سیاسی جماعتوں میں تربیت کا فقدان اور موروثیّت — محمد عباس شاد

           پاکستان میں موجود جماعتوں میں تربیت کا فقدان اور موروثیت ایک اہم فیکٹر ہے۔ حقیقی سیاست قربانی، ایثار اور جاں فشانی سے عبارت ہوتی ہے، لیکن پاکستان ایک ایسا ملک ہے، جہاں سیاست ایک نفع بخش کاروبار کے طور پر متعارف کروائی گئی۔ جسے نہ صرف سیاست دان خودکرتے ہیں، بلکہ یہ نفع بخش کاروبار اپنی اولادوں کو بھی سکھاتے، پڑھاتے اور اپنا وارث بناتے ہیں۔ جبھی تو ہما رے ملک میں دنیا بھر کے بیش تر ملکوں سے زیادہ رجسٹرڈ پارٹیاں ہیں اور ہماری موجودہ سیاسی قیادت بڑے سیاسی لیڈروں کی اولادیں ہیں۔ مثلاً مفتی محمود مرحوم کی سیاست کو مولانا فضل الرحمن، عبدالصمد اچکزئی کی سیاست کو محمود اچکزئی، ولی خان کی سیاست کو اسفند یار، چوہدری ظہور الٰہی کی سیاست کو چوہدری برادران، بے نظیر کی سیاست کوان کے شوہرِ نامدار آصف علی زرداری چلارہے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کی جسمانی اور روحانی وراثت اعجازالحق اور شریف برادران کر رہے ہیں۔ اس فرسودہ طریقۂ کار کے مطابق اس ملک کے مستقبل کی مالک نئی قیادت بھی تیار ہوچکی ہے۔ جس میں بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری کی بلاول بھٹو، نواز شریف کی مریم نواز، شہباز شریف کی حمزہ شہباز، چوہدری برادران کی سیاسی وراثت مونس الٰہی نبھائیں گے۔ سرمائے اور اقتدار کی درس گاہ میں تیار نومولود سیاسی قیادت کی طاقت کا اندازہ کَل کے ان بچوں کے سامنے ان پارٹیوں کے چغادری سیاست دانوں کے دو زانوں بیٹھنے یا دست بستہ کھڑے ہونے سے کیا جاسکتا ہے۔
        اگر ان لیڈروں کے ہمارے ملک کی سیاست میں داخل کیے جانے کی تاریخ پر نظر ڈال لی جائے تو یہ کسی بھی طور لیڈر شپ کے معیار پر پورے نہیں اترتے اور نہ ہی ان کے پاس اپنی پارٹیوں کی حق رہنمائی کا جواز رہتا ہے۔ اس میں سب سے زیادہ دلچسپ مثال ملک کی سابقہ خاتون وزیراعظم کے خاوند کا ایک پارٹی کا سربراہ بن جانا ہے۔ یقیناًیہ تاریخ کی ایک نادر مثال ہے کہ ایک جمہوری کہلانے والی پارٹی کے مستقبل کے سربراہ کے لیے ’’وصیت نامہ‘‘ دریافت کرلیا گیا اورپھر اسے حق قیادت کے لیے بنیادی دستاویز کے طور پر تسلیم بھی کروا لیا گیا۔ درحقیقت یہ ایک سیاسی پارٹی پر خاندانی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے اس کے اصل وارث کے جوان ہونے تک کا بندوبست تھا۔ پھر اس پر مستزاد یہ کہ وراثت کو ثابت کرنے کے کیسے کیسے حربے استعمال کیے جاتے ہیں کہ شاید ہی کوئی سیاسی وارث ہو، جو دو ذاتوں (Casts) کو اپنے نام کے ساتھ استعمال کرتا ہو، جیسے بھٹو اور زرداری۔ الغرض! ساری پارٹیاں تھوڑے تھوڑے فرق کے ساتھ اپنے دامن میں ایسی ہی بوالعجبیاں رکھتی ہیں۔ کسی لیڈر کو صوبے کے فوجی جرنیل نے دریافت کرلیا تو کسی نے فوجی آمر کی کوکھ سے جنم لیا اور کوئی کہیں اَور سطح سے قوم پر مسلط کردیا گیا۔ اس طرح سے ہماری یہ سیاسی کھیپ تیار ہوئی ہے۔ مولانا ابوالکلام آزادؒ نے کہا تھا کہ: ’’سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔‘‘ اگر وہ ہمارے عہد میں زندہ ہوتے تو شاید پاکستانی سیاست کو دیکھ کر اس میں دماغ کے استعمال کی بھی نفی کرتے۔
        اگر ان پارٹیوں کے تربیتی نظام پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں تربیت کا کوئی ایسا نظام نظر نہیں آتا، جس سے کوئی بھی پارٹی صحیح معنوں میں ایک طاقت ور جماعت اور اجتماعیت میں ڈھلتی ہوئی نظر آئے۔ اسی لیے پاکستان کی تاریخ میں جماعتوں کے بجائے لیڈر طاقت ور ہوتے ہیں۔ اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ پاکستان میں پارٹی کمزور ہوتی ہے اور لیڈر مضبوط ہوجاتا ہے۔ وہ جس طرح چاہے پارٹی کو اکھاڑتا بچھاڑتا رہتا ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ میں ایسی بے شمار مثالیں مل جائیں گی کہ پارٹی ڈسپلن کے بجائے ذاتی تعلقات کی بنیاد پر لوگوں کو پارٹی اور حکومتی عہدوں سے نوازا جاتا رہا ہے۔ ایک ظالم نظام میں ایسی پارٹیاں زیادہ موزوں ہوتی ہیں، جو کارکنوں کے بجائے صرف لیڈروں پر مشتمل ہوں۔ کیوں کہ نظام کے لیے ان سے ڈیل کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔ اسی لیے ہماری سیاست میں بے شمار ایسی پارٹیاں موجود رہی ہیں، جن میں ورکر بہت ہی قلیل تعداد میں ہوتے تھے اور پارٹی صرف لیڈر کے دم سے قائم رہتی تھی۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نواب زادہ نصر اللہ خان مرحوم اس کی عملی مثال تھے۔
       ملک میں جمہوریت پر ایمان رکھنے، مارشل لا اور آمریت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنانے والی قیادت یہ فرض اپنی پارٹی کے اندر نبھانے کو تیار نہیں، بلکہ پارٹی میں بلامقابلہ امیدواروں کو جتانے والے ملک میں کیسے جمہوریت قائم کرسکتے ہیں۔ فیلڈ میں کام کرنے والے ورکر سے رائے لینے کا کوئی نظام موجود نہیں، بلکہ اوپر سے قیادت کے احکامات پہنچانے کے لیے ہر جگہ ہر کارے موجود ہوتے ہیں۔ سال ہا سال آئینی اور دستوری اداروں کا اجلاس نہ ہونا، اگر ہو بھی جائے تو اسے کسی خاص بااثر شخصیت یا حلقے کے لیے استعمال کیا جانا ہماری جماعتوں کے مزاج کا حصہ بن چکا ہے۔ یہی وَجہ ہے کہ ہمارے ملک کی سیاست نظریے اور خدمت کے لیے نہیں، بلکہ طاقت اور مفادات کے حصول کی آئینہ دار ہے۔
         اسی لیے ہماری یہ جماعتیں اور قیادتیں اپنے ملک اور معاشرے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر کوئی ڈھنگ کا کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ بلکہ بین الاقوامی استحصالی نظام کے مہروں کے طور پر استعمال ہونے میں یکتا ہونے کی شہرت رکھتی ہیں۔ بلکہ سارے مسلمان ممالک کا حال ایسا ہی ہے، جس کا عملی مظاہرہ اب سعودی حکومت کی سرپرستی میں ہوا، جس میں امریکی صدر نے 50 سے زائد اسلامی ملکوں کے سربراہان سے خطاب کیا اور انھیں ’’روشن خیال اسلام‘‘ کا درس دیا۔ اس خطاب اور ملاقات کو پاکستان کے سابق چیف کی طرف سے نام نہاد اسلامی فوج کی سربراہی، سعودی حکومت کے امریکا سے اسلحے کی خریداری کو شام میں امریکا کے کردار سے ملا کر دیکھا جائے تو ہمارے لیڈروں کی ’’بصیرت‘‘ پر کسی تبصرے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔
 
 
 
 

You may also like this

23 October 2017

حکومت میں دراڑیں --- فرخ سہیل گوئندی

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px; font-family: 'Mehr Nastaliq Web';">پاکست

admin

People Comments (1)

  • qazi inam June 17, 2017 at 9:54 pm

    جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے ،ریاستی ادارے سیاستدانوں کے دشمن رہے ہیں ،ملک کے اندر صحت مند سیاسی ماحول پنپنے نہیں دیا گیا 1980ء کی دہائی کے بعد جب سے ہمارا ملک ایٹمی طاقت بنا ہے ،اس کے بعد ریاستی اداروں نے انتہائی پر اعتماد طریقے سے ریاست کے تمام معاملات کو خواہ وہ اقتصادی ہوں یا سیاسی خارجہ امور ،سب کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہوا ہے طفیلی سرمایہ داری کے نظام کے بعد کنٹرول ڈیمو کریسی کے ذریعے سیاسی جماعتوں کی اکھاڑ بچھاڑ کے ذریعے عام لوگوں کے ذہن میں یہ بات ڈالی گئی ہے کہ سیاستدان انتہائی کرپٹ ہیں اس میں کوئی شک نہیں سیاست دان واقعی کرپٹ ہیں ،اور ان کو کرپٹ کرنے والے بھی ریاستی ادارے ہیں ،آج جس نواز شریف کو سپریم کورٹ جے آئی ٹی کے ذریعے بلا رہی ہے اسی خاندان کے ذریعے اور اس جیسے اور سرمایہ داروں کے ذریعے ایک جمہوری حکومت کے خلاف تحریک منظم کر کے اسے منتقی انجام تک پہنچایا گیا ،پھر 1980ء کی دہائی میں ملک کو مختلف معاملات میں بحران زدہ کرکے ملک کی معیشت کا پہیہ روک کر طفیلی معاشی نظام وضع کیا گیا ،اور ان گماشتہ سیاسی جماعتوں کو پورا پورا مواقع دیا گیا کہ اپنا سرمایہ باہر ٹرانسفر کر لیں ،شریف خاندان نے جب دبئی کے اندر مل لگائی تو اس وقت ریاست کے ریلیشن تھے دبئی کے حکمرانوں کے ساتھ ،جب سیاست دانوں کو سرمایہ باہر لے جانے کی علت پڑ گئی تو پھر سرمایہ داروں ،سیاستدانوں ،تاجروں ،ڈرگ مافیاء ،لینڈ مافیاء ،سپورٹس مافیاء سب نے بہتی گنگاہ میں ہاتھ رنگے اور درادڑ سرمایہ باہر منتقل کرنا شروع کر دیا،ان کی دیکھا دیکھی بیورو کریسی نے بھی ،ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا اور رشوت اور کمیشنوں کا سرمایہ باہر منتقل کرنا شروع کردیا تھا،شاید یہ سب کچھ طفیلی معاشی نظام کی ضرورت تھی جس میں جرنیلوں نے بھی ہاتھ رنگے آج کرپشن کا واہ ویلہ مچا کر ریاست یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ سیاست دان بھی کرپٹ ہوتے ہیں اور جمہوریت بھی کرپٹ ہے اور ساتھ ترقی یافتہ سرمایہ دار ملکوں کی طرح ایک نادیدہ تھنک ٹینک نے اپنے ذمے معیشت اور سیاست کو لے لیا ہوا ہے ،اس نظام کی قباہتیں نا اہلیاں سیاست دانوں کے ذمے ڈالی جارہی ہیں لیڈر شپ کا فقدان پیدا کر کے عوام کو سیاسی پروگرام اور سیاست سے بیزار کرکے سامراجی ایجنڈے اور طفیلی معیشت کی پروموشن کی جارہی ہے،جس کے اندر تمام سیاسی جماعتون کے بے ضمیر سیاست دانوں کو ریاستی اداروں نے لائن میں لگایا ہوا ہے ،اور وہ اپنی باریوں کا انتظار بھی کرتے ہیں اور گلے میں پھندا بھی ڈلواتے ہیں ،ریاست اور عالمی معاشی نظام کے محکوم عوام پچھلے ستر سال سے سفر کر رہے ہیں ،ریاست کو جبر سے اپنے کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}