یومِ میلاد سرورِ کائنات ﷺ — مولانا حفظ الرحمٰن سیوہارویؒ

انسان ہمیشہ اپنے بڑوں اور بزرگوں کی یادگار مناتا ہے۔ اپنی تاریخ کے اونچے سے اونچے رہنمائوں اورلیڈروں کی، بادشاہوں اور شہنشاہوں کی ، بہادروں اور جرنیلوں کی، باکمال ہنرمندوں اور اپنے وقت کے ہیرو کہلانے والوں کی یاد مناتا ہے۔ ان کے نام پر دن منائے جاتے ہیں، مجلسیں اور محفلیں منعقد ہوتی ہیں، جلسے جلوس، تذکرے اور تقاریر کی رسوم ادا کی جاتی ہیں اور مرنے والوں کے اوصاف وکمالات کو یاد کرکے داد دی جاتی اور ان کے بقائے دوام کی سبیل پیدا کی جاتی ہے۔
آج کا دن بھی ایک تاریخی جشن مسرت اور دنیائے انسانی کی ایک عظیم الشان یادگار ہے لیکن ایسی یادگار جو اپنی آن اور شان میں دوسری یادگاروں سے نرالی اور انوکھی ہے۔
آج ہم اس برگزیدہ ہستی یعنی رسول خدا سرور کائنات محمد مصطفیﷺ کی یادگار منارہے ہیں۔ جن کی اقدس وارفع شخصیت، جن کی تعلیم ودعوت، قیادت وسیادت اور کمال انسانیت تاریخ عالم کی وہ زندہ جاوید یادگار ہے، جو اپنے کسی تذکرے یا یادگار، کے منائے جانے کی محتاج نہیں ہے۔ اگرچہ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان کی یاداور ان کا تذکرہ ہمارے لیے سرمایہ سعادت اور آیہ رحمت ہے۔
ابتدائے آفرنیش سے آج تک دنیا میں بے شمار نامور انسان، ہزاروں ریفارمر اور مصلحین گزرے ہیں، لیکن ایک ریفارمر اور ایک سچے نبی ورسول کے درمیان جو سب سے بڑا امتیاز ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ کسی مصلح، ریفارمر، لیڈر یارہنما کے بہترین کیریکٹر کے لئے یہ وصف کافی سمجھا جاتا ہے کہ جس شعبہ حیات میں وہ رہنمائی کررہاہے، اس میں اس کی اخلاقی برتری اور کردار وگفتار کی صفائی قابل تقلید ہو، باقی دوسرے شعبہ ہائے زندگی میں کتنی ہی خامی، کمی اور کوتاہی کیوں نہ ہو، اس پر انگشت نمائی نہیں کی جاسکتی۔ لیکن نبوت و رسالت کا منصب اس سے بالکل جدا اور بہت اعلیٰ وارفع ہے۔ بالخصوص وہ مقدس ہستی جس کی رسالت ونبوت اپنی جلالت شان اور رفعت قدر کے لحاظ سے تمام انبیاء ورسل کے لئے بھی اُسوہ اور معیار قرار پائی اس کے لئے ازبس ضروری تھا کہ اس کی خلوت وجلوت اور زندگی کا ہر شعبہ اس درجے صاف، روشن اور کامل ومکمل ہوکہ نقص وعیب یا خامی وکمزوری کا کوئی سوال ہی پیدا نہ ہوسکے۔
چنانچہ ہم دیکھتے ہیںکہ سن وسال کے اعتبار سے اگرچہ پونے چودہ سو سال کی طویل مدت گزر چکی ہے لیکن رسول اکرم سرور عالم حضرت محمدﷺ کی حیات مقدس کا ایک ایک لمحہ اور ان کی زندگی کا ایک ایک ورق آج بھی ہمارے سامنے اسی طرح روشن ہے، جیسے آ ج ہی کی بات ہے۔ ان کی خلوت اور ان کی جلوت، خانگی اور نجی زندگی بھی اور بیرونی زندگی بھی۔ ان کے معاملات واشغال بھی اور ان کارہن سہن بھی، ان کا لین دین اوروضع وقطع بھی اور ان کا قول وعمل یا اخلاق وکردار بھی، غرض زندگی کا ہرشعبہ دنیا کی رہنمائی کے لئے آج بھی آفتاب عالم تاب کی طرح چمک رہا ہے۔
ولادت باسعادت سے لے کر زندگی کے آخری لمحات تک آپ کی سیرت پاک لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ کا مرقع اور رشد وہدایت کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے۔
آپ کے بچپن کی تاریخ دیکھئے تو دنیا کے عام بچوں کی طرح کھیل کود، سیرو تماشا، لغویات اور بیہودگیوں اور طفلانہ حرکات ومشاغل کی جگہ سنجیدگی ومتانت، کرامت نفس وشرافت، طہارت ولطافت اور برمحل افکار واشغال کا ایک حیرت انگیز اور قابل تقلید نمونہ آپ کو ملے گا۔
آگے بڑھیے اور نبی کریم کے عہد شباب کا مطالعہ کیجئے۔ ایک انسان کی زندگی میں جوانی کا دور سب سے نازک دورہوتا ہے لیکن جب آپ محمد عربی فداہ روحی ابی وامی کی سیرت کے اس دور کے ابواب پڑھیں گے تو حیرت ہوگی یہ دیکھ کر کہ وہاں بھی عام انسانی سطح سے بہت بلند، اور غلط جذبات ورجحانات سے بالکل الگ ، حلم وبردباری، پیرانہ فراست ودانش مندی، ریاضت وتزکیہ نفس اور مخلوق خدا کی خدمت کا ایک قیمتی سلسلہ ہے جو شب وروز کا عام مشغلہ اور صبح سے شام تک کا کاروبار ہے۔
اور سب سے آخر میں نبی کریمؐ کے عہد پیری کا مطالعہ کریں گے تو دیکھیں گے کہ سیرت پاک کے آخری تئیس سال اس عظیم الشان انقلاب کی تاریخ ہیں، جو آپ کی حیات مقدسہ کا مقصد ومنتہا ہے۔
خاتم الانبیاء سرکار دوعالم، رسول اکرم محمد مصطفیﷺ کی ولادت باسعادت ایک ایسی سرزمین، ایک ایسے گھرانے اور ایک ایسی قوم میں ہوئی جہاں تعلیم، تہذیب، تمدن غرض ارتقائے انسانی کے ذرائع مفقود وناپید تھے۔ آپ کی ذات مبارک اس عالم میں وجود میں آئی کہ باپ کا دست شفقت شروع سے دیکھا ہی نہیں اور چند سال بعد ہی ماں کے آغوش محبت سے محروم ہوگئے۔ لیکن تاریخ ماضی کے اوراق شاہد ہیں کہ دنیوی اسباب وذرائع سے یکسر محرومی کے باوجود آپ نے ایک بن کھیتی کی سرزمین میں رہ کر، نہ صرف ایک غیر مہذب اور غیرمتمدن قوم کو سیاست وسیادت کے جوہر بخشے۔ بلکہ ٹھیک ایسے وقت میں جب کہ کفر وشرک، ظلم وعدوان، زیردستوں کی مظلومیت اور زبردستوں کا تشدد اور زندگی کی ہر شاخ میں افراط وتفریط کی تاریکیاں دنیا پر چھائی ہوئی تھیں، آپ نے عدل وانصاف ، توحید الٰہی، خدمت خلق اور ہمدردی عالم کی روشنی دنیا نے مذہب، سیاست، معیشت، معاشرت غرض دنیا کی چلتی پھرتی اور متحرک زندگی میں جہالت وتاریکی کو فنا کرکے روشن وتاباں آفتاب حقیقت کی طرف رہنمائی کی۔
آپ نے مذہب کی بنیاد خدا پرستی اور عقل ودانشور کی افادیت پر رکھی انسانوں کو انسان کی غلامی سے نکال کر خدا کی دی ہوئی صداقت’’کلام الٰہی‘‘ کی روشنی میں آزادی بخشی۔ آپ نے ظلم وتعدی کو عدل وانصاف سے ، تحکم واستبداد کو جمہوریت وشورائیت سے ، انسانوں کی باہمی کشمکش اور طبقاتی جنگ کو تعاون ومساوات اور اخوت وہمدردی سے کفر وجہالت کو خدا پرسی وتوحید الٰہی سے بدل کر دنیا کا نقشہ ہی کچھ سے کچھ بنادیا۔
آپ نے ایک طرف اس دور کے پھیلے ہوئے فسق وفجور، ظلم وجور اورجوع الارض کی شخصی حکومتوں کے تختے الٹ کر انسانوں کو عدل ومساوات کی قدر وعظمت بخشی، اور دوسری طرف سادگی اور غربت ومسکنت کو اپنا طغرائے امتیازبنایا۔ چنانچہ آپ کی پوری زندگی میں آپ کا لباس پیوند لگے ہوئے کپڑے، آپ کا بستر پرانی کھال کا ایک نمدہ اور خدا کا بچھایا ہوا فرش زمین، آپ کا مکان ومحل کھجور کی ٹٹیوں کا ایک چھوٹا سا حجرہ اور آپ کی غذا جوکی روٹی، کچھ کھجوریں اور پانی کا ایک پیالہ رہی۔ اسی سادگی اور مسکنت کے عالم میں آپ نے خدا کے بھروسے اور اپنے دست بازو کے بل پر جائز وحلال روزی بھی کمائی، بکریاں بھی چرائیں اور شام کے بازاروں میں تجارت بھی کی اور دوسری طرف قوم وقبائل کے نزاعات کے وہ فیصلے بھی کیے جو عدل وانصاف کے نادر نمونے کہے جاسکتے ہیں۔ آپ کی دیانت وصداقت کا یہ عالم تھا کہ قوم نے امین اور صادق کے لقب سے یاد کیا اور آپ کے دشمنوں نے بھی اپنی امانتوں کو محفوظ رکھنے کے لئے آپ ہی کی دیانت اور آپ کی ذات مقدس پر اطمینان کیا۔
آپ ہی کی ذات ستودہ صفات ہے جو انسانی عفت وپاکدامنی، اعتدال ومیانہ روی اخلاق وکردار کی صفائی اور محاسن انسانی کا مکمل ترین نمونہ اورانسانیت کے عروج وکمال کی سب سے اعلیٰ مثال ہے۔ خود لسان نبوت کا ارشاد ہے’’بعثت لاتمم مکارم اخلاق‘‘ میں دنیا میں اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ اخلاق کے حسن ومکارم کی تکمیل کردوں اور مکارم اخلاق کی ایک زندہ جاوید یادگار دنیا کے سامنے چھوڑ جائوں۔چنانچہ آپ کا لایا ہوا وہ پیغام جو انسان کو حقیقت اور سچائی کی راہ دکھاتاہے اسی اعلیٰ مشن کی تعبیر اور آپ کی سیرت پاک اور اس کی عملی تفسیر ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ نبی کریمؐ کی تعلیمات رشد وہدایت کے وہ سرچشمے ہیں جو ہمیں انسانیت اخوت ومحبت، حق گوئی وحق پرستی، ظلم سے درگزر اور مخلوق خدا کے ساتھ حسن سلوک، مواسات و بھائی چارہ اورہمدردی وغم خواری، زبردست وبے نوا کی مدد اور تعدی دست درازی کے انسداد کے وہ اعلیٰ اصول بتلاتی ہیں جو دنیا میں ہمیشہ انسانی سوسائٹی کی فلاح وبہبود کے لئے لازمی اور بنیادی اصول ہیں۔ ساڑھے تیرہ یا پونے چودہ سو سال گزرچکے ہیں کہ نئی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے مکہ کی پہاڑیوں سے اپنی آواز دنیا کو سنائی تھی لیکن وہ آج بھی دنیا میں اسی طرح گونج رہی ہے۔ اس لیے کہ یہی حق وصداقت کی وہ آواز ہے جو کبھی فنا نہیں ہوسکتی اور یہی وہ پیغام ہے جو انسان کو انسانیت اور اخوت ومحبت کی راہ بتلاتا ہے۔
کوئی شبہ نہیں کہ اس پیغام رحمت کا لانے والا اور عالم انسانی کو فلاح وبہبودی کی راہ بتانے والا دنیائے انسانیت کا سب سے بڑا محسن تھا اورآج کا دن جب کہ ہم محسن اعظم کی یاد منارہے ہیں تمام عالم کے لئے مسرت کا دن ہے۔
وماارسلناک الارحمۃ للعالمین، اللھم صلی علیہ وعلی آلہ واصحابہ اجمعین

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}