عصر حاضر کے تقاضوں کی تکمیل کی توانا فکر ۔۔۔ وقاص خان

قران حکیم فرماتا ہے کہ ہر نیا دن اللہ تعالی کی شان ہے ,جب اس کی شان کا اظہار ہوتا ہے انسانی سوسائٹی بھی تغیرات سے ہم کنار ہوتی ہے ان تغیرات کے چیلنجز سے برسر پیکار ہونے کے لیے حکمت عملی ترتیب دی جاتی ہے اور جو سوسائٹی کو ایک نئ ڈگر پر لے کے چلتی ہے ,اور ازل سے فطرت کا معیاری قانون ہے کہ اگر کوئ قوم اپنے آپ کو عصری تقاضوں سے مجموعی اعتبار سے ہم آہنگ نہیں کرتی,ہوا کے رخ پر چلنے کا سلیقہ نہیں سیکھتی.زمانے کے مطابق اپنے طرز عمل کو جدت کا آئینہ دار نہیں بناتی ہے تو وہ قوم محض ماضی کی الف لیلہ کی کہانیوں کے افسانوں میں ڈھل کر پیچھے رہ جاتی ہے اس کا سماجی ڈھانچہ اضمحلال کا شکار ہو جاتا ہے جس کا مقصد سوسائٹی کی ضروریات و احتیاجات کی تکمیل کو سہل الحصول بنانا ہوتا ہے
افسوسناک امر یہ ھیکہ 70 سال اس ملک کی برطانوی طاغوت سے گلوخلاصی کے گزر چکے ہیں لیکن ہم وہیں کے وہیں کھڑے ہیں بلکہ دو قدم پیچھے ہیں حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آزادی کے بعد ہم اپنا متحرک قومی نظام بناتے اور بیتے ہوۓ تلخ ماضی کی ریکوری میں لاثانی کردار ادا کرتے لیکن حقیقت اس کے علی الرغم ہے
جب تحمل سے اپنے سماج کا تجزیہ کیا جاۓ تو اصلیت آشکار ہوتی ھے کہ ہمارا نظام تو امپورٹڈ ہے یہ برطانیہ نواز سفاکانہ ذہنیت کی چھاپ ہے جس میں سامراج کے جوتے پالش کرنے والے نوازشات پا کر اشرافیہ اپنے کالے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کے لیے نام نہاد جمہوریت جو اقربا پروری,فرعونی اوصاف کی حامل ہے کا راگ الاپتی رہتی ہے اور روایتی اپروچ کو فالو کرتے ہوۓ جمہوری ڈکٹیٹرشپ کی کمان لیے  اپنے سفلی مفادات کی تسکین کے لیے عوام الناس کو دھونس دھاندلی اور (horse trading) سودے بازی کے خول میں مقید الیکشن کے ذریعے ان کی معیار زندگی کو بلند کرنے اور انھیں ہر رخ سے ریلیف دینے کے لیے سبز باغ دکھانا اپنا شیوہ بنا لیا ہے لیکن تصویر اس کے منافی ہیں یہاں تو حقوق پر ڈاکے ڈالے جاتے ہیں سادہ لوح عوام کو دل نشین سلوگن منشور سے خرید لیا جاتا ہے ایسے میں ان گھمبیر اور بے یقینی کے عالم میں صحیح سمت میں غور و تدبر کرنا اور اس کے مطابق طویل المدتی حکمت عملی ڈیزائن کرنا انتہائ ضروری ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ ملک میں علم ودانش کے لال قلعے پر قابض طبقہ منظرنامے کی نزاکت سے یا تو نابلد نظر آتا ہے یا اپنے ذاتی مفادات کی زنجیروں میں جھکڑا ہوا ہے قومی و ملی تقاضوں سے عدم آگہی کے نتیجے میں صراط مستقیم سے بھٹکا ہوا ہے اس کا تجزیہ بھی مرعوبیت کی اساس پر وقتی ہے یا پھر یہ جذباتیت کے گھوڑے پر سوار نظر آتا ہے جس کے ہاتھ میں متشدد نفسیات کی شمشیر ہوتی ہے پاؤں میں لگزری زینیں ہوتی ہیں جس سے پاؤں نکالنے پر تعیش پسندی کے حسین سپنوں کی وادیوں کی مسافت طے کرنا محال دکھتا ہے سرمایہ داروں,جاگیرداروں نوابوں اور وڈیروں کے کارنامون کے دفاع کی زرہ بکتر سے لیس ہوتا ہے غرض دونوں صورتوں میں فاہدہ مسلط نظام کے آقائوں اور طاغوتی منصوبہ سازوں کو ہوتا ہے, جبکہ ہمارے ملک کا قیمتی سرمایہ نوجوان جو سوچنے اور جہدوجہد پر آمادہ اپنے ملک کی سیاسی,سماجی,اخلاقی انحطاط پر ڈسٹربڈ دکھائ دیتا ہے ,وہ صحتمند نظام کی تعمیر نو کے لیے مظطرب دکھائ دیتا ہے ,مگر آلہ کار ایسٹیبلیشمنٹ اور بہروپیے ان کی توانا یوں کو کوڑا دان کی نظر کرنے پر ایکا کیے ہوۓ ہیں۔
ایسے میں عظیم الشان فکر ہی ان مشکلات کا توڑ ہے ہماری خوش نصیبی یہ ہے کہ ہمیں یہ فکر جو عصری تقاضوں کو پورا کرتی ہے میسر ہے اس فکر کا امام کون ہے؟ ان کا تعارف بھی تو ہونا چاہیے تاریخ انھیں امام شاہ ولی اللہ دہلوی کے نام سے جانتی ہے ,تین سو سال قبل دنیاۓ رنگ و بو میں آنکھ کھولنے والی اس شخصیت نے سیاسی ,معاشی,سماجی,اخلاقی اور روحانی ڈومین میں جو کارہاۓ جمیلہ سرانجام دیے ہیں اوربرعظیم کے طول و عرض میں لازوال نقوش ثبت کیے ہیں,اپنے امیج کو مستند ثابت کرنے کے لیےپاکستان کے روایتی طبقے بھی آپ کی شخصیت کا سہارا لینے میں سرگرداں رہتے ہیں۔
مگر فرسودہ نظام کے آلہ کار ہونے کے باعث شاہ صاحب کی فکر ان کے فتوؤں کی زد میں ہوتی ہے,لیکن یہ علم و شعور کا  دیپک ان کی چالوں کی آندھی میں گل نہیں ہو گا۔
دوسری طرف شاہ صاحب کے فکر سے پتہ چلتا ہے وہ اس دور کی مادہ پرست ,انسان دشمن فکر کا تریاق اور دین حق کی ہمہ جہت سوچ کی نمائندہ ہے ,آپ نے باوجود علماء سوء کی مخالفت کے قران حکیم کا پہلا فارسی ترجمہ کیا اورھندوستان میں نئ جاندار فکر سے یہاں روایتی فرسودہ فکر پر ایسی کاری ضربیں لگا ئیں جن سے عقل و شعور کے چشمے پھوٹ پڑے۔   
شاہ صاحب نے تعاون باہمی اور محنت کے معیار پر معیشت کے نظام کے قیام کے لیے بہترین فکر پیش کی,روحانی ترقی کے لیے صحتمند سماج کو بنیادی مہمیز قرار دیا ,عالمگیر وحدت انسانیت کے لیے چار فطری اخلاق کا خاکہ ہیش کیا جسے ایک زاویے سے حقیقی ولڈ آڈر کہا جا سکتا ہے بشرطیکہ کہ دوسرے تمام تقاضے پورے ہوں ,راۓ عامہ کے احترام اور فیصلوں میں اجتماعیت انسانی حقوق کا وسیع تر تصور دیا جن پر معاشرے کی تشکیل ہوتی ہے ,اس کے ساتھ ساتھ آپ نے فرد واحد کے بجائے ایک جماعت کو امام الحق قرار دے کر جمہوریت کا نظریہ پیش کر کے جمہوری نظام کی سوچ دی ,واضح ریے انقلاب فرانس جس کو جمہوریت کا بانی قرار دیا جاتا ہے شاہ صاحب کی وفات کے 50 برس بعد آتا ہے اور اس کی بیک پر بھی استحصال کی سوچ کارفرما ہے۔امام صاحب کی نظر میں فکری ژولیدگی ,مرعوبیت ,جذ باتیت, طبقاتی سیاست و  معیشت اورالہ کا مذہبیت کا دین حق سے کوئ تعلق نہیں ہے اس کا حل وہ فک کل نظام بتاتے ہیں یعنی ہر فرسودہ نظام کا توڑ جس کے لیے تنظیم سازی کا عمل ناگزیر ہے۔
اب ضروری امر یہ ہے کہ اس فکر کا دامن پکڑا جاۓ  اسے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا جاۓ اور سماجی تبدیلی کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوۓ پوری لگن سے شبانہ روز محنت کی جاۓ تاکہ صالح نظام کی راہ ہموار ہو سکے اور دینی نظام کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

 
 
 
 
 
 
 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}