خود اعتمادی ۔۔۔ کاشف شہزاد

خود اعتمادی خود پر اعتماد کرنے کا نام ہے، خود سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت ۔ خود اعتمادی وہ نفسیاتی حس ہے جس میں انسان بھرپور اعتماد کی کیفیت میں رہتا ہے اور یہ مکمل طور پر آپ کے اندر اور باہر کے ماحول پر منحصر ہے ۔ احساس کمتری خود اعتمادی کی ضد ہے ۔ ہم اکثر ایسے بندوں کو دیکھتے ہیں جن میں بلا کا اعتماد ہوتا ہے ۔ وہ جب بولتے ہیں تو اعتماد انکی آنکھوں، انکی زبان، انکے لہجے اور انکی باڈی لینگویج سے چھلکتا ہے اگر ہم سننے والوں میں سے ہیں تو ہم دو راستے استعمال کرتے ہیں ۔ ?) کھلے دل سے اس کی داد دیتے ہیں (جوکے بہت کم ہوتا ہے) ?) اسکے اندر کوئی ایسا نقص نکالیں گے جو صرف اور صرف ہمیں تسکین دے گا اور یہ تسکین اس وقت تک تکمیل کو نہیں پہنچتی جب تک ہم یہ نقص کسی ہم خیال کے ساتھ ڈسکس نہیں کر لیتے یوں ہم اپنی تسکین کے ساتھ ساتھ اپنی منفیت کا بھی پرچار کرتے ہیں ۔ بدقسمتی سے ہمیں یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کے ہم حسد کر رہے ہیں یا رشک ۔ رشک میں ایک تو ہم اگلے بندے کی خوبی کا نہ صرف اعتراف کرتے ہیں بلکہ اس سے سیکھ کر وہ خوبی اپنے اندر پیدا کرنے کی خواہش اور کوشش کرتے ہیں اور یوں ہمارے اندر ایک موٹیویشن پیدا ہوتی ہے جبکہ حسد میں ہم اسکی خوبی کو صرف اسلئے ماننے (لا شعوری طور پر) سے انکار کر دیتے ہیں بلکہ (اپنے اندر) اس کمی کو خود سے چھپانے کے لیے اس کے نقص نکالتے ہیں اور اپنے ہم خیال لوگوں سے ڈسکس کر کے اپنے آپ کو تسلی دیتے رہتے ہیں ۔ یہ وقتی تسلی ہمارے اندر ایک چبھن بن جاتی ہے ۔ جب بھی کسی بندے کو اسکی تعریف کرتے ہوءے دیکھیں گے تو وہ چبھن غصے کی شکل میں باہر آ ءے گی اور ہم اسکی برائیو ں کو گننے لگ جائیں گے ۔ یہی رویہ ہمیں نقصان پہنچتا رہتا ہے اور ہم نہ سیکھ پاتے ہیں اور نہ ہی ترقی کر پاتے ہیں ۔
خود اعتمادی ہمیشہ گھر سے ملتی ہے اور پھر باہر کے ماحول سے مقابلہ کر کے اسے بڑھایا جاتا ہے ۔ ہمارے ہاں الٹ ہوتا ہے ۔ گھر سے ہمیشہ تنقید ہوتی ہے اور یہ تنقید جب باہر سے بھی ملتی ہے تو ہمارے رویے بننے شروع ہو جاتے ہیں اور وہ مزاج /رویے اس وقت سامنے آتے ہیں جب ہمیں احتیار ملتا ہے ۔ یہ احتیار نوکری، کاروبار، شادی اور علیحدہ گھر کی صورت میں ہوتا ہے ۔ احتیار ملنے کے بعد جب ہم خود  فیصلے کرنے شروع کرتے ہیں تو کئی روایتی جملے سننے کو ملتے ہیں مثلا ۔۔ لڑکا نافرما ن ہو گیا ہے ۔۔ بڈھی دے تھلے لگ گیا اے ۔۔۔لڑکا خود سر ہو گیا ہے ۔ یہ کسی کو خیال نہیں آتا کہ وہ سب بالواسطہ یا بلا واسطہ اس رویے کے ذمے دار ہیں نہ کہ وہ عورت جو ابھی اس گھر میں آئی ہے ۔ ہمیں پچیس تیس سال تک بڑا ہی نہیں ہونے دیا جاتا اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ۔۔ شادی دے بعد ٹھیک ہو جاے گا ۔ دھوم دھام سے شادی کی جاتی ہے ۔ بڑے چاؤ سے دلہن کو لایا جاتا ہے اور ولیمہ حتم ہوتے ہی باتیں شروع ہو جاتی ہیں (بعض دفعہ تو نکاح کے بعد ہی شروع ہو جاتی ہیں)۔ لڑکا چونکے پہلے ہی تنقید کی وجہ سے کمپلیکس کا مارا ہوتا ہے شادی کے بعد اسکو اپنا غصہ اتارنے کے لیے ایک عدد بیوی میسر ہو جاتی ہے ۔ جس کے وہم گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ لڑکے کو کیا مسائل ہیں اور مرد اپنی وراثتی انا کی لاج رکھتے ہوے بیوی کے ساتھ بھی کچھ شیرنہیں کرتا اور یوں گھر والوں اور بیوی کے درمیان ایک فٹ بال بن جاتا ہے ۔ فرمابرداری کی ٹھوکر کھاتا ہے تو بیوی سے جھگڑتا ہے اور محبت کی شرینی اسے ماں باپ سے نافرما نی کروا دیتی ہے اور اسی کھیل میں دونوں کا قیمتی وقت گزر جاتا ہے اور بچے بڑے ہو جاتے ہیں ۔
میں اس چیز کا ذمہ دار مکمل طور پر والدین کو نہیں سمجھتا کیونکہ وہ دونوں اس دنیا میں ایسے بندے ہیں جو صرف آپ کا بھلا دیکھنا چاہتے ہیں اور نہ ہی اولاد کو مکمل طور پر اس چیز کیلئے قصور وار ٹھہراتا ہوں کیونکہ اس لڑکے کو کبھی ا عتماد ہی نہیں دیا گیا ہوتا نہ ہی اسے کسی ایسی صورتحال سے گزارا گیا ہوتا ہے جس میں وہ اپنا ذہن استعمال کرتے ہوے کوئی فیصلہ کرے یا کوئی قدم اٹھاے ۔ میری ان والدین سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں پر اعتماد کریں بھلے وہ غلط ہیں یا درست کیونکہ اعتماد تجربے کرنے سے آتا ہے اور تجربہ غلط/صحیح دونوں قسم کے فیصلوں سے آتا ہے ۔میری ان بچوں سے بھی گزارش ہے جو فرمانبرداری کا ہار پہنتے ہوے رشتوں کو روند دیتے ہیں ۔ آپ فرمانبرداری کریں لیکن اپنی سوچ میں بھی بہتری لائیں اور خود سے فیصلے کرنا سیکھیں ۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسی مجالس اور ایسے استاد بہت کم رہ گے ہیں جو نوجوانوں کی تربیت کر سکیں ۔ اس گھمبیر صورتحال میں میرا نوجوان نسل کے لیے یہ مشورہ ہے کہ وہ کوئی ایسا استاد ڈھونڈیں جو انکی ذہنی تربیت کر سکے، جو انھیں ایک سوچ دے سکے اور جو انھیں صدق دل سے مشورہ دے سکے ۔ اس امر کی شد ید ضرورت ہے کہ ہر شہر میں ایک ایسا ادارہ ہونا چاہئیے جو ہمارے نوجوانوں کی ذہنی تربیت کر سکے اور انکے اندر موجود خوبیوں کو جانچ کر انھیں بتا سکے کہ ہاں تم کر سکتے ہو ۔ انھیں اعتماد دے سکے، انھیں یقین دے سکے کہ تم واقع اس ملک کا مستقبل ہو ۔میں اسی تحریر کے توسط سے  اپنے استاد محترم سر قاسم علی شاہ صاحب کو حراج تحسین پیش کرنا چاہوں گا جو یہ کام پہلے ہی شروع کر چکے ہیں اور مجھے اپنے اللہ پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ وقت جلد آئے گا جب ہم میں سے ہی اور لوگ انکے ساتھ مل کر ایسے ادارے /سنٹر بنایں گے جو ہمارے نوجوانوں کی تربیت کریں گے کیونکہ مستقبل قریب میں تعلیمی نظام میں تبدیلی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے اور سوچ کی بہتری کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں جو ہمیں کامیابی کی طرف لے کر جائے ۔۔ اللہ ہمارے لیے آسانیاں پیدا کرے اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق دے ۔ آمین

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}