جاپان اور چین کی سماجی، صنعتی اور سیاسی ارتقاء کا موازنہ ۔۔۔ ڈاکٹرممتاز خان

پاکستان کے لوگوں کو مشرق ایشیاء کی تمام اقوام ایک جیسی ہی دیکھتی ہیں، لیکن حقیقت میں ان تمام اقوام کے سماج میں جہاں ایک مواثلت ہے وہاں اختلاف بھی ہے۔ اسی وجہ سے جب صنعتی دور شروع ہوا تو تمام اقوام مشرق نے اسے ایک ہی وقت میں قبول نہیں کیا۔ اس مضمون میں چین اور جاپان کے اندر آنے والی سماجی اور سیاسی سوچ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے صنعتی سماج کا جائزہ لیا جائے گا۔

چین میں سماج کو صنعتی رنگ میں ڈھالنے کے لیے 1898ء میں اصلاحات کی گئیں تھیں، لیکن وہ بری طرح سے ناکام ہو گئیں۔ پھر کئی سال تک چین بھٹکتا رہا لیکن اس دوران انہوں نے اپنے سیاسی نظام میں تنظیم پیدا کی، پھر اس تنظیم کے نتیجے میں کمیونسٹ انقلاب آیا، وہ انقلاب ہی 1978ء کی ریفارم لایا، جس نے چین کو ایک عالمی قوت بنا دیا۔ 

اس کے مقابلے میں جاپان 19 صدی کے آخر میں ہی ایک صنعتی سوچ کو اختیار کر چکا تھا اور دنیا میں ایک طاقتور سماج کے طور پہ ابھر رہا تھا (جاپان کا سامراجی کردار ایک الگ بحث ہے، یہاں مقصد تنظیم اور طاقت کے حصول پہ بحث کرنا ہے)۔ اس ترقی اور طاقت کے حصول کے پیچھے ایک سوچ کا ہاتھ ہوتا ہے، وہ سوچ کیسے بنتی ہے، اس کے لیے ماہرین سیاسی ماحول کی تعریف کچھ یوں کرتے ہیں:-

کسی بھی قوم کا تاریخ کو سمجھنے کا انداز، بنیادی معاشرتی عقائد، قومی شناخت کا مرکز، وفاداریاں، سیاسی اور عوامی اداروں کا شعور، روح، خلوص اور جذبہ، تاریخی ناکامیوں سے اخذ نتائج اور مستقبل کی حکمت عملی۔

یہ سارے عوامل مل کر قوم کا مزاج بناتے ہیں اور وہ قوم پھر جا کر دنیا میں کوئی کردار ادا کرتی ہے۔ اب چین اور جاپان کے سماج میں کیا فرق تھا؟

جاپان نے کنفیوژن کو پورا قبول نہیں کیا تھا، اسی وجہ سے جاپان نے مغرب کی صنعتی سوچ کو جلد اختیار کر لیا، لیکن چین اپنی مڈل کنگڈم مائند کی وجہ سے وہ نظریات قبول نہ کر سکا، جو نئے دور میں طاقت کے حصول کو یقینی بناتے تھے۔ پھر چین کو متحرک کرنے میں کمیونسٹ انقلاب نے اہم کردار ادا کیا جبکہ جاپان کو جنگ عظیم دوم کی شکست نے ایک اور رنگ میں ڈھال دیا، جاپان نے اس نئے کردار کو بھی بڑی اچھی طرح نبھایا۔

یہ کہنا بجا ہے کہ سماجی تبدیلیاں سیاسی تبدیلیوں کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں۔ جہاں تک زرعی دور کا تعلق ہے تو چین اس دور میں ایک ترقی یافتہ ملک تھا، لیکن متحد ہندوستان کی طرح نئی سماجی تبدیلیوں کو قبول نہیں کر رہا تھا اور برطانیہ، جو اس وقت ہندوستان پہ تسلط قائم کر چکا تھا، سے 1839-1841ء کی جنگ افیم ہار گیا۔ جاپان ایک جزیرہ ہونے کی وجہ سے مغرب کی دست برد سے محفوظ رہا اور اس دوران انہوں نے اپنے ملک میں اصلاحات لانا شروع کر دیں۔ 

جاپان میں توکوگوا لی یاسو نے مرکزی انتظامیہ کا جو نظام دیا اس نے دو صدیاں جاپان میں امن قائم کیے۔ اس کے بعد ایک اور اصلاحات کا نظام آیا جو کو میجی بحالیاں کہتے ہیں۔ میجی بحالیاں کا مقصد جاپان کو مغربی غلامی سے بچانا اور بادشاہت کا تحفظ تھا۔ ان نئی اصلاحات میں میرٹ اور اہل لوگوں کو متعلقہ شعبوں میں لگایا گیا۔ تعلیم کو لازم قرار دیا گیا اور فوج کی نوکری سب پہ لازم قرار دے دی گئی۔ جاپان کے اندر کوئی دوسری نسل نہیں تھی  تو جاپانی قومیت کی جڑیں جلد ہی بہت مضبوط ہو گئیں۔ جاپان میں ایک کہاوت مشہور تھی، جو ہمارے مذہبی علوم میں بھی ہے، کہ جو چیز بھی اچھی ہے وہ سیکھ لو۔ اسی وجہ سے انہوں نے نئے نظریات کو سیکھا اور کاروبار شروع کئے۔ نئی سوچ سے نئے کاروبار شروع کئے تو ان میں مغرب سے مقابلے کا بھی شوق پیدا ہوا، مغرب کے اداروں کے دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت بھی پیدا ہوئی۔ جاپانی نظریاتی سیاست کے پیچھے نہیں بھاگے، بلکہ اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لیے اپنے ٹارگٹس کے پیچھے بھاگے۔ وہ مذہب اور نظریاتی سیاست کی بجائے اپنے کاروبار کے بارے میں زیادہ سوچتے ہیں۔ انہوں نے اپنی اشیاء کو بنانے اور ان کے ٹارگٹس پہ فوکس کیا اور نتیجتاً 19 صدی کے اوائل سے ہی ایک طاقتور سماج کے طور پہ ابھر کر سامنے آ گئے۔

چین 1850ء کے قریب خود کو تہذیب اور نظریات کا گہوارہ مانتا تھا اور احساس برتری کا شکار تھا اور نئے خطرے کو پوری طرح بھانپ نہیں پایا اور پیچھے رہ گیا۔ جبکہ جاپان نے کوریا، چین، متحد مغل ہندوستان سے بہت کحچھ سیکھا اور پھر برطانیہ سے بھی ۔ 

جاپان کا معاشرہ بھی باقی ایشائی اقوام کی طرح 19 صدی میں مختلف سماجی طبقات میں بٹا تھا، زرعی دور میں جاپان کے سماجی طبقات میں پہلے جرنیل، پھر انتظامیہ، پھر کسان، پھر فنکار، پھر تاجر آتے تھے۔ اس کے مقابلے میں چین کا زرعی سماج پہلے دانشور، پھر انتظامیہ، کسان، فنکار، کاروباری طبقہ اور پھر سپاہی تھے۔

اگر چین کے اندر 19 اور 20 صدی کے اوائل کی سیاسی تبدیلیوں کا جائزہ لیں تو ہمیں ان کو مختلف ادوار میں بانٹنا ہوگا: پہلا دور جس میں بادشاہ کے خلاف بغاوت ہوئی، دوسرا دور جس میں اصلاحات لائی گئی اور مغربی تسلط بھی رہا، تیسرا دور جس میں انقلاب آیا۔ بغاوت 1851-1864ء کے دوران ہوئی، جس کے بعد بالائی سطح پہ اصلاحات لوگو کی گئی۔ ان اصلاحات میں مذہی طبقہ نے کنفیوژن کی تعلیمات کی مخالفت کی، اس وقت چین کی اشرافیہ کو عوامی بغاوتوں کا سامنہ کرنا پڑا اور اصلاحات نے کوئی کام نہ کیا۔

چین کو 1894ء میں جاپان سے شکست ہوئی، پھر جاپان نے 1905 ء میں روس کو بھی مات دی تو اس ناکامی کے بعد چین نے جاپان کے سماج کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔ دوسری طرف جنگوں کو جیتنے کے بعد جاپانی اپنے جاپانی قومییت کے نظریات کو اور اعلی سمجھنے لگ پڑے اور ان کے سماج میں کمیونسٹ سوچ پیدا ہونے نہ پائی، جبکہ چین ایک بے چینی سے گزر رہا تھا اور وہ بھی نئی چیزوں کو قبول کرنا چاہ رہا تھا۔ کنفیوژن کی تعلیمات میں خاندان سیاست کی بنیادی اکائی تھا، ماحول کو نقصان پہنچانا بھی ان کے نزدیک گناہ تھا۔ لیکن اب وہ ان نظریات کو چھوڑ کر نئے نظریات کی طرف مائل ہونا شروع ہو گئے۔ سب سے پہلے 1911ء میں قنگ سلطنت کا خاتمہ ہو گیا اور چین عوامی جمہوریا بن گیا۔ چین نے نیشنلسٹ نظریات کو قبول کیا، لیکن نیشنلسٹ قوتیں کوئی مظبوط معاشی نظام نہ دے سکیں اور مرکز گریز قوتیں پیدا ہو گئیں جن کے نتیجے میں کئی جنگجو پیدا ہو گئے۔ نئی حکومتوں نے مغربی نظریات کو جوں کا توں لاگو کیا تو وہ بھی ناکام ہو گئے کیونکہ وہ سماج کے ساتھ ہم آّہنگ نہیں تھے۔ اس کے بعد چین میں علاقائی سوچ پیدا ہونا شروع ہو گئی۔ پاکستان کے نام نہاد لبرل طبقہ کی طرح کچھ چینی دانشوروں نے اپنی پرانی تعلیمات، روائتی شادیوں، فیملی نظام اور تعملیم کو نشانہ بنانا شروع کر دیا، کچھ نے چینی زبان کے لکھنے کے انداز کو تبدیل کرکے مغربی لیٹر اختیار کرنے کا مشورہ دیا، کچھ لوگ مکمل مغربی ثقافت کا مطالبہ کرنے لگ پڑے، کچھ چین کے اتحاد اور جنگجوؤں کے خاتمے کی بات کرتے تھے۔ جس کےجو منہ میں آیا کہتا چلا گیا۔

پھر ماؤ آیا، اس نے سمجھا، چینی بھی پاکستانیوں کی طرح طاقتور کو سلام ٹھوکتے تھے، اس نے لوگوں کو تحریک دی، کسانوں کو مسلسل بھڑکایا، ان کی غیرت کو جگایا، اور بالائی طبقے کے استحصال کے خلاف متحد کیا، منظم کیا اور ایک جان بنایا اور 1949ء کا انقلاب لایا۔ 1949ء سے 1978ء تک چین نے سٹالن کا معاشی ڈھانچہ لاگو کرکے ترقی کرنے کی کوشش کی، لیکن مغرب سے مقابلہ کرنے میں ناکام رہا تو نتیجتاً اس ماڈل کو خیر آباد کہ کے مارکیٹ اکانومی کا ماڈل لایا، جس نے اس کو ایک معاشی قوت بنا دیا، لیکن اس ترقی کے پیچھے چین کی منظم کمیونسٹ پارٹی کی سوچ اور خلوص نظر آتا ہے، اگر وہ نہ ہوتا تو شائد چین آج بھی مغرب کا دم چلہ  بنا ہوتا۔ دوسری بڑی وجہ چین کے سماج کے اندر خوب سے خوب تر کی تلاش، محنت اور ظلم سے نفرت دیکھائی دیتی ہے۔

دوسری طرف جاپان جنگ عظیم دوئم ہار گیا، اپنی فوج ختم کرنی پڑی، اب جاپان نے دوبارہ نئے دور کے لیے خود کو تیار کیا۔ 1948ء میں اپنی زمین کی اصلاحات کیں، کاشت کار کو دس ایکڑ سے زیادہ زمین رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ اضافی زمین حکومت نے سب سے خرید لی۔ مزدورں کی تنظیمیں بنائی گئیں، ان کو حقوق اور احتجاج کا حق دیا۔ کاروبار کی اصلاحات کی گئیں، بادشاہ کے اختیار کم کرکے ایوان کے اختیارات بڑھا دیئے اور ایک ہی نعرہ لگایا، معاشی ترقی۔  انہوں نے کاروبار اور حکومتی اداروں کے اشتراک کا نظام بنایا جس کا مقصد کاروبار کو ترقی دینا تھا، ان تبدیلیوں کے بعد جاپان ایک نئی جہت میں بھی کامیاب ہو گیا۔ جاپان میں آج کل زرعی اور صنعتی شعبہ سے زیادہ افراد سروسز میں  ہیں۔ جدید سائنس، منطق، اور کاروبار جاپان کے معاشرے کا حصہ ہیں۔ان سب باتوں سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ جاپان کا سماج ارتقاء سے بڑہا ہے، انقلاب سے نہیں، جبکہ چین کا سماج انقلاب سے آگے بڑہا ہے اور خود مختیار بھی ہے۔

 

You may also like this

27 July 2017

چین کا دیہی نظام --- ڈاکٹر ممتاز خان

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;">ہم میں سے اکثر یہی سمجتھے ہیں ک

admin

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}