کسانوں کی تباہی: برطانوی غلامی سے لے کر پاکستانی اشرافیہ کی غلامی تک کا سفر ۔۔۔ ڈاکٹرممتاز خان

ہمارے ملک کے اندر زیادہ تر آبادی آج بھی زراعت کے ساتھ وابستہ ہے اور دیہاتوں میں رہائش پزیر ہے۔ کسانوں کو کسی بھی قسم کا سماجی تحفظ جیسے مفت علاج، فصلوں میں نقصان کی صورت میں مالی مدد، اچھی تعلیم، ریٹارمنٹ  الاونئس یا کوئی اور سہولت میسر نہیں۔ چونکہ عرصہ دراز سے (انگریزوں کی غلامی سے لے کر پاکستان بننے کے بعد پاکستان کے سیاسی گھرانوں کی غلامی تک) کسانوں کو بے شعور اور خوف زدہ رکھا گیا ہے، اس لیے ان میں جدوجہد اور اپنے حقوق  مانگنے کا شعور بھی نہیں ہے۔ کسانوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی چند تنظیمیں بھی کوئی کردار ادا نہیں کر پا رہی ہیں یا کرنہیں سکتی ہیں۔ پہلے پہل کیمیائی کھادوں کے استعمال کم ہونے کی وجہ سے دیہات کا ماحول صاف تھا تو صحت کے  مسائل کم تھے اور سماجی مسائل بھی کم تھے۔ تب دیہات رہنے کے لیے ایک اچھی جگہ شمار کیے جاتے تھے، لیکن جوں جوں معاشرے میں تغیر آیا ہمارے ملک کے صنعتی شعبے میں زوال نے ملکی معشیت کا سارا بوجھ کسان پہ لاد دیا، جس کی وجہ سے کسانوں کی آمدن ایک سسٹم کے ذریعے ہتھیا لی گئی۔ اس کے علاوہ انتظامیہ کی رشوت خور طبعیت کی وجہ سے کسان اپنی فصلوں کا صحیح معاوضہ بھی وصول نہیں کر پاتے اور ہر فصل تقریبا 30 فیصد کم قیمت پر بیچ دیتے ہیں۔ گنے کی ملوں کے مالکان جو اکثر بڑے سیاست دان ہیں، وہ بھی رقم بہت لیٹ ادا کرتے ہیں۔ گندم بیچتے ہوئے باردانہ نہیں ملتا۔ بڑہتی ہوئی بیماریوں اور معاشی مسائل کی وجہ سے کسان پریشان اور  آسانی سے لڑائی جھگڑوں میں الجھ  جاتے ہیں، جس سے فائدہ اٹھا کر دیہاتوں کی لیڈرشپ (جو ایک سسٹم کے ذریعے ملک کی بڑی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے) فائدہ اٹھا کر لوگوں کو اپنے قابو میں رکھتی ہے۔

 کسان سیاسی گھرانوں کی خوشامد اس وجہ سے کرتے ہیں کہ وہ ایک سماجی ماحول میں بندھے ہوئے ہیں اور اگر وہ بغاوت کریں تو ان کو جعلی مقدمات میں پنسا دیا جاتا ہے، ان کے مویشی چوری کروا لیے جاتے ہیں، ان کے ساتھ اور برا برتاؤ کیا جاتا ہے۔

بنیادی طور پہ پولیس اور عدالت کے ادارے تو مسائل کو حل کر کے معاشی ترقی میں اضافہ کرتے ہیں، لیکن وطن عزیز کے کسانوں کی ترقی اور معاشی خوشحالی کی راہ میں تھانہ اور عدالتی نظام ہی بڑی رکاوٹ ہیں۔ ہمارے ملک کے سیاسی گھرانے (جو کبھی ایک جماعت میں ہوتے ہیں تو پھدک کر، ذاتی مفادات اور سیاسی ہوا کے بدلنے سے، دوسری جماعت میں چلے جاتے ہیں) ایک سسٹم کے ذریعے تھانے کے نظام کو اپنے قابو میں کیے ہوئے ہیں، اور لوگوں کو اسی تھانے کی محتاجی اور خوف کے احساس کی وجہ سے اپنے ساتھ جوڑا ہوا ہے۔ یہ لوگوں کی ضرورت بن کر ان کو قابو اور محتاج بنائے ہوئے ہیں۔ اسی خوف کی وجہ سے ہمارے کسان بزدل اور ڈرپوک ہو گئے ہیں اور اپنے حقوق کا مطالبہ اور حکمران طبقے سے لڑنے کی بجائے آپس میں ہی لڑ بھڑ کر دل کی بھڑاس نکال لیتے ہیں۔

عدالتی نظام بھی ناقص ہے، جس کا الزام کسی جج کو انفرای طور پہ نہیں دیا جا سکتا ہے بلکہ ایک سسٹم کے ذریعے عدلیہ انصاف کرتی، اس سسٹم کو بہتر بنانا سیاسی اور حکومت میں موجود سیاسی پارٹیوں کا ہوتا ہے، جو اس طرف توجہ نہیں دیتی ہیں۔ جس کی وجہ سے کسانوں کے مقدمات سالوں تک عدالتوں میں چلتے ہیں، وہ کسان جس کو کھیت کو پانی دینا ہوتا ہے، وہ ہر دوسرے دن کچہری میں ہوتا ہے۔ اس طرح توجہ غیر پیداواری کاموں کی طرف ہو جاتی ہے۔ پھر پولیس اور عدالت کے ان چکروں میں کسانوں کی جمع پونجی بھی ضائع ہو جاتی ہے۔ 

جب یہ مسئلہ پورے ملک کے کسانوں کا ہے تو یہ ایک قومی سماجی مسئلہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کسانوں کو حقوق کا شعور دیا جائے، کسان اپنے علاقے کے سیاسی گھرانوں کے محتاج بننے کی بجائے پولیس کے ادارے پر اعتماد کریں اور یہ تبھی ہوگا جب پولیس خود آزاد ہوگی، عدلیہ بھی مسائل جلد حل کرے گی، اور کسانوں میں شعور ہوگا۔

 جب پولیس اور عدلیہ خود سیاسی گھرانوں کی غلام ہے تو وہ کیا عدل کر سکے گی۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}