درست قیادت اور سائنسی معاشرت کا حامل پیداواری معاشرہ ۔۔۔ ڈاکٹر ممتاز خان

دنیا کی بعض اقوام ایک خاص پہلو پہ سوچنے میں بہت آگے نکل جاتی ہیں۔ جبکہ دوسرے پہلو یا دیگر شعبہ حیات میں ان کی سوچ نہیں چلتی۔ ترقی کا متوازن رجحان بہت کم اقوام میں ہے۔ بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں: مثلاً مذہبی تنگ نظری، سیاسی جبر، معاشی تنگی، معلومات تک کم رسائی، صحت کی خرابی، سستی، جستجو کی کمی، مواقع کی کمی اور ان کے خلاف بین الاقوامی گٹھ جوڑ، وغیرہ وغیرہ ۔

ایک چیز جو سب پہ بھاری ہوتی ہے، وہ ہے انسان / قوم کی قوت ارادی، وہ قوم یا فرد کرنا کیا چاہتا ہے؟ اس قوم کی نیت بھی ہے کچھ کرنے کی یا نہیں؟ آپ کہہ سکتے ہیں، قوم کی نیت کہاں سے پتہ چلے؟ یہ تو افراد کا مجموعہ ہے تو ایسے میں ہر فرد کی اپنی ایک نیت کی تو بات ٹھیک لگتی ہے، لیکن قوم کی نیت کیسے معلوم ہو؟ بنیادی طور پہ قوم کی نیت کا اندازہ قوم کے حال، اعمال، یا دوستوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ ایک قوم ایک خاص ماحول میں رہتی ہے، ایک خاص غذا کھاتی ہے، ایک خاص سماجی یا مذہبی سوچ کے گرد گھومتی ہے، ایک خاص سیاسی قیادت کی پڑہائی ہوئی پٹی پہ عمل کرتی ہے، اور وہ دنیا میں ایک غیر پیداواری سماج کی حامل ہے۔ وہ دنیا میں بے عزت بھی ہے۔ تو پھر ان سب وجوہات کو ازسرنو دیکھنا ہوگا اور اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لیے اپنی ساری پالیسوں کا جائزہ لینا ہوگا۔

اب آتے ہیں اپنی اس بحث کی جانب جس کا تعلق ہمارے مستقبل کے وجود سے ہے۔ کیا ہم بحثیت سیاسی اکائی اپنا وجود برقرار رکھ پائیں گے۔ کیا ہم اپنے بچوں کو ایک اچھا مستقبل (صرف بحریہ ٹاؤن کا پلاٹ دینے پہ زور مت لگائیں) دے پائیں گے، جس میں ان کی بحیثیت فرد و قوم غیرت وعزت بھی محفوظ رہ سکے، ان کےعلم و شعور اور انسانی ہمدردی میں اضافہ ہو اور وہ ایک مہذب معاشرہ تشکیل دے سکیں۔ 

مہذب معاشرہ ہوتا کیا ہے؟ اصل میں غلط مذہبی سوچ نے ہمیں اس حد تک متاثر کیا ہوا ہے کہ ہمارے ہر شعبہ کو خراب کر دیا ہے۔ ہمارے ہاں مہذب معاشرہ سے مراد بھی شائد وہ معاشرہ ہی لیا جاتا ہے جس میں اگر سب لوگ مخصوص مذہبی عبادات کریں اور خاص حلیہ بنا لیں تو وہ مہذب معاشرہ کہلائے گا۔ حقیقت میں ایسا معاشرہ عدم توازن کا شکار مذہبی معاشرہ ہی کہلا سکتا ہے، مہذب معاشرہ نہیں کہلا سکتا ہے۔ ایسا معاشرہ ایک خاص شعبہ کے لوگ تو کثیر تعداد میں پیدا کر سکتا ہے، لیکن ہر شعبہ کے ماہرین میں خود کفیل نہیں ہو سکتا اور محتاج رہتا ہے۔ آج کے دور میں محتاجی ہی غلامی کو جنم دیتی ہے، وہ سوچ کی ہو، ماہرین کی، آلات کی یا کسی شکل میں۔

تو پھر مہذب معاشرہ کیا ہوتا ہے؟ مہذب معاشرہ انسان کی اندر کی معصومیت کو برقرار رکھتا ہے، جس کو اسلام نے کہا کہ ہر شخص فطرتاً مسلمان پیدا ہوتا ہے۔ معصوم انسان دوسروں کو دھوکہ دینے کا سوچ تو سکتا ہے لیکن کبھی کر نہیں پاتا۔ مہذب معاشرہ ایک اجتماع کے فائدہ کے لیے سوچتا ہے۔ وہ اپنے انفرادی وجود کو اپنے اداروں کے لیے قربان کردیتا ہے اور زندگی اس راستے پہ وقف کر دیتا ہے۔ وہ علم کے ذریعے نئے راستے تلاش کرتا ہے اور اس سے دولت پیدا کرتا ہے، جس کو ٹیکس کے ذریعے معاشرے کے باقی افراد سے بھی بانٹتا ہے۔ مہذب معاشرہ چھینتا نہیں ہے بلکہ پیدا کرتا ہے اور بانٹتا ہے۔ مہذب معاشرے کی پیداواری صلاحیتیں زیادہ ہوتی ہیں، کیونکہ اس کے افراد سوچتے ہیں، تخلیق کرتے ہیں۔ تخلیق کرنے والوں پہ فتوے نہیں جڑتے ہیں۔ مہذب معاشرے کا ہر فرد معاشرے کے لیے کچھ نہ کچھ کر رہا ہوتا ہے، وہ اس پہ بوجھ نہیں ہوتا ہے۔ بچے، عورتیں اور بوڑھے بھی۔ بوڑھوں کو بوڑھا بنا کر گھر پہ بٹھا کر لڑنے کے لیے چھوڑنہیں دیا جاتا۔ مہذب معاشرے کے سارے شعبہ حیات آپس میں مربوط اور قابل عمل ہوتے ہیں۔ لوگوں کی سوچ جذباتی نہیں عقلی ہوتی ہے۔ مہذب معاشرہ عفقی اور عمودی سمت میں ترقی کرتا ہے۔ نئ نسل سے ماہرین، نئے کاروبار، اور جدید کاروباری ڈھانچہ پیدا کرتا ہے۔ خوف ختم کرتا ہے، امن لاتا ہے۔ عام لوگوں کو امراء کے برابر لاتا ہے اور بے انصافی ہوتی ہی نہیں۔ اور یہ سب کچھ  ہونے سے پہلے اس کے لوگ پر امید اور اپنی قیادت پہ اعتماد کرتے ہیں جس پہ قیادت پورا اترتی ہے۔

تخلیق کا عمل سماج کے رہن سہن سے جڑا ہوا ہے۔ صنعتی طور پہ ترقی یافتہ ممالک کے تنہائی پسند/انفرادیت پسند لوگ، ہمارے ہاں جن پہ اکثرو بیشتر تنقید کی جاتی ہے، اصل میں معاشرے کے پلانرز نے اپنے معاشرے کی تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ کے لیے ایسا ماحول خود ہی بنایا ہے، تاکہ تنہا رہ کر لوگ زیادہ سوچیں اور وہ نئی سوچ نئی سمت اور نئی ترقی لے کر آئے۔ ہمارے مذہب میں بھی اکثر سوچنے اور صحبت صالح کا حکم دیا گیا ہے۔ صالح سے مراد ہمارے ہاں صرف مذہبی جبہ میں ملبوث لوگوں کو ہی لے لیا گیا ہے۔ صحبت صالح سے مراد اچھے اکانومسٹ بھی ہو سکتے ہیں، ٹکنالوجسٹ بھی ہو سکتے ہیں جن کی صحبت میں رہ کر آپ سوچیں اور معاشرے کے لیے نئی معاشی سمت کا دروازہ کھولیں۔

تخلیق کا عمل جذبات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ جنوبی ایشاء کا خطہ جو ایک زمانہ میں ستی کی رسم کو صحیح سمجھتا تھا، ایسا کیوں تھا؟ مذہبی وجوہات اپنی جگہ، لیکن ایسی رسومات میں عورتیں خود کو کیوں پیش کر دیتی تھیں؟ یہ ایک ایسے معاشرے کی طرف اشارہ کرتا ہے جو حد سے زیادہ جذباتی لگاؤ میں مبتلا تھا۔ جذباتی لگاؤ حد سے بڑھ جائے تو سوچنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ ستی تو ایک مثال تھی، جذبات کا عدم توازن کسی اور سمت میں بھی ہو سکتا ہے، مثلاً چینی جذباتی دباؤ کی وجہ سے افیم کھاتے تھے۔ صحیح سماج کی ترقی کے لیے درست اور صحت مند جذبات کا ہونا بہت ضروری ہے۔ 

کیا سائنسی معاشرہ اور مہذب معاشرہ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ اصل میں سائنسی سوچ ہی مہذب معاشرہ تشکیل دیتی ہے۔  ایسا معاشرہ جو اپنے اور بین الاقوامی مسائل کے حل کے لیے اپنے افراد کے ذہنوں کو استعمال میں لا کر ان کے حل دے۔ سائنسی معاشرت کبھی جذبات، لالچ یا دباؤ میں آ کر حقائق اور نتائج نہیں بدلتی۔ یہ معاشرت ‍ذہن کو حاضر رکھتی ہے اور ‍‍ ذہن تبھی چلتے ہیں جب امید ہوتی ہے، پیٹ بھرا ہوتا ہے، جستجو ہوتی ہے اور یہ سب تبھی ہوتا ہے جب معاشرے میں امن اور پیار ہوتا ہے۔ ان کے ہونے کا نام برکت ہو سکتا ہے اور ان کے نہ ہونے کا نام برکت اٹھنا بھی ہو سکتا ہے۔ سو سائنسی سوچ ہی مہذب معاشرہ کی طرف لے جاتی ہے۔ جو اخلاقیات میں اعلی مقام رکھتا ہے۔

اب سوچنا یہ ہے کہ ایسا معاشرہ بننا کب شروع ہوتا ہے؟

اگر ہم نے اپنے وجود کو بحثیت قوم ایک نئے زمانے میں برقرار رکھنا ہے تو اپنی بنیادی سوچ اور معاشرے کو سانئسی مزاج میں بدلنے کے لیے اپنی نیت اور قوت ارادی کو مضبوط کرنا ہوگا۔ ان لوگوں کو اپنا رہنما بنانا ہوگا جو قومی تبدیلی کے اجتماعی طریقہ کار پہ یقین رکھتے ہیں، جو تبدیلی اپنی ذات یا گروہ کے لیے نہی بلکہ قوم کے وجود اور اس کے کردار کو بین الاقوامی سطح پہ اجاگر کرنے کے لیے لانا چاہتے ہیں۔ گلو بٹ اور لندن مزاج قیادت جو قوم سے لگاؤ نہیں رکھتی،جو تبدیلی قوم یا اداروں کے اجتماعی مفاد کے لیے بلکہ اپنی ذات کے لیے لاتی ہے، سے خودکو دور کرنا ہوگا۔ ان کے ہاتھ میں شفا ہوتی تو کب کے صحت یاب ہو چکے ہوتے۔ یہ انفرادیت پسند نام نہاد لیڈر لالچ کے تحت سوچتے ہیں۔ اور پھر لفظوں سےکھیلتے ہیں۔ سائنسی مزاج اور مہذب سوچ سے کوسوں دور ہیں جبکہ سائنسی مزاج اور معاشرہ ہی نئے دور کے پریشر کو جھیلے گا اور وہ قومیں ہی اپنی اجتماعیت برقرار رکھ پائیں گی جو درست سمت  میں سوچتی ہیں، مفاد یا جذبات کے تحت سوچنے والی اقوام بھیڑ میں گم ہو جائیں گی۔

پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی۔

 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}