قصہِ کرپشن — رضوان غنی

پاکستان حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو ایک خطرناک ملک ہے جہاں کرپشن کے بے تاج بادشاہ دہائیوں سے حکمرانی کر رہے ہیں اور لوٹ کھسوٹ کا ماحول گرم کر رکھا ہے۔ مفاد پرستی اور سرمایہ پرستی کی آڑ میں ملکی معاشی واقتصادی حالت زبوں حالی کا شکار ہے۔اپنی واقفیت کی بنیاد پر قرضے دیے جاتے ہیں جو بیرون ملک سرمایہ کاری میں صَرف کیے جاتے ہیں اور ملکی معاش کو تباہ کیا جاتا ہے بینک کو قرضہ واپس کرنے کی بجائے عوام پر بے جا ٹیکس لگائے جاتے ہیں جس سے تنگ آ کر لوگ جرائم کی طرف راغب ہوتے ہیں۔اور یوں دہشت گردی پروان چڑھتی ہے اور مُلکی بنیادوں کو کھوکھلا کرتی ہے۔
جب بینظیر بھٹو اپنے باپ کی پھانسی کی وجہ سے جرنیلوں سے نفرت کرتی تھی نواز شریف جان چکا تھا کہ اصل طاقت اِنہی کے پاس ہے۔ اس کے باپ نے 1939 میں اپنے 6 بھائیوں کے ساتھ مل کر ایک لوہے کا کارخانہ بنایا 1972 میں بھٹو نے ”اتفاق” کو بند کر دیا 1980 میں جنرل ضیاء کی بغاوت سے اتفاق دوبارہ بحال ہو گئی نواز شریف ڈائریکٹر بن گئے پھر سینئر فوجی افسران سے تعلقات پیدا کر کے پہلے پنجاب کے فنانس منسٹر پھر 1985 میں وزیرِ اعلیٰ بنے۔
80 اور 90 کی دہائی میں پنجاب میں اپنا سیاسی غلبہ حاصل کیا اور بالاخر ملکی وزیراعظم بن گئے۔ پھرایک کارخانے سے یہ کاروبار 30 کارخانوں تک پھیل گیا جن میں سٹیل،چینی،پیپر اور ٹیکسٹائل شامل ہیں جس سے 400ملین ڈالر سرمایہ حاصل ہونے لگا۔
لاہور پنجاب کا دارلحکومت ہے یہ شریف خاندان کا تحت کا کردار ادا کر رہا ہے۔1990 میں وفاقی دارالحکومت تک بہت پرانے خواب موٹر وے کی تعمیر شروع کی اس کا تخمینہ 8.5ارب روپے لگا یہ منصوبہ کوریا کی ڈائیوو کمپنی کو ملاجس کی وجہ آدھی رات کو ہونے والی ملاقاتیں تھیں۔ یہ 20 ارب میں مکمل ہوا۔ نئے ہائی وے کیلیئے نئی کاریں بھی درکار تھیں تو نواز شریف نے 50,000 گاڑیاں ڈیوٹی فری منگوانے کی اجازت دی جس سے پاکستان کو کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 700ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔ بینکوں کو کہا گیا کہ دس فیصد ایڈوانس پر ٹیکسی ڈرائیورز کو قرضہ دیا گیا جن میں سے 60 فیصد لوگوں نے قرضہ واپس نہیں دیا جس سے 500 ملین ڈالر کا نقصان سٹیٹ بینک کو ہوا۔
اتفاق گروپ1993 میں نوازشریف کی حکومت ختم ہونے پر دیوالیہ ہو گیااور اسکی مد میں لیا ہوا قرضہ بھی واپس نہ ہوا۔ بھٹو خاندان کی طرح نواز شریف کے بھی بیرون ملک کمپنیوں سےروابط تھے جن میں سے تین British Virgin Island BVI  میں تھیں جن کے نام Nielson,Nescollاور Shamrock اور ایک اور چینل آئی لینڈ میں تھی جو کہ Chandron Jersey پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام سے جانی جاتی ہےانکو مبینہ طور پر پارک لین لندن کے 4فلیٹس کی خریداری کے لیے استعمال کیا گیا۔
ڈائریکٹر جنرل FIA ملک رحمن1998 میں نواز شریف پر کی گئی تحقیقات کے مطابق کہتے ہیں ”گورنمنٹ کے ریکارڈ میں موجود کاغذات، پاکستانی سرکاری اہلکاروں کے دستخط شدہ حلف نامے، بینکوں کی فائلوں اور جائیدادوں کی تفصیلات اور معاہدوں کی تفصیلات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ شریف فیملی اور ان کے سیاسی رفقاء نے فوائد حاصل کیے”۔ 
#نواز شریف نے موٹر وے سے 160ملین ڈالر ہتھیائے۔
#کم از کم 140ملین ڈالر غیر محفوظ قرض لیے گئے۔
#چینی کی برآمدات میں 60ملین سے زیادہ ہتھیائے۔
#نواز شریف کی گورنمنٹ نے گندم کے سودے میں ان کے واشنگٹن میں موجود قریبی عزیزوں کو مارکیٹ سے زیادہ قیمت کی غلط رسیدیں بنا کر سینکڑوں ملین ڈالر کا فائدہ دیا۔
نواز شریف کی دوسری حکومت کے خاتمے کی وجہ ان کی تمام اختیارات کو آمرانہ طریقے سے حاصل کرنے کی کوشش بنی۔1997 میں ایک قانون پاس کروایا جس کے تحت پارلیمنٹ کے ممبر اپنے لیڈر کی مرضی کے بغیر ووٹ نہیں دے سکتے تھے۔1998 میں شرعی بل نافذ کیا جس کے تحت وہ اپنی طرف سے کوئی حکم نامہ اسلام کے نام پر جاری کر سکتے تھے۔1999 میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف کو عہدے سے برخاست کرکے اپنے خواری کو اس عہدے پر لگا کر فوج کو مٹھی میں لینے کی کوشش کی۔
جب مشرف سری لنکا سے پاکستان آرہے تھے راستے میں ہی معزول کر دیااور پی آئی اے کی فلائیٹ جس میں 200 سو عام لوگ بھی موجود تھے کو کراچی اترنے سے روک دیا گیا۔ مشرف نے دبئی سے کراچی کے کمانڈر کو حکم دیا کہ وہ ائیر پورٹ کنٹرول ٹاور کا کنٹرول سنبھال لے اور جب جہاز کا تیل ختم ہونے کے قریب تھا تو فوج نے کنٹرول سنھبال لیا مشرف نے بساط پلٹ دی اور اس کے اقتدار پر قبضہ ہو گیااور نواز شریف جیل چلے گئے۔
پھر 2000ء میں نواز شریف کو سعودی عرب جلا وطن کر دیا گیا اس کے ہمراہ قالینوں اور فرنیچر کے 22کینٹینر تھے یقینی طور پر بیرون ملک بینک اکاؤنٹس بھی اسی طرح موجود رہے تھے۔ وہ جدہ کے ایک شاندار محل میں مقیم ہوئے جو بہت وسیع و عریض اور مال و دولت سے مکمل طور پر مزیین کئے گئے۔اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ بینظیر اور نواز شریف کے درمیان کبھی کبھی فون پر بات ہوتی تھی اور زندگی نے دونوں کے ساتھ جو نا انصافی کی اس پر دونوں ماتم کنا ں ہوتے تھے۔

People Comments (1)

  • RAJA NAVEED MANZOOR May 29, 2017 at 3:47 pm

    MASHALLAH GREAT WORK RIZWAN GHANI SB…..!!

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}