ہمیں سکون کیوں نہیں ملتا ؟ — کاشف شہزاد

شکر گزاری اور برداشت دوایسی چیزیں ہیں جو ہمیں معاشرے میں بہت ہی کم دیکھنے کو ملتی ہیں ۔ جس ماحول میں ہم پروان چڑھتے ہیں اس میں تو یہ موجود ہی نہیں ہوتیں ۔ چونکہ ہم نے بچپن سے انہیں محسوس ہی نہیں کیا ہوتا اس لئے ہمیں ان کی کمی بھی محسوس نہیں ہوتی ۔ ہم غیر ارادی طور پر نا شکری اور عدم برداشت کواپنی فطرت سمجھ بیٹھتے ہیں بلکہ معاشرے کا لازمی جزو گردانتے ہیں ۔ گلہ اور شکوہ کرنا ہماری فطرت کی حد تک عادت بن جاتی ہے ۔ ہماری یہ سوچ ہے کے گلہ تو اپنوں کے ساتھ ہی ہوتا ہے نا ۔ میں کسی کو اس کا قصور وار نہیں ٹھہرا رہا بلکہ یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ یہ وہ چیزیں ہیں جو ہمارے ساتھ جوان ہوتی ہیں اور ہمارے مزاج کا حصہ بن جاتی ہیں ۔

ہم اگر کوئی اچھی یا مثبت چیز /بندہ دیکھیں بھی تو بلا جھجھک اس کا انکار کر دیتے ہیں اور زندگی میں کئی مواقع اسی طرح گنوا دیتے ہیں کیونکہ  موقع ضروری نہیں کہ مثبت شکل میں آئے یہ اکثر آتا ہے لیکن ہم اپنے اندر اتنے منفی ہوتے ہیں کے کبھی نظر ہی نہیں آتا اور پھر ساری زندگی گلہ کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں تو مواقع نہیں ملے اس لیے ترقی نہیں ہوئی ۔
قرآن پاک میں اللہ تعالی فرماتا ہے اگر تم میر ی نعمتوں کا شکر کرو گے تو میں تمھیں اور دوں گا اور اگر نا شکری کرو گے تو وہ بھی چھن جائیں گی ۔ ہم تو کھلم کھلا اس فرمان کی خلاف ورزی کر رہے ہیں ۔ جو ہمارے پاس ہوتا ہے اس کا شکر ادا نہیں کرتے اور جو نہیں ہوتا اس کی خواھش کو ضد کی حد تک پال لیتے ہیں اور کہتے ہیں سکون نہیں ہے زندگی میں ۔ میرے استاد واصف علی واصف رح فرماتے ہیں اگر تمہاری خواھش تمھارے حاصل سے زیادہ ہے تو سکون نہیں ہو گا ۔ سکون تبھی ملے گا جب آپ کی خواہش اور حاصل برابر ہون گے ہم خواہش کے پیچھے اتنے جنونی ہو گئے ہیں کہ حاصل کا شکر ادا کرنے کی فرصت ہی نہیں ملتی جس کے نتیجے میں ہمارے حاصل میں کمی آنا شروع ہو جاتی ہے اور ہم چونکہ پہلے ہی خواہش کا پیچھا کر رہے ہوتے ہیں جب حاصل میں کمی دیکھتے ہیں تو رب سے شکایات بھی کرنے لگتے ہیں اور رب کی مخلوق کے لیے برداشت بھی ختم ہو جاتی ہے اور یوں یہ دنیا ہمارے لیے کسی گرداب سے کم نہیں ہوتی ۔ برداشت ختم ہونے کی ایک اور وجہ ہے کہ ہمیں ہر بندے کی ذات پہ انگلی اٹھانے کی عادت ہے ۔ ہم میں اگر کوئی اچھی عادت یا بات آ گئی ہے تو ہم چاہتے ہیں کے دوسرے بندے میں بھی یہ ہونی چاہئیے (دوسرے لفظوں میں اسے ظرف بھی کہتے ہیں) ہم یہ نہیں سوچتے کے ہو سکتا ہے اس میں کوئی اور اچھی بات یا عادت ہو جو ہم میں نہیں ہے ۔
صبح اٹھتے ہی اپنی زندگی کا، اپنے گھر والوں کا، اپنے دوستوں کا، کھانے پینے کا، اپنی صحت کا، اپنے کاروبار /نوکری کا، شام کو گھر لوٹنے کا اور اپنے گھر اور گھر والوں کے سلامت اور صحت مند ہونے کا اور رات کو سونے تک اگر ہم صرف ان چیزوں کا ہی شکر ادا کریں تو یہ کیسے ممکن ہے ہمارا رب، جس نے ہمیں پیدا کیا اور ساری نعمتیں دیں، اپنا وعدہ پورا نہ کرے ۔اس کے بعد اگر ہم اس کی مخلوق کو برداشت کرنے کی کوشش کرنے لگ جائیں تو زندگی سکون کا دوسرا نام بن جاتی ہے ۔ اللہ سے دعا ہے کے وہ ہمیں اپنی زندگی کے ہر لمحہ کا شکر ادا کرنے کی توفیق دے اور اپنے بندوں کو (جیسے وہ ہیں) برداشت کرنے کی ہمّت دے ۔ وہ توفیق دے تو سب ممکن ہے اس کا فضل ہو تو کچھ بعید نہیں ۔ 

People Comments (1)

  • Nasir Arshi June 1, 2017 at 2:06 pm

    حساس معاشرتی پہلو پر لکھی گئی ایک بہترین تحریر

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}