آپ کی جمہوریت آپ کو مبارک — رانا عبدالکفیل

آپ کی جمہوریت آپ کو مبارک ،آپ کا بجٹ آپ کو مبارک، آپ کی ترقیاں آپ کو مبارک
صرف یہ سمجھا دیں کہ ایک مزدور پورا دن جسمانی مشقت کرنے کے بعد ماہانہ پندرہ ہزار میں کیسے گزارہ کر سکتا ھے؟  
جب کہ سرکار کی طرف سے عطاء کردہ تعلیم،علاج اورانصاف کے اداروں کی کارکردگی کسی بھی جماعت کے حامی باعقل و باشعور انسان سے پوشیدہ نہیں، بشرطیکہ وہ جماعت کا اندھا مقلد نہ ہو بلکہ قومی سوچ کا حامل ہو
اس کے برعکس انہی غریب غرباء اور مزدوروں کے نمائندے مفت سرکاری پیکجز کے علاوہ لاکھوں روپے ماہانہ وصول کرنے کے بعد بھی تنخواہوں کی کمی کا رونا رو رہے ہوتے ہیں۔۔
دانشور لوگ کہتے ہیں کہ جمہوری ملک ھے عوام کو اپنا نمائندہ چننے کا حق حاصل ھے عوام خود ایسے نمائندوں کو بذریعہ ووٹ قانون سازی کا حق دیتے ہیں۔۔۔
شاید یہ دانشور لوگ ووٹ دہندہ کی تعریف سے یا تو نابلد ھیں یا پھر تجاہل عارفانہ سے کام لے رہے ہیں کیونکہ ووٹ دینے کا اہل تو وہ شخص ہوتا ھے جو (1) کم از کم معاشی طور پر آزاد ہو تاکہ معاشی تنگ دستی اس کی آزادئ رائے کے اظہار میں رکاوٹ نہ بنے( 2) وہ شخص معقول تعلیم بھی حاصل کرچکا ہو تاکہ وہ خود تجزیہ کر کے اپنا نمائندہ منتخب کر سکے۔۔
ایسے ملک میں جہاں غربت کی شرح 40% سے اوپر ہو اور ناخواندگی کی شرح بھی قریبا قریبا یہی ہو تو وہاں آپ جمہوری، شہنشاہی یا فوجی خواہ کوئ بھی سیاسی نظام مسلط کردیں عوام کو کیا فرق پڑنا ھے جب کہ معاشی معاہدات بدستور سرمایہ دار اور جاگیردار کو مکمل تحفظ دے رہے ہوں۔۔۔۔
اس ساری تقریر کا مقصد یہ بتانا ھے کہ ملک و قوم کا مسئلہ جمہوری یا فوجی نظام نہیں بلکہ غلط معاہدات پر مبنی معاشی نظام ھے جس کا تحفظ ایک دور میں مطلق آمریت کے ذریعے کیا گیا اور اگلے دور میں اسے جمہوری  چادر اوڑھا دی گئی، بہردو صورت عوام کا استحصال چند بڑے خاندانوں نے ہی کیا اور یہی وہ خاندان ہیں جو اس ملک کا کرتا دھرتا ھیں، یہی وہ خاندان ہیں جو قوم کے معاشی وسائل پر سانپ بن کر بیٹھے ہیں، یہی وہ طبقہ ھے جو ملک کا 2% ہونے کے باوجود خود کو عوام کا نمائندہ بنا کر اسمبلیوں پر قابض ھے اب ہم نوجوانوں کو دیکھنا ھے کہ ہم کسی بھی سیاسی جماعت کے نظریے کی حمایت کس بنیاد پر کرتے ہیں
آیا ہم اپنے اندر قومی خدمت کا جذبہ لے کر قوم دشمن قوتوں کو شکست دیتے ہیں یا پھر ہم بھی پچھلی نسل کی طرح اسی استحصال پر مبنی معاشی اورخاندانی سیاسی نظام کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہیں۔۔۔
ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بأنفسہم

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}