قطر، الجزیرہ اور خلیجی ممالک ۔۔۔ مدثرگل‎

دنیا میں اس وقت چالیس سے زائد اسلامی ممالک ہیں مگر میری طرح زیادہ تر پاکستانیوں کودس سے پندرہ اسلامی ممالک کے نام زبان زد عام ہونگے۔ یہ دس سے پندرہ اسلامی ممالک وہی ممالک ہیں جہاں یا تو ہمارےبھائی اور بزرگ روزگار کے لئے مقیم ہیں یا جو خانہ جنگی میں مشغول ہیں۔ قطر بھی انہی اسلامی ممالک میں سے ایک اسلامی ملک ہے ۔جس کو پاکستان میں مقبولیت اس وقت ملی جب پانامہ لیکس کے بعد حکمران خاندان نے قطری شہزادے کا خط عدالت عالیہ میں بطور ثبوت جمع کروایا۔ اس خط کا حکمران خاندان کو اس وقت تو فائدہ ہوا یا نہ ہوا مگر اس کاایک فائدہ ضرور ہوا کہ ہر پاکستانی کو اس اسلامی ملک کا نام یاد ہوگیا۔ یہ تو وہ شہرت تھی جو پاکستان میں قطر کو نصیب ہوئی مگر اللہ کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا کہ اس شہرت کو ایک ملک کی بجائے پوری دنیا میں پھیلا دے۔

دہشتگردی کاہتھیار جو ترقی یافتہ ممالک ہمیشہ اپنے مفاد کے لئے وقتاًفوقتاً دوسرے ممالک پراستعمال کرتے رہتے ہیں۔ اس بار اس کا استعمال قطر پر کیا جارہا ہے۔ قطر شاید دنیا کا واحد ملک ہے جس کا اتنی اچانک پوری دنیا کو پتہ چلا کے وہ دہشتگردی کی بہت زیادہ حمایت کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے یک لخت چھ ممالک نے سفارتی تعلقات ختم کر دئیے اور ہر طرف سے ناکہ بندی کردی۔ شاید ہی آپ نے یا میں نے ایسی کوئی وارننگ کہیں سے بھی سنی ہو کہ قطر کو اس بات پر خبردار کیا جاتا کہ وہ دہشتگردی میں ملوث ہے۔ تو پھر یہ اتنااچانک سب کیسے ہوگیا؟

قطر اور دوسری خلیجی ریاستوں پر بات کرنے سے پہلے میں تاریخ کے کچھ باب آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ سترویں صدی عیسوی یورپ کے لئے تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ موجودہ یورپی تہذیب یافتہ معاشرہ اسی عرصے کی خانہ جنگی کا نتیجہ ہے۔ 1668انگلینڈ میں ریولوشن شروع ہوجاتا ہے۔ باقی دنیا کی طرح یورپ میں بھی بے شمار ریاستیں تھی اور وہاں بادشاہ حکمران تھے۔ مگر انگلینڈ نے اس ریوولیشن کے بعد وہاں پر حالات بدلنے شروع ہوگے اور عام آدمی بااختیار ہونے لگا۔ اس نظام کو دیکھتے ہوئے فرینچ ریوولوشن شروع ہوجاتا ہے۔ اس ریوولوشن میں معاشرے کے عام افراد بادشاہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ باقاعدہ ایک فوج کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ بعد میں یہی لوگ بالاخر ملک بادشاہت کا خاتمہ کرکے جمہوریت کی بنیاد ڈال دیتے ہیں ۔

بات یہاں تک ہی نہیں رکتی موجودہ جرمنی جس کو اس وقت “پرشیا” کہا جاتا تھالگ بھگ دوسو چھوٹی موٹی ریاستوں پر مشتمل تھا جہاں پر ہر ریاست کا علیحدہ علیحدہ بادشاہ تھا۔ “پرشیا “اور “آسٹریا” نے محسوس کیا کہ یہی ریوولوشنری کی لہر یہاں پر بھی آسکتی ہے۔ تو 1792میں انہوں نے ملکر فرنچ ریوولوشنری یعنی عام لوگوں کی ریاست پر حملہ کردیامگر بہادر ریولوشنری فورس نےان کو شکست دے کر وہاں پر بھی بادشاہی نظام کا خاتمہ کردیا۔ اس میں کوئی شک نہیں نپولین جوکہ ریوولوشنری فورس کا سربراہ بنایا گیا تھا۔ اس نے بعد میں اپنے منصب کا ناجائز فائدہ بھی اٹھایا۔ جس کی وجہ سے روس میں اس کو عبرتناک شکست نصیب ہوئی۔

اب اسی تاریخی پس منظر کے حساب سے موجودہ خلیجی ریاستوں پر نظر دوڑائیں بہت سے باتیں آپ کو اس ریولوشنری سے مشابہہ نظر آئیں گی۔ قطر میں بذات خود دوسری خلیجی ریاستوں کی طرح بادشاہی نظام ہیں مگر اس کا میڈیا جمہوری ملکوں کی طرح آزاد ہےجو کہ اس بادشاہی نظام کے خلاف آواز اٹھا رہا ہےالجزیرہ چینل اس میں سب سے نمایاں ہے۔ جن چھ ممالک نے قطر پر پابندیاں لگائی ہیں اُن میں اس وقت بادشاہی یا ڈکٹیٹر شپ کانظام ہے۔ ان ممالک کو خدشہ ہے کہ یورپی ریوولشنری کی طرح یہاں کی عوام بھی قطری میڈیا سے متاثر ہوکر ان کے خلاف اُٹھ سکتی ہے۔ ورنہ آپ نے کبھی بھی ان ممالک میں ہونے والی دہشتگردی کا الزام قطر پر ڈالتے ہوئے سنا ہوتو بتائیں۔

دنیا میں اگر کسی اور ملک پر دہشتگردی کا الزام عائد ہوتا ہے تو اس پر نہ صرف مسلم ممالک الزام لگاتے ہیں بلکہ غیر مسلم ممالک اس عمل میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ مگر یہاں پر حالات یکسر مختلف ہیں۔ صرف ان ممالک نے دہشتگردی کاالزام لگایا ہے جہاں پر عربی زبان بولنے والوں کو اپئ شہنشاہت کے چھن جانے کا خطرہ محسوس ہورہاہے۔

ان حالات میں پاکستان کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔ واحد اسلامی ایٹمی طاقت رکھنے والے پاکستان کے تعلقات تمام اسلامی ممالک کے ساتھ ہمیشہ تقریباً یکسان اور مثالی رہے ہیں چاہے چندایک اس پر الزامات بھی لگاتے رہے ہیں۔ پاکستان کو اپنے اس کردار کی وجہ سے تمام ممالک کو ساتھ لیکر یہ معاملہ حل کرانا چاہیے ۔ تعلقات توڑنے والے ممالک پر بھی واضع کرنا چاہیے کہ وہ اپنے عام شہریوں کو بھی بااختیار بنائیں تاکہ ایسی تحریکوں سے بچ سکیں جن کو سوچ کر وہ یہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

 
 
 
 

You may also like this

21 June 2017

یمن کی تباہی کا ذمہ دار کون؟ ۔۔۔ عادل فراز

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;">سعودی اتحا کا دعویٰ</span> <s

admin

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}