سمندر پار پاکستانیوں کے لیے ۔۔۔ کاشف شہزاد

فکر معاش کی خاطر ملک بد ر ہو کر کسی بھی مسلم یا غیر مسلم ملک میں زندگی گزارنا بڑے دل گردے کا کام ہے ۔ بندہ یہ نہیں کر سکتا ۔ میں نے بڑے بندے دیکھے ہیں جو صرف اس وجہ سے اپنے خاندان کو ساتھ نہیں لے کر جاتے کہ وہاں کا ماحول (امریکا، یورپ، انگلینڈ) ٹھیک نہیں ہے اور تعلیم کے مسایل بھی ہیں (مڈل ایسٹ)۔ وہ لوگ ساری زندگی پیسہ کمانے میں لگا دیتے ہیں اور جب واپسی کا رخ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کے خاندان کے ساتھ تو ایک ہی کنکشن رہ گیا تھا اور وہ پیسہ تھا ۔ میں داد دیتا ہوں ان حضرات کو جو اپنے خاندانوں کے ساتھ باہر زندگی گزارتے ہیں اور اپنے بچوں کی پرورش بھی اپنے کلچر کے مطابق کرتے ہیں ۔ میں نے کئی ایسی فیملیز دیکھی ہیں جو آج بھی انگلینڈ اور یورپ کے ملکوں میں رہنے کے باوجود اپنا اصل نہیں بھولے اور ان کی اولاد آج بھی اتنی ہی فرمانبردار ہے جتنی وہ پاکستان میں ہوتے ہوے ہوتی ہے ۔ بلکہ اگر میں یوں کہوں کے بعض فیملیز ایسی ہیں جو پاکسان کے مسلمانو ں سے بھی زیادہ رکھ رکھاؤ اور اصولوں والی ہیں ۔ گزشتہ دنوں مجھے والد صاحب کے ایک دوست جو کہ عرصہ دراز سے انگلینڈ میں مقیم ہیں؛ کی شادی میں شرکت کا اتفاق ہوا ۔ میں بہت حیران ہوا کے انہوں نے مسجد میں نکاح کیا اور شادی پر کوئی شادیانہ نہ بجا بلکہ انہوں نے ڈھول باجے کی بجاے اللہ اور اس کے حبیب کے ذکر کو ترجیح دی ۔ وہ انگلینڈ میں جیسے بھی رہتے ہوں لیکن شادی پر انہوں نے جس سوچ کا مظاہرہ کیا وہ قابل ستائش تھا ۔

میں نے ایسی فیملیز کا بھی مشاہدہ کیا ہے جب وہ پاکستان آتے ہیں تو خوب دل کھول کر پیسہ خرچ کرتے ہیں ۔ اتنا پیسہ شاید انہوں نے پچھلے دو سال میں خرچ نہیں کیا ہوتا ۔ آتے ہی گاڑی کرائے پر لی اور کھد ر کے کپڑے سلوائے مایا لگوائی اور ادھر ادھر گھوم کر گھر واپس آ گئے ۔ میرا بیان کرنے کا قطعا یہ مقصد نہیں کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے ہاں البتہ یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ اس ٹھاٹھ باٹھ کا نتیجے میں جو بے چینی ارد گرد کے لوگوں (خاص کر نوجوانوں میں) میں پھیلتی ہے وہ انھیں مجبور کر دیتی ہے کہ وہ اپنے والدین کو تنگ کریں اور ان سے ضد کریں کہ میں نے کام کرنا ہے تو باہر جا کر ہی کرنا ہے،پاکستان میں نہیں کروں گا ۔ والدین بے چارے مجبور ہو کر انھیں باہر بھیج دیتے ہیں بھلے اس کے لئے انھیں اپنی زمین بیچنی پڑے یا ادھار اٹھانا پڑے ۔ حضور والا میں نے ہیتھرو ائیرپورٹ پر، ہوٹلز اور فلیٹس میں لوگوں کو روتے ہوے اور پریشان حال دیکھا ہے ۔ یہ حال تو میں اپنے پاکستانی بھایئوں کا بیان کر رہا ہوں لیکن جو حال بہنوں کا ہوتا ہے وہ نا قابل بیان ہے ۔ اور المیہ یہ ہوتا ہے کے یہ سارا طبقہ پڑھا لکھا نہیں ہوتا ۔ یہ لوگ پیسہ تو کما لیتے ہیں مگر اکثر ہنر نہیں کما پاتے اور اس ڈر سے پاکستان نہیں لوٹتے کے وہاں جا کر میں کیا کروں گا ۔ یہ ایک سال پہلے کی بات ہے میرے پاس بیس سال کا نوجوان(بی ۔کا م) کمپیوٹر آپریٹر تھا ۔ اس نے دوست کے زریعے (جو کہ دبئی میں کام کر رہا تھا) ویزا منگوا کر مجھے اطلاح دی کے وہ دبئی جا رہا ہے ۔ اب چونکہ وہ سب کچھ کر چکا تھا لہذا اسے نصیحت کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔ سو میں نے اسے جانے دیا ۔ اس دوران میں مسلسل اس سے رابطے میں تھا ۔ دو مہینے بعد اس نے مجھے بتایا کے بھائی یہاں بہت پولیٹکس ہے اور میں جاب چھوڑ کر واپس آنا چاہتا ہوں ۔ میں نے اس سے تفصیل سے بات کی اور اسے نصیحت کی کہ اتنے پیسے لگا کر گئے ہو اتنی جلدی ہمّت نہ ہارنا اور صبر سے اپنا ویزا جو کہ دو سال کا تھا؛ کو پورا کرو پھر جو بھی فیصلہ کر لینا ۔ اس کو میں نے چند نصیحتیں کیں :
?) باس ہمیشہ ٹھیک ہوتا ہے بھلے آپ ٹھیک ہو تب بھی
?)کولیگس کے ساتھ رویہ ایسا رکھو کہ ہر بندہ تمہیں اپنی داستان سنائے نہ کے تم انھیں سناؤ
?)دل لگا کر محنت کرو اور کام وہ کرو جس میں تم آگے بڑھ سکو ۔ ایک جگہ پر رکنا نہیں اور جہاں باس کہے کام کرو اور سیکھتے رہو یہی تمہاری ترقی ہے ۔
?) گھر والوں سے مشکلات شیر نہ کرو اور نہ ہی ان سے کوئی مشورہ طلب کرو کیونکہ انھیں نہیں پتا تمہاری کیا پوزیشن ہے ۔
میں اپنے رب کا شکر ادا نہیں کر سکتا جس نے میرا انتحاب کیا کہ میں اسے مشورہ دے سکون ورنہ اس کے گھر والے اسے واپس آنے کا کہہ رہے تھے ۔ میری ان باتوں کے بعد الحمدلللہ وہ کام کر رہا ہے اور خوش ہے حالانکہ اس دوران میں اس کا حوصلہ نہ بڑھا کر اسے واپس اپنے آفس بھلا سکتا تھا کیونکہ وہ ایک ہونہار لڑکا تھا اور ایسا ملازم کس کو نہیں چاہئیے ہوتا اور مجھے ضرورت بھی پڑی تھی اس کی ۔
دوسری بات جو میں نے بڑ ی شدت سے اکثر محسوس کی وہ یہ ہے کہ ہمارے اوورسیز بھائی پاکستان کے بارے میں تو حد سے زیادہ جذبات رکھتے ہیں کہ ایک دھماکہ یا قتل کی خبر پر دکھی ہو جاتے ہیں لیکن پاکستان میں رہنے والے لوگوں کے بارے میں بہت منفی ہیں اور یہ رویہ یک طرفہ نہیں رہا اب بلکہ یہاں موجود پاکستانی بھی اس منفی رویے کے بدلے میں اچھے جذبات کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ یہ رویے اس وقت سب سے زیادہ عیاں ہوتے ہیں جب ہمارے اوورسیز بھائی اور بہنیں کچھ دن پاکستان میں گزارنے آتے ہیں اور پھر یہی روییے اولاد میں منتقل ہو جاتے ہیں ۔ میں دکھی ہو جاتا ہوں ان چیزوں سے اور مجھے شکایات ہوتی ہے اپنے اوورسیز فیملیز سے ۔
?) آپ لوگ پاکستان میں موجود لوگوں سے زیادہ عقلمند، با شعور اور کھلی سوچ کے مالک ہیں کیونکہ آپ ایک ترقی یافتہ ملک میں رہ رہے ہیں۔
?)آپ زندگی کی ہر سہولت کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں
?) آپ کے پاس اگر کمی ہے تو اپنے ملک کی، اپنے لوگوں کی، اپنے محلے کی، اپنے شہر کی اور اپنی قبر کی
?) آپ کی اولاد بھی باشعور ہوتی ہے بلکہ با اختیار بھی ہوتی ہے (باہر ویسے بھی کرنا پڑتا ہے)
?) آپ نے جب اولاد کی شادی کرنی ہوتی ہے تو پاکستان سے ہی دولہا یا دلہن لے کر جاتے ہیں
میری اپنے اوورسیز پاکستانیوں سے گزارش ہے کہ وہ پاکستانیوں کے بارے میں اپنی سوچ اور اپنے رویوں پر نظر ثا نی کریں ۔ ہم لوگ برے نہیں ہیں بس ہماری سوچ کا دائرہ اتنا وسیع نہیں جتنا آپ لوگوں کا ہے کیوںکہ آپ کا ایکسپوزر ہم لوگوں سے زیادہ ہے اور سوچ ہمیشہ ایکسپوزر سے کھلتی ہے لیکن ہمارا دل ابھی بھی کھلا ہے ۔ہم لوگ دھوکے باز ہو سکتے ہیں،آپکی دولت پر نظر بھی ہو سکتی ہے، حسد بھی کرسکتے ہیں لیکن پھر بھی ہم آپ کے پاکستانی بھائی ہیں ۔ اگر آپ کسی مجبوری کی وجہ سے یہ ملک چھوڑ کر چلے گے ہیں تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے ۔ ہم لوگ یہ ملک نہیں چھوڑ سکتے یا چھوڑنا نہیں چاہتے ۔ ہمارے والدین ادھر ہیں، ہمارے رشتہ دار ادھر ہیں ۔ ہمارے بڑوں کی قبریں ادھر ہیں ۔ آپ اپنے رویے کو مثبت رکھیں تو بہت سے پاکستانی بھائی باہر کے حالت سے اگاہ ہو کر باہر جانے کا ارادہ ترک کر سکتے ہیں ۔اللہ سے دعا ہے کے وہ ہمیں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی اور ایک دوسرے کے لیے آسانیاں بانٹنے کی توفیق دے ۔ آمین

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}