بن مرشد ۔۔ قاسم علی شاہ


’’ٹکنالوجی محض ایک اوزار ہے۔ اپنے بچے کو کام کے قابل بنانے اور اس میں موٹیویشن پیدا کرنے کیلئے استاد ضروری ہے

بل گیٹس


’’بن مرشد‘‘ کا مطلب ہے، بغیر استاد کے۔ جن لوگوں کا تعلق پڑھنے پڑھانے سے ہے، ٹریننگ یا کائونسلنگ و لائف کوچنگ سے ہے،چاہے اَن چاہے، اُن کا واسطہ بہت سے لوگوں سے ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ٹیچر ایک بچے کو پڑھاتا ہے تو بچے کے ساتھ ساتھ اس کا تعلق اس کے والدین کے ساتھ بھی ہوجاتا ہے۔ جب ان لوگوں کی زندگی میں پبلک ٹریفک بڑھ جاتی ہے تو ان کا سوچ کا انداز بدل جاتا ہے، کیونکہ وہ اپنے تجربے کو اس علم کی طرف لے جاتے ہیں جو علم انھوں نے کبھی پڑا ہوتا ہے۔ پھر انھیں پتا لگتا ہے کہ جن لوگوں نے کتابیں لکھیں، انھوں نے صحیح لکھا تھا۔ انھیں سمجھ آ جاتی ہے کہ کچھ لوگ عمر میں، رتبے میں اور مقام میں بہت بڑے ہوتے ہیں، لیکن وہ فائدہ مند نہیں ہوتے۔ جبکہ کچھ لوگ جن کی عمر کم بھی ہو، معاشرے کیلئے فائدہ رساں ہوتے ہیں ۔ مرشد سے مراد آپ کی زندگی میں وہ انسان ہے کہ جس کی بات سن کر آپ اپنی عقل کو پرے کردیں۔
موٹیویشن اور انسپائریشن
وہ تمام لوگ جن سے معاشرے کو فائدہ ملتا ہے، ماضی میں ان کی زندگی میں کہیں نہ کہیں کوئی انسپائریشن ضرور ہوتی ہے۔ وہ انسپائریشن چاہے استاد کی ہو، چاہے والد کی ہو یا کسی بھی دوسرے فرد کی ہو۔ انسان اس چیز کی تلاش میں ہوتا ہے جس سے وہ متاثر ہوتا ہے۔ زندگی کے مختلف ادوار میں آدمی مختلف افراد سے متاثر ہوسکتا ہے۔
بن مرشد، بے فیض
جن لوگوں کا کوئی مرشد نہیں ہوتا، کوئی استاد نہیں ہوتا، وہ بے فیض ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی میں کوئی انسپائریشن نہیں ہوتی۔ مقولہ مشہور ہے کہ جس کا کوئی استاد نہیں ہوتا، اس کا استاد شیطان ہوتا ہے۔ بے استادے کسی سے متاثر ہوئے ہوتے ہیں اور نہ اُن سے کوئی متاثر ہوپاتا ہے۔ بن مرشد لوگو ں کی بہت بڑی تعدا د ایسی ہے جو طویل عرصے تک یہ فیصلہ نہیں کرپاتے کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ طویل زندگی گزارنے کے بعد پتا چلتا ہے کہ میں غلط راستے پر ہوں۔ اس وقت آدمی واپس مڑنا چاہتا ہے، لیکن وقت گزر چکا ہوتا ہے۔ یہ وقت بہت خطرناک ہوتا ہے کہ آدمی کی قوتِ فیصلہ زنگ آلود ہوجائے۔ اگر آدمی زندگی میں کسی کو اپنا مرشد اور استاد بنالے تو زندگی سے یہ خطرہ ٹل جاتا ہے۔
با استاد، با فیض، خوش قسمت
وہ لوگ خوش نصیب ہوتے ہیں جن کو مناسب عمر اور مناسب وقت میں مثبت انسپائریشن مل جائے۔ انسا ن جس سے متاثر ہوتا ہے یا جس سے محبت کرتا ہے، اس کی بات بھی آسانی سے سنتا اور مان لیتا ہے۔ انسان جب شعوری یا لاشعور ی طورپر اپنا رول ماڈل طے کرلیتا ہے تو پھر اس کیلئے ہدایت کی جست لگانا آسان ہوجاتا ہے۔ ہدایت ایک لمبا اور کٹھن راستہ ہے۔ اس کو حاصل کرنے کیلئے بڑے دشت طے کرنے پڑتے ہیں، لیکن اگر اس کا کوئی شارٹ کٹ ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ بندہ کسی فیض یافتہ شخصیت کے ساتھ اپنا تعلق قائم کرلے۔
انسان واحد مخلوق ہے جو دوسروں سے متاثر ہوتی ہے۔ یہ شرف اللہ تعالیٰ نے صرف انسان کو بخشا ہے۔ ذرا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک کے متعلق سوچئے کہ جب پہلی وحی آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے۔ سارا ماجرہ حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا اور وہ آپؐ کو لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں۔ ورقہ بن نوفل نے کہا کہ کائنات میں رسولوں کی جولڑی چلی آرہی ہے، آپؐاُس کے آخری رسول ہیں۔ یہ کتنی بڑی بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق شناسائی ہو۔ وہ کتنے عظیم انسان ہوں گے جو آپؐ کے بچپن میں آپؐ کی عظمت سے شناسا رہے ہوں گے۔
جو شخص عظمت سے شنا سا ہے، وہ عظمت کو ڈھونڈ لیتا ہے۔ اس سے بڑی کمبختی اور کیا ہوسکتی ہے کہ آپ کے پاس ہی عظیم انسان ہو، لیکن آپ کو یہ ادراک ہی نہ ہو۔ ہم خود بُرے ہوتے ہیں، لیکن اچھوں کی تلاش میں رہتے ہیں جس کی وجہ سے اچھا انسان ملنے کی بجائے برا انسان ہی ملتا ہے۔ ایک شخص نے کسی کو حضرت واصف علی واصفؒ کے پاس بھیجا اور اس کو پچاس سوال د یئے اور کہا کہ یہ یاد رکھنا، صحیح ولی کی پہچان یہ ہے کہ وہ اِن پچاس سوالوں کے جواب دے دے۔ اس نے وہ پچاس سوال اپنی جیب میں ڈالے اور آپؒ کی محفل میں آکر بیٹھ گیا۔ ابھی بیٹھا ہی تھا کہ ایک سوال کا جواب آ چکا تھا۔ پھر دوسرے کا جواب آیا۔ پھر تیسرے کا آیا۔ یہاں تک کہ پچاس کے پچاس سوالوں کے جواب آگئے۔ آپؒ نے اس سے کہا کہ صفحہ نکال کر دیکھو، کو ئی بات رہ تو نہیں گئی۔ اگرزندگی میں انسپائریشن ہے تو بہت جلدی تبدیلی آ سکتی ہے۔
ہمارے ہاں رسمیں بنی ہوئی ہیں کہ اگر ایک کی بیعت ہو گئی تو پھر کسی کی بیعت نہیں ہوسکتی۔ حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں، ’’دل کی بیعت ہوتی ہے۔ ہاتھ کی بیعت کوئی بیعت نہیں۔‘‘ دل کی بیعت یہ ہے کہ جو اندر سے بدل جائے تو پھر چاہے کوئی کچھ بھی کرلے، وہ کہیں جا ہی نہیں سکتا۔ اگر دل کسی سے انسپائر ہو جائے تو پھر اس کا بتا یا ہو ا ایک جملہ زندگی بدل دے گا۔ اس لیے ممکن ہے کہ بڑا علم والا ملے، لیکن دل مائل نہ ہو۔ جبکہ ایک عام سا بابا مل جائے اور وہ آپ کو کلک کرجائے۔
اندر سے تبدیلی
انسپائریشن خیال کی تبدیلی ہے۔ یہ اندر کی دنیا کی تبدیلی کا نام ہے۔ جب بھی اندر کی دنیا میں تبدیلی آتی ہے تو انسان کے حال میں تبدیلی آنا شروع ہوجاتی ہے۔ لوگ بیعت کے ساتھ ہی حلیہ بدل لیتے ہیں، لیکن خیال تبدیل نہیں آتی جس کی وجہ سے اس کے حلئے کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
کسی بادشاہ نے حضرت شیخ سعدیؒ کی دعوت کی۔ آپؒ سادہ لباس پہن کر بادشاہ کے دربار میں گئے۔ جب محل کے دروازے تک پہنچے تو دربان نے اند ر داخل نہیں ہونے دیا۔آپؒ واپس چلے آئے۔ مہنگا لباس پہنا اور دربار میں چلے گئے۔ جب دروازے تک پہنچے تو دربان نے بہ خوشی آپ کو اندر جانے کی اجازت دے دی۔ جب کھانا شروع ہوا توآپؒ نے اپنے بازو کا بٹن کھول کر کپڑے کو شوربے میں ڈبو دیا۔ مہمانانِ محفل نے یہ عجیب حرکت دیکھی تو متوجہ ہوئے۔ شیخ سعدیؒ یہ بھانپ کر جواب دیا کہ چونکہ اس محفل میں احقر کو تو اجازت نہیں ملی، البتہ مہنگے لباس کو دعوت میں شرکت کی اجازت مل گئی، اس لیے میں اپنے مہنگے لباس کو کھانا کھلا رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں محترم وہ ہے جو دل کا صاف ہے۔ انسپائریشن کا کمال یہ ہوتا ہے کہ یہ بندے کو اندر سے صاف کر دیتی ہے۔


بعض اوقات پتا نہیں ہوتا کہ ہمیں کسی رہبر کی ضرورت ہے، لیکن اللہ تعالیٰ عطا کر دیتا ہے۔ اس کے آنے کے بعد پوری کائنات بدلی بدلی سی لگتی ہے۔ بعض اوقات شعوری طور پر خیال آتا ہے، کیوں نہ کسی کی انگلی تھام لی جائے۔ یہ صرف اس وقت ہوتا ہے کہ جب محبت ہوتی ہے۔ رسمی طورپر کسی سے بیعت نہیں کر نی چاہیے۔ اس میں بندہ اپنی عقل استعمال کرنا شروع کردیتا ہے۔ حضرت واصف علی واصفؒ ? فرماتے ہیں، ’’جس سے عقل لینی ہے، اس پر عقل نہیں لگانی۔‘‘
انسپائریشن ملنا نصیب کی بات ہے۔ ایک درویش بیٹھے ہوئے تھے۔ کسی نے کہا کہ میں ایک جگہ درویش کے پاس گیا تھا۔ وہ آپ کی بڑی تعریف کر رہے تھے۔ درویش نے کہا، ہاں وہ ہمارا ہی بچہ ہے۔ اس نے کہا کہ وہ بڑا انسان ہے۔ درویش نے پوچھا، وہ کیسے؟ اس نے جواب دیا کہ جیسے ہی اس کے سامنے کوئی فرد آتا ہے، وہ فوری طور پر اس کا حال جان لیتا ہے۔ درویش نے کہا، ہم نے یہ علم بیس سال پہلے اسے دے دیا تھا۔ یہ تو چھوٹے چھوٹے شعبدے ہیں۔
فیض منتقل ہوتا ہے
بعض اوقات ماں کی دعا ہوتی ہے اور استاد اچھا مل جاتا ہے۔ باپ کا نیک عمل ہوتا ہے تو رہبر مل جاتا ہے۔ حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں، ’’ہم کسی کی دعا کی تاثیر ہیں اور ہماری دعائیں کسی اور زمانے میں اثر دکھائیں گی۔‘‘ بعض اوقات کسی کی خلوص بھری دعا کسی اور نسل میں اپنا اثر دکھاتی ہے۔ لاہور کے پاگل خانے کے ایک ڈاکٹر صاحب کبھی کبھی اپنے بھتیجے کو لے کر پاگل خانے جایا کرتے تھے۔ وہاں پر ایک بوڑھا شخص بھی تھا۔ وہ پاگل نہیں تھا۔ وہ درویش تھا۔ سلاخوں کے پیچھے سے وہ بچے کو غور سے دیکھتا اور مشاہدہ کرتا رہتا تھا۔ ایک دن بچے کو بھی محسوس ہوا کہ باباجی مجھے بڑی محبت سے دیکھتے ہیں۔ وقت گزرتا گیا۔ بچہ بڑا ہوگیا۔ جو بات اس کے منھ سے نکلتی، پور ی ہوجاتی۔ وہ بڑا حیران ہوتا کہ ایسا کیوں ہے۔ کسی اور درویش نے اس سے کہا کہ فقیر ی تو تمھیں اس وقت ہی مل گئی تھی کہ جب پاگل خانے کابوڑھا تمہیں دیکھتا اور دعا دیتا تھا۔ فیض ایک سے دوسرے میں منتقل ہوتا ہے اور وہ کسی بھی شکل میں ہوسکتا ہے۔
اپنے خول سے باہر نکلئے
زندگی میں انسپائریشن کیلئے خود کو چھوٹے چھوٹے دائروں سے نکالیے اور باہر کی دنیا کو دریافت کیجیے۔ آپ اپنے سے باہر کی دنیا کو جنتا زیادہ گھومیں گے، آپ کیلئے انسپائریشن لینا اتنا زیادہ ممکن ہوگا۔ انسپائریشن وہ راستہ ہے جہاں ایک سے بڑھ کرایک انسان ملتا ہے۔ بندہ جس سے انسپائر ہو تا ہے اس کے نفیس ہونے کی پہلی نشانی یہ ہے کہ اس سے بار محسوس نہیں ہوتا۔ آدمی محسوس کرتا ہے کہ میرا بار اس نے اٹھا لیا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ اگر میرا مرشد خوش ہے تو میں بھی خوش ہوں۔ وہ اس کی بات پر اپنی عقل لگانا چھوڑ دیتا ہے۔ ہم روز نماز میں یہ آیت پڑھتے ہیں کہ ’’ہمیں سیدھا راستہ دکھا، اُن لوگوں کا راستہ جن پر تیرا انعام ہوا ہے۔‘‘ ہماری زندگی میں کوئی ایک مثال تو ایسی ہونی چاہیے۔ اگر مثال نہیں ہے تو پھر یہ زندگی کا بہت بڑا المیہ ہے۔ آدمی جیسا بننا چاہ ر ہا ہے، ویسی مثال کا سامنے ہونا بہت ضروری ہے۔ ایسے فرد کے علم کے سامنے اپنا علم مکھی کے سر کے برابر لگے۔ کیا آپ کی زندگی میں کوئی ایسا فرد ہے؟ اگر نہیں تو تلاش کیجیے۔ آپ کے بہت سے کٹھن راستے آسان ہوجائیں گے اور مختصر بھی۔
دل کا دروازہ کھلا رکھیے
زندگی میں دل کا دروازہ کھلا رکھیے۔ انسپائریشن اُن لوگوں میں کم ہوتی ہے جن کے دل سخت ہوتے ہیں۔ دل کا سخت انسان کسی سے متاثر نہیں ہوتا۔ وہ اپنی عقل کو عقل ِ کُل سمجھتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ مجھ میں بہتری کی گنجائش نہیں ہے۔ ایسے آدمی کے د ل پر مہر لگ جاتی ہے۔ اس کی آنکھ ہوتی ہے، مگر وہ دیکھ نہیں پاتا۔ اس کے کان ہو تے ہیں، لیکن سن نہیں پاتا۔ پاؤں اٹھتے ہیں، مگر غلط راستے پر۔ کوئی کیل پانی میں نہیں تیر سکتا، لیکن اگر یہی کیل لکڑے کے تختے میں لگا دیا جائے تو تیرنے لگتا ہے۔ انسان دوسروں کا محتا ج ہے۔ اس کو تیرنے کیلئے کسی نہ کسی تختے کی ضرورت ہوتی ہے اور مرشد یا استاد اس تختے کا کام کرتا ہے۔
طلب پیدا کیجیے
جو آدمی طلب گا ر نہیں ہے، اللہ تعالیٰ بھی اسے یہ انعام نہیں دیتا۔ اصل چیز طلب اور تلاش ہے۔ حضرت نظام الدین اولیاء ’’کشف المحجوب‘‘ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جو اس کتاب کو صدقِ دل سے پڑھے گا، اسے سچا مرشد مل جائے گا۔ کیونکہ اس کتاب کو پڑھنے کیلئے تگ ودَو کرنی پڑتی ہے۔
یقین والا ترقی کرجاتا ہے۔ یقین کا مطلب ہے، کسی دوسرے پر یقین، اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و عطا پر یقین۔ سچی طالب روتا ہے اور کہتا ہے کہ مالک، میری زندگی میں کوئی اچھا بندہ داخل کردے۔ لیکن مرشد کی یہ طلب دنیا کیلئے نہیں ہو، بلکہ اپنی ذات کی بہتری کیلئے ہونی چاہیے۔ مرشد اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کیلئے ہوناچاہیے۔ مرشد وہ ہو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے آشنا کر دے۔ مرشد وہ ہو جو خود آپ پر آپ سے آشنا کرادے۔

اونچی اڑان : مصنف – قاسم علی شاہ

کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیجیے

0304-4802030

You may also like this

11 October 2017

ذاتی ترقی کے لئے پانچ اہم اقدامات --- قاسم علی شاہ

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;"><span style="font-family: 'Mehr Nastaliq W

محمد سلیم چشتی
09 October 2017

مستقل پر نظر رکھیں اور ماضی کو بھول جائیں ۔۔۔ تجمل یوسف

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;"><span style="font-family: 'Mehr Nastaliq W

admin
09 October 2017

اپنی پریشانیوں کو کم کیجیے: تجمل یوسف

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;"><span style="font-family: 'Mehr Nastaliq W

admin

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}