تقسیمِ انسانیت ایک فرعونی حربہ — اصغر سورانی 

انسانیت ایک ناقابلِ تقسیم اکائی ہے. اس کو تقسیم کرنا ظلمِ عظیم ہے کیونکہ تقسیم کے عمل سے انسانیت  کا  وجود  (وحدتِ انسانیت)مختلف حصوں میں بٹ جاتا ہے اوراس کی وحدت پارہ پارہ ہو جاتی ہے. گویا تقسیم، شرک کا دوسرا نام ہے۔ اس کے برعکس وحدت اِس وجود کے  مختلف بکھرے ہوئے اجزاء/حصوں  کو ایک وجود میں پروتا ہے اور اس کو بکھرنے نہیں دیتا۔ دنیا میں طاغوتی قوتیں  ہمیشہ تقسیم کے فلسفے پر عمل کرتی ہیں انہوں نے ہمیشہ انسانیت کو تقسیم کیا ہے اور ان پر ظلم و جبر کی حکومتیں کی ہیں۔ 
تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ طاغوتی قوتیں کسی قوم  کی اجتماعی طاقت کو زائل کرنے کے لیے ان کو مختلف گروہوں میں تقسیم کرتی ہیں اور پھر ان کو آپس کی لڑائی جھگڑوں میں مصروف کرکے ان پر حکمرانی کرتی ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم  میں اللہ تعالیٰ تقسیم پر مبنی سوسائٹی کے حوالے سے فرعون کی مثال دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ: اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِى الْاَرْضِ وَجَعَلَ اَهْلَهَا شِيَعًا يَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ (سورۃ القصص ایت نمبر 4)
ترجمہ: بے شک فرعون زمین پر سرکش ہو گیا تھا اور وہاں کے لوگوں کے کئی گروہ کر دیے تھے ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کر رکھا تھا ۔
یعنی فرعونی  نظام  کو سوسائٹی میں لاگو کرنے کا طریقہ کار یہ تھا کہ پہلے لوگوں کو مختلف گروہ  میں تقسیم کردو  پھر اس پر اپنی مرضی کے مطابق حکومت کرو۔اس کی یہ طرزِ حکومت  قرآن کے نزدیک فساد کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھی ۔ انہوں نے اپنی قوم  کو مختلف گروہوں میں تقسیم کیا تھا ، اس سوسائٹی کا ایک بڑا حصہ کمزور اور مظلوم  لوگوں کا تھا۔    
پس ثابت ہوا کہ جو بھی انسانیت کو تقسیم کرتاہے وہ فرعونی حربوں پر گامزن ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ  بیسویں صدی عیسوی میں  برطانیہ اور امریکی سامراج نے بھی انہی حربوں پرعمل کیا اورپوری دنیا میں انسانیت کو مختلف شکلوں میں تقسیم کیا اور آج اکیسویں صدی میں بھی  تقسیم کرو اور حکومت کرو کے اصول پر عمل پیرا ہے۔ زیرِ نظر کالم میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ فرعونی قوتیں ہر دور میں اِسی حربے پر عمل کرتی ہیں۔
جنگ عظیم اول کے خاتمے(1918)پر سامراج نے  سلطنتِ عثمانیہ میں تقسیم کا عمل شروع کر دیا ۔ اورمختلف معاہدات کے تحت عظیم سلطنت کو اپنی مرضی سے تقسم کر دیا۔ برطانیہ نے مشرقِ وسطٰی کی تقسیم کے لیے انتہائی چالاکی و عیاری کے ساتھ  پہلے سے 16 مئی 1916 میں فرانس کے ساتھ سائیکوس-پیکوٹ نامی خفیہ معاہدہ کیا تھا جس میں یہ طے کر دیا تھا کہ اردن، عراق اور حیفہ کے گرد مختصر علاقہ برطانیہ کو دیا  جائے گا اور  فرانس کو جنوب مشرقی ترکی، شمالی عراق، شام اور لبنان کے علاقے دیئے  جائے گے ، اور اسی طرح ہی ہوا ۔ بعد ازاں اس معاہدے میں اٹلی اور روس کو بھی شامل کر لیا گیا۔ روس کو آرمینیا اور کردستان کے علاقے دیئے گئے جبکہ اٹلی کو جزائر ایجیئن اور جنوب مغربی اناطولیہ میں ازمیر کے اردگرد کے علاقوں سے نوازا گیا۔ اناطولیہ میں اطالوی موجودگی اور عرب سرزمین کی تقسیم کا معاملہ بعد ازاں 1920ء میں معاہدہ سیورے میں طے ہوا۔ 20 مئی 1927ء کو معاہدہ جدہ کے مطابق برطانیہ نے تمام مقبوضہ علاقوں جو اس وقت مملکت حجاز و نجد کہلاتے تھے پر عبدالعزیز ابن سعودکی حکومت کو تسلیم کرلیا۔ 1932ء میں برطانیہ کی رضامندی حاصل ہونے پر مملکت حجاز و نجد کا نام تبدیل کر کے مملکت سعودی عرب رکھ دیا گیا۔ اور  تاریخ  میں پہلی دفعہ کسی فرد کے نام پرملک  وجود میں آگیا جو اس وقت سے لیکر اب تک سامراجی اشاروں پر چل رہاہے۔ 
 اسی طرح جنگِ عظیم دوم کے خاتمے(1944)  پربرطانیہ نےجب برصغیر پاک و ہند کو یہاں کے مقامی  لوگوں ( خاص کرانگریز کے آلہ کاروں )کے حوالے کرنے کے بارے میں طے کردیا تو بھی تقسیم کے عمل سے گزر کر اور یوں 1947کو برصغیر پاک وہند کو پاکستان اور انڈیا میں تقسیم کرکے نہ صرف ان کی سیاسی طاقت کو ختم کیا بلکہ ایک دوسرے کے دشمن بھی بنا دئیے۔ اور  پھر 1971میں پاکستان کو بھی بنگلہ دیش اور پاکستان میں تقسیم کر دیا۔ اور ہر تقسیم کے نتیجے میں ہزاروں، لاکھوں لوگ لقمۂ اجل بن گئے۔
اسی طرح  امریکہ نے کوریا کو بھی دو حصوں میں تقسم کرنے کےلیے 26 فروری1948ء کو اقوامِ متحدہ سے ایک قرارداد پاس کرائی،جس کے ذریعے جنوب کے حصے میں 10 مئی 1948ء کو صدارتی الیکشن کروا کے کوریا کی تقسیم کو ایک قانونی شکل دے دی گئی. بعد میں  شمال کے حصے  کو محسوس ہوگیا کہ اب چونکہ یہ تقسیم واپس نہیں ہو سکتی، تو شمالی حصے نے بھی 9ستمبر 1948ء کو شمالی کوریا کی الگ حکومت کا اعلان کردیا گیا۔ اور ابھی تک جنوبی کوریا اور شمالی کوریا ایک دوسرے کو دشمن  کی نظر وں سے دیکھتے ہیں۔
 لیبا پر امریکی تسلط کے بعد انہوں نے وہاں پربھی نفرتوں کا بازار گرم  کر رکھا ہے چنانچہ ایک  برطانوی اخبار’گارجین‘ نے انکشاف کیا ہے کہ ایک امریکی عہدیدار نے لیبیا کو تین حصوں (مغربی، مشرقی، اور جنوبی)میں تقسیم کرنے کی تجویز پیش کی ہے. ان کی تجویز کے مطابق مغربی لیبیا کا مرکز طرابلس، مشرقی حصے کا برقہ اور فزان شہر کو جنوبی لیبیا کا مرکزی علاقہ قرار دیا گیا ہے۔
یمن پر حالیہ سعودی یلغار اور سامراجی کوششوں کے نتیجے میں یمن کے بارے میں بھی  تقسیم کی باتیں ہو رہی ہیں جو کہ جنوبی یمن اور شمالی یمن ذکر کئے جاتے ہیں۔ زمین پر جہاں بھی تقسیم  کا عمل شروع ہے اس کے پیچھے سامراج کا ہاتھ  ہے۔
اس کے برعکس حضرات انبیاء کرام نے ہمیشہ وحدت کے فلسفے پرعمل کیا اور انسانیت کو ظلم و جبر سے نکالنے کے لیے ان کو متحد کر دیا۔
  قرانِ کریم میں اللہ تعالیٰ شرک اور تقسیم کی نفی کرتا ۔ ارشاد ربانی ہے:
وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴿٣١﴾ مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا ۖكُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ ﴿٣٢﴾ سورة الروم
اور ان مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ۔ (31)جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود گروہ گروہ ہو گئے۔ (پھر) ہر گروہ اس پر خوش ہے جو کچھ اس کے پاس ہے ۔ سورة الروم ۔(32)  
دوسری  جگہ  اللہ تعالی ٰ کا ارشاد ہے   وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللہِ جَمِیْعاً وَلاَ تَفَرَّقُوْا۔ ترجمہ: اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں مت پڑو۔
چنانچہ  بعثتِ نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے دنیا ظلمت کے سمندر میں غرق تھی، چھٹی صدی عیسوی تاریخ کا تاریک ترین دور تھا جس میں انسانیت دم توڑچکی تھی۔ انسان اپنی ہی خود ساختہ غلط بنیادوں پر بے شمار ٹولیوں میں بٹا ہوا تھا، اور ہر ایک گروہ نے الگ الگ اپنا خدا گھڑ رکھا تھا۔ ان حالات میں حضرت محمد ﷺ نے   عرب اور غیر عرب ، سب کو متحد کرکے انسانیت کو واپس ایک اکائی میں ضم کر دیا۔
 لیکن آج  ایک مرتبہ پھر انسانیت تقسیم کے مراحل سے گزر رہی ہے خاص کر مسلمان ممالک  ، سامراج کے اس جال میں بری طرح پھنس چکے ہیں. ایک مسلم ملک دوسرے مسلم ملک کو تباہ اور تقسیم کرنے کے لیے اسلحہ کے ڈھیر لگا رہے  ہیں،  کہیں لسانی، تو کہیں مذہبی، کہیں جغرافیائی، تو کہیں نسلی بنیادوں پر تقسیم کی باتیں ہو رہی ہیں۔ آخر میں صرف اتنا کہوں گا کہ خدارا !  انسانیت کو رنگ، نسل اورمذہب یا ذات پات کے لحاظ سے تقسیم نہ کرو، مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ سامراج کی چالوں کو سمجھیں اورانسانیت کو تقسیم ہونے سے بچائیں۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}