پاک چائنہ تعلقات اور دوخدشات ۔۔۔ صاحبزادہ محمد امانت رسول

سال ہا سال پہ محیط پاک چائنہ تعلقات موجودہ دورِ حکومت میں اپنے عروج پہ دکھائی دیتے ہیں۔ جس کی واضح مثال سی پیک منصوبہ اوردیگر میگا پراجیکٹس ہیں۔ یہ بھی خوش آئند بات ہے کہ پاکستان نے ترکی، چین اور روس کی آزاد ریاستوں سے اپنے تعلقات کو ’’دو اورلو‘‘ کے اصول پہ مستحکم کیئے ہیں ۔ وہ نئی ریاستیں جو تجارت کے لئے بہت کار آمد ہیں ان کی طرف پاکستان نے توجہ کی ہے۔ خاص طور پر، چین بہت بڑی Envesmentپاکستان لا رہا ہے اور پاکستانی تاجر چین جا رہے ہیں۔چین سے پاکستان منتقل ہونے والے انجینئرز، کاریگراور ورکرز کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو مختلف منصوبوں میں مصروفِ کار ہے۔ مستقبل میں اس سے زیادہ افراد کی آمد اور سکونت کی امید کی جا سکتی ہے۔ جس سے پاکستان میں خوشحالی کا دور آئے گا۔ پاکستانی حکومت پاکستان میں جاری منصوبوں کا ذکر بڑے فخر سے کرتی ہے اور کرنا بھی چاہئے۔ لیکن بقول شاعر
لبِ خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ
اس ترقی کا سوچ کر خوشی ہوتی ہے لیکن فکرمندی بھی لاحق ہوتی ہے اور یہ فکر مندی دو حوالوں سے ہے۔
ایک مسئلہ یہ ہے کہ دنیا میں جہاں بھی کوئی قوم گئی ہے خواہ وہ روزگار کے سلسلے میں گئی اس نے اس قوم کے کلچر ، رہن سہن اورسماج کو ضرورمتاثر کیا ہے ۔اگر اس قوم کا کلچر ،رہن سن اور سماج مضبوط بنیادوں پر استوار ہے تو اس نے آنے والی قوم کومتاثر کیا ہے۔ ابتدائے اسلام میں ،مسلمان جہاں گئے انہوں نے وہاں کے لوگوں کو اپنی اقدار و کردار سے متاثر کیا۔ اس قوم میں مذہب ، معاملات اور سیاست کے حوالے سے تبدیلی کا باعث بنے۔ آج بھی مسلمان جن ممالک میں روزگار کے لئے گئے ہیں ،اگر مسلمان بطور خاندان و مذہب متاثر ہوئے وہاں انہوں نے اس قوم کو بھی متاثر کیا۔
مغربی ممالک کے پالیسی ساز ، دانشور اور اہل علم اپنی حکومت و ریاست کو ان مسائل سے صرف آگاہ نہیں کرتے بلکہ اسے Road Map بھی بناکر دیتے ہیں۔ ریاست اس پہ پلان بناتی اور اس کا نفاذ بھی کرتی ہے ،یہ ایسی انہونی بات ہونے نہیں جا رہی کہ چائنہ سے لوگ پاکستان میں آباد ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی تجارت، منصوبوں اور انفراسٹرکچر میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
مسئلہ یہ نہیں ہے ، اصل مسئلہ یہ ہے کہ چائنہ کے لوگ کثرت سے پاکستان منتقل ہوتے ہیں۔ یہاں وہ کاروبار کرتے، کمپنیز بناتے اور آفسز کھولتے ہیں۔ سماجی اورمعاشرتی سطح پر ان کے تعلقات پاکستانیوں سے قائم ہوتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں ان کے بچے، نوجوان اوربچیاں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ان کی اخبارات اورچینلز کا اجراء ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں شادیاں، دوستیاں اور میل جول وجود میں آتا ہے۔ان کے نتائج کیا ہونگے؟ کیا ان معاملات پہ کبھی اہل حل و عقد اور اہل دانش و علم نے غو ر کیا ہے…؟
دومختلف تہذیبوں کے افرادکے ملاپ سے پیدا ہونے والے اثرات و نتائج کیا ہوں گے۔ کیا ہم جو ابھی تلک انڈین ڈراموں اورفلموں کے سحر سے باہر نہیں آ پا رہے ، چین کی انڈسٹری میں اپنی شناخت تو نہیںکھو بیٹھیں گے۔انڈیا نے ہماری فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کو ختم ہی نہیں کیا بلکہ مغلوب و محکوم بھی کر دیا ہے۔ ہم بیرونی چیلنجزسے مقابلہ نہیںکر پا رہے جب کہ چین کی شراکت داری اندرونی معاملات میں ہے۔ میں نے ابھی تلک کوئی ایسا سیمینار یا کانفرنس نہیں دیکھی جس میں ان مسائل کو بھی زیر بحث لایا گیا ہو۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے مانا کہ پاکستان چائنہ کی شراکت اورتعاون سے معاشی اورسائنسی میدان میں ترقی کر ے گا۔موٹرو ے، ایئرپورٹس کی عالیشان تعمیراور درآمدات و برآمدات میں اضافہ ہو جائے گا لیکن سوال یہ ہے کیا اس سے پاکستانی عوام کو بھی فائدہ پہنچے گا؟۔اس نظام میں کبھی غریب کا فائدہ نہیں ہوا اگر ہوا تو وہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہوتا ہے۔
اگر اس وقت بھی جائزہ لیا جائے ، پاکستان میں تجارت کے مختلف سیکٹرز میں ،اکثرانہی لوگوں کا قبضہ نظر آتا ہے جوحکومتوں کے کارندے اور نمائندے ہوتے یا رہتے ہیں ۔ یہی وہ طبقہ ہے جسے اندر کی کہانی پہلے سے معلوم ہوتی ہے اور یہ وقت سے پہلے مارکیٹ پہ قبضہ کر لیتا ہے۔ اس کی چھوٹی سی مثال لاہور میں زیر تعمیر ہائوسنگ سوسائٹیز ہیں یہ وہ مضافاتی علاقے ہیں جو پہلے ویران اور بے آبادتھے یاجہاں لوگ کھیتی باڑی کرتے تھے۔ حکومت میں موجود سرکاری نمائندوں نے ان جگہوں کو خرید لیا یا اپنے دوستوں کے ذریعے معمولی قیمت پہ ’’بھائی والی‘‘ کر لی۔ انہیں معلوم تھا کہ پانچ سال بعد اس علاقے کو Developeکیا جانا ہے ۔ انہوں نے انہی’’سینہ گرٹ‘‘ معلومات کی روشنی میں اونے پونے ،ہزاروں ایکڑ زمینیں خرید لیں آج وہاںعظیم الشان ہائوسنگ سوسائٹیز قائم ہوچکی ہیں جہاں غریب کو پانچ مرلے کا پلاٹ ایک کروڑ سے کم کا نہیں ملتا۔یہ صرف ایک مثال ہے، ورنہ ایسی بے شمار مثالیں ہیں۔ یہ وہ کرپشن ہے جس پہ کوئی عدالت ہاتھ نہیں ڈال سکتی کیونکہ یہ ’’جائز کرپشن‘‘ ہے۔ چائنہ کی آمد اور چائنہ کی Investmenسے کیا واقعی پاکستانی عوام کو فائدہ ہو گا یا حسب دستور چند ’’معمولی خاندان‘‘ پاکستان کے امیر خاندانوں میں شامل ہو جائیں گے جو اپنی ہوس مٹانے کے لئے اس کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچنے دیں گے، جن کا ہر منصوبہ میٹروبس کی طرح ہوگا جو عوام کو جھولے دے گا لیکن معیاری تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم نہیں کرے گا۔ ان خاندانوں تک معاشی ثمرات ڈیم کے پانی کی طرح پہنچیں گے اور غریب تک چھاننی سے چھن کر آئیں گے۔
یہ دوخدشات اور اندیشے ہیں کہ پہلا مسئلہ بھی عوام کا مسئلہ ہے کہ چینی عوام کی زبان، تہذیب اورکلچر براہِ راست پاکستانی عوام کو ہی متاثر کریں گے اور پاکستان کے غیر عادلانہ نظام میں مادی اور معاشی فوائد بھی عوام تک نہیں پہنچ پائیں گے۔ سرکاری اہلکار ، وزیرو مشیر ، بیوروکریٹس اوربااثر تاجر یہ سب کچھ سمیٹ کر اپنے گھر لے جائیں گے۔ اگر غریب کوکچھ ملے گا تو وہ ان خاندانوں کی نوکری اور غلامی کی صورت میں ہی ملے گا۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}