نظام تعلیم کی تشکیل فطری اصولوں اور صلاحیتوں کی روشنی میں ۔۔۔ عامر والید

احمد بے چینی سے لیبر روم کےسامنے ٹہل رہا تھا – شادی کے 6 سال بعد انکے ہاں اولاد کی پیدائش ہو رہی تھی۔ احمد نے اپنے بچہ کا نام پہلے ہی سوچ لیا تھا ۔ بلکہ اب تو وہ اسکے مستقبل کے لیے بھی فکر مند تھا۔ احمد  کے والد  بچپن میں ہی فوت ہو گیے تھے۔ذمہ داریوں اور حالات کے  بھنو ر میں وہ ایسا پھنسا کہ ذیادہ پڑھ لکھ نہ پایا۔ لیکن اپنی اولاد کی آعلی تعلیم کی خواہش اسکے دل میں موجزن تھیں۔ وہ انہی سوچوں میں گم تھا کہ ایک زنانی آواز اس کے کانوں سے ٹکرآئی۔” مبارک ہو اللہ نے آپ کو بیٹا دیا ہے”اس آواز کے سنتے ہی احمد کا چہرہ کھل اٹھا۔ یہی تو وہ خوشخبری تھی جسے سننے کے لئے اسے 6 سال کا طویل انتظا ر کر نا پڑا ۔ اس نے جلدی سے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور 500 روپے کا نوٹ نرس کو تھمادیا۔ اوربجلی کی تیزی سے اندر چلاگیا۔ اگلے ہی لمحے وہ اپنے بیٹے کے پاس تھا، پہلے اسے غور سے دیکھنے لگا پھر اس کو اٹھانے کی کوشش کی مگر نرس نے منع کردیا۔ آج وہ بہت خوش تھا، اسکا دل چاہ رہا تھا ناچے، گائے، دراصل وہ دل ہی دل میں ناچ رہا تھا، گا رہا تھا۔ پھر اسے خیال آیا کہ اس نعمت پر خدا کا شکر ادا کرناچاہیے۔ لہذا ہسپتال سے فارغ ہوتے ہی گھر میں سب سے پہلے شکرانے کے نفل ادا کئے۔ اس نے اپنے بیٹے کا نام اظہر رکھا۔

وقت اپنی رفتار سےگزرنے لگا۔ دن ہفتوں میں  اورہفتے مہینوں میں تبدیل ہونے لگے۔ 5 سال کیسے گزر گئے اسے نہ احمد سمجھ سکا اور نہ ہی دنیا کا کوئی اور انسان،  سمجھ سکا ہے۔آنکھوں میں سنہرے مستقبل کے خواب سجاۓ احمد نے اظہر کا داخلہ سکول میں کرایا۔ اگرچہ احمد مالی طور پر مستحکم نہ تھا لیکن بچے کے  روشن مستقبل کی خاطر اسے پرآئیوٹ سکول میں داخل کردیا۔ہر عام پاکستانی کی طرح وہ بھی یہی سوچ رہا تھا کہ اگر گورنمنٹ سکول میں پڑھنے لگا تو مستقبل تاریک ہوجاے گا۔ اور اس کی سوچ کافی حد تک درست بھی تھی۔گورنمنٹ سکول کے ہر کلاس میں 80-100 بچے بیک وقت پڑھتے ہیں1– اتنی تعداد کے ہوتے ہوۓ ایک استاد کیسے ہر بچے کی صلاحیتوں کو جلا بخشے۔؟ کیسے اس کی  تخلیقی  حس کو نکھارے۔؟ نیشنل ایجوکیشن پالیسی کے مطابق پاکستان میں 28فیصد بچے پرائمری کی تعلیم میں ہی ڈراپ ہوجاتے ہیں2۔  پاکستان میں گورنمنٹ سکولز کی ابتر حالت ہر ذی شعور انسان کو مایوس کر دیتی ہے۔جب گورنمنٹ ٹیچر کا اپنا ہی بیٹا پرائیوٹ سکول میں زیر تعلیم ہو تو عام پاکستانی حکومت کے اس اہم ادارے پہ کیسے اعتبار کرے۔؟

آج اظہر کا سکول میں پہلا دن تھا۔گھر والوں سے جدا ہوکر ، اکیلے سکول میں بیٹھنا ننھے سے اظہرکی طبیعت کو گوارا نہ تھا۔وہ اپنے والد کا ہاتھ چوڑنے کے لئےہرگز راضی نہ ہوا۔ جیسے ہی آحمد نے اپنا ہاتھ چڑانا چاہا ، اظہر کی آنکھوں میں اشک امڈ آۓ۔ بس اب کیا وہ زار و قطار رونے لگا، اپنے لخت جگر کے آنسوں آحمد کےپیمانہ  صبر کو بھی آزما رہے تھے۔لیکن روشن مستقبل کی خاطر اس کڑوے گھونٹ کواسنے  پینا ہی تھا۔ جیسے ہی احمد سکول کے دروازے سے باہر نکلا  اظہر بھی دوڑتا ہو ا اس کے پاس آگیا ۔ احمد نے اپنے بیٹے کو گود میں لیا، اسے پیار کیا اور سکول کے دروازے سے اندر آکر پرنسپل کے حوالے کردیا۔ بڑی مشکل سے اسے کلاس میں بٹھایا۔ اور تیز قدم اٹھاتا ہوا باہر کی جانب چل پڑا۔ چند ہی لمحوں میں وہ سکول کی حدود سے نکل آیا۔ اگرچہ اپنی اولاد سے ماں باپ دونوں ہی محبت کرتے ہیں لیکن دونوں کی محبت میں ذرا فرق ہیں۔ ماں تو سر تا پاں محبت کا سر چشمہ ہیں  اور اسی محبت میں اپنی اولاد کی جائز و ناجائز دونوں خواہش پوری کرنے لگتی ہیں مگر باپ ضررورت پڑنے پر سختی بھی کرتا ہے لیکن اس سختی میں بھی جذبہ رحمت کار فرما ہوتا ہے۔

وقت سر پٹ اپنے گھوڑے دوڑا رہا تھا۔اظہر محلے کے اور بچوں کے ساتھ روز سکول جانے لگاتھا، اب سکول میں اسکا  دل لگ گیا تھا شاید اسکی وجہ سکول میں بننے والی دوستی ہو۔پرائمری پاس کرنے کے بعد مڈل اور ہائی سکول کے لئےاسے  سنئر برانچ میں منتقل کر دیا گیا۔ اس کے میٹرک کا امتحان قریب آنے لگا۔  ہمارے معاشرے میں چونکہ عمومی تصوریہی پایا جاتا ہے کہ  اگر کوئی بچہ میٹرک میں اچھے نمبر لے کر پاس ہو جاتا ہے تو اس کا مستقبل شاندار ہوگا کیو نکہ شہر کے اچھے کالج میں اس کا داخلہ بآ سانی ہوجائےگا۔ مستقبل کا یہی خوف ہمارے بچوں کی زندگی میں ایک ڈراونا خواب بن جاتا ہے۔ وہ ننھاذہن جسے شعور کی منزلیں ابھی طے کرنی ہیں ، جسے کائنات کی تخلیق، اور اس کے ہر جز کو سمجھنے کے لئے تنقیدی و منطقی سوچ اپنانی ہیں، جس نے آگے چل کر قوم کی بھاگ دوڑ سنبھالنی ہیں، جس نے تجزیاتی صلاحیتوں کو اپنے بام عروج پر پہنچانا ہے وہ مستقبل کے ڈر سے ہر چیز آدھی ادھوری چھوڑ کر نمبروں کے پیچھے پڑ جاتا ہے۔اس کی صلاحیتوں کو جیسے زنگ لگ جاتا ہے۔ وہ اپنی تمام تر توانائی اور صلاحیتیں محض  کتاب  کے چند پیراگراف رٹنے میں لگا دیتاہے۔اور آجکل کے تعلیمی ادارے بھی اپنی کامیابی اور تشہیر اسی میں سمجھتے ہیں کہ اس کے سکول میں زیر تعلیم  طالب علم نے کتنے نمبر حاصل کئے۔نمبروں کے حصول کے لیے ہر جائز و ناجائز طریقہ اپنانے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔گویا سکول کےبچے  تعلیمی اداروں کے لئے تشہیر ی ماڈل ہیں اور اس   ماڈلنگ کے لئے ان سے بھاری فیس بھی وصول کی جاتی ہیں۔یہ عجیب انصاف ہے۔ حقیقت میں تو معیاری تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے جسے ریاست نے پوراکرنا ہے۔ خو د آئین پاکستان کا آرٹیکل 25 الف( آٹھارویں ترمیمی ایکٹ2010 ) کہتا ہے کہ:

” اسٹیٹ مہیا کرے گی فری ےتعلیم بچوں کو جن کی عمر پانچ سے سولہ سال کے درمیان ہوجو قانون وضع کرے”

اسی طرح  آئین کا آرٹیکل 37 الف اور ب کہتا ہے:

(الف)  ” مملکت پسماندہ طبقات یا علاقوں کے تعلیمی اور معاشی مفادات کو خصوصی توجہ کے ساتھ فروغ دے گی۔”

(ب)” کم سے کم ممکنہ مدت کے اندر ناخواندگی کا خاتمہ کرے گی ، مفت اور لازمی ثانوی تعلیم کے مواقع فراہم کرے گی۔”

لیکن حقایق تو کچھ اور ہی کہتے ہیں’ ایجوکیشن فار آل گلوبل مانیٹرنگ رپورٹ 2007 کے مطابق: تقریبا  65 لاکھ بچے پاکستان میں سکول نہیں جاتے۔

” اسی طرح نیشنل لیبر فورس 2014-15 سروے کے مطابق پاکستان میں تعلیم کی شرح 7ء 60 فیصد ہے – اور اس 7ء60فیصد میں بھی 5ء37 فیصد وہ ہیں جنہوں نے میٹرک پاس نہیں کیا- اسی سروے کے مطابق صرف 5ء5فیصد ڈگری ہولڈر ہے”3

بالآخر اظہر نے نویں کلاس کا امتحان دے دیا ۔ اب نتیجہ کا منتظر تھا، دوران امتحان احمد بھی بار بار اپنے بچے کو دل لگا کر پڑھنے کی تاکید کرتا، ظاہر ہے وہ استظاعت نہ رکھتے ہوۓ بھی اسکی  پڑھائی کا بھاری بوجھ اٹھارہاتھااور اس کے روشن مستقبل کا خواہشمند تھا۔ آخر کا ر نتیجہ کا دن آہی گیا۔ اظہر اعلی نمبروں سے پاس ہوا۔اس نے سب سے پہلے یہ خوشخبری اپنے والد کو سنائی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کامیابی کی سب سے ذیادہ خوشی  میرے بابا کو ہوگی اور وہی سب سے ذیادہ اس دن کے منتظر بھی تھے ۔ دن گزرتے گئے اور اگلے سال کا سورج طلوع ہوا۔ اس بار دسویں کا امتحان اظہر نے دینا تھا، لہذہ ٹینشن پہلے کے مقابلے میں ذیادہ ہونے کے بجاۓ کم تھی ، کیونکہ پچھلے سال کا تجربہ جو تھا۔ اس امتحان میں اس نے پورے بورڈ میں آٹھویں پوزیشن حاصل کی۔اس کامیابی پر احمد فخر کئے بغیر نہ رہ سکا۔ یہ خبر سنتے ہی اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے، اس نے اپنے بیٹے کو گلے لگایا اور جی بھر کر دعائیں دی۔ خوشی کے مارے وہ پوری رات ٹھیک طرح سے سو بھی نہ سکا۔ اگلے چند ہفتوں تک وہ اظہر کے ایڈمیشن کے سلسلے میں مصروف رہام چونکہ اظہر نے بورڈ میں اچھی پوزیشن لی تھی لہذا شہر کے سب اچھے کالج میں اس کا ایڈمیشن آسانی کے ساتھ ہوگیا۔ لیکن ایڈمیشن کے پراسس میں بھی اتنا وقت تو لگ ہی جا تا ہے۔پری میڈیکل میں داخلہ اور وہ بھی شہر کے سب سے اچھے کالج میں ، جس کا بہت سے بچے خواب دیکھتے ہیں لیکن اظہر اس پر  خوشی کیوں نہ منا پایا ؟ یہ بات اس کے بابا نے محسوس کی مگر سمجھ نہ پایا۔

اظہر نے اپنے والد سے ضد کی کہ اسے کمپیوٹر چاہیے۔ اکلوتا بیٹا اور وہ بھی اتنا فرمانبردار، اس لئے اس کی فرمائش قرض لے کر بھی پوری کردی۔ اب کیا وہ سارا دن کمپیوٹر کے آگے بیٹھا رہتا ۔کبھی کمپیوٹر کی ہارڈ وئیر کا معائینہ کرتا اور کبھی ونڈو اور سافٹ وئیر۔کمپیوٹر میں وہ آہستہ آہستہ مہارت حاصل کرنے لگا جو کہ خوش آئند بات ہے مگر اب پڑھائی پر توجہ کم ہوگئی۔ یہ بات اس کے گھر والوں کے لئے پریشانی کا باعث تھی چنانچہ انھوں نے کئی بار تاکید بھی کی مگر اس کا اثر اس کے بیٹے پر نہ ہوا۔اب اس کے والدین کو مستقبل سے خوف آنے لگا وہ تو اسی بات کی آس لگائےبیٹھے تھے کہ انکا اکلوتا بیٹاجب  ڈاکٹر بنے گا تو غریبی کے کالے بادل چھٹ جائے گے وہ بھی ایک خوشحال زندگی جئے گے ۔ مگر اب         تو  آنکھو ں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔اسی پریشانی کا حل نکالنے احمد اپنے بیٹے کے کالج گیا۔وہاں اس کی ملاقات اظہر کے استاد خالد خان سے ہوئی جو کیمسٹری  پڑھاتا تھا اور ایجوکیشنل سائیکالوجی میں پی ایچ ڈی بھی کرچکا تھا۔ بچوں کی نفسیات  سے بخوبی واقف اور اس کی صلاحیتوں کو کیسے پروان چرھانا ہے اس پر کافی تحقیق کر چکاتھا ۔وہ اظہر کو اچھی طرح جانتا تھااور اس کیاعلی صلاحیتوں کا معترف بھی تھا۔

احمد نے اپنا مسئلہ خالد کے سامنے رکھا ، خالد کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی یہ بات احمد کو عجیب لگی وہ تو سمجھ رہا تھا کہ جتنا وہ پریشان ہے اس کا استاد بھی اتنا ہی پریشان ہو جائیگا لیکن یہ مسکراہٹ کیسی  ؟خالد اس کی پر یشانی کو بھانپ گیا اور تسلی دیتے ہو ئے کہنے لگا کہ دراصل یہ صر ف اظہر کا ہے ہی نہیں یہ تو اکثریت بچوں کا مسئلہ ہے ۔چونکہ ہمارا نظام تعلیم غیر فطری اصولوں پر  کام کررہا ہے اس لئے وہ بچوں کی ذہنی استعداد، اور صلاحیتوں کو پرکھنے سے قاصر ہے۔فطرت، فطری اصول ؟ صاحب یہ کسے کہتے ہیں۔ احمد نے سوالیہ نظروں سے خالد کی جانب دیکھا اور اپنی بات جاری رکھی۔ ہم نے بہت سے لوگوں سے یہ بھی سنا ہے کہ ” فطرت کبھی نہیں بدلتی” مگر یہ بات ابتک  سمجھ میں نہ آئی ۔اسکی وضاحت طلب نظروں نے خالد کو اپنا موقف مزید وضاحت کے ساتھ پیش کرنے پر مجبور کردیا اس کے بعد خالد کی گفتگو نے علمی انداز اختیار کرلیا۔

فطرت:

 ڈکشنری کے مطابق  ” فطرت بچہ کی وہ  نیچرل کانسٹی ٹیوشن ہے جس پر وہ اپنی ماں کی پیٹ میں روحانی لحاظ سے بنایا جاتا “Lexxican”

ہے۔”  فطرت دراصل قبولیت حق کی استعداد کا نام ہے اور یہ ہر شخص کو پیدائش کے ابتدائی مرحلے میں عطا ہوتی ہے۔4

انسانی فطرت ان تمام خصوصیات کے مجموعہ  کا نا م ہے جو بنی نوع انسان میں پائی جاتی ہے مثلاَ دنیا کے تمام انسان اپنے خیالات و افکار دوسروں تک پہنچانے کے لئے زبان (لینگوچ ) کا استعمال کرتے ہیں 5۔اگر چہ ہر علاقے کی زبان مختلیف ہوتی ہےمگر یہ خیالات کے تبادلے کے لئے از بس ضروری ہے۔اسی طرح ہر انسان سچ کو صحیح اور جھوٹ کو غلط مانتا ہے، اور وہ (بنی نوع انسان)  کائنات کی عالمگیر سچائیوں کا معترف اور اسے قبول کرتا ہے بشرطیکہ فطر ت مسخ نہ ہو۔ ماہرین نفسیات انسانی فطرت کی وضاحت اور اسکا گہرائی میں مطالعہ کرنے کے لئے چھ ڈومین بیان کرتے ہیں  لیکن فی الوقت اس پر گفتگو ہمارا مقصد نہیں۔   انسانی فطر ت کی ایک اور خصوصیت  (ڈائیورسٹی) تنوع       ہے     اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے تمام انسان ایک دوسرے سے مختلیف ہیں ۔ کچھ خصوصیات تمام انسانو ں کی مشترک ہیں جس پر پہلے بات ہوگئ جبکہ کچھ خصوصیات ایک خاص گروپ میں تو ہوسکتی ہیں مگر دوسرے میں نہیں۔ مثال کے طور پر کچھ تقریبات میں جانا پسند کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اکیلے  رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بعض لوگ ذیادہ بولتے ہیں اور کچھ خاموش طبع ہوتے ہیں۔  انسانی شخصیت کا  تیسرا مرحلہ انفرادیت کا ہے یعنی یہ وہ خصوصیات ہوتے ہیں جو ہر انسان کو دوسرے سے مختلیف کرتی ہیں  ان خصوصیات میں ان کے ساتھ کوئی دوسرا مشترک نہیں ہوتا۔ حتی کہ دو جڑواں بچوں میں بھی  تمام خصوصیات مشترک نہیں ہوتے ہر ایک میں جدا جدا صلاحیتیں بھی پائی جاتی ہیں۔

اکثر والدین اپنے بچوں سے یہی کہتے ہیں کہ فلاں شخص کو دیکھو وہ ڈاکٹر بن گیا ، وہ انجنئر بن گیا تم بھی اَسی کی طرح بن جاؤ۔ اور یہ کہتے ہوئے ہم ایک لمحے کے لئے بھی نہیں سوچتے کہ اس بچے کو اللہ تعالیٰ نے کون سی صلاحیتیں عطا کی ہیں۔کیا اس کی دلچسپی ڈاکٹر  بننے میں ہے بھی یا نہیں ؟ اس تمام گفتگو کو ہم آ سان انداز میں اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ ایک پودا ہے جو پہاڑی اور سرد علاقوں میں اگتا ہے اگر ہم اس کے بیج کو میدانی اور گرم علاقے میں کاشت کرے تو کیا وہ اگے گا؟ یقینا نہیں!   بیج میں اگنے کی صلاحیت تھی، میدانی علاقوں کی زمین میں پانی بھی موجود تھا، سورج کی روشنی اور ہوا بھی تھی لیکن کیا درجہ حرارت وہی تھا جو اس کے اگنے کے لئے ضروری ہے؟ کیا ہو ا میں نمی کا تناسب بھی وہی تھا جو سرد علاقوں میں ہوتا ہے؟ نہیں۔۔۔۔۔۔دراصل اس بیج کو وہ ماحول میسر نہ آیا جس میں وہ اگ پائے۔ اسی طرح ہمارے بچے بھی ہیں ہر بچے کے میں مخصوص صلاحیتیں ہوتی ہیں لیکن وہ تبھی نشو نما پاتی ہیں جب اسے مقررہ ماحول میسر آجائےوگرنہ اس کے ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

اگر اپکا بیٹا کمپیوٹر میں دلچسپی رکھتا ہے تو اسے کمپوٹر کی فیلڈ میں جانے دیجئے، اسے وہی ماحول مہییا کردے تاکہ اظہر کی فطری صلاحیتیں پروان چڑھے اور یہ عین ممکن ہیں کہ وہ کمپیوٹر کے میدان میں اعلی کارہائے نمایاں سر انجام دے۔ خالد خان کی پر مغز گفتگو اگرچہ احمد کو مکمل سمجھ نہ آئی لیکن وہ اتنا ضرور سمجھ گیا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر بچہ ڈاکٹر بنے ۔ ا اگر میرا بیٹا  کمپیوٹر سے دلچسپی رکھتا ہے تو اسی میدان میں اپنے مستقبل کے حوالے سے تگ و دو کرے۔اس کی آنکھیں  ایک بار پھر خوشی سے چمکنے لگی ، دل مطمئن تھا اور وہ تیز قدم اٹھاتا ہوا گھر کی جانب روانہ ہوا۔۔۔۔۔

حوالہ جات:

  • ایجوکشنل پلاننگ اینڈ مینجمٹ ، ڈاکٹر عقل زمان خٹک ص78
  • ایجوکشنل پلاننگ اینڈ مینجمٹ ، ڈاکٹر عقل زمان خٹک ص71
  • نیشنل لیبر فورس 2014-15 سروے
  • لامذہبی دور کا تاریخی پس منظر ص 63
  • Introduction to Personality Psychology Page 11-13

 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}