سیرت رسولﷺ کے چار اہم پہلو اور عصری تقاضے — صاحبزادہ محمد امانت رسول

دور حاضر میں سیرت رسول ﷺکے چار پہلو مسلمانوں کیلئے بہت ہی اہمیت کے حامل ہیں۔
-1 مثبت سوچ اور رویہ:
آپ ﷺکے خلاف جتنی بھی سازشیں کی گئیں ‘ راستے میں کانٹے بچھائے گئے‘ اونٹ کی اوجھڑی ڈالی گئی‘ پتھر برسائے گئے‘ کوڑا ڈالا گیااور آپ سے زبانی بدکلامی کی گئی لیکن آپ نے کبھی معاشرے کی بہتری اور فلاح کو ترک نہ کیا حتیٰ کہ اپنے رفقاء کو بددعا سے بھی منع فرمایا۔ کفار و مشرکین‘ منافقین ‘ یہودو نصاریٰ نے آپ کو تکلیف دینے کا ہر طریقہ اختیار کیا‘ آپ نے کبھی ان سے انتقام کا راستہ اختیار نہ کیا‘ درحقیقت مشکلاتِ زندگی ایک صالح انسان کو اسے اپنے مقصد سے ہٹانے کیلئے آتی ہیں لیکن مثبت لوگ ہمیشہ اس سوچ ‘ رویئے اور کارروائی سے باز رہتے ہیں جو انہیں اپنی منزل سے دور کر دیں۔ میں یہاں شب ہجرت کا ذکر ضرور کروں گا جب کفار و مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا فیصلہ کر لیا تو آپﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلا کر فرمایا : ’’میرے ذمہ بہت سی امانتیں ہیں‘ تم میری جگہ سو جائو اور امانتیں ادا کر کے مدینہ پہنچ جانا۔‘‘ اندازہ کیجئے ! مخالفت کے باوجود ان لوگوں کو آپ کی صداقت پہ کتنا بھروسہ تھا کہ اپنی امانتیں آپ ﷺ کے پاس رکھواتے ۔ مثبت عمل کا نتیجہ ہمیشہ اچھا ہی ہوتا ہے‘ دشمنیوں اور عداوتوں کے باوجود آپ ﷺ نے اپنے دشمنوں کا بھلا ہی سوچا‘ انہیں دنیا میں نقصان نہ پہنچایا اور ہمیشہ ان کیلئے ایمان کی دعا فرمائی۔
-2ردعمل نہیں عمل :
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ زندگی کی بنیاد عمل پر رکھنی چاہیے۔ میں
نے پہلی بات جو عرض کی وہ دوسری بات سے بالکل جدا ہے۔ ردعمل کی سوچ اجتماعی عمل کو بانجھ کر دیتی ہے‘ قوم ردعمل کیلئے کسی بڑے حادثے کا انتظار کرتی ہے۔ جب کوئی حادثہ ہوا‘ قوم اٹھتی اور ردعمل ظاہر کرتی پھر سو جاتی ہے‘ اسے اس خواب غفلت سے پھر کوئی حادثہ ہی اٹھا سکتا ہے۔ ردعمل کا رویہ قوم کے اعصاب و ارادے کو شل کر کے رکھ دیتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک خدائی پروگرام کے مطابق احسن طریقے سے اپنے مقصد کی طرف بڑھتے رہے‘ آپ عمل کرتے رہے‘ مخالف ردعمل کرتے رہے‘ آپ نے قرآن مجید سنایا‘ انہوں نے ردعمل میں شاعری کا الزام لگایا‘ آپ نے توحید کی تعلیم دی ‘ انہوں نے شرک کا پرچار کیا‘ آپ نے اسلام کی دعوت دی‘ کفار نے دعوت کا انکار کیا‘ مسلمانوں نے ہجرت کی انہوں نے تعاقب کیا‘ مسلمانوں نے سرعام تلاوت کی‘ کفار نے اذیت دی‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدات کیے انہوں نے معاہدہ شکنی کی‘ اسلام پھیلتا رہا وہ روکنے کی کوشش میں لگے رہے‘ پیغمبرخدا اور مسلمان عمل میں رہے‘ کفار و مشرکین ردعمل میں رہے‘ وقت نے ثابت کر دیا کہ جیت عمل کرنیوالوں کی ہوتی ہے۔ ردعمل کرنیوالے ناکام ہوتے ہیں کیونکہ انکو بیدار رکھنے کیلئے ہمیشہ ایمرجنسی حالات کی ضرورت ہے اور ایسے حالات ہمیشہ رہتے نہیں ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی خفیہ صلاحیتوں کو جگایا‘ انہیں ایک باعمل انسان بنایا‘ انہیں وہ سوچ دی جو عمل پر مبنی تھی۔اس حوالے سے‘ کثیر واقعات ہماری رہنمائی کرتے ہیں کسی کافر ‘ منافق یا مشرک نے آپ کی شان میں گستاخی کی‘ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی ہمیں حکم دیجئے !ہم اس گستاخ کی گردن سر تن سے جدا کر دیں لیکن آپ نے منع فرمایا اور معاف کرنے کو ترجیح دی چونکہ یہ ردعمل کا نتیجہ تھا اس لئے آپﷺ نے اس سے منع فرمایا اور ہمیں تعلیم دی کہ ناقابل برداشت حالات میں ردعمل نہیں… عمل کی بنیاد پہ سوچو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے عمل کو عارضی غصہ‘ وقتی کیفیت اور جذباتی حالت ختم کر دے‘ تم اپنی طاقت و صلاحیت کو عمل کیلئے جوڑ کر رکھو‘ یہ دنیوی اور اخروی ترقی کیلئے ذریعہ بنے گی۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ دوران جنگ ایک کافر سپہ سالار کے سینے پہ قتل کرنے کیلئے چڑھ بیٹھے ‘ اس نے فوراً تھوک دیا‘ آپ اسی وقت اس کے سینے سے اٹھ گئے ‘ اس نے کہا میں خدا کا دشمن ہوں اور میں نے آپ کی بھی گستاخی کی‘ آپ مجھے بیدردی سے قتل کر دیتے لیکن آپ اٹھ کھڑے ہوئے۔ آپ نے فرمایا میں اس لئے اٹھ کھڑا ہوا کہ میری دشمنی کی وجہ یہ ہے کہ تو دشمنِ خدا ہے لیکن جب تو نے تھوکا تو میری ذاتی عداوت بھی اس میں شامل ہو گئی۔ یہ واقعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ہے لیکن اس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا یہ پہلو بھی اجاگر ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے صحابہ کی تعلیم و تربیت کیسی تھی؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عمل کرنا سکھایا تھا۔ امت مسلمہ کو سیرت سے یہی سبق حاصل کرنا ہے کہ بین الاقوامی معاملات ہوں یا ملکی‘ سیاسی ہوں یا مذہبی‘ ردعمل کی پالیسی اختیار نہیں کرنی اور نہ ہی اپنی سوچ اور رویے کو اس کے تابع کرنا ہے‘ بس ہم نے عمل کیے جانا ہے کیونکہ عمل میں Originality ہے‘ ردعمل اشتعال و برانگیختی کا نام ہے‘ اس کا نتیجہ سوائے ضیاعِ وقت و صلاحیت کے اور کچھ نہیں ہے۔
-3تصادم سے گریز:
آ پ ﷺنے ٹکرائو اور تصادم سے احتراز کیا‘ مکی زندگی ہو یا مدنی زندگی آپ نے بلاتفریق سب سے صلح جوئی کا راستہ اختیار کیا‘ مخالف فریق کی شرائط کو تسلیم کیا‘ اگرچہ وہ خود آپ کے اور آپ کے صحابہ کے خلاف تھیں ‘ آپ نے اس حد تک جا کر بھی یہ بتا دیا کہ میں کسی قیمت میں تصادم نہیں چاہتا مثلاً صلح حدیبیہ کے موقع پر جو شرائط لکھی گئیں وہ بظاہر مسلمانوں کے مفاد کے خلاف تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اسی سے ’’خیر‘‘ پیدا فرما دی۔ آپ نے ہمیشہ امن و سلامتی کی تمنا فرمائی۔ Confrontation سے آ پ نے ہمیشہ گریز کیا۔ جہاں تک جنگوں کا سوال ہے وہ بھی مسلمانوں پر مسلط کی گئیں ‘ جب کفار و مشرکین نے مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا ارادہ کر لیا تو مسلمانوں کو جنگ کی اجازت دی گئی‘ رب تعالیٰ کی طرف سے مدنی دور میں جنگ کی اجازت دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اجازت دشمن کی جنگی تیاریوں اور ان کی طرف سے ہونے والے مذہبی جبر کے باعث دی گئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ’’عافیت‘‘ کا سوال کیا اور اسی بات کی تلقین فرمائی۔ فتح مکہ کے دن جب کسی نے اسے جنگ و سزا کا دن قرار دیا تو آپ نے فرمایا نہیں یہ رحمت کا دن ہے‘ حالانکہ فتح مکہ کے روز کفار آپ کے سامنے محکوم قوم کی حیثیت رکھتے تھے لیکن آپ نے اس دن بھی ٹکرائو سے پرہیز کیا بلکہ سب کو معاف فرما دیا۔ مسلمانوں کی حالت کوئی بھی ہو اسے ہر طرح جانی‘ مالی نقصان سے خود کو بچانا ہے ‘ اپنے آپ کو خوامخواہ مشکل و امتحان میں ڈالنا خدا و رسول کو پسند نہیں ہے اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو راستوں کا اختیار ہوتا تو آپ دونوں میں سے وہ راستہ اختیار فرماتے جو سب سے زیادہ آسان ہوتا۔ آپ نے یہی فرمایا:
یسروا ولا تعسروا
بشروا ولا تنفروا
’’آسانیاں پیدا کرو‘ تنگی پیدا نہ کرو‘
بشارت دو‘ متنفر نہ کرو۔‘‘
ممکنہ حد تک غیر مسلم اقوام سے تصادم سے بچنا یہ سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے‘ تصادم سے پرہیز ہی دعوت اسلام کے امکانات کو بڑھاتا ہے‘ ٹکرائو سے بچنا ہی غیروں کے دلوں میں مقام بنانے کا سبب ہے‘ اسلام محبت سے پھیلا اور اب بھی پھیلے گا۔
-4 نظام اجتماعی:
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ و مدینہ کے نظام اجتماعی کو یکلخت نہیں بدلا۔ آپ نے ایک ہی وقت میں سب محاذ نہیں کھولے‘ آپ نے مکہ میں لوگوں کو توحید کی دعوت دی انہیں خدا کی طرف بلایا‘ جو رویے بنیادی حقوق کے خلاف تھے ان کی نشاندہی فرمائی اور چند افراد ایسے تیار فرمائے جو ’’بنیادی حقوق‘‘ کا خیال رکھنے والے اور غیر انسانی رویوں سے پاک تھے۔ آپ نے ان کے سیاسی نظام کو جو قبائلی نظام پہ مشتمل تھا اسے غیراسلامی قرار نہیں دیا کیونکہ اس نظام میں خوبیاں بھی تھیں۔ اس نے لوگو ں کو آپس میں باندھ کر رکھا ہوا تھا‘ اس نظام میں سردار و قبیلہ کا تصور تھا‘ لوگ بڑوں کے فیصلے کو سنتے اور مانتے تھے۔ وہ قوم صحرا ٔ و ریگستان کے ماحول میں پرورش پاتی اور جوان ہوتی‘ ان کی عادات و خصائل میں وہی وسعت و جفاکشی موجود تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے Talent کو اسلام کیلئے استعمال فرمایا‘ ایسے طریقہ کار اختیار نہ فرمایا اور نہ اپنے ماننے والوں کو اختیار کرنے دیا جو نظام اجتماعی کے خلاف ہو جس سے کچھ کرنے کے مواقع کم اور خوامخواہ کے مسائل کے اضافے کے امکانات زیادہ ہوں۔
یہ نکتہ اس حوالے سے بہت اہم ہے کہ ہمارے مصلحین و مبلغین معاشرے کو اخلاقی بنیادوں پر کھڑا نہیں کرتے اور نہ ہی لوگوں کی اصلاح کا کام کرتے ہیں لیکن نظام اجتماعی جو اپنی بسیار خامیوں خوبیوں کے ساتھ کام کر رہا ہوتا ہے اس کو بدلنے کیلئے ایک ایسی جنگ چھیڑ بیٹھتے ہیں جس سے خرابیوں میں اضافہ اور وہ اپنی صلاحیت اور وقت کو بے فائدہ جنگ میں جھونک دیتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے لوگوں کی اخلاقی اقدار کی بنیاد پر اصلاح کا کام کیا‘ اس بات کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ آپ ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں کرپشن‘ بدعنوانی‘ جھوٹ‘ فریب‘ دغا بازی ‘ زناکاری ‘ شراب نوشی‘ حق تلفی‘ ظلم و زیادتی ‘ انسانی حقوق کی پامالی‘ زمینوں پر قبضہ‘ غبن مال‘ ملاوٹ‘ رشوت ستانی اور ذخیرہ اندوزی جیسی برائیاں ہیں۔ لوگ معاملات میں کمزور ہیں‘ لوگوں کی فقط اخلاقی حالت ہی نہیں بلکہ علمی‘ فکری صلاحیت بھی زنگ آلود ہو چکی ہے‘ اصابت رائے اور وسعت خیال ناپید ہو چکے ہیں ‘جہاں لوگوں کے کردار کا یہ عالم ہو تو سب سے پہلے ایک مفکر‘ مصلح یا انقلابی شخصیت کو کیا کرنا چاہیے ؟ واضح بات ہے ہر شخص یہی کہے گا کہ اسے معاشرے کی اصلاح کرنی چاہیے‘ وہ اصلاح علم‘ اخلاق اور فکر کی بنیاد پہ ہونی چاہیے‘ جب مصلحین یہ فریضہ سر انجام دیتے ہیں‘ اگلے مرحلے کیلئے معاشرہ خود تیار ہو جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا کیا کہ سب سے پہلے افراد سازی کا فریضہ سرانجام دیا‘ افرادسازی کے بعد معاشرے کے نظام اجتماعی میں جو خرابیاں تھیں ان کا علاج بھی خودبخود ہوتا چلا گیا۔
ہمارے مسلم ممالک میں ترجیحات برعکس ہیں جو کام ہمیں سب سے پہلے سرانجام دینا ہے ‘ اس کے نشانات دور دور تک دکھائی نہیں دیتے اور جو کام نتیجتاً خودبخود ہو جاتا ہے‘ اس کیلئے ہم اپنا سب کچھ کھپا دیتے ہیں۔ سب سے پہلے‘ ہم نظام کو چیلنج کرتے ہیں جس وجہ سے مسلم ممالک میں غیرضروری مسائل نے جنم لیا ہوا ہے‘ مذہبی رہنما اسلام کے نام پہ حکمرانوں کو للکارتے اور نظام بدلنے کی بات کرتے ہیں حالانکہ جس نظام کو بدلنے کی بات کرتے ہیں اس کیلئے ذہن سازی اور افراد سازی بہت ضروری ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت رہنمائی کرتی ہے کہ سب سے پہلے نظام نہیں افراد بدلے جاتے ہیں ایسے افراد تیار کیے جاتے ہیں جو نظام اجتماعی میں ترمیم کرتے‘ اس کی خوبیوں کو باقی رکھتے اور خامیوں کو دور کرتے ہیں۔ ایسے لوگ تیار کیے جاتے ہیں جو نظام دیتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت بتاتی ہے اگر ابوجہل ‘ ابولہب کے ہوتے ہوئے نظام بدلنے کی تحریک بھی چلائی جائے تو فائدہ مند ثابت نہیں ہو گی‘ فائدہ تب ہو گا اگر پہلے ابوبکر‘ عمر‘ عثمان اور علی رضی اللہ علیہم اجمعین جیسے لوگ تیار کر لئے جائیں۔
میں نے سیرت کے یہ چار اہم پہلو موجودہ حالات کی روشنی میں نقل کیے ہیں۔ آپ نے ان چار پہلوئوں کا مطالعہ کر لیا ‘ اب آپ کا کام یہ ہے کہ آپ اس پہ غور و فکر کریں اور کوشش کریں اس رویے اور طرز عمل سے پرہیز کریں جو ہمیں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف دکھائی دے۔ تعصبات خواہ سیاسی ہوں یا مذہبی‘ گروہی ہوں یا ذاتی ان سب کی سیرت کے باب میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہم ایسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں جنہوں نے تعصبات سے بالا ہو کر خالص دین کی اشاعت و دعوت کیلئے زندگی بسر کی۔ ہم پر بھی لازم ہے کہ ہم بھی ایسے مسلمان بنیں جو اپنے ماحول و حالات سے بالا ہو کر سوچیں‘ لکھیں اور عمل کریں۔ اھدنا الصراط المستقیم۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}