منفیت اور اس کا علاج ۔۔۔ کاشف شہزاد

الله تعا لی انسان کو صاف دل اور خالی دماغ کے ساتھ پیدا کرتا ہے . محبّت ، نفرت ، کینہ ، غصہ ، عاجزی اور غرور ان  سب جذبات کے بیج بوئے جاتے  ہیں  اور ہم انھیں دانستہ یا غیر دانستہ خوراک مہیا کرتے ہیں  .یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ  کچھ جذبات جبلی اور فطرتی ہوتے ہیں لیکن مسلہ یہ ہے کی  ہم ان کو تبدیل نہیں کر تے یا کر پاتے . المیہ یہ ہے کہ ہم یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ جو سیکھ لیا اس کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور یہیں ہم سے غلطی ہوتی ہے . تغیر کائنات کا اصول ہے . ہر چیز تبدیلی میں زندہ ہے پھر ہم کیسے فیصلہ کر لیتے ہیں کہ ہم اپنی سوچ اور اپنی حالت کو غیر متغیر رکھ کر زندگی گزار لیں گے . حضوروالا آپ ایک گاڑ ی کو ایک سال کے لیے گیراج میں کھڑی کر دیں اور پھر چلانے  کی کوشش کریں تو کیا وہ چلے گی ؟ نہیں ؛ تو پھر کیسے انسان ایک ہی جگہ پر ایک ہی سوچ کے ساتھ کار آمد رہ سکتا ہے ؟ ہم پر تعلیم کیوں فرض کی گئی ہے ؟ صرف اسی لیے کہ ہم بدلتے وقت کے ساتھ اپنے آپ کو تبدیل کر سکیں  لیکن افسوس کے ساتھ ہمارے ہاں تبدیلی کا میعار صرف  گھر ، گاڑی اور کپڑوں کی حد تک محدود ہے . ہم ساری زندگی  ان تین چیزوں کو ڈھونڈتے ہوئے گزار دیتے ہیں اور جب یہ چیزیں مل جاتی ہیں  تو اس وقت تک کئی ایسی چیزیں نا قابل حاصل ہو جاتی ہیں جو زندگی گزارنے کے لیے زیادہ ضروری اور اہم ہیں .

منفیت ایک ایسی بیماری ہے جو ہمیں بچپن سے ہی لگ جاتی ہے  . ہمارے گھر والے اسکول جانے سے پہلے ہی اس کے بیچ بو دیتے ہیں . اسکول والے اس بیچ کو دس سال پانی دیتے ہیں تا کہ اس کی جڑیں مضبوط ہو جائیں .انہی دس سالوں میں ہماری سوسائٹی بھی اس پودے کو خوب اچھی قسم کی کھاد مہیا کرتی ہے تاکے یہ صحیح طرح پھلے  اور پھولے . کالج لیول  تک یہ منفیت ہماری زبانوں اور ہمارے رویوں پر حاوی ہو چکی ہوتی ہے اور اس کا صحیح استعمال ہم اٹھارہ سال کے بعد کرنا شروع کرتے ہیں جب ہم پڑھے لکھے  کہلانے لگتے ہیں . ہائر ایجوکیشن /یونیورسٹی لیول پر یہ منفیت ہماری شحصیت میں کھل کر نمودار ہونے لگتی ہے اور ہم اسی منفیت کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش شروع کر دیتے ہیں  جو اس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک کہ ہمیں کوئی ٹھوکر نہ لگے ، کوئی استاد نہ ملے یا کوئی رہنمائی  نہ ملے . دکھ تو اس وقت ہوتا ہے جب اس منفیت کے زیر اثر ہم اسکول ،کالج اور یونیورسٹی جیسے معتبر اداروں کو عبور کر تے ہوےعملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں . اس وقت ہمارے ذھن میں چند کورسز اور کتابوں  کی تحریروں  اور انکےلئے  کیے گئے خرچے کی رسیدوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا کیونکے ہم نے کتابوں اور نوٹس کو یاد کرنے کے سوا کیا ہی کچھ نہیں ہوتا . ہم نے ہر شحص  کو برا سمجھا ہوتا ہے ، ہر چیز کے نقص نکالے  ہوتے ہیں ، ہر جگہ کو نا مناسب سمجھا ہوتا ہے . حضور والا مجھے یہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم وہ سارا وقت  منفیت کے ساتھ ساتھ نا شکری میں بھی گزارتے ہیں جو حقیقت میں ہماری سیکھنے کی عمر ہوتی ہے . 

منفیت بنیادی طور پر دو قسم کی ہوتی ہے . ایک جو اپنی ذات کے ساتھ کی جاتی ہے اور دوسری سوسائٹی کے ساتھ . پہلی والی کو خود کلامی بھی کہتے ہیں جو ہم ہر وقت اپنی ذات کے ساتھ کرتے ہیں . اس کی وضاحت چند جملوں کی مدد سے کرنا چاہوں گا

١)  میں یہ نہیں کر سکتا ، میں تو ہوں ہی نالائق

٢) میں نے آج تک نہیں کیا تو اب کیسے کروں گا

٣ ) اس نے میری بات کو ریجیکٹ کیا تھا میں کبھی بھی اس کی بات نہیں سنوں گا .

٤) مجھ  سے غلط بات برداشت نہیں ہوتی

٥) مجھے غصہ بہت آتا ہے .

 ٦ ) مجھے اس سے نفرت /چڑ ہے

٧) میرا مزاج ایسا نہیں ہے .

٩) میرا دل تو کرتا ہے یہ کروں پر کیا کروں مجبوریاں اڑے آ جاتی ہیں

١٠) کاش مجھ میں بھی یہ صلاحیت ہوتی

١١) اگر میں یہ نہ کر سکا تو لوگ کیا کہیں گے

منفیت کی دوسری قسم جو سوسائٹی کے ساتھ کی جاتی ہے وہ تنقید کہلاتی ہے  اور یہ بھی بیماری کی طرح پائی جاتی ہے ہمارے معاشرے میں . اس کی وضاحت کے لیے چند جملے گوش گزار کرنا چاہوں گا

١) محلے والوں کو تمیز نہیں ہے کوڑا باہر پھینک دیتے ہیں

٢) گاڑی /موٹر بائیک والے فلاں فلاں ہیں اور انہیں ڈرائیونگ نہیں آتی پتا نہیں کس نے انہیں لائسنس دے دیا ہے  (خود بھلے پیسے دے کر بنوایا ہو )

٣)  ہمارا سسٹم ہی صحیح نہیں تو ہم کیسے صحیح ہو سکتے ہیں

٤) گورنمنٹ ہی کرپٹ ہے تو ہم کیا کریں

٥)  نچلا طبقہ تو ہے ہی کرپٹ ان سے اچھے کی توقع کرنا گناہ ہے

٦ ) وہ میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا تو میں کیوں کروں

٧) ہمیں سچا اورپر خلوص بندہ نہیں ملتا

حضوروالا آپ ایک گلاس پانی کو ایک سیکنڈ کے لیے اٹھاتے ہیں تو آپ کے ہاتھ کو کبھی برا نہیں لگے گا لیکن اگر آپ کو کہا جائے کہ پانی کا ایک گلاس ایک گھنٹے کے لیے اٹھا کر رکھیں تو نہ صرف آپ کے ہاتھ کو برا لگے گا بلکہ آپ کے بازو کے مسسلز بھی آپ کو اچھی حالت میں محسوس نہیں ہوں گے . کیوں ؟ گلاس کا وزن تو نہیں بڑھا  ہاں البتہ گلاس اٹھانے کا  دورانیہ بڑھ گیا. گزارش یہ ہے کہ ہم  منفی خیالات کو جتنا زیادہ اپنے ساتھ رکھتے  ہیں ہمارا دل و دماغ  اتنا زیادہ تکلیف میں ہوتا ہے  اس کے بر عکس جتنے مثبت خیالات کو اپنے ساتھ رکھیں گے اتنا ہی ہم پر سکون ہونگے .

 ایک چھوٹی سی ایکٹیویٹی ہے  جو میں آپ لوگوں پر چھوڑتا ہوں . کبھی اکیلے بیٹھ کر تین سے پانچ منٹ کے لیے آنکھیں بند کر کے اس شحص  کے بارے میں سوچیں جو آپ کو سب سے زیادہ برا لگتا ہو ، جس پر حد سے زیادہ غصہ ہو اور آپ کو موقع ملے تو کیسے اس سے بدلہ لینا ہے  اور کیسے اس کو زیر کرنا ہے . اس کے بعد آپ آنکھیں کھولیں اور اپنے آپ کو محسوس کریں .آپ کو اندازہ ہو گا کہ آنکھیں بند کرنے سے پہلے اور کھولنے کے بعد کی صورت حال میں کتنا فرق ہے .منفی خود کلامی آپ کو محرومی اور پاگل پن  کی طرف لے جاتی ہے جب کہ حد سے زیادہ تنقید آپ کو معاشرے میں اکیلا کر دیتی ہے . آپ کسی محفل /ہجوم میں بھی اپنے آپ کوتنہا محسوس کرتے ہو . کوئی بندہ آپ کی بات کو نہ ہی سنے گا اور اگر سن بھی لے گا تو اہمیت نہیں دے گا . منفیت کا یہ نقصان تو صرف سوشل ہے اگر تفصیل بیان کرنے لگوں تو اس کے نقصانات ختم ہی نہ ہوں جو ہماری صحت ، ہمارے رشتوں ، ہمارے کام حتیٰ کے ہماری ساری زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ہمیں محسوس ہی نہیں ہوتا کہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے . میں صرف ایک محتصر سی تصویر دکھا کر آگے چلوں گا .

غصہ  ……………………….. جگر کو کمزور کر دیتا ہے

غم ………………………… سیدھا پھیپھڑوں پر اثر انداز ہوتا ہے

خوف ……………………. گردوں پر اثر  کرتا ہے

پریشانی ………………….. معدہ پر حملہ کرتی ہے

کشیدگی(سٹریس ) ……………………دل کو پکڑتی ہے

ہم جتنے چاہیں ڈاکٹرز بلا لیں ، جتنی چاہیں میڈیسن  لے لیں جب تک یہ جذبے ہمارے دل و دماغ میں رہیں گے ہم بیماریوں سے چھٹکارا نہیں پا سکتے . اسی فیصد جذبات منفیت سے ابھرتے ہیں . اگر ہم اپنے خیالات ،اپنی فیلنگز اور اپنی سوچ کو مثبت کر لیں تو ہم ان بیماریوں سے بچ سکتے ہیں .مثبت ہونے کیلئے پہلا قدم جو ہم اٹھا سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ جتنے غم اور جتنی پریشانیاں اور جتنے خیالات ہم نے پالے ہوئے ہیں ان کی ایک لسٹ بنا لیں اور اس پر غور کریں کہ ان میں سے کتنی ایسی چیزیں ہیں جن پر ہمارا احتیار نہیں ہے یا ہمارے بس میں نہیں ہیں ان کو اپنے ذھن سے نکال کر باہر پھینک دیں . آپ دیکھیں گے کہ اس لسٹ میں کچھ بھی باقی نہیں رہے گا . آپ یہ سمجھ  لیں کہ آپ دنیا کے  کسی بھی شحص کو تبدیل نہیں کر سکتے اور نہ ہی ملک کے حالات آپ کے بس میں ہیں(جب تک کہ  آپ کوئی وزیر یا وزیر اعظم نہ ہوں  )   . آپ صرف خود پر کام کر سکتے ہیں . آپ اپنی خود کلامی کو مثبت کرنا شروع کر دیں آپ کو نتیجہ جلد محسوس ہونا شروع ہو جائے گا .ان ساری باتوں پر عمل کرنے کے لیے آپ کو ہر چیز کو دل سے تسلیم کرنا پڑے گا . آپ اپنے گھر والو ں  (اچھے ہیں یا برے ) کو دل سے تسلیم کر لیں . آپ اپنے رشتہ داروں کو جیسے وہ ہیں انھیں تسلیم کر لیں . آپ اپنے کام /نوکری /کاروباری حالت کو تسلیم کریں اور اچھے کے لیے کوشش شروع کر دیں . آپ اپنے ملک کو جیسا یہ ہے تسلیم کر لیں اور جتنی بہتری آپ لا سکتے ہیں کوشش شروع کر دیں . میں گارنٹی دیتا ہوں آپ کو سکون بھی ملنا شروع ہو جاے گا . آپ کو خوشی بھی ملنی شروع ہو جاے گی  ، آپ کی بےچینی بھی ختم ہو جائے گی ، آپ  کو ڈپریشن کی دوا بھی نہیں لینی پڑے گی  اور آپ کو سونے کیے لیے گولی بھی نہیں کھانی پڑے گی .. الله تعا لی ہمیں اپنی محبّت نصیب کرے اور اس کی بنائی  ہوئی کائنات ،اس کے بناے ہوئے لوگوں کو اپنی محبّت میں تسلیم کرنے کی توفیق دے . آمین   

 

You may also like this

11 October 2017

ذاتی ترقی کے لئے پانچ اہم اقدامات --- قاسم علی شاہ

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;"><span style="font-family: 'Mehr Nastaliq W

محمد سلیم چشتی
09 October 2017

مستقل پر نظر رکھیں اور ماضی کو بھول جائیں ۔۔۔ تجمل یوسف

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;"><span style="font-family: 'Mehr Nastaliq W

admin
09 October 2017

اپنی پریشانیوں کو کم کیجیے: تجمل یوسف

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;"><span style="font-family: 'Mehr Nastaliq W

admin

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}