افغانستان اور عالمی منظر نامہ — شاہد خان

افغانستان میں خودکش دھماکے میں مظلوم انسانیت کی جانوں کی ضیاع پر جتنی مذمت اور آنسو بہائے جائیں کم ہیں, لیکن شاید اس قوم سے مذمت اور آنسو بہانا بھی نہ ہو پائے کیونکہ گزشتہ کچھ عشروں سے یہ خطہ انسانوں کی اس طرح لاشیں اٹھاتے اٹھاتے اور اس پر مذمت کرتے ہوئے بھی تھک گیا ہے. آنسو خشک اور یہ لاشیں ہمارے لئے ایک عام معمول بن گئی ہیں. اب تو اس خطہ کی یہ صورت حال ہے کہ جب تک اپنے گھر کی لاش نہ گرے دوسرے انسانوں کے لئے نہ تو ہم کوئی جذبات رکھتے ہیں اور نہ ہی کوئی خیر خواہی. 
حالات بدل چکے ہیں, اب اس خطے کو ماضی کے پینتروں سے بہت کچھ سیکھنا چاہئے , اب سارے پس پردہ مقدس چہرے اور تحریکات بے پردہ ہوگئے ہیں, اب وہ دور نہیں جس میں کوئی خوف یہ عقیدت کی وجہ سے ظلم اور اس نام نہاد جہاد پر منہ  پرتالے لگائے ہوئے تھے. سب یہ جانتے ہیں کہ دور حاضر میں تمام نام نہاد پر تشدد تحریکات کسی مذہب یا انسانیت کے لئے نہیں بلکہ گروہیت اور سامراجی مفادات کے لئے پیدا کی گئی ہیں جس کے ثمرات عوام کو خون اور مفاداتی گروپوں کو ڈالرز اور مراعات کی شکل میں مل رہے ہیں. 
حالیہ ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ سعودیہ عرب اور اس کے ساتھ مفادات اور معاہدات تمام الجھے ہوئے سوالات کو حل کرتا ہے, اس خطے کے تمام ممالک کا کردار صاف اور واضح ہے, یہ دنیا دو بلاکس میں واضح طور پر بٹ چکی ہے, ایک طرف روس , چائینہ, ایران , شام وغیرہ ممالک ہیں تو دوسری طرف امریکہ, اسرائیل, سعودیہ عرب , ترکی, قطر اور یورپی ممالک ہیں. 
دنیا کے سامنے یہ بھی کوئی اب ڈھکی چپی بات نہیں کہ دور حاضر کی یہ تمام پرتشدد تحریکات کن کی پیداوار ہے اور ان سے کیا کیا مفادات حاصل کر لئے گئے ہیں اور دور حاضر اور مستقبل میں کونسے مفادات مد نظر ہیں, اس بات کو سمجھنے کے لئے ہمارے سامنے بہترین مثال لیبیا, عراق , شام , فلسطین اور افغانستان ہیں, کہ سا مراجی ممالک نے کس طرح گٹھ جوڑ کے ذریعے کہیں پر جمہوریت, کہیں پر کمیونزم اور کہیں پر مذہب کو آلہ کار بنا کر مختلف بہانوں سے ان خطوں میں اپنے مفادات کے لئے مصنوعی جنگیں پیدا کر کے مفادات کو حاصل کیا.
 پاکستان میں باشعور طبقات کو عالمی منظر نامہ اور  ملکی حالات پر تجزیہ کرنے سے پہلے دنیا کے تمام ممالک کا سیاسی جھکاؤ اور انکے مفادات اور انکے سیاسی معاہدات کو دیکھ کر اپنے نقطہ نظر کو پیش کرناچاہئے, اور پاکستان میں مروجہ سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کا سیاسی جھکاؤ اور الحاق کو مد نظر رکھتے ہوئے قومی مسائل کو پرکھنا چاہئے, اس سے ہماری نوجوان نسل کو قومی اور بین القوامی مسائل کے نشاندہی اور سمجھنے میں آسانی پیدا ہوگی. اور موجودہ تمام مذہبی اور سیاسی سامراجی ایجنٹوں کے پس پردہ چہرے بے نقاب ہو کر انکے کردار واضح نظر آنے کے ساتھ ساتھ اس مظلوم قوم کو انکے گروہی اور معاشی مفادات سے بچایا جاستکا ہے.
 
 
 
 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}