کراچی کا موسم حرکت میں ۔۔۔ رانا یاسر ایوب

موسم کا انسانی  نفسیات  کے  اوپر  گہرا  اثرہوتا ہے – یہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ موسم کے خوشگوار ہوتے ہی انسانی طبعیتوں اور رویوں میں تبدیلی آ جا تی  ہے.
ویسے  تو  اللہ  جل  شانہٰ نے  اس  دھرتی کو چار  قسم  کے  موسموں  سے  نوازا  ہے  لیکن  جہاں  تک  کراچی  کا  تعلق  ہے  یہاں کا  جغرافیہ اور موسم (سمندر  کی  وجہ سے )دوسرے  صوبوں سے مختلف  ہونے  کی وجہ سے  موسم تقریباً ایک جیسا رہتا ہے حتیٰ کہ سردی کی  شدت  بھی یہاں مارچ اور اپریل میں محسوس ہوتی  ہے.
کراچی کے موسم کے بارے میں مشتاق احمد یوسفی صاحب نے جو منظر کشی کی ہے وہ قابلِ ستائش ہے.انھوں نے کراچی کے موسم کو موسموں کا بادشاہ کہا ہے.
مئی اور جون کے مہینے میں ہوا میں نمی (ہیُمیڈیٹی) دن میں کافی بڑھ جاتی ہے جبکہ رات کے وقت ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں جنکی شدت بڑھتی رہتی ہے۔ جامشورو اور حیدرآباد کا موسم بھی کراچی جیسا رہتا ہے یہاں کے مقامی باشندے بنا اےسی اور پنکھے کے رات کو سوتے ہیں۔ 
کراچی کا موسم بہت بےوفا ہے اور بے اعتبارہ ہے بادل بن برسے چلے جاتے ہیں اور کئ سالوں تک ضد میں رہتے ہیں برش کے لیے کئ سال انتظار بھی کرنا پڑ جاتا ہے  
کراچی کی دو باتیں بڑی دلچسپ محسوس ہوئیں ہیں  ساحل سمندر کے علاوہ 
1- یہاں کی ہوا باوجود اس کے کہ اس میں پسینہ سکھانے کی صلاحیت نمی کی وجہ سے نا ہونے کے  برابر ہے مستقل استقامت کے ساتھ چلتی رہتی ہیں مجال ہے کہ شام اور رات کے اوقات میں ُرک جائیں
2-  دوسرا جا بجا چہکتی کوئیں ۔گرمیوں کے دنوں میں صبح کے وقت کوئیل کی آواز بہت اچھی لگتی ہے۔ 
ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ کراچی کا موسم یہاں کے باسیوں کو جمود کو توڑنے اور حرکت میں آنے کا پیغام دے رہا ہے 
مظہرِ قدرت(موسم) تو حرکت میں ہے دیکھنا ہے عوام تک آغوشِ غفلت میں سوئیں رہتی ہے۔
کراچی کے فکری احباب کیلیے یہ بھی بڑے اعزاز کی بات ہے کہ امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی رح جب جلا وطنی کے بعد  وطن واپس آئے تو سب سے پہلے انکے قدم مبارک کراچی کی دھرتی پر پڑے اور انکا پہلا خطاب بھی یہیں ہوا-
آخر میں کراچی کے موسم کی طرح یہاں کے حالات میں بہتری کے حوالے سے ایک مقامی شاعر کو بڑی امید یوں وابستہ ہے 
یہ نکڑ پے جو بند ہے چا ئے خانہ 
نشاں ہے محلے کا برسوں پرانا 
یہ ہوٹل سلامت رہے گا 
کھلے گا کھلے گا کراچی تو زندہ رہے گا 
بنارس پے جو قافلہ ُرک گیا ہے 
جو اس چوک پر کب سے خاءیف کھڑا ہے 
یقیناً وہ بے خوف ہو کر چلے گا 
چلے گا چلے گا کراچی تو زندہ رہے گا 
سڑک کے کنارے وہ موچی کی پیٹی 
کئ روز سے جس پے تالا پڑا ہے 
کسی ُسکھ موچی یہں پر ملے گا 
ملے گا ملے گا کراچی تو زندہ رہے گا 
وہ ارضِ کورنگی کا ننھا سا بچہ 
جو گولی کی دھڑ دھڑ سے ڈر سا گیا ہے 
وہ گلیوں میں دوڑھے گا کھیلے گا ہنسے گا 
کراچی تو زندہ رہے گا 
وہ رکشہ جو ڈر کے نہیں چل رہا ہے 
کہیں کچے گھر پے تنہا کھڑا ہے 
وہ لانڈی کی گلیوں میں پھر سے ُاڑھے گا 
ُاڑھے گا کراچی تو زندہ رہے گا 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}