے۔ سر نے مجھے بیٹا بنالیا۔ ان کی کئی کتابیں ہیں۔ انھوں نے اپنی کتابوں کے شروع میں میرے متعلق لکھا، ’’میرا بیٹا قاسم علی شاہ‘‘۔ یہ تعلق آخری نہیں تھا۔ اس کے بعد میری زندگی میں جتنے بڑے لوگ آئے، وہ انھی استاد محترم کے ذریعے آئے۔ وہ جاوید چوہدری ہوں، وہ بلال قطب ہوں، وہ پروفیسر احمد رفیق اختر ہوں، سب کے سب جتنے بڑے لوگ کہ جن سے میں نے سیکھا، اس عظیم استاد کی وجہ سے تھے جن کا نام پروفیسر ارشد جاوید ہے۔
اگر میں شکرگزاری کا احساس نہ دلاتا تو وہ سارے راستے نہ کھلتے جو شکر گزاری میں چھپے ہوئے تھے۔
شکر گزاری کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ’’جو شخص انسانوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا، وہ خدا کا شکریہ بھی ادا نہیں کر تا۔‘‘ انسان کی زندگی میں آنے والا شخص اگر اچھا ہے تو وہ اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ اگر اس نعمت کابار بار انکار ہوگا تو پھر زندگی میں اچھے لوگ آنا بند ہو جائیں گے۔ شکر گزری صرف زبان ، صرف شکریہ کہنے سے ، صرف تھینک یو سے نہیں ہوتی، بلکہ یہ تو احساس کا نام ہے۔ زبان سے شکر چاہے سو بار کرلیا جائے، اور دل میں احساسِ شکر نہ ہو تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لیکن جب احساس میں شکرگزاری ہو تو اس فرد میں سے شعاعیں نکلنا شروع ہو جاتی ہیں اور وہ شعاعیں مواقع لے کر آتی ہیں۔ آدمی جتنا مثبت ہوگا، اتنی ہی مثبت چیزیں اس کی طرف آ ئیںگی۔
جب انسان اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے کہ ’’اے میرے رب‘‘ تو پھریقین بھی رکھنا چاہیے کہ وہ سن رہا ہے، کیونکہ ’’میرا‘‘ تو اپنے کو ہی کہا جاتا ہے اور یہ ہو نہیں سکتا کہ کوئی اپنا ہو اور وہ بات نہ سنے۔ اللہ تعالیٰ کو پکارنے کے بعد اس سے اچھی امید لگانی چاہیے، کیو نکہ جب اچھی امید ہوگی تو پھر حادثوں اور برے لوگوں سے نجات مل جائے گی۔
شکر گزاری کے اظہار کا ایک طریقہ یہ ہے کہ وہ چیز جس کا شکر ادا کرنا ہو، اسے اہمیت دیجیے۔ مثال کے طور پر، اللہ تعالیٰ نے گاڑی دی ہے تو اس کی حفاظت شکر گزاری ہے۔ اسے احتیاط سے چلانا شکرگزاری ہے۔ جو نعمت اللہ تعالیٰ نے دی ہے، اس کا صحیح استعمال شکر گزاری ہے۔ جس بندے کے شکر گزار ہیں، اس کے کام آئیں جس درخت کے نیچے بیٹھ کر چھائوں لیتے اور پھل کھاتے ہیں، اس کو پانی دیں۔ ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو کرنے سے کائنات سے تعلق بنے گا جو نئے مواقعوں کا باعث بنے گا۔
ایک آدمی کو ٹیٹوز (Tattoo) بنوانے کا بہت شوق تھا۔ ایک دفعہ وہ ٹیٹو بنانے والے کے پاس گیا اور اسے کہا کہ شیر بنا دو۔ اس نے کہا کہ کہاں بنانا ہے؟ اس نے کہا کہ میری کمر پرشیر بنادو۔ شیر بنانا شروع کردیا گیا۔ جب ٹیٹوز بنانے والا آلہ اس کے جسم کو چھوا تو وہ گرم تھا۔ اس آدمی نے کہا، کیا کر رہے ہو؟ ٹیٹو بنانے والے نے کہا کہ شیر کا چہرہ بنا رہا ہوں۔ آدمی بولا، اس کا چہرہ چھوڑدو، مجھے تکلیف ہوتی ہے، کچھ اور بنائو۔ کاری گر نے چہرہ چھوڑدیا اور شیر کی ٹانگیں بناناشروع کردیں۔ آدمی کو پھر تکلیف ہوئی تو اس نے پھر پوچھا کہ کیا بنا رہے ہو؟ اس نے جواب دیا، شیر کی ٹانگیں بنا رہا ہوں۔ آدمی نے کہا، ٹانگیں نہ بنائو، باقی بنا دو۔ کاری گر نے ٹانگیں چھوڑیں اور شیر کا پیٹ بنانا شروع کردیا۔ اس نے پھر پوچھا، کیا بنا رہے ہو۔ اس نے جواب دیا کہ میں شیر کا پیٹ بنا رہا ہوں۔ آدمی تکلیف کے باعث بولا، یہ پیٹ رہنے دو، باقی بنا دو۔ کاری گر نے اپنا اوزار زمین پر دے مارا اور کہا کہ شیر نہیں بن سکتا۔ یعنی تھوڑی سی تکلیف برداشت کیے بغیر شیر نہیں بنوا یا جاسکتا۔ ہمارا معاملہ کچھ ایسا ہی ہے۔ بعض اوقات ہماری زندگی میں جو فرد آتا ہے، وہ ہمیں بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ لیکن جب اپنا زاویہ نظر بدلتے ہیں اور قدرت کی جگہ پر جا کر سوچتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ یہ کیوں میر ی زندگی میں داخل ہو ا۔ مثال کے طور پر، زندگی کی قدر نہیں تھی، سنجیدگی نہیںتھی۔ ایک فرد آپ کی زندگی میں ایسا آیا کہ اس نے آپ کو کچھ ہی عرصہ میں پائوں کے نیچے رکھ کر روندڈالا۔ تب جاکر آ پ کو ہوش آیا، زندگی کی اہمیت پتا چلی اور غیر سنجیدگی ختم ہوگئی۔
حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں، ’’اس گناہ کا بھی شکریہ ادا کروجس نے تمہیں توبہ پر مجبور کردیا۔‘‘ ہم سوچیں کہ ہم توبہ کس سے کر رہے ہیں۔ تو بہ تو ہم اللہ تعالیٰ سے کررہے ہیں۔ یہ کتنی بڑی بات ہے کہ ہم اْس کے دروازے پر چلے گئے۔ بعض اوقات ایک گناہ ایسا رلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو رحم آجاتا ہے۔


کبھی پیچھے مڑ کر اپنی زندگی میں دیکھئے، کتنے لوگ آپ کی بہتری کیلئے آپ کی زندگی میں داخل ہوئے۔ آدمی ایک جگہ جامد کھڑا ہوتا ہے اور پھر ایک ایسا فردزندگی میں داخل ہوتا ہے جو اس کو موٹیویٹ کردیتا ہے اور پھر زندگی کی گاڑی کا رخ ہی بدل جاتا ہے۔ البتہ یہ آپ پر ہے کہ آپ اپنی زندگی میں آنے والے افراد سے کیوں کر سیکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ آپ اپنے گرد موجود منفی فرد سے بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ اس منفی فرد کو دیکھ کر تجزیہ کیجیے کہ اس میں کیا کیا خامیاں ہیں، اور پھر تہیہ کیجیے کہ آپ یہ خامیاں اپنے اندر پیدا ہونے نہیں دیں گے۔
شکر گزار انسان جس جگہ ہوتا ہے، وہ اس جگہ کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ وہ جس چھت کے نیچے بیٹھتا ہے، وہ اس چھت کا شکریہ ادا کرتا ہے۔سخت سردی میں اللہ کا ایک بندہ کسی بزرگ کے پاس پہنچا اور کہا، باباجی مجھے کچھ نصیحت کیجیے۔ بزرگ نے کہا کہ بیٹا، پہلا سبق یہ ہے کہ تم نے جو کوٹ پہنا ہوا ہے وہ اتار دو۔ اس نے وہ کوٹ اتار کر رکھ دیا۔ بزرگ نے کہا کہ اگلے دو دن ایسے ہی رہنا ہے۔ شروع میں تو اسے کچھ نہ ہوا، مگر جیسے ہی رات ہوئی تو سر دی کی وجہ سے اس کا جسم جمنا شروع ہوگیا اور اگلے دن اس کو نمونیا ہوگیا۔ دوسرے دن بزرگ نے کوٹ واپس کرکے کہا کہ بیٹا یہ اس لیے کیا ہے کہ اگر کسی کو سردی لگ رہی ہو تو اپنا کوٹ اتار کر اس کو دے دینا۔ شکرگزاری کا تب پتا لگتا ہے کہ جب چیز چھن جائے۔ بزرگ نے اگلا سبق یہ دیا کہ آج کھانا نہیں کھانا۔ اس نے کہا، ٹھیک ہے۔ اس نے کھانا نہیں کھایا۔ اگلا دن آنے تک اس کا بلڈپریشر کم ہو چکا تھا۔ جب مرنے کو ہوگیا تو بزرگ نے کہا کہ کھانا کھا لو اور ساتھ ہی کہا کہ میر ی بات یاد رکھنا کہ بھوکا ملے تو اسے کھانا ضرور دینا۔ جب اپنے اندر کمی ہوتی ہے تو پھر دوسرے کی مجبوری کا بھی احساس ہوتا ہے۔
خوش نصیب ہے وہ اولاد جو اپنے والدین کی خدمت کر تی ہے اور خدمت بھی وہی کرتی ہے جن میں شکرگزاری ہوتی ہے۔ فہرست بنائیے اور اس میں ان لوگوں اور ان چیزوں کے نام لکھئے جن کا شکریہ ادا کرنا آپ کے ذمے ضروری ہے۔ لکھئے کہ ان کا شکریہ کس طرح ادا کرنا ہے۔ جب اس طرح شکر گزاری ہو گی تو اللہ تعالیٰ خوش ہوگا اور بدلے میں مزید نعمتوں کی بارش ہوگی۔

You may also like this

11 October 2017

ذاتی ترقی کے لئے پانچ اہم اقدامات --- قاسم علی شاہ

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;"><span style="font-family: 'Mehr Nastaliq W

محمد سلیم چشتی
09 October 2017

مستقل پر نظر رکھیں اور ماضی کو بھول جائیں ۔۔۔ تجمل یوسف

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;"><span style="font-family: 'Mehr Nastaliq W

admin
09 October 2017

اپنی پریشانیوں کو کم کیجیے: تجمل یوسف

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;"><span style="font-family: 'Mehr Nastaliq W

admin

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}