شنگھائی تعاون تنظیم — وقاص خان

عالمی استعمار اپنے جغرافیائی، سیاسی، معاشی، عسکری اور تزویراتی مفادات حاصل کرنے کے لیے ہمہ وقت سرگرم عمل رہتا ہے. ان مفادات کے حصول کے لیے نت نئی ترکیبیں اور  پینترے بدلتا رہتا ہے اور ملکوں کو اپنے زیرِ اثر لا کر ان کے استحصال کا ارتکاب کرتا ہے لیکن جن ممالک کو قومی قیادت میسر آتی ہے جو سامراج سے ہر محاذ پر ٹکر لینے کی صلاحیت رکھتی ہو اور اپنے مفادات کو حاصل کرنے کے لیے وژن رکھتی ہو وہ دنیا کی امامت کرتی ہے. اسی وجہ سے آج دنیا کا روس اور چین کی طرف رجحان ان کا تیسری دنیا کے ملکوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے انھیں معاشی حوالے سے مضبوط بنانا ہے ملٹری ازم جدید کرنا ہے اور انھیں مسائل کے بھنور سے نکالنا ہے.
اس وژن کی تکمیل کے لیے ظاہر ہے سامراج کے متوازی کوئی ڈھانچہ ہونا چاہیۓ جو مذکورہ مقصد پورا کر سکے، یوں ان مقاصد کو پورا کرنے کے لیے عالمی کھلاڑی چین کیطرف سے شنگھائی تعاون تنظیم کا قیام 2001 میں عمل میں لایا گیا اور یہ ایک عالمی فورم کا متبادل ہونے کی نقیب ثابت ہو گی.
واضح رہے کہ کسی بھی عالمی فورم کے مثبت زاویہ نگاہ سے مؤثر اور پائیدار ہونے کا ثبوت اس حقیقت میں پنہاں ہے کہ وہ فورم ہمہ جہت پہلوؤں کا حل ہو اور ملکوں کے درمیان سیاسی، معاشی، سماجی اور سٹریٹجک تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت سے لبریز ہو. اس کے ساتھ ساتھ فورم کو درپیش چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کی بھی توانائی رکھتا ہو ,شنگھائی تعاون تنظیم ان خوبیوں کی حامل ہے. شنگھائی تعاون تنظیم بنیادی طور پر کثیرالمقاصد علاقائی تنظیم کے طور پر تین شعبوں میں کام کرنے کے حوالے سے بنائی گئی جن میں اقتصادی عسکری و سیاسی اور انسانی بنیادوں پر کام کرنا تھا. روس اور چین اہم ترین ارکان ہیں جبکہ سنٹرل ایشیا کی ریاستیں بھی اس کا حصہ ہیں. پاکستان، ہندوستان، اففانستان اور ایران کو بھی باقاعدہ رکنیت ملنے والی ہے. تنظیم  کا عسکری حوالے سے مقصد  NATO کے ایشیا میں ضرر رساں اثرورسوخ کو ختم کرنا ہے جس کی وجہ سے ایشیا کو سیکورٹی چیلنجز کا سامنا ہے اور اقتصادی ترقی کے راستے میں روڑے اٹکاۓ ہوۓ ہے. 
اقتصادی  حوالے سے WTO کے استحصالی کردار کو ختم کرنا ہے جس کا مقصد تیسری دنیا کے ممالک کی معیشت کا بیڑا غرق کرنا ہے اور پسماندہ جمہوریت کی آڑ میں معاشی ڈکٹیٹرشپ کو جلا بخشنی ہے.
  تنظیم آزادانہ تجارت و اقتصادی انضمام کی جانب بتدریج بڑھ رہی ہے جس میں فری ٹریڈ زون بینک اور ترقی کے لیے فنڈز کا قیام، ٹرانسپورٹ کے نظام کی تعمیر اور تعاون کو مظبوط بنانے کے لیے ایشیائی انفراسٹرکچر، سرمایہ کاری، بینک سلک روٹ، فنڈ سلک روٹ، اقتصادی راہداری منصوبوں پر کام شروع کر دیا ہے. ایران کی شمولیت سے دنیا کے تیل کا پانچواں حصہ کنٹرول اور عالمی آبادی کے نصف کی نمائندگی کرے گی اور عالمی معاشی افق پر جگمگاتا ستارہ بن کر ابھرے گی. 
تنظیم میں پاک بھارت کی شمولیت سے مستقبل قریب ٹرانس ایشین پولیٹیکل سٹرکچر کو بوجہ تنظیم ایک جامع روپ لے گی جو گروپ کی صلاحیت کو بڑھانے، علاقائی اوربین الاقومی کردار کو محفوظ بنانے کے لیے ایندھن بنے گی. ایک ماہر کے مطابق نئے ارکان  یورہ ایشین ریاستوں کا طاقتور الحاق اور جوہری طاقتوں کی پوزیشن میں آ گئے ہیں جس کی وجہ سے گروپ یورو ایشین علاقے میں کرۂ ارض کی43 فیصد اور عالمی جی ڈی پی کے 50 فیصد حصے کا احاطہ کرے گی اوروسیع علاقے کی کوریج کرے گی اور قطبی دنیا کے متبادل اپنا وجود منواۓ گی.
مزید رکن ممالک کے درمیان تصفیہ طلب امور ( outstanding issues) کو حل کیا جائیگا جس سے باہمی روابط ایک نئی نہج پر استوار ہوں گے اور انشااللہ مستقبل قریب میں پاکستان اور ہندوستان کا مسئلۂ کشمیر بھی حل ہو جاۓ گا جس کی وجہ سے خطہ عدم استحکام کا شکاراور امن و امان کی صورتحال خراب ہے. 
اب تنظیم کو بیک وقت مختلف محاذوں پر چیلنجز سے دو دو ہاتھ کرنے ہیں جس کے لیے فعال کردار ادا کرنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے ۔
 
 
 
 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}