سرزمینِ عرب میں رقصِ حرب — فرخ سہیل گوئندی

9ستمبر 2001ء کو افغانستان میں افغان گوریلا احمد شاہ مسعود کی خبر سنی تو زبان سے بے اختیار یہ الفاظ نکلے، کسی بڑی بربادی کا آغاز ہونے والا ہے فوراً منوبھائی کو اپنے اندیشے سے آگاہ کیا۔ دو ہی روز بعد 9/11 ہوا اور پھر جو ہوا وہ دہائیوں نہیں بھلایا جا سکتا۔ دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت امریکہ نے دنیا کی سب سے کمزور ریاست افغانستان کو تو روند ہی ڈالا، اس کے نقاب میں دنیا کا امن بھی ملیامیٹ کردیا۔ ایک ایسی جنگ تیار کی گئی ہے، جس کا کوئی سِرا نہیں، کوئی سر پیر نہیں۔ ’’دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ‘‘۔ جب چاہو، جہاں چاہو، اس جنگ کو مسلط کرلو، یورپ، ایشیا، یوروایشیا، افریقہ، ہاں البتہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ ہی اس جنگ کے خطرات سے محفوظ ہیں، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اس جنگ کا سرخیل ہے۔ ایشیا، یورپ اور افریقی دنیا سے ہزاروں میل دور۔ احمد شاہ مسعود کے قتل پر میرے منہ سے اس لیے بے اختیار یہ جملہ نکلا کہ وہ نام نہاد افغان جہاد میں کابل میں قائم اشتراکی حکومت کے خلاف دیگر چھے جہادی تنظیموں کی طرح برسرپیکار تو تھا ہی، لیکن اس کی دو اہم خصوصیات تھیں، ایک یہ کہ وہ امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک کا پراکسی نہیں تھا، اس کی سرپرستی فرانس کرتا تھا۔ فرانس کے افغانستان میں اپنے مفادات تھے جو بیلجئم اور فرانس کے جواہرات سے منسلک ہیروں کے عالمی تاجروں سے جڑے تھے اور احمد شاہ مسعود اُن علاقوں میں جہادی طور پر مضبوط تھا، جہاں قیمتی جواہرات کی کانیں تھیں جیسے گُلبدین حکمت یار اُن افغان علاقوں پر عسکری اثرورسوخ رکھتا تھا جہاں پوست کی کاشت اور ہیروئن تیار ہوتی تھی۔ گُلبدین حکمت یار اس جہاد میں امریکہ کا پسندیدہ ترین اور صفِ اوّل کا جہادی رہبر تھا۔ احمد شاہ مسعود کی دوسری خصوصیت یہ تھی کہ وہ پشتون علاقوں کی بجائے افغانستان کے شمالی تاجک علاقوں سے تعلق رکھتا تھا اور یوں وہ افغانستان کے اندر ایک مکمل علیحدہ شناخت کا مالک تھا۔ نہایت پڑھا لکھا اور گوریلا جنگ کا سب سے ماہر کمانڈر اور اس کی فوج (شمالی اتحاد) ایک مضبوط اور جنگی صلاحیتوں کی مالک فوج تھی۔ جب وہ قتل ہوا تو کابل میں طالبان کی حکومت تھی۔ احمد شاہ مسعود کا قتل اس تناظر میں کسی بڑی تباہی کا کیوںکر پیش خیمہ ثابت ہوا؟ احمد شاہ مسعود کے قتل کے بعد افغانستان ایک باصلاحیت سیاسی رہبر اور گوریلا لیڈر سے محروم ہوگیا اور اپنے پیچھے ایک اہل ترین عسکری گروہ (شمالی اتحاد) چھوڑ گیا۔ 9/11 کے بعد جب افغانستان پر امریکہ نے فضائی یلغار کی تو زمین پر اپنے لیڈر سے محروم کیے گئے شمالی اتحاد نے کابل میں طالبان حکومت کے خلاف عالمی اتحادی بن کر چڑھائی کردی۔ اور یوں امریکہ نے شمالی اتحاد، طالبان تضادات کو اپنی طاقت میں بدل دیا۔ 

دیوارِ برلن گرنے کے بعد امریکہ اور اُس کے سرمایہ دار اتحادی ممالک نے دنیا کو یہ مژدہ سنایا، ’’سرد جنگ ختم، اب دنیا امن کا گہوارہ۔‘‘ ذرا تفصیل دیکھیں، دیوارِبرلن گرنے کے بعد دنیا میں جنگوں کے لیے کتنی دیواریں کھڑی کی گئی ہیں۔ اب تو ترکی جیسا ملک بھی اپنی سرحدوں پر دیوا کھڑی کرنے جا رہا ہے کہ اتاترک کے اصول کے مطابق ’’گھر میں امن، دنیا میں امن‘‘، اب خود جنگوں میں گھِر اور داخل ہوچکا ہے۔ اور چند دن پیشتر نئے امریکی صدر ٹرمپ نے حجازِمقدس میں اپنے دوستوں کے ہمراہ تلواریں اٹھائے جو جنگ کا رقص کیا ہے، وہ دنیا کو کس طرف لے جائے گا؟ کیا یہ ’’رقصِ جنگ‘‘ اتفاقاً ہوا ہے؟ جو تاریخ سے لاعلم ہیں، اُن کے لیے یہ اتفاقاً ہی ہے۔ حجازِ مقدس، جس پر دنیا بھر کے مسلمان قربان ہونے کو تیار رہتے ہیں کہ اس سرزمین پر رحمت للعالمین نبی آخرالزماں ﷺ کے قدموں کے نشانات ہیں، وہ ہستی کہ جو دنیا میں رحمت اور امن کی علامت ہے، اس سرزمین پر ٹرمپ کا تلواریں لہرانا، کس کے خلاف؟ یقینا مشرقِ وسطیٰ میں بسنے والے مختلف عقیدوں کے مسلمانوں کے خلاف تفریق کرنے پر ’’رقصِ شمشیر‘‘۔ ذرا ٹرمپ کی تقریر پڑھ لیں تو معلوم ہوجائے گا۔ امریکی سامراج مشرقِ وسطیٰ میں کس جنگی تھیٹر کو سجانے جا رہا ہے۔ لگتا ہے تاریخ رک گئی ہے۔ پچھلی صدی کا آغاز ایسے ہی ہوا جب سلطنت عثمانیہ کو ریزہ ریزہ کیا گیا اور اُن تضادات کو اپنی طاقت بنایا گیا جو مشرقِ وسطیٰ میں سرد پڑے تھے، اُن کو گرمایا گیا، بس اس میں ایک اہم حصہ پورا نہ ہوسکا، وہ یہ تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کے اندر دو بڑی تہذیبیں، عرب اور فارسی رہتے ہیں، جبکہ یہاں آبسنے والے وسطی ایشیائی ترک، جنہوں نے سلجوق دور سے عثمانی دور تک یہاں اپنا راج اور نظام قائم کرلیا ، نہ صرف ان کی سلطنت ختم کردی جائے بلکہ اُن کو مشرقِ وسطیٰ سے جسمانی طور پر ختم کردیا جائے اور کسی سطح پر بھی کوئی ترک ریاست، قوم ، اس خطے میں اس کی شناخت برقرار نہ رہے۔ بچا کھچا ترکی، یونانیوں، آرمینیوں، روسیوں اور دیگر قوموں کے زیر کردیا جائے اور بچے کھچے ترکوں کو وسطی ایشیائی اور کاکیشیائی خطوں میں دھکیل دیا جائے۔ بس یہیں ان مغربی استعماری طاقتوں کو شکست ہوئی، اُن منصوبوں کو شکست جنہیں چرچل نے اپنی سرپرستی میں پلان کیا تھا اور ایک مردِحُر مصطفی کمال پاشا اتاترک نے اپنی قوم کو بچا کر ایک نئی ریاست کھڑی کردی اور پھر وہ ریاست ایسی کھڑی ہوئی کہ آج وہ سب کو کھٹکنے لگی ہے۔ اب اس کا بندوبست کیا جانا طے ہے۔ ٹرمپ نے اپنے بڑوں روزویلٹ کی طرح ہی ’’رقصِ شمشیر‘‘ کیا ہے۔ یہ رقص کوئی نیا نہیں۔ وہی شمشیریں، وہی رقص کے Steps اور وہی رقص میں پنہاں خطے میں قتال کے منصوبے۔ یہ ’’موت کا رقص‘‘ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا نیا منصوبہ ہے۔
امریکہ کی سرپرستی میں نام نہاد ’’مسلمان ناٹو‘‘، کیا مذاق ہے یہ!جیسے افغانستان میں جہاد کیا گیا امریکہ کی سرپرستی میں اور مسلمانوں کو ڈرایا اور اکسایا گیا کہ مسلمانو، پاکستانیو، افغانیو، سوویت یونین گوادر کے گرم پانیوں کی طرف بڑھنے آیا ہے۔ ڈٹ جائو اس کے خلاف۔ سوویت یونین کی تحلیل کے بعد سوویت خفیہ ایجنسیوں اور وزارتِ خارجہ کی تمام خفیہ دستاویزات عام کر دی گئیں، کہیں بھی یہ ثبوت نہیں ملا کہ سوویت لیڈرشپ، افغانستان کے راستے گوادر کے گرم پانیوں تک پہنچنے آئی تھی۔ امریکی صدر ٹرمپ اپنی بلقانی دوشیزہ کے ہمراہ جس طرح مشرقِ وسطیٰ میں ’’رقصِ شمشیر‘‘ کرتے ہوئے بولے، وہ اس خطے میں تباہی کا اعلان ہے۔ یہ اعلانِ جنگ کیا، دراصل اعلانِ بربادی ہے۔ اور خطے کے ایک سپہ سالار کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ اس کی قیادت کرے۔ جیسے پچھلی صدی کے آغاز میں برٹش انڈیا سے بھرتی کیے گئے لاکھوں ہندی سپاہیوں نے برطانوی سامراج کے ہراول دستوں کی طرح قیادت کی تھی۔ حتیٰ کہ یروشلم پر قبضے کے وقت بھی ہندی دستوں نے بڑھ کر فلسطینِ مقدس کو روندا، برطانوی بندوقوں کے ساتھ۔
پچھلے ماہ افغانستان میں گرایا جانے والا دنیا کا سب سے بڑا بم اس جنگ کا طبل ہے اور یہ پیغام بھی ہے کہ افغانستان ابھی بھی اور مستقبل میں بھی بڑا میدانِ جنگ ہی رہے گا۔ افسوس، جنوبی ایشیا سے مشرقِ وسطیٰ تک باسفورس کے کناروں تک بستے مسلمانوں کو جذباتیت، فرقہ واریت، اور عقائد کی شناخت کے ساتھ طویل عرصے تک لڑانے کے انتظامات کو اگر کوئی مقدس جنگ قرار دے تواس کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس بار سلطنت عثمانیہ کی کوکھ سے جنم لینے والی جدید ترک ریاست کو اندر اور باہر سے توڑنے کے بھی مکمل انتظامات کیے گئے ہیں۔ مسلمانوں کو جذبات میں الجھا دو، کتنا آسان ہے سامراج کا یہ ہتھیار۔ اپنے محدود علم، مطالعے اور مشاہدے کی بنیاد پر میں آج بھی اس امید سے زندہ ہون کہ اس جذباتہت، فرقہ واریت، جنگی جنون اور سامراجیت کے خلاف بحیرۂ روم سے باسفورس اور بحیرۂ اسود کے بیچ رہنے والے اتاترک کے بیٹے بیٹیاں امید کی سب سے بڑی کرن ہیں۔ پہلے وہ اپنے اندر کی تقسیم کو شکست دیں گے اور ایک بار پھر یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے مابین دروازے جمہوریہ ترکیہ کو امن اور ترقی کا گہوارہ بنائے رکھنے میں کامیاب ہوں گے۔ خطے کی دوسری مسلمان اقوام کے لیے ایک مثال۔ ایک بار پھر جیسے انہوں نے پچھلی صدی کے آغاز میں عظیم ترک سپوت جسے وہ اپنا باپ قرار دیتے ہیں، مصطفی کمال پاشا کی قیادت میں اپنے آپ کو مضبوط، خوش حال، روشن خیال اور جنگوں کی بجائے امن سے طاقتور کرکے استعماری اور جذباتی مغالطوں کو شکست دی۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}