پمفلٹس — ایم بی انجم

اخبارات کے ساتھ موصول ہونے والے پمفلٹ چونکہ فی سبیل اللہ ملتے ہیں اِس لیے اخبار بین انہیں بیکار سمجھ کر پھینک دیتے ہیں حالانکہ یہ خاصے اہم اور کارآمد ہوتے ہیں۔ اُن میں سے زیادہ تر تو پاکستانی قوم کے معیارِ تعلیم کی بلندی کے عکاس ہوتے ہیں کہ وہ کسی پرائیویٹ یونیورسٹی، کالج، سکول یا اکیڈمی کی مثالی کارکردگی کی تفصیلات پر مبنی ہوتے ہیں۔ اگر ایسے تمام پمفلٹس کے مندرجات کو صحیح سمجھ لیا جائے تو پھر یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ ملک کے ہر تعلیمی بورڈ اور یونیورسٹی میں سے ہر سال ایک نہیں درجنوں لڑکیاں اور لڑکے ’’اوّل پوزیشن‘‘ حاصل کرتے ہیں کیونکہ اُن میں سے ہر ادارے کا دعویٰ ہوتا ہے کہ اُس سال بورڈ یا یونیورسٹی میں ٹاپ کرنے والے طالب علم کا تعلق اُسی سے ہے۔
معیاری تعلیمی اداروں کو تو اپنی پبلسٹی کی زیادہ ضرورت نہیں ہوتی کہ اُن کے نام ہی کافی ہوتے ہیں، اِس لیے بذریعہ پمفلٹس علم کے پیاسوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے والے اداروں کا سروے کیا جائے تو اُن کی اکثریت پانچ یا دس مرلے کے ’’وسیع وعریض‘‘ کیمپس پر مشتمل ہوگی۔ اُن کے مالکان کا فیملی بیگ گرائونڈ پرکھا جائے تو پتہ چلے گا کہ اُن کی گزشتہ تین نسلوں میں سے کسی نے کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا اور اُن کے ٹیچنگ سٹاف کے کوائف معلوم کیے جائیں تو کُھلے گا کہ اُن میں سے اکثر اپنے زمانۂ طالب علمی میں اُس جماعت تک نہیں پہنچ پائے جس کے طالب علموں کو وہ پڑھا رہے ہیں۔ یقینا ایسے ہی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے طالبعلم جمشید دستی کی طرح اعلیٰ ایوانوں میں پہنچتے ہوں گے۔
پمفلٹس کی دوسری کیٹیگری کا تعلق آپ کے ہومز کو سویٹ ہومز بنانے سے ہوتا ہے۔ یہ گھروں سے دیمک کا قلع قمع کرنے اور پانی کی ٹینکیوں کی صفائی کی یاددہانی کرا رہے ہوتے ہیں۔ غور کیجئے کہ اگر آپ کے گھر کی چوگاٹھیں دیمک جیسے خاموش قاتل کی زد پر ہیں تو پھر آپ کو ایش وڈ، ساگوان اور دیار جیسی قیمتی لکڑی لگوانے کی کیا ضرورت تھی، گیل یا پڑتل بھی کام دے سکتی تھی اور اگر چھت پر لگی یا زیرِ زمین پانی کی ٹینکی میں واسا کے پانی کے لازمی جزو کے طور پر آنے والی مٹی کی تہہ جمی ہوئی ہے یا اس میں ٹِڈیوں اور چیونٹیوں کی لاشیں تیرتی دکھائی دیتی ہیں تو پھر حفظانِ صحت کے حوالے سے تو آپ کے اہل خانہ کا اللہ ہی حافظ ہے۔ پمفلٹس کی تیسری قسم کا تعلق گھروں کی بجائے گھر والوں کو سنوارنے اور نکھارنے سے ہوتا ہے۔ آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے یہ بیوٹی پارلرز اور بوتیکس کی مشہوری کے مظہر ہوتے ہیں۔ ابھی چند سال قبل تک تو بنائو سنگھار سے متعلق اِن آئینہ خانوں سے مَردوں کو ایک چڑ سی تھی کہ یہ صرف عورتوں کی خوبصورتی کا سامان مہیا کرتے تھے مگر اب تو ماشاء اللہ مردانہ بیوٹی پارلرز اور بوتیکس نے مرد حضرات کو بھی صنفِ نازک کے شانہ بشانہ لاکھڑا کیا ہے۔
مجھے اِس موضوع پر لکھنے کے لیے جس پمفلٹ نے تحریک دی ہے وہ پہلوانوں اور خوش خوراکوں کے شہر گوجرانوالہ کے ایک ایسے ’’جوتشی بابا‘‘ کی کرامات کا عکاس ہے جو اہرامِ مصر پر چھ ماہ کی چلہ کَشی کے بعد حال ہی میں وطن لوٹے ہیں اور اِس ریفریشر کورس کے باعث اُن کی روحانی اور طلسماتی صلاحیتیں اپنے نکتۂ عروج پر ہیں۔ پمفلٹ کے مندرجات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بابا جی کوہ قاف کے جِنّات کی ایسوسی ایشن کے صدر سے بھی زیادہ باصلاحیت ہیں۔ دنیا جہان کا کوئی ایسا کام نہیں جو وہ ایک ملاقات یا ایک ٹیلیفون کال پر نہ کرسکتے ہوں۔ سنگدل محبوب کو قدموں میں لا بٹھانا تو ہر بنگالی بابے کے بائیں ہاتھ کا کام ہوتا ہے، موصوف تو ’’حسرتِ وصال کو قربتِ لازوال‘‘ میں بدل دینے کے بھی ماہر ہیں۔ کالے جادو کی کاٹ پلٹ اور تعویذ گنڈے کا اثر زائل کرنے، من پسند ملازمت دلانے، کاروبار میں ترقی، غیر ممالک کا رہائشی ویزہ لگوانے، بیوی کو خاوند اور خاوند کو بیوی کا غلام بنانے نیز شوگر، بلڈ پریشر، ایڈز، ہیپاٹائٹس اور کینسر جیسی بیماریوں کا شافی علاج کرنے جیسے معمولی کام تو ہر عامل کرسکتا ہے مگر یہ بابا جی آپ کو جُوا پرچی کا نمبر بھی بتا سکتے ہیں، آپ کا پرائز بانڈ بھی نکلوا سکتے ہیں حتیٰ کہ کروڑوں پونڈ کی یورپی لاٹری تک لگوا سکتے ہیں۔ جوتشی بابا کے اِس پمفلٹ میں دنیا کے بظاہر ہر ناممکن کام کو ممکن بنادینے کا دعویٰ ہے اور اگر کچھ نہیں ہے تو وہ ہے تاوان کے لیے اغوا کیے جانے والوں کی بازیابی۔ شاید اس لیے کہ بابا جی کے شہر گوجرانوالہ میں متعین کوئی نیک نام پولیس افسر کہیں بابے کو اِسی بیگار پر ہی نہ لگادے۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}