گمان — کاشف شھزاد

یہ پانچ اپریل کی شام تھی جب اس نے مجھ سے پوچھا آپ نے میری الماری سے روپے تو نہیں لیے؟ میں نے بغیر کوئی وقت ضایع کے الفاظ اس کی طرف اچھال دیے ۔ نہیں  میں بھلا کیوں لوں گا اب اس کے چہرے پر پریشانی کی لہر صاف عیاں تھی ۔ میں نے استفسار کیا کہ کیوں کیا ہوا ہے؟ وہ بولی کے میری الماری سے ایک نو ٹ غائب ہے اور مجھے اس نئی ملازمہ پر شک ہے ۔ میں نے حسب معمول اسے کہا کے غور سے دیکھو یہیں کہیں ہونگے یا خرچ کر دیئے ہونگے ۔ خیر اس نے کوئی جواب نہ دیا اور بچوں کو سلانے چلی گئی ۔ وہ پچھلے چھے مہینے میں بارویں ملازمہ تھی اس گھر کی ۔ اپریل کی صبح میں ٹی وی لاؤنچ میں دفتر جانے سے پہلے ناشتہ کر رہا تھا جب پتا چلا کے وہ اوپر والے فلور پر گئی ہے ۔ میری بیوی جلدی سے اوپر کیطرف ہو لی اور ملازمہ کو واپس آتے ہوے دیکھا اور پوچھا کہ آپ کی ڈیوٹی تو صرف گراؤنڈ فلور پر ہے ۔ میں تو سیڑیاں صاف کرنے گئی تھی اس نے جھٹ سے جواب دیا ۔ خیر بات آئی گئی ہو گئی ۔ شام کو کام سے لوٹا ہی تھا کے خبر بریک ہوئی کہ ایک عدد سونے کی انگھوٹھی غائب ہے جسکی مالیت لگ بھگ تیس ہزار کے تھی ۔ گھر والوں پر ایک بات روز روشن کیطرح عیاں ہو گئی کہ ملازمہ نے ہاتھ صاف کرنا شروع کر دئیے ہیں ۔ میں نے بیگم کو بٹھایا اور تسّلی سے کہانی سنی ۔ کہانی سننے کے بعد میرے ذھن میں دو سوال تھے
?) کیا واقع وہ ملازمہ اتنی چھلاوا تھی کہ پلک جھپکتے ہی بیڈروم میں آئی، الماری کھولی اور انگوٹھی لے اڑی؟
?) آپ نے سونے کی انگوٹھی اتنی اوپن رکھی ہوئی تھی کے کوئی بھی آ کر الماری کھولے اور اس کے سامنے پڑی ہو اور وہ اٹھا لے؟
موقع بحث کرنے والا نہیں تھا لہذا میں نے دوبارہ بیگم سے کہا کے آپ ساری الماری چیک کرو دوبارہ ہو سکتا ہے آپ نے خود ہی کہیں رکھ دی ہو ۔ اگلی صبح خبر ملی کہ ملازمہ کو فارغ کرنے کے آرڈرز آ چکے ہیں اور چونکے یہ آرڈرز ڈائریکٹ اوپر سے (والدہ) آے تھے لہذا چیلنج کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ میرا احتیار چونکہ اپنی بیگم اور بچوں تک محدود ہے اس لئے میں نے انھیں تاکید کی کے آپ وہم نہ کریں مجھے نہیں لگتا کے آپ کی انگوٹھی ملازمہ نے چوری کی ہے اس لئے آپ دوبارہ چیک کریں ۔ خیران کن بات جو صبح ناشتے پر مجھے میری بیگم نے بتائی وہ یہ تھی کے اس نے خواب میں دیکھا ہے کے انگوٹھی مل گئی ہے ۔ ایک بات یہاں بتاتا چلوں کے میری بیگم کو بھی نہیں لگتا تھا کہ انگوٹھی ملازمہ نے چرائی ہے لیکن وقت اور حالات ذھن پر غالب تھے ۔ خیر اس دن بیگم نے دو نفل ادا کیے اور تسلّی سے ساری الماری اور سیف کی صفائی کی اور انگوٹھی مل گئی ۔شام کو جب اس نے مجھے یہ خبر سنائی تو میں ہنس دیا اور بے احتیار مجھے اشفاق صاحب اور ان کی بیگم بانو آپا کی چوڑی والی کہانی یاد آ گئی۔ جس میں بانو آپا کی چوڑی گم ہو جاتی ہے اور بانو آپا کو گھر کے نوکر کے کان، ناک اور چہرہ چوروں کی طرح لگنے لگتا ہے اور اشفاق صاحب انھیں سمجھاتے ہیں اور پھر بانو آپا کی چوری گھر سے ہی مل جاتی ہے ۔
سبق:—— ہم جب بھی کسی کے بارے میں غلط راے قائم کر لیتے ہیں پھر ہمارا ذھن اس کی ہر بات کو اسی ترازو میں تولتا ہیں جو ہم نے اسے بنا کر دے دیا ہوتا ہے ۔ میرا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ ایسے واقعے کے بعد اگر ہم بغیر راے قیام کیے اپنے ذھن کو مشاہدے پر لگا دیں تو اس سے خاطر خوا نتایج نکل سکتے ہیں ۔ اور یہ واحد طریقہ ہے جس سے آپ چور کے اندر والے چور کو جان لیتے ہیں کیوں وہ برا ڈرپوک ہوتا ہے ۔!!

People Comments (1)

  • Tariq Zaman June 7, 2017 at 3:37 am

    Very good. Keep it up brother. You have a great future in literature.

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}