قاتل بھیڑ کا چہرہ بھی ہے اور نظریہ بھی ۔۔۔ عادل فراز لکھنائو

 گائوں لوٹ رہے جنید اور اسکے ساتھیوں کو بھیڑ نے وحشیانہ طریقے سے زدکوب کیا جسکے نتیجہ میں جنید کی موقع پر ہی موت ہوگئی ۔جنید کے قتل کے بعد ۲۰۱۵ میں دادری میں بیف کا بہانہ بناکر ہوئے اخلاق کے قتل کی یاد تازہ ہوگئی ۔دادری میں عیدالاضحی کے موقع پر گائوں کے لائوڈ اسپیکر سے یہ اعلان کردیا گیا تھا کہ اخلاق کے گھر میں گائے کا گوشت پکایا جارہاہے جبکہ حقیقت حال مختلف تھی ۔مگر گائے کے تقدس کے نام پر اکسائی ہوئی بھیڑ نے گھر میں گھس کر اخلا ق کا قتل کردیا تھا۔ٹھیک دو سال کے بعدہریانہ میں جنید کے قتل کے بعد اخلاق کے قتل کی یاد تازہ ہوگئی کیونکہ دونوں وقعات میں کئ طرح کی مماثلتیں ہیں۔سرکاری ذرائع کے مطابق اخلاق کا قتل بھیڑ نے کیا تھا اور جنید کا قتل بھی بھیڑ نے ہی کیاہے یعنی مجرموں کو سزا ملنے کی گنجائش بھیڑ کو مورد الزام ٹہرا کر ختم کردی گئی۔اخلاق کے قتل کا بہانہ اخلاق کے گھر میں بیف کی موجودگی کو بنایا گیا تھا اور جنید کے قتل کے پیچھے بھی بیف کو ہی اہم وجہ مانا جارہاہے ۔ہندوستان میں اگر اقلیتوں کے قتل کا کوئی بہانہ نہ ملے تو بیف کو بہانہ بناکر بھیڑ کے ذریعہ گھر میں گھس کر قتل کیا جاسکتاہے ۔قتل کے بعد مجرموں کی سیاسی پذیرائی ہوگی مگر مقتول کو انصاف کے نام پر معاوضہ دیکر خاموش کرادیا جائے گا۔ 
۱۶ سالہ جنید کا قتل ریاستی و مرکزی سرکار کے دامن پر بدنما داغ ہے مگر صورتحال یہ ہے کہ کبھی کسی بھی حکومت نے اقلیتوں کے قتل کو قتل نہیں سمجھا اور نہ انکے خون کو دوسروں کے خون کی طرح اہمیت دی گئی ۔حزب مخالف کی موت کے بعد بی جے پی جنید کے قتل سے دامن بچاتی دکھائ دے رہی ہے جبکہ ہریانہ میں بی جےپی کی حکومت ہے جو بری طرح ناکامی سے دوچارہے حکومتیں اپنی ناکامی پرپردہ ڈالنے کے لئے بھیڑ کو بہانہ بنارہی ہیں۔یعنی اخلاق اور جنید کے قاتلوں کا کوئی واضح چہرہ نہیں  ہےجنہیں پکڑ کر سزا دی جاسکے ۔بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد اگر حالات کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ’’ہندوتوو‘‘ کے نام پر ملک کو تقسیم کرنے کی سازش رچنےوالی طاقتیں اور اپنے علاوہ پورے ملک کے باشندوں کو دیش دروہی اور دہشت گرد کہنے والے لوگ اب شناختہ چہروں کی بنیاد پر خوف و دہشت پھیلانے میں یقین نہیں رکھتے بلکہ انہوں نے ایسے تمام چہروں کو ایک بھیڑ کی شکل دیدی ہے اوربھیڑ کا کوئی چہرہ نہیں ہوتاہے۔یہ لوگ اقلیتوں کا بہیمانہ قتل کررہے ہیں ۔گائےکے تقدس اور راشٹرواد کے نام پر خوف و دہشت کا ماحول پیدا کردیا گیا ہے مگر ہماری حکومتیں اس بھیڑ کی شناخت میں بھی ناکامی کا ثبوت دے رہی ہیں جبکہ یہ بھیڑ حکومتوں کی سرپرستی میں دہشت کا ماحول پیدا کررہی ہے ۔کبھی دلتوں کو سرعام برہنہ کرکے پیٹا جاتاہے تو کبھی دلتوں کے مندروں میں داخلہ پر پابندی عائد کردی جاتی ہے ۔کبھی درختوں پر لٹکی ہوئی اقلیتی فرقہ کے لوگوں کی لاشیں ملتی ہیں تو کہیںجیل میں بند بے گناہ مسلم نوجوانوں کی رہائی کی بھنک لگتے ہی انکا فرضی انکائونٹر کردیا جاتاہے ۔صورتحال تشویش ناک ہے مگر پھر بھی حکومتیں میڈیا کے سہارے یہ بارآورکرانے میں مصروف ہیں کہ ہندوستان ترقی کی منزلیں طے کررہاہے اور حالات پہلے سے زیادہ پرامن ہیں۔
جس طرح مرکزی حکومت کی ناکامیوں کو میڈیا ئ پروپیگنڈے کے ذریعہ وزیر اعظم نریندر مودی اور انکی کابینہ کامیابیوں میں بدل رہی ہے اسی طرح بی جے پی کی ریاستی حکومتیں بھی اپنی ناکامی کو جھوٹے تشہیر ی پروپیگنڈے اورمیڈیا کا سہارا لیکر کامیابی کے نئے پیمانے متعین کررہی ہیں۔حقائق سے چشم پوشی کی جارہی ہے ،جھوٹ اور مکروفریب کو حقیقت کا نام دیکر پیش کیا جارہاہے ۔حقیقت حال یہ ہے کہ ہندوستان خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہاہے ۔’’برہمن واد‘‘ اور ’’ذات پات ‘‘ کے بکھیڑوں نے جہاں ہندو دلتوں اور مسلمانوں کی نسل کشی کا بیڑا اٹھا رکھاہے وہیں ہندو اورمسلم اقلیتوں میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کردیا گیاہے ۔سہارنپور کے شبیر پور فساد کے بعد ہزاروں دلت خاندانوں کا مذہب تبدیل کرنا اس طبقاتی نظام کے خلاف بغاوت کا اعلان ہے ۔اگر طبقاتی نظام اور بھیڑ کے قاتلانہ حملوں پر قابو نہ کیا گیا تو ہندوستان میں ہر طبقہ اورہر مکتب فکر بھیڑ کی شکل اختیار کرلے گا ۔اس وقت حکومتوں کے لئے ایک ہی راستہ رہ جائے گا کہ ہر حال میں بھیڑ کا وجود ہی ختم کردیا جائے ۔وجود ختم کرنے کے لئے سرکاری سطح پر بھیڑ کاقتل کرنا ہوگا یا پھر اس بھیڑ کو سرکاری سرپرستی میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کرنےوالی بھیڑ سے الگ کرنا ہوگا ۔یعنی ہندوستان ایک بار پھر تقسیم کا درد جھیلنے کے لئے مجبور ہوگا۔
بی جے پی کے اقتدار میںآنے کے بعد پورے ہندوستان میں عدم تحفظ ،عدم برداشت اور طبقاتی نظام کو فروغ دیا گیا ۔یہ تمام کام بھیڑ کے سہارے انجام دیے گئے تاکہ سرکار کے دامن پر کوئ داغ نہ لگے یہی وجہ ہے کہ نریندر مودی جی ہر جگہ دہراتے گھوم رہے ہیںکہ تین سالوں میں حکومت کے دامن پر کوئ داغ نہیں ہے ۔سوال یہ ہے کہ سفید کپڑوں کے نیچے چھپائے ہوئے لہو کے دھبوں کو کون دیکھ رہاہے ؟جو دیکھ رہے ہیں انکی زبانوں پرچاندی کے تالے ڈال دیے گئے ہیں۔میڈیا حقیقت بیانی سے گریز کرتا نظرآرہاہے اور اپنی کھسیاہٹ چھپانے کے لئے جھلاہٹ بھری چیخیں سنائی دے رہی ہیں۔پورا ہندوستان جانتاہے کہ ’’ہندوتوو‘‘ ،راشٹرواد ‘‘ اور گائے کے تقدس کے نام پر جس بھیڑ کو قتل و خون کے لئے آزادی دی گئی ہے اس بھیڑا کا چہرہ بھی ہے اور نظریہ بھی ۔اگر ہمارا قومی میڈیا اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اس بھیڑکا انفرادی یا اجتماعی اسیکچ بنانا چاہے تو کوئ مشکل پیش نہیں آئے گی ۔اس بھیڑکے انفرادی چہرے وہ نوجوان ہیں جنہیں ذات پات ،رنگ و نسل اور چھوت اچھوت کا پاٹھ پڑھاکر قومیت کے نام پر مذہبی جذبات بھڑکرکھڑاکیا گیاہے ۔انکی جارحیت کا عالم یہ ہے کہ وہ اپنے ماتھے پر زعفرانی ٹیکے کی جگہ دلتوں اور اقلتیوں کے خون کا تلک لگانا پسند کرتے ہیں۔اس بھیڑ کا اجتماعی چہرہ آرایس ایس اور اسکی ذیلی تنظیمیں ہیں جو ’’ہندوتوو‘‘ اور راشٹرواد کے نام پر نوجوان نسل کو نفرت کا درس دے رہی ہیں۔
چہروں کو بھیڑ میں تبدیل کرنے والی طاقتیں ہمارے قانون کی کمزوری اور حکومتوں کی نیتوں کو بخوبی جانتی ہیں۔اخلاق کے قاتل بھیڑ کے سہارے ہی آج تک سزاسے محروم ہیں اسی طرح جنید کے قاتل بھی کبھی مجرموں کی طرح سزا نہیں پائیں گے ۔شبیر پور فساد کے ملزمین سیاسی رہنمائوں اورقاتلوں کو رزق زندان نہیں کیا جائے گا کیونکہ وہ بھی بھیڑ کا حصہ ہیں۔اگر دلت اور مسلمان بھی اپنے چہروں کو بھیڑ میں تبدیل کردیں تو کیا انکے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جائے گا ۔نہیںہر گز نہیں۔بھیڑ کے جرم کو چہروں کے جرم میں تبدیل کرنے کے لئے ہماری قومی ایجنسیاں اور پولس نامعلوم بھیڑکو ایک چہرہ کی شکل دیکر جیلوں میں ٹھونس دے گی ۔یعنی ہر حال میں دلتوں اور اقلیتوں کو ہی مارا جائے گا۔
انجام کچھ بھی ہو مگر مسلمانوں اور دلتوں کو بھی بھیڑ کا مقابلہ کرنے کے لئے بھیڑ کی شکل اختیار کرنی ہوگی ۔طبقاتی نظام اور خوف کا ماحول ختم کرنے کے لئے خوف کا لبادہ اتارکر پھینکناہوگا ۔اس بھیڑ کو اتحاد کا ثبوت دیتے ہوئے آئندہ انتخاب میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا ۔اپنے عوامی نمائندوں کو ایوان تک پہونچانا ہوگا تاکہ اس بھیڑ کا اگر چہرہ بنانے کی کوشش کی جائے تو پہلا چہرہ عوامی نمائندوں کا سامنے آئے ۔مگر دلت مسلم اتحاد کے بغیر یہ کوشش ناکارہ ثابت ہوگی ۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}