پاکستان کی حفاظت کرو!  — ڈاکٹر ممتاز خان

اس مضمون کی ضرورت اس لیے محسوس ہو رہی ہے کہ جنوبی ایشیاء، خاص طور پہ موجودہ بھارت اور پاکستان میں بہت بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ لامحالہ طور پہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ خطہ جس کے اندر ہم رہتے ہیں، جس کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اگر اس کے بنگال میں کوئی غاصب قوم آ جائے تو اس کے پنجاب تک پہنچنے میں دیر نہیں لگتی، کس رخ پہ جا رہا ہے۔ خطہ کی بدلتی سیاست سے ہم لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے خطہ کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ 

خطہ کو سمجھنے کے لیے بھارت کے اندر آنے والی سیاسی تبدیلیوں کو سمجھنا ہوگا۔ بجا طور پہ یہ کہنا درست ہوگا کہ بھارت کا ہندو نوجوان بھارتیہ جنتا پارٹی اور مودی کو درست قیادت سجھتا ہے اور نہرو خاندان کی خاندانی اجارہ داری کو اپنے مسائل کی وجہ سمجھتا ہے۔ خاندانی اجارہ داری کو چیلنج کرنا بھارتی نوجوان کے انقلابی ذہن کی دلیل ہے، لیکن نوجوان عام طور پہ سیاسی جماعتوں کی گہرائی کو نہیں جانتا ہوتا اور وہ نعرہ کی کشش سے متاثر ہو کر سیاسی کرداروں کی طرف بھی کھینچا چلا جاتا ہے یا اس کے الٹ ہو سکتا ہے۔ بی- جے-پی کے کیس میں دونوں طرح سے ہوا ہے۔ خاص طور پہ ہندؤ نوجوان بی- جے- پی کے نیشنل ازم کے نعرہ سے متاثر بھی ہوا ہے، اور مودی کی طرف بھی متوجہ ہوا ہے۔ بہرحال بھارت کی ہر ریاست میں ایسا نہیں ہے، لیکن یہ سلسلہ شائد رکنے والا نہیں ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی سے پاکستان کو کیا خطرات ہیں؟ کیا واقعی پاکستان کو خطرات ہیں؟ کیا یہ صرف خارجی ہیں یا داخلی یا بین الاقوامی، ان سب کا جائزہ لینا ہوگا؟ لیکن ان سب پہلے ہمیں بی-جے- پی کی فلاسفی اور طریقہ واردات کو سمجھنا ہوگا۔ اس پارٹی کی فلاسفی تو ایک کتاب کا مطالبہ کرتی ہے، جو کہ ناممکن ہے، لیکن خلاصہ درج ذیل ہے:

۱۔ یہ جماعت مذہب کا سیاسی استعمال کرنے کو جائز سمجھتی ہے لیکن عوامی طور پہ انکار کرتی ہے۔

۲۔ شدت پسند اور تنگ نظر گروہوں کو مہرہ بنا کر سیاست میں کامیابی سمیٹتی ہے۔

۳۔ ایک مخصوص زبان کو سب پہ غالب کرنا چاہتی ہے۔

۴۔ مخصوص روایات کو سب ثقافتوں اور مذاہب پہ غالب کرنا چاہتی ہے۔

۵۔ سرمایہ داروں سے تعاون لیتی ہے اور ان کو ریاست کے وسائل دینا جائز، اور عین اخلاق سمجھتی ہے۔

۶۔ روس و چین سے انڈیا کو دور کرکے، مغربی ممالک خاص طور پہ سامراجی نظریات کے حامل مغربی ممالک سے تعاون کرتی ہے۔

۷۔ خطہ کے اندر اپنی اجارہ داری قائم کرکے باقی اقوام کو اپنا سیاسی پٹھو بنا کے رکھنا چاہتی ہے۔(انسانی مساوات کے نظریے پہ یقین نہیں رکھتی ہے۔)

۸۔ اقتدار حاصل کرنے کے صحیح اور غلط راستے کی تمیز نہیں کرتی ہے۔

۹۔خطے کی تاریخ کی تشریع کا ایک تنگ نظریہ رکھتی ہے، جو کہ حقائق کے بھی برعکس ہے اور خطے کی خوشحالی اور بھائی چارہ کو بھی ختم کرے گا۔

۱۰۔ پاکستان کو چار ٹکروں میں تقسیم کرنے کی فلاسفی رکھتی ہے اور مہا بھارت کی تکمیل کے لیے سندھ اور پنجاب کو اپنے ساتھ ملانے کا پلان رکھتی ہے۔ خیبر- پی- کے اوربلوچستان کو اپنی بچہ ریاست بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

۱۱۔ اسلام اور ہندؤ مذاہب کی غلط تشریع کرتی ہے۔

۱۲۔ اپنے نظریات پہ عمل درآمد مرحلہ وار بنیادوں پہ کرتی ہے

یہ سارے نظریات رکھنے کے باوجود یہ پارٹی ہندؤستان میں نہ صرف مقبول ہے بلکہ ابھی تک اس کا توڑ بھارت کے اندر کسی اور جماعت کے پاس نہیں ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ لوگ اس کو سپورٹ کرتے ہیں، اس کی ایک ہی وجہ ہے، وہ ہے معاش۔ لوگ اس کے معاشی وعدوں اور ترقی کے نعروں سے پرامید ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں مودی ہمیں معاشی خوشحالی کی طرف لے جائے گا، ہمارہ چولہا جلے گا اور انڈیا ٹوکیو بن جائے گا۔ لیکن بھارتی نوجوانوں کی یہ امید کب ٹوٹے گی، وہ وقت ہی بتائے گا۔ لیکن اس پارٹی کے باقی ایجنڈے سے ہندوستان کے بھائی چارہ پہ کیا فرق پڑے گا، پاکستان کی سلامتی کو کیا چیلنجز درپیش آئیں گے، اور ایشیأ کس قدر کمزور ہوگا، یہ وقت ہی طے کرے گا۔ لیکن پاکستان کے پالیسی میکرز کو اپنی داخلی سلامتی پہ ضرور فکر کرنا چاہے اور قومی سلامتی پہ سستی و خوف کے جذبات کو غالب نہیں آنے دینا چاہے۔

 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}