کراچی جمود کی حالت میں ۔۔۔ رانا یاسر ایوب

کراچی میں ایک ہفتہ گزارنے کے بعد بہت دکھ سے کہنا پڑ رہا  ہے کہ تقریباً 3 کروڑ آبادی والے شہر کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں. ملازمت کے حوالے سے ایک پلانٹ پر انسپیکشن کے لئے گیا تو وہاں کے مینجر سب سے پہلے  پوچھتے ہیں کہ بھائی پانی کی کیا صورتحال ہے ؟ کچھ دیر خاموش رہنے کے  بعد جواب دیا جو باقی کراچی والوں کی صورتحال ہے. 
اسی طرح حکومتی حوالے سے انفراسٹرکچر میں کوئی ترقی نظر نہیں آرہی(ما سوائے نجی سرمایہ کاروں کے بحریہ ٹاؤن وغیرہ) – پبلک  ٹرانسپورٹ کی صورتحال سب سے زیادہ گمبھیر ہے جو بسسز یہاں زیر استعمال ہیں وہ میرا خیال ہے  دوران سفر پاکستان میں اور کہیں نہیں  دیکھیں اتنی ناقص اور خستہ حال.
صنعتی حوالے اور ریونیو کے اعتبار کراچی ملک کی شہ رگ ہے ملکی جی ڈی پی میں کراچی کا نہایت اہم کردار ہے لیکن ترقی کےعوامل کے حوالے سے حالت پریشان کن ہے. 
کراچی کے ایک مفید شہری (انجینئر آفتاب احمد عباسی صاحب) کے ساتھ کچھ دیر اکٹھے سفر کا موقع ملا تو کراچی کی ماضی کی صورتحال جان کر حیران رہ گیا کہ کراچی روشنیوں کا شہر تھا, امن تھا ,معاشی صورتحال تسلی بخش تھی لیکن  پچھلے 10 سال سے نام نہاد جمہوری حکومتوں نے کراچی کو جمود کا شکار کر دیا ہے-
کھانے پینے کے حوالے سے کراچی کے لوگ زندہ دل ہیں لاہوریوں کی طرح ,ناشتے میں نہاری نہایت شوق سے کھاتے ہیں.تقریباً 1 سے 2 کلو میٹر کےفاصلے پے نہاری کی شاپ میسر ہے-
کراچی میں سیاسی حوالے سے تین سیاسی پارٹیاں اقتدار پرغالب ہیں 1-ایم-کیو-ایم ,2-پی-پی-پی اور اے-این-پی کچھ فہم وفراست کے حامل افراد سے جب کراچی آپریشن کے حوالے سے بات ہوئی تو سبھی نے اس بات پے اتفاق کیا کہ حالات میں بہتری آئی لیکن آپریشن سب سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز کے خلاف ہونا چاہیئے جو کہ نہیں ہو رہا –
مستقبل کے حوالے حالات کی بہتری کی امید ہے بشرطیکہ مخلص قیادت میسر آجائے جو کہ مثبت سماجی تبدیلی کے بغیر ناگزیر ہے- 
 نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}