حضورِاکرم ﷺ کا سفرِطائف ۔۔۔ مولانا مناظر احسن گیلانی

یہ نہیں سنتے شاید دوسرے سنیں۔یہاں جی نہیں لگتا، شاید وہاں لگے،کچھ یہی سوچ کرزیادہ دور نہیں بلکہ اُمرا ء کےگرمائی اسٹیشن طائف کا خیال آیا۔ زیدبن حارثہ آزاد غلام کےسوا ساتھ بھی کوئی نہ تھا، حجاز کی سب سے بڑی دولت مند عورت خود بھی جاچکی تھیں اور جو کچھ نہ تھا ان ہی راہوں میں جن پر وہ صرف ہورہا تھا، صرف ہوچکا تھا سب کچھ جاچکا تھا اتنا بھی باقی نہ تھا کہ طائف تک کے لئے کوئی سواری ہی کرایہ پر کرلی جائے۔
معمولی دوچپلوں کے سوا پائے مبارک کے لئے راستہ کو آسان کرنے والی کوئی چیز نہ تھی، اسی حال میں پہنچتے پہنچتے ہی اونچی دکانوں والوں کے پاس آئے، جس لئے آئے تھے اس کا اظہار کیا گیا۔ پھر تمام تجربوں میں یہ آخری تجربہ تھا کہ جس کسی کے پاس گئے اسی نے پلٹایا، جس سے بولے اسی نے جھڑکا حالانکہ کم ازکم اجنبی لوگوں کا سلوک ابتداً آپ کے ساتھ کبھی ایسا نہ تھا اور نہ روحانی از پیغمبر کے مزوں کے ہوتے ہوئے ابتدا ًفطرت بشری ایسا کرسکتی ہے مگر یہاں بھی دکھایا جارہا ہے اور عجیب شانوں کے ساتھ دکھایا جارہا ہے جنہیں کچھ نہیں آتا زبانوں پر منطق جاری ہوئی جسے سفر کے لئے ایک گدھا بھی میسر نہیں، کیا خدا کو اس کے سوا رسول بنانے کے لئے اورکوئی نہیں ملتا تھا!
ٹوٹے ہوئے دل کے لئے یہ پہلا تیر تھا جو امارت کے نشہ میں چور ایک امیر کی زبان سے نکلا۔
’’ردا ء کعبہ کے تار بار ہوجائیں گے اگر خدا نے تمہیں رسول بناکر بھیجا ہے‘‘۔
کعبہ کی عظمت جس کی نگاہ میں ان بتوں کے ساتھ وابستہ تھی جو مختلف قبائل کی خدائی کے نام سے وہاں رکھے گئے اور اس کے خیال میں ان ہی بتوں نے سارے عرب کو کعبہ کے ساتھ باندھ رکھا تھا۔ اس نے اپنا یہ سیاسی نظریہ پیش کیا۔ تم اگر رسول ہوتو میں اس کا مستحق نہیں ہوںکہ تم سے بولوں، اور اگر نہیں ہوتو میری ذلّت ہے کہ کسی جھوٹے سے بولوں۔‘‘
یہ ان میں سے تیسرے کی منطق تھی‘‘ جو سب کے لئے تھا اور سب کے لئے ہے قیامت کے لئے ہے، کیسا درد ناک نظارہ ہے۔ اسی کو سب واپس کررہے تیز وتلخ جملوں کے ساتھ واپس کررہے تھے۔ بات اسی پر ختم نہ ہوگئی کہ انہوں نے جو پیش ہوا تھا۔ اس کو صرف رد کردیا، بلکہ آگ میں پھاندنے والوں کی جو کمریں پکڑ پکڑ کر گھسیٹ رہا تھا وہی کمر کے بل گرایا جاتاتھا۔ گھٹنے چور ہوگئے، پنڈلیاں گھائل ہوگئیں، کپڑے لال، معصوم خون سے لال ہوگئے نو عمر رفیق نے سڑک سے بے ہوشی کی حالت میں جس طرح بن پڑا اٹھایا پانی کے کسی گڑھے کے کنارے لایا جوتیاں اتارنی چاہیں تو خون کے گوندسے وہ تلوے کے ساتھ اس طرح چپک گئی تھیں کہ ان کا چھڑوانا دشوار تھا۔
اور کیا کیا گزری، کہاں تک اس کی تفصیل کی جائے خلاصہ یہ ہے کہ طائف میں وہ پیش آیا جو کبھی نہیں پیش آیا۔
لیکن کیا طائف کی بات صرف اسی پر ختم ہوجاتی ہے، سڑک مڑ رہی تھی لیکن لوگوں نے راستہ کو سیدھا خیال کیا، چوراہے پرکھڑے تھے لیکن کوئی نہیں ٹھٹکا حالانکہ بخاری میں سب سے بڑی مصیبت کے سوال میں جب یہ ذاتی اقرار موجود تھا۔
کان اشد مالقیت منھم یوم العفۃ۔ سب سے زیادہ سخت اذیت ان سے (نہ ماننے والوں) سے مجھے اس گھاٹی میں طائف کے۔اذامرضت نفسی علی ابن عبدیالیل پہنچی جس دن میں نے عبدیالیل کے بیٹے پر اپنے کو پیش کیا تھا تو لوگوں نے اُحد اور اُحد کے پہاڑوں کو کیوں یاد کیا، لیکن جو احد کے مقابلہ میں طائف کو یاد کرتا تھا اس کو سب بھول گئے ، پوچھا بھی گیا تھا۔
ھل اتی علیک یوم کان اشد علیک من احد،(کیا آپ پر اُحد کے دن سے بھی زیادہ سخت دن آیا؟)
اسی کے جواب میں جس پر گزری اس نے طائف پیش کیا، تو جن پر نہیں گزری اب ان سے کیا پوچھا جائے۔
اورواقعہ بھی یہی ہے کہ ٹھیک جس طرح ابی طالب کی گھاٹی میں جو ایک طرف سے دبایا گیا تو دوسری طرف میں وہ پھولا اور اتنا پھولا کہ ارض وسماوات سفلیات وعلویات، مرئیات وغیر مرئیات حتی کہ جس پر سب ختم ہوتے ہیں منتہیٰ کا یہ سِدرہ بھی اسی کے احاطہ میں آگیا۔
بجنسہ کچھ اسی طرح طائف کیا گھاٹی میں جو واپس کیا گیا کہ جن سے ملتے وہی پھٹتا، جس سے چمٹتے وہی سمٹتا، جس کو بلاتے وہی دردراتا جس سے جوڑتے وہی توڑتا انکار کی یہ آخری حد تھی، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کائنات کا ذرہ ذرہ آپ سے ٹکرارہا ہے جو ہے رد کررہا ہے۔
اگر یہ ہورہا تھا اور دن کی روشنی میں ہورہا تھا تو کیوں نہ سمجھا گیا کہ جس قدرت کے ہر منفی قانون کی انتہا مثبت پر ہوتی ہے جس کے ہر عمل کی تان ردعمل پر ٹوٹتی ہے’’عمل درعمل‘‘ کی گتھیوں میں گتھی ہوئی اس دنیا میں جب یہ واقعہ ہی ہورہا تھا تو بلاشبہ صفا کے دامن سے جس انکار کی ابتدا ہوئی تھی، طائف کی اس گھاٹی میں اس کی انتہا ہوگئی۔
جو رد کیا گیا ہے ، قبول کیا جائے گا، جو ہنکایا گیا ہے، بلایا جائے گا، جو گرایا گیا ہے اٹھایا جائے گا، عقل کا مقتضی تھا کہ ایسا ہوتا اور شاید کہ ایسا ہی ہوا ۔ مگر اس دنیا کی ریت یہی ہے کہ مسبب ہمیشہ سبب کے رنگ میں آتا ہے اصل نقل کے بھیس میں آتا ہے ، کس قدر عجیب ہے، امتحان وابتلا کی طویل زندگی میں پڑرہی تھی اور جھیل رہا تھا‘‘۔ اس نظارہ کے سوا اور کوئی تماشا کبھی پیش نہیں ہوا۔ لیکن جب مکہ کے ان ہی واقعات کا تکملہ طائف میں ہوتا ہے تو دیکھو جو شروع ہوا تھا۔ وہ اپنے انتہائی نقطہ پر پہنچ کر ختم ہوگیا۔
زیدؓ نے تو شہر سے باہر نکال کرخون سے لتھڑے ہوئے جسم کو دھودھاکر صاف کیا سامنے کے ایک باغ میں کچھ آرام لینے کے لئے پہنچایا۔ جہاں زخموں سے خستہ وبے جان، بھوک پیاس سے نڈھال ، پردیسی مسافر کی مہمان نوازی انگور کے چند خوشوں سے کی گئی جس سے دل ٹھکانے تو کیا ہوگا، لیکن صلاحیت پیدا ہوگئی کہ قدم اٹھاسکیں۔ لیکن قرن الثعلب کے موڑ تک پہنچے تھے کہ ناتوانی نے بٹھادیا۔ سرپکڑ کر بیٹھ گئے اور وہی جو انکار کے عمل کو آخری حد پر پہنچا کر اب ردعمل کا آغاز کرنا چاہتا ہے،دس بارہ سال کی خاموش زبان میں جنبش پیدا کرتا ہے، جوبند تھی کھل گئی، طوفان امنڈپڑا اس وقت وہاں کون تھا جوسنتا کہ کیا مل رہا ہے تاہم غالباً زید ہی کے ذریعے سے چند الفاظ حافظوں میں اب تک باقی ہیں سال ہاسال کے صبر وسکون کی چٹان پھوٹی۔ اور اس سے یہ فوارہ چھوٹنے لگا۔
میرے اللہ’’تیرے پاس اپنی بے روزی کا شکوہ کرتا ہوں، تیرے آگے اپنے وسائل وذرائع کی کمی کا گلہ کرتا ہوں، دیکھ! انسانوں میں میں ہلکا کیا گیا، لوگوں میں میری کیسی سبکی ہورہی ہے، اے سارے مہربانوں میں سب سے مہربان مالک میری سن! میرا زور میرا رب تو ہی ہے، مجھے تُوکن کے سپرد کرتا ہے، یا تُونے مجھ کو اور میرے سارے معاملات کو دشمنوں کے قابو میں دے دیا؟ پھر بھی اگر مجھ پر تیرا غصہ نہیں ہے تو مجھے ان باتوں کی کیا پروا، مگر کچھ بھی ہو، میری سمائی تیری عافیت ہی کی گود میں ہے، تیرے چہرے کی وہ جگمگاہٹ جس سے اندھیریاں روشنی بن جاتی ہیں، میں اسی نور کے پناہ میں آتا ہوں کہ اسی سے دنیا وآخرت کا سدھار ہے، مجھ پر تیرا غصہ بھڑکے اس سے پناہ مانگتا ہوں مجھ پر تیرا غضب ٹوٹے اس سے تیرے سایہ میں آتا ہوں،منانا ہے، اس وقت تک منانا ہے جب تک تو راضی نہ ہو، نہ قابو ہے، نہ زور ہے،مگر علی وعظیم اللہ ہی ہے‘‘۔
یہ چند نظرات ہیں جو اس دن کی موجوں سے محفوظ رہ گئے ہیں ورنہ کون جانتا ہے کہ کیا کیا کہا گیا، کہلوایا گیا؟
پس سچ وہی ہے جسے کہتا آرہاہوں کہ منفی قانون ختم ہوچکا تھا، طائف کی گھاٹیوں میں ختم ہوچکا تھا اور قطعاً ختم ہوچکا تھا کہ اس کا جو مقصد تھا وہ پورا ہوچکا۔ اندر باہر آگیا، پوری طاقت سے آیا، ہر شکل میں آیا ہر صورت میں آیا،
’’دے کر بھی دیکھا گیا اورپورے طور پر دیکھا گیا
لے کر بھی جانچا گیا اورجی بھر کے جانچاگیا‘‘
سال دو سال نہیں، ایک جُگ ایک قرن سے زیادیا موقعہ دیا گیا، تاکہ ٹھونکنے والے ٹھوک لیں، بچانے والے بچالیں، کسنے والے کس لیں، تانے والے تالیں، آزمائش کی کونسی بھٹی تھی جس میں قدرت کے ہاتھ کا پیدا کیا ہوا یہ زر خالص نہیں ڈالا گیا۔ حرارت کا کون سادرجہ ہے جو اس کی غیر معمولی لاہوتی حقیقت کو نہیں پہنچایا گیا، جو کچھ کرسکتے تھے سب کرلیا گیا، اس کے آگے کیا کچھ اور بھی سوچا جاسکتا ہے؟ جنہیں تمہیں مکی زندگی کے ان سالوں میں مسلسل تابڑتوڑ‘‘ پیہم صدق ودیانت کے اس بے نظیر سر چشمہ کے ساتھ ہوتے نہیں دیکھا شہادتیں تام ہوگئیں گواہیاں پوری ہوچکیں، تجربات مکمل طور پر مہیا ہوچکے، مشاہدات اکٹھے ہوچکے الغرض عام امکان میں جو کچھ ہوسکتا تھا سب ہوگیا۔ منفی قوانین اپنے سارے حقوق لے کر اپنے حدود کے آخری بالکل آخری نقطہ پر پہنچ کر ختم ہوچکے تھے۔
یقینا وہی وقت آگیا تھا اور اب نہ آتا تو کب آتا کہ واقعات کے دوسرے رخ کا آغاز ہو۔
پس وہی چیز جس سے ہر چیز الگ کی گئی، کائنات کا ہر ذرہ جس سے ٹکرایا اور پوری شدت سے ٹکرایا کہ صبروسکون کے پہاڑ سب سے بڑے پہاڑ میں بھی جنبش پیدا ہوئی۔ انتظار کرو کہ اب اسی کے ساتھ ہرچیز لپٹے جس سے بھاگے تھے اس کی طرف سب دوڑیں جس سے سب جدا ہوئے اسی سے سب آکر ملیں، جس سے سب ٹوٹے اسی سے سب جٹیں۔ جس سے سب پھٹے، اسی سے سب چمٹیں، جنہوں نے دوڑایا وہی اب اس کو پکاریں اور بے کسی کے ساتھ پکاریں جس سے سب بھنچے، آسمان اب اسی کی طرف ہاں اسی کی طرف سب کھنچیں، پوری طاقت کے ساتھ کھنچیں، زمین کھنچے آسمان کھینچے فلک کھینچے ملک کھنچیں جن وانس کھنچیں الغرض جو چیزیں کھچ سکتی ہیں سب کھنچیں او ردیکھو! کیا یہی نہیں ہورہا ہے شاعری نہیں واقعہ ہورہا ہے میں نہیں امام بخاری کہہ رہے ہیں۔
جو زمین پر چھوڑا گیا تھا اور ہرطرف سے چھوڑا گیا تھا، اسی کے مبارک قدموں سے سب کو جوڑنے کے لئے ملاء اعلیٰ میں جنبش ہوتی ہے ، سلسلہ ملکوت کے ارتقائی نقاط کا آخری نقطہ’’الجبرائیل الامین‘‘ کودکھایا گیا کہ وہ پکار رہے ہیں؟۔
سن لیا اللہ نے سن لیا، آپ کے لوگوں نے جوکچھ آپ کو کہا‘‘۔
پھر اسی سے جس کو سب نے لوٹایا تھا، خطاب کیا گیا۔
’’اور جنہوں نے آپ کو رد کیا، اور پھینکاوہ بھی اللہ سے غائب نہ تھے۔
جبرئیل امین نے عرض کیا’’قدبعث الیک ملک الجبال‘‘ اللہ نے آپ کے پاس پہاڑوں کو نہیں بلکہ پہاڑوں کے فرشتہ کو بھیجا ہے۔
جس سے سب لیا گیا تھا، اب اس کو سب دیا جاتا ہے اور کس ترتیب سے دیا جاتا غیب میں بھی ملاادنیٰ سے پہلے ملا اعلیٰ کا وہ قدوسی وجود جو روحانیوں کا سردار ہے اور شاید جو دائرہ ملکوت کا نقطہ پر کار ہے، وہ دیا جاتا ہے اس کے بعد ملاء ادنی کے فرشتے ملک الجبال کی تسخیر کی بشارت سنائی جاتی ہے اور کیسی تسخیر جبرئیل امین عرض کرتے ہیں۔
’’یہ پہاڑ کا فرشتہ ہے ، آپ جو حکم دیجیے وہ بجا لائے گا‘‘
پہاڑ کا فرشتہ حوالہ کردیا گیا جس کے سلام کے جواب میں بازار طائف کے چھچھورے تک پتھر پھینکتے تھے۔ ردعمل کی پوری قوت کا اندازہ کرو خود فرماتے ہیں‘‘ ۔ اس پہاڑ کے فرشتے نے مجھے سلام کیا۔‘‘ سلام عرض کرکے جومسخر کیا گیا تھا فرمان طلب کرتا ہے’’یامحمد ذالک لک‘‘(اے محمدؐ آپ کو پورا اختیا رہے۔)
کس امر کا اختیار ہے، اف! جنہوں نے سنگریزوں سے مارا تھا۔ پہاڑ کا فرشتہ اجازت طلب کرتا ہے۔
کیا ان پرطائف کے ان پتھر مارنے والوں پر، ان دونوں پہاڑوں کو جن سے طائف محصور ہے، الٹ دوں؟‘‘
جس کو ذرائع ووسائل کی قلت کا گلہ تھا اس کے سازوسامان کی فراوانی کا اندازہ کرو! یہ تجاری میں کیا ہے؟ جس کے گھٹنے توڑے گئے ٹخنے چور کئے گئے، اب اس کے قابو میں کیا نہیں ہے اور جو اختیار دیا گیا کیا وہ چھینا گیا،
اس کے بعد اگر میں کبھی کہتا ہوں کہ اُحد میں دانت ٹوٹے نہیں بلکہ توڑ ڈالے گئے چہرہ مبارک زخمی ہوا نہیں بلکہ زخمی کرایا گیا، خندوق میں پیٹ پر پتھر بندھے نہیں بلکہ باندھے گئے۔ الغرض اس کے بعد جو کچھ گزرا میں کیا غلط کہتا ہوں جب لوگوں سے کہتا ہوں کہ گزرے نہیں بلکہ گزارے گئے ہیں ، مہینوں گھر میں آگ جلی نہیں، بلکہ نہ جلوائی گئی کھانا پکانہیں بلکہ نہ پکوایا گیا۔
مجھے مسکین ہی زندہ رکھ! مجھے مسکین ہی مار! اور مسکینوں ہی کے ساتھ اٹھا۔‘‘
کیا اس آرزو کی ہر کلیجہ میں قوت ہے کس کا جگر ہے جو یہ کہہ سکتا ہے! لیکن جن کو سب کچھ مل جاتا ہے،اپنے لئے نہیں غیروں کے لئے سب کچھ کرتے ہیںنعمت والے تو اپنی نعمتوں سے خوش ہیں لیکن مصیبت زدوں کی تسلی تو صرف اسی کی ذات سے ہوسکتی ہے جس کے پاس سب کچھ ہوسکتا تھا لیکن صرف اسی لئے کہ جن کے پاس کچھ نہیں رکھا، موطاامام مالک کی اس روایت کا یہ کیا مطلب ہے کہ میرے مصائب ہر مسلمان کی تعزیت کریں گے سوچنا چاہیے کہ مصیبت کی کون سی ایسی قسم ہے جو اس وجود اطہر پر نہ گزری، جو دنیا والوں کے لئے اسوہ اور نمونہ بناکر بھیجا گیا تھا۔
ہاں! میں دور نکلا جارہا ہوں۔ تو بات یہاں پہنچی تھی کہ جسے پتھر کے ٹکڑوں سے پتھرایاگیا تھا، اسی کو اختیار دیا گیا کہ وہ پہاڑوں سے اس کا جواب دے سکتا ہے اور بہ آسانی دے سکتا ہے، شاید یہ اختیار ان کو بھی نہیں جو ان پر طیاروں سے گولے گراتے ہیں جنہوں نے ان کو پھول سے بھی نہیں مارا تھا اورنہ اتنا ان کے بس میں بھی ہے جو ہوئٹرز سے من من دومن کے گولے پھینکتے تھے۔
کتنا جھوٹا غرور ہے جن کو بم اور شل دیا گیا ہے جب کہتے ہیں کہ ایسا کسی کو نہیں ملا دیوانو! تم کو کیا ملا جو تم سے پہلوں کو مل چکا ہے اور جو چاہے اسے اب بھی ملتا ہے ہمیشہ ملتا رہے گا۔ لیکن تم نے جو کیا اور کررہے ہو اسے دنیا دیکھ رہی ہے اب دیکھو جس کوجبال ملے ملک الجبال ملا وہ اپنی اس قوت سے کیا کام لیتا ہے جنہوں نے اس کو ہلکا کیا تھاکہ جنہوں نے اس کو پتھرائو کیا تھا، ان کو سنگسار کرے، اس نے طائف سے نکل کر جو کچھ کہا تھا آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کرکہا تھا، شاید تم نے غور نہیں کیا، اس میں جو کچھ ہے وہ اپنے لئے نہیں کہا تھا لیکن جنہوں اس کے ساتھ وہ سب کچھ کیا تھا جووہ کرسکتے تھے۔
پھر غور کرو! ان کے متعلق اس نے کچھ بھی کہا، جس قدر نزدیک تھا اتنی نزدیکی جنہیں حاصل نہ تھی جب ان کی آرزو نے نوح کا طوفان برپا کیا تو ان میں جو سب سے اونچا تھا سمجھ سکتے ہوکہ وہ کیا کچھ نہ برپاکر سکتا تھا اور اب کس بات کی کمی تھی جو چاہے اب وہ کرسکتا تھا لیکن اسی تاریخ نے جس نے نوح کے طوفان، عاد کی آندھی، ثمود کے صیحہ[چیخ]، شعیب کے جفہ،[زلزلہ] موسیٰ کے دریا کے واقعات کو محفوظ رکھا ہے اس نے ریکارڈ کیا کہ پہاڑ کے فرشتے سے فرمایا جارہا ہے۔
میں مایوس نہیں ہوں کہ ان کی پشت سے ایسی نسلیں نکلیں جو اللہ ہی کی پوجا کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک اور ساجھی نہ بنائیں۔
پہاڑ پانی ہوگیا، اس آواز نے آگ کو باغ بنادیا جو مررہے تھے جی گئے جو ختم ہوگئے تھے پھر شروع ہوگئے۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}