جنت نظیر بلقان — فرخ سہیل گوئندی

بلقان میرے لیے ایک سحرانگیز سرزمین ہے۔ اس سحر کو میں نے پہلی مرتبہ ایسا چھوا کہ اس کا اثر ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ اس وقت بلقان اشتراکیت کا مرکز مانا جاتا تھا۔ بلغاریہ جیسا سخت گیر اشتراکیت پسنداور سوویت یونین نواز ملک سے لے کر مارشل ٹیٹو کا یوگوسلاویہ، جو اشتراکیت کا علمبردار بھی تھا اور سوویت یونین سے اپنے آپ کو نتھی کرنے سے گریزاں تھا۔ بلقان کے لفظ سے میں پہلی مرتبہ سکول کے زمانے میں متعارف ہوا۔ جنگ بلقان کے حوالے سے جس سلطنت عثمانیہ کو شکست وریخت پر مجبور کردیا۔ کالج پہنچا تو اپنی عمر سے بڑے تجربات کا شوق تھا، خصوصاً سیاسی مطالعے کے حوالے سے تو، Balkanization یعنی کسی ریاست کی توڑ پھوڑ کی اصطلاح سے متعارف ہوا اور یہ اصطلاح بھی بلقانی خطوں سے ترکوں کی سلطنت کے ٹوٹنے سے معرضِ وجود میں آئی۔ بلقان مجھے کئی حوالوں سے اپنے سحر کی طرف کھینچتا رہا ہے اور یہ سلسلہ ابھی تک رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ جب میں ترکی کے راستے پہلی مرتبہ بلغاریہ میں داخل ہوا تو سرخ جنت کے الفاظ میرے ذہن پر نقش تھے۔ ایک ایسے نوجوان کو جو خوابوں کو عمل میں بدلنے کا جنون رکھتا ہو، ایسے الفاظ، خیالات، قصے، کہانیاں، داستانیں سحرانگیز نہ کریں تو کیاکریں۔ جب پہلی مرتبہ ترکی کی سرحد سے بلغاریہ کو چھوا تو رات کی تاریکی تھی۔ ایک اشتراکی ملک کو دیکھنے کا جنون۔ ایک بلقانی اشتراکی ریاست۔ اس خطے کی ہزاروں سال کی تاریخ میرے ذہن میں تیزرفتاری سے گھوم رہی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب لاہور میں میرے بیشتر دوستوں کا سب سے بڑا شوق اور خواہش اپنے والدین سے ستر سی سی ہنڈا موٹر سائیکل لینا تھا اور ایک میں جو ایک ایک روپیہ جمع کرکے دنیا کی تلاش وجستجو کا جنون رکھتا تھا۔ یہ مشکل اور مہنگا شوق تھا۔ لیکن جب جنون سوار ہو تو ناممکن، ممکن ہو جاتا ہے۔ بلقان، ہمارے ادیبوں، سفرنامہ نگاروں اور دانشوروں کا کوئی خاص موضوع نہیں رہا۔ یہ مہربانی ہو، انارکلی بازار اور اس کے اردگرد گلیوں میں پرانی کتابیں فروخت کرنے والوں کی (میں کتاب کو ردّی نہیں مانتا، اس لیے پرانی کتاب قرار دیا) کہ وہاں مجھے ایسی تین ضخیم کتابیں ہاتھ لگ گئیں، جن میں دو بڑی معلومات افزا کتابیں تھیں۔ ایک Lands & People بلقانی عوام اور سرزمین پر اور دوسری Eastern People ۔ آہ! مجھے یوں لگا جیسے کوئی خزانہ ہاتھ آلگاہو۔ اور اردو میں معروف اشتراکی دانشور مرحوم عبداللہ ملک کی دو تین کتابیں۔ اُن کے اِس خطے کے سفروں پر مشتمل تحریریں۔ میں نے زندگی میں اَن گنت محبتیں پال رکھی ہیں۔ اُن میں ایک محبت بلقان بھی ہے۔ جب خوابوں میں رہنے والا یہ نوجوان رات کی تاریکی میں سرزمین بلقان میں داخل ہوا تو یوں لگا جیسے دوسری دنیا میں داخل ہوگیا ہوں۔ میرے لیے وہ مناظر ابھی بھی انمول ہیں۔ تاریکی میں سسکتی رفتار سے استنبول سے چلنے والی ٹرین ’’بلقان ایکسپریس‘‘ جو مشہورِزمانہ اورینٹ ایکسپریس کا بدل تھا، دھیرے دھیرے بلقان میںداخل ہو رہی تھی اور رات کی تاریکی صبح صادق میں ڈھل رہی تھی۔ جس پہلے منظر نے مجھے چونکایا، وہ اردگرد درختوں پر لگے سرخ سیب اور سرخی مائل ناشپاتیاں تھیں۔ صبح کی روشنی میں درخت بہت خوب صورت لگ رہے تھے، اس کا سبب ان پر سجے پھل تھے اور حدِ نگاہ تک کھلیان ہی کھلیان اور کھلیانوں میں اشتراکی رہنمائوں کے قدآور سائن بورڈ اور ساتھ ساتھ ایسے سائن بورڈ بھی جن میں بلقانی کسان (مرد وخواتین) دکھائے گئے تھے۔ خوشۂ گندم ہاتھوں میں لیے لہراتے کسان۔ درانتی اور ہتھوڑا بھی، مزدور اور کسان اور کمیونسٹوں کا سیاسی نشان۔ یہ واقعی سرخ جنت تھی۔ 

کہتے ہیں وہ بڑے لوگ ہوتے ہیں جو اس جہان کو جنت بنا سکتے ہیں۔ آج تو دنیا میں ایک خاص طبقہ دنیا کو جہنم بنا کرخود جنت کا راہی بننے پر تلا ہوا ہے۔ مجھے یہ بلقان اپنے خوابوں کے مطابق لگا۔ قدرت نے جس قدرحُسن اس سرزمین کو عطا کیا ہے، اسی قدر حُسن اس سرزمین کے باسیوں اور مالکوں کو بھی عطا کیا ہے۔ اپنے اس سفر میں اس بلقانی ملک کو جتنا چاہا، اتنا ہی دیکھا۔ اور وہ سحر ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہا۔ دوسری بار بلقان دیکھنے کا ایک اور موقع ملا۔ امریکہ کی ایک یونیورسٹی نے مجھے کچھ سال قبل پہلے Conflict Resolution پر ایک شارٹ کورس کے لیے منتخب کیا۔ میرے اساتذہ نے میری کارکردگی کو اس قدر پسند کیا کہ آئندہ کے لیے مجھے فل سکالرشپ کے تحت ماسٹر کرنے کی پیشکش کردی۔ میرا Conflict Resolution میں موضوع تھا، Peace Building Leadership اور اس کے لیے جنگ بوسنیا اور بوسنیا ہرزیگوینا ملک کے طور پر دیا گیا۔ میرے لیے یہ تعلیم کے ساتھ میرے جنون کا موضوع بھی تھا۔ جب 1992/95ء میں بوسنیا آگ، خون اور جنگ میں دھکیلا گیا تو میں نے پاکستان کے ایک قومی روزنامے میں بوسنیا پر مفصل آرٹیکلز لکھے۔ بوسنیا کی تاریخ، بلقان اور جنگ بوسنیا، ان آرٹیکلز کے موضوعات تھے۔ ایک روز ایک پاکستانی فوجی افسر نے مجھے ایک سیمینار میں دیکھا تو مجھے اُس کی اِس بات نے حیران کردیا کہ ہم پاکستانی فوجی دستے جو بوسنیا میں اقوامِ متحدہ کی امن فوج کے تحت جاتے ہیں تو ہمیں بوسنیا کے بارے بریفنگ میں ایک فائل دی جاتی ہے جس میں آپ کے یہ قسط وار آرٹیکل بھی شامل ہیں۔ اشتراکی بلغاریہ کی سرخ جنت کے بعد بوسنیا کو دیکھنا ایک عجیب احساس لیے ہوئے تھا۔ بلقانی سرزمین، اشتراکیت کے بعد۔ جنگ کی تباہ حالی کے بعد۔ دنیا میں اشتراکیت کے خاتمے کے بعد۔ یورپ میں البانیہ کے بعد، ایک اور مکمل مسلم ریاست۔ ایک ایسی قوم کو دیکھنے کا احساس جس کی نسل کشی کے لیے کوئی کسر نہ چھوڑی گئی۔ بوسنیا کو کھنڈروں میں بدلنے کی بھرپور کوشش اور پھر انہی کھنڈروں میں جنگ کے زمانے میں مشہورِعالم اطالوی گلوکار پیووروتی نے ’’مس سرائیوہ‘‘ گاکر دنیا میں امن کی آواز کو طاقت دی۔ پیوو روتی نے یورپ میں برپا کی گئی اس جنگ کو اپنے گیت کو ایک تباہ شدہ کھنڈر میں گایا:
Is there a time for keeping your distance
A time to turn your eyes away
Is there a time for keeping your head down
For getting on with your day.
پیوو روتی کے اس گیت نے سربیائی جنگ بازوں کو جس طرح شکست پر مجبور کیا، وہ تاریخ کا شان دار باب ہے۔ جہاز جب سرائیوہ کی فضا میں نیچے آ رہا تھا، بلقانی فضا سے بلقانی سرزمین کی طرف تو مجھے وہ گولے، راکٹ، بم اور گولیاں یاد آنے لگے جنہوں نے اس بلقانی جنت کو چند سال قبل جہنم میں بدل دیا۔ اس بار بلقان کو دیکھنے کا عمل مختلف اور تکلیف دہ تھا۔ سرائیوہ، یورپ کا یروشلم کہلاتا ہے کہ یہاں مسلمان، مسیحی، یہودی اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہیں صدیوں سے ساتھ ساتھ ہیں۔ اس شہر کو جنگ میں دھکیلنے والوں نے اپنے جہنمی ارادوں سے زیر کرنے کے لیے ہر کوشش کی، لیکن سرائیوہ زیر نہیں ہوا۔ جدید دنیا میں اس شہر کا سب سے بڑامحاصرہ ہوا، 1425دن مسلسل یہ شہر جنگی حصار میں رہا۔ Siege of Sarajevo کے زخم مجھے بلقانی فضا سے نظر آنے لگے۔ جنت کو جہنم میں بدلنے والوں کے آثار۔ جلی ہوئی راکھ زدہ بلندوبالا عمارتیں۔ اب اپنے خوابوں کے بلقان کو ایک دوسرے انداز میں دیکھنا مشکل کام تھا۔ جہاز نے سرائیوہ ایئرپورٹ کی رن وے کو چھوا تو یوں لگا جیسے ہم سرائیوہ نہیں، بیروت اترے ہیں۔ اس کو بھی ستر کی دہائی سے نوے کی دہائی تک اسی طرح زخمی کیا گیا۔ بلقان کی جنت کو دیکھنے کی وہ خوشی جو کئی سال پہلے تھی، اب مختلف احساس میں بدل چکی تھی۔ پُرامن بلقان، جنگ زدہ بلقان کی شکل میں، اب یوگوسلاویہ تاریخ کا حصہ اور مارشل ٹیٹو کو یاد کرکے آہ بھرنے والا بلقان تھا۔ اشتراکیت سے سرمایہ داری کی طرف گامزن۔ امن سے جنگ زدہ بلقان۔ افسردہ دل بلقانی ریاست بوسنیا کو دیکھنا کتنا مشکل کام ہے۔ زخم زخم بلقان۔ لیکن مجھے اس بلقانی ملک بوسنیا کو دیکھنا تھا۔ سرائیوہ، موستار، بانجا لوکا، تزلہ، زینکا بجلیجینا۔ وادیوں اور جھیلوں کا بوسنیا۔ زخمی عمارتوں سے لدا بوسنیا۔ قبرستانوں سے اٹا بوسنیا ۔ مجھے جنگ میں جسمانی، ذہنی اور روحانی طور پر زخمی ہونے والے بلقانی، بوسنیائی باشندوں کی دل خراش داستانوں کو اکٹھا کرنا تھا۔ تنازع (Conflict) کے شکار لوگوں کی دل خراش کہانیاں سننا کس قدرمشکل کام تھا۔ جس میں ایک ایسی خاتون کی داستان کو بھی میں نے ریکارڈ کیا جو عالمی جنگی جرائم کی عدالت میں گواہ کے طور پر پیش ہوئی۔ ایک صبح اس کے ساتھ سربیائی درندوں نے جو بربریت کی، وہ دنیا کی تاریک کہانی ہے۔ لیکن بوسنیا میں ایسی ہزاروں کہانیاں تھیں جن میں سے متعدد کو مجھے اپنے مطالعے میں لانا تھا۔ جنت نظیر بلقان کی جہنم زدہ داستانیں۔ بلقان کے ایسے خوب صورت ملک کو دل پر پتھر رکھ کر دیکھا۔ مجھے اس حوالے سے کئی کتابوں کا مطالعہ بھی کرنا پڑا جو میری استاد پائولا گرین نے مجھے پڑھنے کے لیے دی تھیں کہ یہ میری تعلیم کا لازمی حصہ تھا۔ اُن میں ایک کتابLove Thy Neighbor: A Story of War بھی تھی۔ میرے کورس کی یہ کتاب اب میری پسندیدہ کتاب ہے کہ اس میں مصنف Peter Maass نے اپنی آنکھوں سے انسانوں کو درندہ بنتے دیکھا، جنت کو جہنم میں ڈھلتے دیکھا۔ اس کتاب میں مجھے مزید امن کے قریب کردیا اور یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ راتوں رات انسان سے درندہ بننے کا عمل آج کی دنیا میں بھی ممکن ہے۔ اپنے بلقانی مطالعے کی اس اہم کتاب کا اردو ترجمہ ’’بوسنیا، نسل کشی کی رُوداد، خونی ہمسائے‘‘ کروا کرمیں نے جُمہوری پبلیکیشنزسے شائع کروایا (04236314140/03334463121)۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}