سیرت نبوی ﷺ کا عقلی تصور — مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی

صدر محترم!
بزرگو اور دوستو! سیرت پاک کے اس مقدس اجتماع میں آپ نے مجھے دوبار موقع دیا ہے۔ دو سال پہلے بھی میں آپ کی خدمت میں آچکا ہوں۔ شاید آپ کو یاد ہو۔ میں نے کہا تھا کہ سیرت پاک بیان کرنے کے دوطریقے ہیں عقلی اور ایمانی۔
ذکر پاک سے نور ایمانی کی رونق بخشنے کا مقصد ایک بابرکت مقصد ہے لیکن جب میں یہ خیال کرتا ہوں کہ آپ نے اس اجتماع کو مسجد میں نہیں بلکہ میدان میں کیا ہے جسے منڈی کی اس سڑک پر آپ دیکھ رہے ہیں، آپ نے ہر شخص کو دعوت عام دی ہے، اس میں مسلمان بھی ہوں گے اور غیر مسلم بھی!
سوال یہ ہے کہ اگر میں صرف رسول پاک ﷺ کی عقیدت کا ذکر کروں تو غیر مسلم کیا فائدہ حاصل کرسکیں گے۔ ضرورت ہے کہ حُسنِ عقیدت کے ذریعے سے نہیں بلکہ عقلی حیثیت سے سیرت پاک کو پیش کروں۔ عقل کے ذریعے دنیا کو سمجھائوں تاکہ تمام دنیا کے لیے میراخیال یکساں فائدہ بخش ہو۔
رسول اکرم ﷺنے جس کتاب الٰہی کو دنیا کے سامنے پیش کیا اس کے صفحہ اول کا پہلا جملہ الحمد اللہ رب العالمین پکار کر آواز دیتا ہے کہ اے دنیا کے لوگو! سب تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جو تمام عالم کا رب ہے۔ وہ تنہا مسلمانوں یا کسی قوم کا رب نہیں بلکہ اس کی ربویت ہمہ گیر وغیر محدود ہے۔ اس کے دائرہ ربوبیت سے کوئی باہر نہیں ہے۔ اس کتاب الٰہی کا یہ بھی اعلان ہے کہ رسول پاک ﷺکی ذات رحمت للعالمین ہے، اس کی رحمت کا دائرہ بھی تمام عالم انسانیت کو محیط ہے۔
اس بنا پر مجھے کہنے کا موقع دیجیے کہ اس انداز سے رسول پاک ﷺکی سیرت مبارک کو پیش کروں تاکہ غیر مسلم بھی رحمت عالم کی سچائی کا اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکیں۔
رسول کریم ﷺ نے دنیا کے اندر جو انقلاب پیدا کیا اسے نماز اور روزے ہی میں مخصوص کرکے نہیں چھوڑ دیا بلکہ حیات انسانی اور دنیاوی زندگی کے جتنے بھی شعبے ہیں سبھی میں انقلاب برپا کیا۔ معاشی اور اقتصادی، مذہبی اور سیاسی زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں ہے جس میں غیر معمولی انقلاب پیدا نہ کیا ہو۔
رسول اکرم ﷺکی بعثت سے قبل عرب کے لوگ خدا کو مانتے تھے۔ لیکن ان کا کہنا تھاکہ جنگ کی دیوی، صلح کا دیوتا، بارش کی دیوی اور رزق کا دیوتا الگ الگ ہے، یہ سب مل کر ایک خدا کی قوت بنتے ہیں اور ساری چیزیں اس کے قدرت میں مسخر ہیں و ہ ہمہ گیر قوت اور طاقت کا مالک ہے۔
بالآخر رسول اکرم ﷺنے دنیا کے سامنے جو نقطہ نظر پیش کیا دنیا کو ماننا پڑا۔
روح اس بات کی خواہش مند ہوئی کہ میرے جسم کو تو غذا اور پھلوں سے طاقت دی جاتی ہے، لیکن میں بھی ہوں مجھے معرفت کی غذا چاہیے۔ اس نے آنکھ پھاڑ کر دیکھا کہ متمدن ممالک میں ہندوستان، ایران اور رومۃ الکبریٰ کا طُوطی بول رہا ہے۔ ان میں دانش ہے، اپنی غذا کی تلاش انہیں میں چل کر کرنی چاہیے۔ اس روح نے ہندوستان پہنچ کر اپنی غذا طلب کی۔ ہندوستان نے کہا کہ مختلف دیوی دیوتائوں کی پوجا کیے بغیر نہ تو ایک خدا کی عبادت کرسکتی ہے اور نہ اس کی معرفت کی غذا حاصل کرسکتی ہے ، روح نے منہ پھیر لیا اور کہا کہ جب ایک غلام دو مالک کا بیک وقت فرمانبردار نہیں بن سکتا تو میں ان سینکڑوں کی وفادار کیسے بن سکتی ہوں۔ وہ رومۃ الکبریٰ گئی۔ پاپائے روم نے کہا کہ اے روح تو اپنے صحیح مقصد تک پہنچی ہے، لیکن یادرکھ پہلے تجھے باپ بیٹا اور روح القدس ان تینوں پر ایمان لانا ہوگا پھر انہیں میں تجھے خدا اور اس کی معرفت کی غذا ملے گی۔ روح نے انکار کیا اور کہا کہ ایک تین نہیں ہوسکتا۔ وہ ایران گئی فیثا غورث کے شاگرد زرتشت نے کہا کہ اے روح یاد رکھ یہاں خدا کی دو طاقتیں ہیں نیکی کا خدا یزدان اور بدی کا خدا اہر من ہے ان کے بغیر تجھے خدا کی معرفت کی غذا نہیں مل سکتی۔ روح کو یہاں سے بھی ناامید ہونا پڑا۔ اس نے سوچا کہ جب دنیا کے متمدن ممالک میں جہاں عقل و دانش کے چراغ جل رہے ہیں ، وہاں ہم کو اپنی غذا نہیں مل سکتی اور کہاں ملے گی۔ ایک پہاڑ کی بلند چوٹی پر گئی اور طے کیا کہ گر کر مرجانا چاہیے۔ گرنا ہی چاہتی تھی کہ ایک کمبل پوش نے جھلستے ہوئے ریت کے تودوں سے نکل کر ایک تپتی ہوئی پہاڑ کی چٹان سے پکار کرکہا اے روح خودکشی نہ کر آتیری غذا میرے پاس ہے۔ میری بات سن! روح نے کہا:متمدن ممالک سے تو خدا کی معرفت کی غذا ملی نہیں یہاں کہاں ملے گی؟ کملی والے نے کہا۔ قل ھو اللہ احد اللہ الصمد لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفواً احدہ۔ ہندوستان کی دیوی دیوتائوں کا محتاج میرا خدا نہیں ہے کیونکہ ھوالہ احد اللہ وہ اکیلا ہے۔ رومۃ الکبریٰ کے باپ بیٹا اور روح القدس کی تثلیث توحید کے منافی ہے، اس لیے کہ ’’لم یلد ولم یولد‘‘ نہ وہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا۔ایران کے زرتشت نے بھی یزدان اور اہرمن دومتضاد صفات کے حامل اور برابر کی طاقت رکھنے والی خدائوں کی تھیوری غلط پیش کی’’ولم یکن لہ کفواً احد‘‘ میرے خداے واحد کی طاقت کے برابر کوئی خدا نہیں ہے۔ وہ قادر مطلق ہے ، یہ نہ دیکھ کہ کہاں کا رہنے والا کہہ رہا ہے۔ یہ دیکھ کہ کیا کہہ رہا ہے۔ روح نے اس کملی والے کی بات کو سنتے ہی اطمینان کا سانس لیا اور پکار اٹھی کہ بے شک میری غذا تیرے ہی پاس ہے۔
قدرت نے اس ریگستانی پہاڑی اور غیر متمدن ملک میں رسول اکر م ﷺکو اس لیے بھیجا تاکہ دنیا یہ نہ کہہ سکے کہ عقل ودانش کے چراغوں سے علم کی روشنی حاصل کرکے ضابطہ حیات انسانی پیش کیا ہے۔ خدا کو بیچ میں ڈال کر اعلان نبوت جو کیا ہے، فرضی ہے۔ ساری دنیا متحیر ہے اور جانتی ہے کہ یہ وہی ہستی ہے جس نے کسی کے سامنے زانوے ادب تہ نہیں کیا، لیکن پھر بھی دنیا میں انقلاب عظیم برپا کردیا ۔
رسول اکرم ﷺنے عرب کی جاہل اور اجڈ قوم میں جب یہ اعلان کیا تھا کہ’’ساری مخلوق صرف ایک کی ہے تو قوم نے زبردست بغاوت کا مظاہرہ کیا سارا عرب دشمن بن گیا۔ بہ بقول کارلائل کے کہ’’جب تک اعلان نبوت نہیں کیا تھا سب دوست تھے اور اعلان نبوت پر سب دشمن ہوگئے۔ رسول اکرم ﷺ نے طائف کے میدان میں تین باتیں پیش کی تھیں:
1۔ ایک خدا کی پرستش
2۔ بیوائوں اور یتیموں کی سرپرستی
3۔ اور عفت وعصمت کی حفاظت
لیکن طائف والوں نے زخمی کیا شکاری کتے پیچھے لگادئیے۔ گالیاں سنائیں پتھروں کی بارش کی۔ مگر زبان مبارک سے اَحد اَحد کی صدائیں بلند ہورہی ہیں۔ مورخ کہتا ہے کہ پتھرائو کے سبب جب آپ بیٹھ گئے تو حضرت زیدابن حارثہ پر وردہ آغوش رحمت وپروانہ شمع رسالت اس حالت کو دیکھ کر بے قرار ہوگئے اورکہا کہ آپ ان کو جہنم سے جنت میں لانا چاہتے ہیں اور وہ آپ پر ایسا ظلم ڈھاتے ہیں بددعا کیجئے کہ یہ سب برباد ہوجائیں ۔
ایک پادری کا کہنا ہے کہ چہرہ بدل گیا اور فرمایا اے زید تونے کیا کہا کہ یہ لوگ مارتے ہیں تو میں بددعادوں مجھے تو اللہ نے رحمت عالم بناکر بھیجا ہے ہاتھ اٹھاتے ہیں اورفرماتے ہیں۔’’اے میرے پروردگار! میری قوم کو ہدایت دے یہ مجھے نہیں جانتے اورپہچانتے۔ اے میرے خدا! تو ان کو سمجھا اور ان کو ہلاکت میں نہ ڈال، ممکن ہے کہ ان میں یا ان کی اولاد میں کوئی سعیدروح پیدا ہو جو تیرا کلام سنے اور قبول کرے میرے مولا! تیرے ہی پاک چہرہ میں پناہ لینا چاہتا ہوں اگر تو میرے ساتھ ہے تو مجھے کچھ خطرہ نہیں۔‘‘
دنیا کہتی تھی کیا رسول کیا پیغمبر ہماری عقل کافی ہے ہم رات دن روشنی اور تاریکی کی پہچان خود کرسکتے ہیں تو نبی کی ضرورت نہیں۔
فطرت کی طرف سے جواب ملا کہ عقل ودانش مجبور کرے تب تو ماننا ہی ہوگا۔ آنکھ میں روشنی موجود ہے لیکن بلب گل کر دئیے جائیں تو آنکھ کی روشنی جواب دے دے گی۔ انتہائی تاریکی میں جب ایک ہاتھ کو دوسر اہاتھ سجھائی نہیں دیتا اگر کوئی کہے کہ آنکھ تو موجودہے کیوں سجھائی نہیں دیتا؟ اس کا جواب یہی تو ہوگا کہ قانون قدرت کا یہی اصول ہے کہ روشنی ہی سے آنکھ کو روشنی حاصل ہوتی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ مادی زندگی کے لئے جب یہ اصول ہے تو کیا روحانی زندگی کے لئے باہر کی روشنی کی ضرورت نہیں؟ ماننا ہوگا کہ نبی کی روشنی کے بغیر یہ زندگی نہیں بن سکتی اور نہ ہی خدا کی سچی معرفت حاصل ہوسکتی ہے۔
انسان کا عجیب عالم ہے گراوٹ پر آجائے تو دنیا کی ہر چیز کو سجدہ کرنے لگے اور انانیت پر آجائے تو ’’اناربکم الاعلی‘‘ کا دعویٰ کرنے لگے لیکن رسول پاک نے جو دعوت پیش کی اورجوانقلاب رونما کیا وہ انقلاب انسان کو اس کے صحیح مقام پر پہنچانا تھا۔ تعلیم دی کہ اے انسان نہ اتنا گھٹ کر کہ ہرچیز کے سامنے سجدہ ریز ہوجائے اور نہ اتنا بڑھ کر خدا بن جائے۔ اے انسان تو ساری دنیا کا سردار اور تیرا سردار ساری دنیا کا خالق ہے۔ محمدﷺ خدا کے پیغمبر اور بندے ہیں۔ یاد رکھ یہ نہ کہنا کہ رسول کی ضرورت نہیں ہے یہ بھی نہ کہنا کہ رسول خدا کا بیٹا ہے۔
نبی اور رسول ﷺکے لئے معصوم ہونا ضروری ہے اس لیے کہ جب دو متضاد چیزیں ہوتی ہیں۔ تو ان میں درمیانی ربط پیدا کرنے والی تیسری چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہڈی اور گوشت دو متضاد چیزیں ہیں ان کے تعلق کو پٹھے اور رگوں کے بغیر قائم نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح روحانی قانون قدرت بھی یہ ہے کہ ایک طرف خدا کی ذات ہے اور دوسری طرف انسان درمیانی رشتہ کو قائم کرنے کے لئے کسی واسطے کی ضرورت ہے۔ اس کی سبیل یہ ہے کہ ایک انسان تمہاری طرح کا جوکہ تمہارے ساتھ کھاتا پیتا اور چلتا پھرتا ہو جس سے کہ تم مانوس ہو لیکن معصوم ہونے کی حیثیت سے امتیازی شان بھی رکھتا ہو وہی اس ربط کو قائم رکھ سکتاہے۔ چنانچہ رسول اکرم ﷺ کی معصوم ہستی خدا اور انسان کے درمیان رشتہ قائم کرنے والی ایک مضبوط کڑی ہے جسے ہم رسول، نبی یا پیغمبر کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ دنیا قانون قدرت کی اس بات کو تسلیم کیے بغیر خدا سے کوئی رشتہ قائم نہیں کرسکتی۔
دنیا کی کوئی چیز تین حالتوں سے خالی نہیں ہے۔
1۔ آغاز
2۔ بتدریج ترقی کرنا
3۔ درجہ کمال
بچہ پیدا ہوتا ہے یہ اس کا آغاز ہے، پرورش پاتا ہے اور بڑھتا رہتا ہے یہ اس کے بتدریج ترقی کرنے کی حالت ہے۔ بچپنے میں اس کے لباس چھوٹے بنتے ہیں۔ اس کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ لباس بھی بتدریج بڑے بنتے رہتے ہیں۔ جب جوانی پر پہنچتا ہے تو باپ کہتا ہے کہااب تو صاحبزادے کے جسم پر میرے کپڑے بالکل ٹھیک ہوتے ہیں۔ درجہ کمال کو پہونچنے کے بعد اس کا بڑھنا رک جاتا ہے ایسا نہیں ہوتا کہ بڑھتا ہی رہے اس لیے کہ یہی قانون قدرت ہے۔ تاریکی کودور کرنے کے لئے چراغ وجود میں آیا پھر شمع کا فوری اور موم بتیاں ایجاد ہوئیں۔ گیس آئی آخر میں بجلی نے آکر اپنی روشنی کا ایسا سکہ جمایا کہ کوئی نہ ٹھہر سکا ستارے چمکتے ہیں۔ ہلال چاند کی پہلی رات کو نمودار ہوکر بتدریج ترقی کرتے کرتے چودہویں کی شب میں بدرکامل بن کر تمام عالم کو روشن کردیتا ہے مگر دنیا کہتی ہے کہ ابھی رات ہے ان میں سے کسی نے رات کو ختم کردینے والا انقلاب پیدا نہیں کیا۔ لیکن سورج کے نکلتے ہی دنیا بول اٹھتی ہے، انقلاب ہوگیا، یہ تو مادی دنیا کا انقلاب ہے، لیکن یاد رہے کہ روحانیت میں بھی یہی قانون قدرت کارفرما ہے۔ انسانوں کی رہنمائی کے لئے آدم کا دیا جگمگایا نوح کی شمع کا فوری روشن ہوئی۔
ابراہیم ، موسیٰ بتدریج ترقی کرتے کرتے بدرکامل بن کرچمکے۔ لیکن انسان کہتا رہا ابھی تورات ہے یہ کب ختم ہوگی۔ روحانیت کا آفتاب کب نمودار ہوگا۔ قدرت آواز دیتی ہے دیکھ ذات محمدیﷺ عالم وجود میں آگئی، آفتاب رسالت نکل آیا، انقلاب رونما ہوگیا، اب نہ کہنا کہ رات ہے، اس آفتاب رسالت کے بعد اب کوئی ماہتاب یا آفتاب نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ یہی قانون قدرت ہے۔ لیکن یاد رکھ کہ آفتاب عالم تاب کی تمازت سے بچنے کے لئے مئی جون کے مہینوں میں گھر میں چھپ کر بیٹھنے کی ضرورت پڑتی ہے۔
لیکن آفتاب رسالت کو ہم نے سراج منیر بنایا ہے یہ آفتاب نور ہے۔ آفتاب نار نہیں! اس میں کوئی ایسی تمازت نہ ہوگی کہ جس سے تجھے بچنے کی ضرورت ہو۔ اس سے جتنا بھی کسب نورکرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔
رسول اکرمﷺ جب دنیا میں تشریف لائے۔ تین قسم کی غلامی کار فرما تھی۔
1۔ خریدوفروخت کی
2۔ ذات ونسل کی
3۔ اور اقتصادی زندگی کی
آپﷺ نے ہندوستان، رومۃ الکبری اور ایران کو دیکھا اعلان کیا کہ کوئی غلام نہیں ہے۔ آقا سوائے خدا کے کوئی نہیں ہے۔غلاموں کوبرابری کے درجہ پر لانے کے لئے ہدایت کی کہ جو تم کھائو ان کو کھلائو۔ جو تم پیووہ انہیں بھی پلائو۔ جو تم پہنو وہ انہیں بھی پہنائو۔ غلامی کو ختم کرنے کے لیے یہ طریقہ ایجاد کیا کہ جب کوئی گناہ سرزد ہوتو غلام آزاد کرو۔
دوسرے قسم کی غلامی ذات ونسل کے لحاظ سے تھی، جسے اونچ اور نیچ کے نام سے ہم اور آپ ہندوستان میں دیکھ رہے ہیں۔ پیشہ ور نسلی طور پر ذلیل سمجھتے جاتے، وہ چاہے جیسا نیک کام کریں، مگر اونچے خاندان میں جو پیدا ہوا ہے، حالانکہ بدکاری بھی کرتا ہے لیکن اونچا ہے۔ مگر رسول اکرم ﷺنے کہا کوئی اونچ نیچ نسلی اعتبار سے نہیں ہے۔ برادریاں صرف جان پہچان کے لئے ہیں یہ امتیاز گھمنڈ کا اظہارکرنے کے لئے نہیں ہے۔ اللہ کے نزدیک وہی بندہ اونچا ہے جو پاک باز ہے، وہ چاہے جس نسل اورخاندان سے ہو۔ چودہ سو برس گزر گئے، آج ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ریفارمر اس اونچ نیچ کو ختم کرنے کے لئے قانون بناتے ہیں۔
گویا اتنے عرصہ کے بعد آج دنیا کو ماننا پڑرہا ہے کہ رسول اکرم ﷺنے اونچ نیچ کے بارے میں جو بات پیش کی تھی،وہ صحیح تھی۔ یورپ میں چرچ کے اندر انجیل کی تعلیم اگر کوئی کالا حاصل کرنا چاہے تو نہیں کرسکتا ہے۔ لیکن مسلمان ہوکر اگر کوئی بھی مسجد کی اگلی صف میں آکر بیٹھ جاتا ہے تو کسی سید کی بھی یہ مجال نہیں کہ اسے وہاں سے اٹھاسکے۔
آج اس امتیاز کو دورکرنے کے لئے پارلیمنٹ میں کوئی قانون بنتا ہے تو میںکہوں گا کہ ماننا ہوگا۔ رسول اکرم ﷺ کو جنہوں نے پہلے ہی فرمادیا تھا کہ’’اے لوگوں گواہ رہو کہ ساری دنیا کے انسان بھائی بھائی ہیں‘‘۔ یہ درس ہمارے رسول نے دیا۔ دنیا میں انقلاب پیدا کیا اور غلامی کی نسل سے چھٹکارا دیا۔ ہر میدان میں ہر دولت مند کو غریب آدمی کے مار ڈالنے کا حق تھا۔ رسول اکرم ﷺنے قیصر روم ہر کلیوس (ہرقل اعظم) کو خط لکھا کہ سلام ہے اس شخص پر جو ہدایت قبول کرلے۔ اے بادشاہ اسلام قبول کرلے تو محفوظ رہے گا اور اللہ تعالیٰ تجھ کو دگنا اجر دے گا ورنہ تیری رعایا کا گناہ بھی تیرے ذمے پڑے گا۔
اسی طرح ملک شام میں منذربن حارث غانی، ایران کے بادشاہ خسرو پرویز، مصر کے والی مقوقس، حبش کے نجاشی اورفرماں روائے بحریں منذربن سادی، الغرض بے شمار ممالک کے بادشاہوں تک اپنے خطوط بھیجے اورجہاں تک پیغام رسانی کا تعلق تھا اپنا فرض یوں انجام دیا تاکہ دنیا پیغام الٰہی سے آگاہ ہوکر اونچ نیچ اورطبقاتی جنگ کو ختم کردے۔
عورتوں کی جو حالت تھی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں’’کارلائل‘‘ کا کہنا ہے کہ بعثت کے قریب پادریوں میں بحث تھی کہ عورت انسان ہے کہ نہیں؟ کئی دن کی بحث کے بعد انسان تو مانا لیکن یہ فیصلہ کیا کہ یہ مردوں کا کھلونا ہے۔ ایران میں زردشت کی تعلیم ختم ہوچکی تھی جب آپ کی بعثت ہوئی تو وہاں عورت نہ کسی کی ماں تھی نہ کسی کی بیٹی۔ صرف عورت مانی جاتی تھی گویا کوئی امتیاز نہیں تھا، عورت کی کوئی عزت نہ تھی۔ لڑکی پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کردی جاتی تھی۔ ہندوستان میں عورتوں کو اپنے مردہ شوہر کے ساتھ خواہ دو دن کی بیاہی کیوںنہ ہوتی ستّی ہو جانا پڑتا تھا۔ عورت کی جگہ جگہ ذلت تھی لیکن رسول اکرم ﷺنے وراثت میں سب کو شریک کیا، مرد کا دوہرا اور عورت کا اکہرا حصہ اس لیے رکھا کہ باپ لڑکے کوپڑھاتا لکھاتا ہے تاکہ وہ خوشگوار زندگی گزار سکے اور میری خدمت بھی کرسکے کوئی باپ بیٹے کو مصیبت میں مبتلا ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔ بیٹا باپ کی قوت بازو ہوتا ہے۔
لڑکا اپنی، اپنے والدین اور اپنے بیوی بچوں کی کفالت کرتا ہے اس لیے اس کا دوہرا حصہ رکھا اورلڑکی صرف اپنی ہی کفیل ہے اورشادی کرکے دوسرے کی کفالت میں جاسکتی ہے اس لیے ازروئے انصاف اس کا اکہرا حصہ رکھا عورت اور مرد میں منصفانہ حقوق قائم کرنے کے ساتھ رسول اکرم ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ عورت گھر کی زینت ہے، وہ ضرورت پرپردہ حیا کے ساتھ باہر بھی نکل سکتی ہے لیکن کلب کی رونق نہیں بن سکتی۔ اسی کا نام اعتدال کی راہ اور صراط مستقیم ہے۔ پہلے بیوہ کو نکاح کی اجازت نہ تھی۔ مرد کو دس گیارہ شادیاں کرنے کا حق ہوتا تھا۔ رسول اکرم ﷺنے فرمایا فطرت انسانی کے بالکل خلاف ہے کہ مرد تو عورت کے مرنے پر شادی کرے اور عورت مرد کے مرنے پر نہ کرسکے۔ ہر مرتبہ بیوہ ہوجانے پر عورت کو نکاح کرنے کا حق ہے اور مرد بیک وقت اگر انصاف قائم نہیں رکھ سکتا ہے تو چار کا حق رکھتے ہوئے بھی ایک سے زائد شادی نہیں کرسکتا۔ طلاق کے مسئلے میں رسول اکرمؐ نے فرمایا۔ اگر آپس میں جھگڑا ہوجائے تو درگزر سے کام لو، طے نہ ہونے پر عزیزداروں کے فیصلہ کو تسلیم کرو۔ اگر پھر بھی مسئلہ حل ہوتے نظر نہ آئے تو طلاق دے دو مگر جو کچھ دے چکے ہو واپس نہ لو۔ بشرطیکہ وہ خوشی سے واپس نہ کردے۔
دنیا نے طلاق کا مذاق اڑایا۔ لیکن سترہویں صدی میں یورپ نے وراثت اور اٹھارہویں صدی میں طلاق کو قانونی حیثیت دے کر رسول اکرم ﷺکی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کردی۔ آج بیسوی صدی میں ہندوستان بھی ہندو کو ڈبل پیش کرکے وراثت اور طلا ق کو تسلیم کرچکا ہے۔ رسول اکرمﷺ کے چودہ سو برس پہلے کا دیا ہوا درس آج دنیا کو دہرانا پڑرہا ہے۔ درحقیقت رسول اکرمﷺ نے منصفانہ انقلاب پیدا کیا۔ دنیارفتہ رفتہ آپ ہی کے بتائے ہوئے راستہ پر آرہی ہے۔
چاروں طرف بڑی بڑی حکومتیں ہیں، سرمایہ دار اور غریب دو طبقہ میں تقسیم ہے، سرمایہ دار عیش کررہا ہے اور غریب نان شبینہ کو محتاج ہے۔ رسول اکرمﷺ نے فرمایا اے سرمایہ دار، تجھے اپنی رقم کا چالیسواں اورکاشت کا دسواں حصہ غریب کو بلا کسی جھجک کے دینا پڑے گا اگر کوئی غریب نہیں ملتا ہے خلیفہ کے پاس جمع کردینا ہوگا تاکہ غریب بھی جیتا ہے اوروراثت کے ذریعہ دولت قائم نہ رہ کر تقسیم ہوتی رہے۔ رسول اکرمﷺ نے سود کو حرام قرار دیاہے۔ آپ کا ارشاد ہے کہ پریشان حال کو قرض اگر دو تو احسان کرکے نہ دو،اس کی بے کسی سے فائدہ نہ اٹھائو۔ جو سود کھاتا ہے وہ خدا کو چیلنج کرتاہے۔ جوئے کو بھی حرام قرار دیا۔ جس کے نتائج سے دنیا واقف ہے۔
رسول اکرمﷺ کو اپنا محبوب شہر مکہ چھوڑ کر مدینہ ہجرت کرجانا پڑا وہاں پہنچ کر تین قسم کے مخالفین کا مقابلہ کرنا پڑا۔
1۔ یہود
2۔ قریش
3۔ٗ مشترکہ فتنہ وفساد، ظلم وبے انصافی
بدامنی اور بدی کو مٹانے کے لئے متعدد جنگیں لڑنی پڑیں ایک بار ایسی شرطوں پر بھی معاہدہ صلح کرلیا جو کھلے طور پر کمزوری کے مترادف تھیں مگر آپ کے ہم وطن ان شرطوں پر بھی قائم نہ رہے اور صلح کے برخلاف رسول اکرمﷺ کی پناہ میں آئے ہوئے لوگوں کو قتل کردیا گیا۔ خدا کے پیغمبر کو ان کے خلاف اقدام کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ دس ہزار کی فوج کے ساتھ مکہ پرچڑھائی ہوتی ہے ، ابوسفیان نے صلح کرنی چاہی، آپ نے فرمایا:’’ اگر ایک ایک مسلمان کوقتل کردیتے پھر بھی شاید انتقام نہ لیتا لیکن محمدﷺ نے جن کو پناہ دی ان کو قتل کردیا اسے برداشت نہیں کرسکتے۔‘‘
حضرت سعد بن عبادہ انصار کی فوج کے علمبردار تھے۔ ابوسفیان کو دیکھ کر کہا کہ ’’آج گھمسان کادن ہے، حق وباطل کا فیصلہ ہوگا، آج کعبہ حلال کردیاجائے گا۔ ابوسفیان نے رسول اکرمﷺ کو توجہ دلائی تو جھنڈا لے کر ا ن کے بیٹے کو دے دیا اور کہا جائو ابن عبادہ جائو! کہو آج جنگ کا دن نہیں ہے، آج رحمت عام کا دن ہے۔ آج کعبہ میں جنگ نہ ہوگی،آج کعبہ کو غلاف چڑھایا جائے گا، آج کعبہ کی عظمت کا دن ہے۔
رسول اکرم ﷺ مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے،قلب مبارک اپنے خدا کے فضل واحسان کے بارے سے جھگ گیا یہاں تک کہ سر اقدس اونٹ کے کجادے سے جالگا، اہل مکہ گرفتار ہوکر سامنے پیش ہوتے ہیں، پوچھا تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے، جواب دیا کہ ہم بہادر ہیں! آپ کے ساتھی اگر ہماری گرفت میں آتے تو ہم سب کو قتل کر ڈالتے اور یہی آپ کو بھی حق ہے۔ آ پ نے ارشادفرمایا میں تمہیں قتل کروں؟ خدا نے تو اتنی بھی اجازت نہیں دی کہ تمہیں ملامت کروں۔
’’آج تم پر کوئی الزام نہیں ہے جائو تم ہر جرم وخطا سے بری ہو آج تم پر کوئی گرفت نہیں!‘‘
مشکیں کھول دی گئیں اور سب آزاد کردئیے گئے ۔ یہ تھی رحمت عالم کی شفقت لاانتہا!
مورخ کہتا ہے کہ تین دن کے بعد اہل مکہ داخل ہوئے اورکہا کہ ہاتھ بڑھائیے تاکہ ہم اسلام لے آئیں۔ ارشاد ہوا کہ تین دن کے بعد کیوں آئے جواب دیا کہ مشکیں کھولنے کے فوراً بعد ہی اسلام لے آتے تو دنیا کہتی مرعوب ہوکر ایسا کیا اور ہمیں یہ بھی دیکھنا تھا کہ دنیا کے دکھانے کے لیے تو درگزر نہیں کیا گیا ہے۔ مبادا دھوکا ہی دیا گیا ہو۔ بعد میں پکڑ کر قتل کردیا جائیں۔ لیکن آج ہم مطمئن ہوکر آئے ہیں اور خوشی کے ساتھ اسلام قبول کررہے ہیں۔
حضرت سلیمانؑ اور حضرت دائود نے بادشاہی کی اور حضرت موسیٰؑ نے فرعونی طاقت کے سامنے استقلال اور مردانگی کا مظاہرہ کیا اور حضرت عیسیٰؑ نے کہا(کہ ایک گال پر اگر کوئی تمہارے طمانچہ مارے تو دوسرا بھی پیش کردو)رسول اکرمؐ نے دونوں چیزیں پیش کیں کہ بدلہ برابر کا لو۔ اگر معاف کردو تو اللہ کے نزدیک سب سے محبوب کام ہے، لیکن زیادتی کسی حالت میں نہ کی جائے۔
آپ نے فرمایا کہ رہبانیت اورجوگی بننے کی اسلام میں ضرورت نہیں ہے۔ پہاڑ کی کھوہ میں عبادت کرنے والے سے وہ بہتر ہے جو بچوں میں رہ کردنیاداری کے ساتھ خدا کو نہ بھولے۔ انسان کی تخلیق فطرت الٰہی پر ہوتی ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کرسکتا۔ اسلام نے جماعتی زندگی بخشی ہے۔ جماعت کے ساتھ نماز، ایک ہی مہینہ میں روزوں کی اجتماعی طور پر تکمیل، ایک ہی مہینہ میں فریضہ زکوۃ کی ادائیگی اور اسے اجتماعی طور پربیت المال میں جمع کرنا، ایک ہی وقت میں اجتماعی طور پر حج کی ادائیگی۔ یہ سب اسلام کی بخشی ہوئی اجتماعی زندگی کے مظاہرے ہیں۔ میدان عرفات میں دنیا کے گوشے گوشے کے ہزاروں زبانیں بولنے والے آتے ہیں، لیکن وہاں ایک ہی زبان میں نماز پڑھتے ہیں۔ جس سے عالمگیر اجتماعیت کا مظاہرہ ہوتاہے۔
اگر ہم جماعتی زندگی بنالیں تو عزت ورنہ رسوائی۔ اللہ کی رسی ایک ساتھ مل کرپکڑنے سے یہی مراد ہے کہ جماعتی زندگی بنائو!
کاش ہم سب رسول پاکﷺ کی سیرۃ سے سبق لیں اورخدا ے پاک ہم کو اورآپ کو اس کی توفیق مرحمت فرمائے۔
[سیرت سرکار دو عالم ﷺ پر حضرت مولانا حفظ الرحمن صاحبؒ نے یہ تقریر 29نومبر 1959ء کو نانپارہ ضلع بہرائچ میں ارشاد فرمائی تھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آج کے حالات میں وہ اسوہ رسول کریمؐ کے مختلف پہلوئوں کو کس طرح پیش فرمایا کرتے تھے۔]

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}