ہم کیسے بھول جاتے ہیں؟ — تحریر: صاحبزادہ محمد امانت رسول

کسی شاعر نے کہا تھا

یادِ ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
بھول جانا نعمت تو ہے ……لیکن یہ تکلیف دہ بھی بہت ہے ۔ انسان غیر ضروری باتوں کو بھول جانا اورضروری باتیں یاد رکھنا چاہتا ہے لیکن اگر غیر ضروری چیزیں خومخواہ ذہن پہ مسلط رہیں اور ضروری چیزیں زبردستی بھول جائیں تو یہ اذیت ناک صورت حال ہوتی ہے ۔ ہم یہ سمجھتے ہیں بھولنے کی بنیادی وجہ بوڑھاپا ہوتا ہے۔ حالانکہ نسیان بچپن سے ہمارے ساتھ رہتا ہے۔ میرے خیال کے مطابق ، اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ بچوںمیں بھول جانے کی ایک بڑی وجہ ان کی عدم دلچسپی ہوتی ہے جس کام میں ان کی دلچسپی ہوتی ہے وہ کام انہیں ہمیشہ یاد رہتا ہے اور جس کام میں دلچسپی نہیں وہ کام بھول جاتے ہیںیا بھلا دیئے جاتے ہیں۔نوجوانی اور جوانی میں بھول جانے کی ایک وجہ مصروفیت بھی ہوتی ہے ۔ اس عمر میں آگے بڑھنے کاجذبہ ،شوق اور ولولہ بہت سے کاموں کو بھلا دینے کا سبب بنتا ہے۔ اپنے خوابوں کی چوٹی سر کرنے کا ارادہ انسان کو نسیان میں مبتلا کر دیتا ہے۔
جب انسان پہ ذمہ داریوں کو بوجھ آتاہے تو وہ بہت کچھ بھولنے لگتاہے۔ ذمہ داریاں اسے ’’کولہو کا بیل‘‘ بنا کر رکھ دیتی ہیں۔ جن سے اِدھر اُدھر دیکھنا اور سوچنا ناممکن ہو جاتا ہے ۔ وہ اسی فکر و خیال میں رہتا ہے کہ مجھ سے میری ذمہ داریاں صحیح طریقے سے اداہوتی رہیں۔ ذمہ داریوں کا بھوت اس کے سر پہ سوار رہتا ہے جس سے وہ نسیان کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد ادھیڑ عمری ہے جس میں انسان ویسے ہی جسمانی اور ذہنی حوالے سے ضعیف ہو جاتا ہے ۔ اس عمر میں حافظے کی کمزوری یقینی ہوتی ہے۔ ہر انسان تقریباً اس عمر میں پہنچ کر ضعف حافظہ کا شکار ہو جاتا ہے ۔ ایک وجہ بہت ہی اہم اور عام ہے جس میں کسی عمر کی قید نہیں ہے او ر وہ جدید ٹیکنالوجی ہے ۔ جدید ٹیکنالوجی نے ہمیں اپنے حافظے کے بجائے’’گوگل‘‘ کا محتاج کر دیا ہے ،ہمیں کچھ بھی پوچھنا ہو ہم گوگل پہ لکھتے یا بولتے ہیں گوگل ہمیں اس بارے میں بتا دیتی ہے۔ بچوں سے لیکر بوڑھوں تک ، تمام لوگ دین، دنیا، سیاست، معاشرت اور معیشت ہر بارے میں علم ومعلوم کے لئے نیٹ کے محتاج ہوگئے ہیں۔ ایک زمانہ تھا لوگ اپنے حافظے اور یاد سے کام لیتے تھے۔ اب اس حوالے سے لوگ بے پرواہ ہو گئے ہیں ۔
میں اِن وسائل کو بیساکھیاں کہتا ہوں جنہوں نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے لیکن ہم سے ہم کوچھین لیا ہے۔ ہم سے ریسرچ لے لی اور سرچ دے دی،ہم سے علم لے لیا اور معلومات کا سمندر تھما دیا۔ ہم سے گہرائی و گیرائی لے کر سطحی سوچ دے دی ،ہم سے گہر چھین لیا اور صدف دے دی۔ہمیں تعداد(Quantity)دے دی اور مقدار (Quality)لے لی۔ ہمیں جہان دے دیا، لیکن قربتیں چھین لیں۔ہم معلومات کے سمندر میں ڈوب رہے ہیں لیکن حقیقت و ادراک کا کنارہ نہیںمل رہا۔انسان کا اپنی ذات پہ اعتماد اوربھروسہ بہت بڑی دولت ہے جس سے انسانی ذات کی پرورش ہوتی ہے ،وہ تشکیلی دور سے اتمامی دور کی طرف بڑھتا ہے۔آج یہ سب کچھ کھوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
حضرت امام رازی سے متعلق یہ حکایت بیان کی جاتی ہے انہوں نے جو سنا سمجھا او ربولا اسے لکھ کر محفوظ کر لیا۔ ایک بار راستے میں ڈاکوئوں نے حملہ کیا او ر وہ سب کچھ چھین لیا۔ امام رازی نے ان سے درخواست کی کہ میرے نوٹس اور کتابیں واپس کردو۔ ان کے بغیر میں کچھ نہیں ہوں۔ انہوں نے کتابیں دے دیں لیکن امام رازی نے ان کتابوں کو جلا دیا اور کہا اگر یہ کتابیں کھو جائیں، جل جائیں یا کوئی چھین لے تو میں کیا کروں گا آج سے میں صرف اپنے حافظے پہ بھروسہ کروں گا۔
ایک ایسا عہد بھی ہے جو انسان نے اپنی تخلیق سے پہلے اپنے خالق سے کیا تھا اکثر اوقات انسان اپنے اس عہد کو بھول جاتا ہے۔ قرآن مجید وہ عہد انسان کو بار بار یاد کرواتا ہے۔
’’اور جب تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کو گواہ ٹھہرایا خود ان کے اوپر ،کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں انہوں نے کہا ہاں، ہم اقرار کرتے ہیں ۔یہ اس لئے ہوا کہ کہیں تم قیامت کے دن کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر نہ تھی‘‘۔ (7/172)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ طہٰ میں فرمایا ہے’’ وہ کہے گا اے میرے رب تو نے مجھے کو اندھا کیوں اٹھایا میں تو آنکھوں والا تھا ،اللہ تعالی فرمائے گا اسی طرح تمہارے پاس ہماری نشانیاں آئیں تو تم نے انکو بھلا دیا تو اسی طرح آج تجھے بھلا دیا گیا ہے‘‘۔(20/125-126 )
قوموں کونسیانِ خدا کی سزا نسیان خودی کی شکل میں ملتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتاہے ’’اور تم ان لوگوں کی طرح نہ بن جائوجو اللہ کو بھول گئے ،اللہ تعالیٰ نے انہیں نسیانِ خودی میں مبتلا کر دیا’’(59/19)
یہ سب سے بُرا نسیان ہے جس کی سزا بھی اتنی ہی بڑی ہے۔دنیا کے معاملات میں بھول قابلِ معافی ہے لیکن فطرت و جبلت کے تقاضوں ،یعنی خدا اور اس کے پیغام کو بھول جانا قابلِ سزا جرم ہے۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}