دو قومی نظریے اور پان اسلام ازم کی شکست — ڈاکٹر ممتاز خان

پاکستان کے اردگرد ممالک میں تین ملک ایسے ہیں جن کے اندر عوامی سطح پہ بھی پاکستان کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے، ان میں افغانستان، ہندؤستان اور بنگلہ دیش ہیں، جبکہ نیپال دنیا کا وہ ملک ہے جس کے اندر کل آبادی کے تناسب سے سب سے زیادہ ہندؤ ہیں، اس کے باوجود بھی نیپالی انڈیا سے نفرت کرتے ہیں۔ انڈیا جو تناسب کے اعتبار سے ہندؤ آبادی کا دوسرا بڑا ملک ہے صرف مسلمان ملکوں میں صرف پاکستان سے ہی نفرت کرتا ہے۔ سری لنکن بھی انڈیا کو اچھا نہیں سجھتے جبکہ وہاں بھی ہندؤازم دوسرے نمبر پہ ہے۔

عوامی سطح پہ دیکھا جائے تو ہندؤستانی پاکستانیوں سے اتنی نفرت نہیں کرتے، جتنی بنگلہ دیشی کرتے ہیں۔ جبکہ نیپالی بھی دنیا میں سب سے زیادہ انڈیا ہی کو نا پسند کرتے ہیں۔ سری لنکن بھارت کو اس لیے ناپسند کرتے ہیں کہ انہوں نے سری لنکا کو توڑنے والے باغیوں کی مدد کی، جبکہ پاکستان (پاکستانی فوج)  نے سری لنکا کی مدد کی، ان کی ملٹری کو ٹرینڈ کیا اور اسلحہ بھی فراہم کیا۔ نیپالی انڈیا سے اس لیے نفرت کرتے ہیں کہ انڈیا نیپال کو اپنا پچھواڑہ سمھجتا ہے، اور اپنی من مانی پالیسیاں تھونپتا ہے۔ افغانی پاکستان سے اسی وجہ سے نفرت کرتے ہیں کہ پاکستان افغانستان کو اپنا پچھواڑہ سمجھتا ہے۔ بنگلہ دیش کے بننے کے پیچھے وہاں کے لوگوں کے مفادات تھے۔ جب وہاں کی قیادت کو لگا کہ ہمارے مفادات (انفرادی و اجتماعی) کو زد پہنچ رہی ہے تو انہوں نے الگ راستہ اپنا لیا۔

دو قومی نظریے کی کمزوری کا اندازہ تو بنگلہ دیش کی تحریک سے ہی ہو گیا تھا اور یہ طے ہو گیا تھا کہ صرف مذہب کی بنیاد پہ ہم لوگ متحد نہیں ہوسکتے ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کے معاشی، سیاسی،اور سماجی حقوق کا خیال رکھنا ہوگا اور سب کو برابری کی بنیاد پہ معاشرے اور سیاسی نظام کا حصہ بنانا ہوگا ورنہ لوگ دشمنوں سے مدد لیتے رہیں گے۔

متحدہ ہندؤستان میں دو قومی نظریہ بنیادی طور پہ ایک ٹول تھا، جس کو استعمال کرکے برصغیر کے کچھ مسلمان رہنما مسلمانوں کو معاشرے کے باقی طبقات کے برابر لانا چاہتے تھے (ان کی نیک نیتی پہ ہمیں بالکل شبہ نہیں ہے)۔ یہ کوئی الہامی حکم یا طے شدہ عقیدہ نہیں تھا۔ اس کا مقصد برصغیر کے مسلمانوں کے مفاد کا تحفظ تھا۔ اب ہمیں سوچنا اور ثابت کرنا ہے کہ کیا واقعی اس نظریے کو قبول کرنے کے بعد ہم برصغیر کے تمام مسلمانوں (بشمول بنگالی، انڈین، کشمیری) کے مسائل حل کر چکے ہیں؟ کیوں کہ تقسیم سے پہلے یہ دعوی کیا گیا تھا کہ کہ یہ نظریہ سب مسلمانوں کے مسائل کو حل کر دے گا۔ تاریخی حقائق یہ ہیں کہ اس نظریے کے غلبے کے بعد برصغیر کا مسلمان تقسیم اور ہندؤ متحد ہوا ہے۔ اس نظریے کے غالب آنے کے بعد پاکستان تقسیم ہونے سے بچ نہیں سکا ہے اور موجودہ پاکستان بھی اس نظریے کی وجہ سے قائم نہیں ہے بلکہ ریاستی رٹ کی وجہ سے محفوظ ہے۔ اس نظریے کے ہوتے ہوئے بھی سارک تنظیم کا 2016 کا اجلاس رک جاتا ہے، جبکہ سارک رکن مملالک میں چار قومیں مسلمان ہیں۔ صرف دو ہندؤ جبکہ ایک بدھ مذہب رکھنے والی قوم ہے۔

دو قومی نظریے سے ہندؤستان کے مسلمانوں کو آج کی تاریخ میں جن خطرات کا سامنا ہے وہ بھی اسی نظریے کی بدولت پیدا کردہ ہیں۔ ہندؤستانی مسلمانوں کو کمزور کرنے میں ہم سے کیا سیاسی غلطیاں ہوئی ہیں۔ ان کا مستقبل کیا ہوگا یہ وقت ہی فیصلہ کرے گا، بہرحال اب وہ ایک الگ قومی نظام کا حصہ ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے۔

دوقومی نظریے سے پاکستان کو داخلی سطح پہ کیا نقصانات ہو سکتے ہیں، ان میں ممکنہ طور پہ درج ذیل نقصانات ہیں۔

۱۔ بین الاقوامی سطح پہ اس نظریے کی کمزور ساکھ اور  ہماری ڈپلومیسی کو ہونے والے بے تحاشہ نقصانات۔

۲۔ انفرادی سطح پہ دوقومی نظریے کو ماننے والا فرد کس حد تک تنگ نظر ہوتا ہے اور وہ ایک مخصوص مذہب سے بلاوجہ نفرت کرنے لگتا ہے۔ وہ حقائق سے نظریں چرا لیتا ہے اور صرف مسلمان کو ٹھیک سمجھتا ہے بے شک وہ چور ہو(یہ بذات خود اسلام کے نظریے سے متضااد ہے)۔ وہ مخصوص مذہب کے اچھے کردار کے حامل فرد سےبھی صرف مذہب مختلف ہونے کی وجہ سے نفرت کرتا ہے اور بین الاقوامی کمیونٹی میں الگ ہو جاتا ہے اور لوگوں میں گھلنا ملنا چھوڑ دیتا ہے۔

۳۔ جب ساری اقوام (بالخصوص مسلمان) اپنے اپنے مفادات کو ملحوظ خاطر رکھ کر اپنی خارجہ پالیسی کا تجزیہ کرتی ہیں، جبکہ دو قومی نظریے کو ماننے والا ہمارا بیوروکریٹ حقائق سے آنکھیں چرا لیتا ہے، وہ بھول جاتا ہے کہ ۲۰۱۶ کے سارک سمٹ کو کینسل کرنے کی ہندؤستانی رائے کی تصدیق بنگلہ دیش نے کی تھی، کہاں گیا دو قومی نظریہ۔ صرف قومی مفاد سامنے رکھ کر بنگلہ دیش نے ایسا کیا۔

۴۔ ریاض میں اگر ہماری لیڈرشپ کی عزت افزائی ہوئی ہے تو اس کے پیچھے میڈیا کا وقتی ہیجان تو سمندر کی طرح کناروں سے باہر آ رہا ہے، لیکن کیا اس عزت افزائی کے بعد ہماری سوچ اور سمت بھی بدلے گی، ہماری خارجہ پالیسی کی ڈکشنری میں امہ کی بجائے ریاست کے داخلی مفادات کا نظریہ کب غالب آئے گا۔   

ان سب مشاہدات سے ایک بات تو سامنے آتی ہے، مذہب کی بنیاد پہ قوموں کی دوستی اور دشمنی استوار نہیں ہو سکتی، بلکہ باہمی مفادات ہی قوموں کی دوستی اور دشمنی کی بنیادی وجہ ہیں۔ 

اس مقالہ کا دوسرا حصہ پین اسلام ازم کے نظریے کے متعلق ہے۔ ریاض میں امہ کے اجتماع سے ایک بات تو سامنے آ گئی کہ سامراج ایک نئے انداز میں اپنی شیرازہ بندی کر رہا ہے۔ یورپ کے امریکہ سے نسبتاً دور ہو جانے کے بعد مسلم نیٹو کا قیام یورپین پالیسی میکرز کے لیے ایک پیغام تھا کہ واشنگٹن کمزور نہیں ہے، بلکہ مانچسٹر دھماکے کروا کے ایک چیتاونی تھی کہ اگر یورپ آنکھیں بند کیے بغیر واشنگٹن کی سپورٹ نہیں کرے گا تو نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ اس سے ایک بات اور بھی واضح ہو جاتی ہے، وہ ہے ویسٹ کی اصطلاح، ویسٹ ایک نہیں بلکہ اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لیے ایک اکھٹہ ہے۔ عرب قیادت اس بات کو بھانپ گئی ہے کہ اگر وہ سامراجیت کے نظریے کو قبول کر لے تو سامراجی دنیا میں ایک دوسرے درجے کا کردار مل جائے گا اور بین الاقوامی طاقتیں ان کی نیم خود مختیاری کو چیلنج نہیں کریں گی۔ اس کے علاوہ ان کے انفرادی مفادات (سعود خاندان کی قبائلی اجارہ داری اور بادشاہت) کو بھی دھچکہ نہیں لگے۔ پاکستان کو اس کانفرنس میں پیچھے دھکیلنے اور ایران کو دھمکانے کے بعد پان اسلام ازم کے نظریے کی اخلاقی حیثیت ختم ہو گئی ہے۔ یہ بات اب کھل کے سامنے آ گئی ہے کہ مسلمان ممالک اپنے اپنے مفادات کے لیے کسی بھی بڑی سپر پاور کو چن سکتے ہیں، ان کو بین الاقوامی سطح پہ چھوٹ ہے، لیکن براہ مہربانی ان گروپس کو قائم کرنے اور دوائم دینے کے لیے مذہب کا سہارا مت لیں۔ اب اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ صرف اسلام کے عقیدہ کی بنیاد پہ سب لوگ اکھٹے ہو سکتے ہیں۔ سیاسی نظام بنتے اور بگڑتے رہیں گے لیکن اگر ہم نے مذہب کا استعمال نہ روکا تو دین اسلام کی بنیادی تعملیمات کو جھٹکا لگے گا۔

اگر اسلام میں کہیں وحدت کی بات کی گئی ہے تو وہ حق کے غلبے لے لیے اتحاد کی بات ہے، مظلوم کی مدد کرنے کے لیے اتحاد کرنے کی ترغیب ہے۔ جبکہ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ امریکہ حق پہ نہیں ہے۔ اس نے جتنا اچھا کیا، اس سے کہیں برا کیا ہے اور کرتا جا رہا ہے۔ وہ دشمن کو ہرانے کے لیے کوئی بھی طریقہ چن لیتا ہے( ان کے نزدیک محبت اور جنگ میں سب جائز ہے)۔ مشرق وسطی، افغانستان اور افریقی دہشت گردوں کی پشت پناہی۔ دھماکا کروا کے ساتھ ملانے کی پالیسی اس کا ثبوت ہے۔ ایسے عالم میں مسلمانوں کا اجتماع اللہ اور رسول کے لیے تو بالکل بھی نہیں لگ رہا، البتہ اس کے سیاسی ثمرات اگر کسی مسلمان کو بھی مل جائیں تو یہ اس کی اپنی کاوش ہے۔ اس کا اپنا راستہ ہے۔ سیاست میں مذہبی روح کا غلط استعمال ہمیں صدیوں سے پیچھے کی طرف دھکیل رہا ہے۔ مذہب کا سیاسی استعمال صرف مذہبی شکل و شباہت کے حامل لوگوں نے نہیں کیا، بلکہ مسٹر لوگوں نے بھی کیا ہے اور خوب کیا۔ عربوں نے بھی کیا ہے اور عجمیوں نے بھی اور آج تک جاری ہے۔

پین اسلام ازم اور دو قومی نظریہ دونوں سیاست میں مذہب کے استعمال کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ یہیں سے کتاب کے انتخابی نشان کا راستہ ہموار ہوتا ہے اور یہیں سے عرب ڈاکؤوں کو پاکستان میں شکار کا موقع ملتا ہے۔ دونوں اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں اور اب ان کے تابوت میں آخری کیل کب ٹھکے  گا یہ وقت اور سوچ ہی طے کرے گی۔

 اللہ سچ کو سمجھنے اور اس کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}