ربیع الاول کا جشن میلاد — مولانا ابو اکلام آزاد

مولاناابو الکلام اآزاد لکھی ہوئی تقریروں کے عادی نہ تھے، انہوںنے خود ایک موقع پر فرمایا تھا کہ پیش نظر مطالب کی بناپر کھڑا ہوجاتا ہوں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ زبان پر جاری کردیتا ہے ، تقریر ہوجاتی ہے۔ ربیع الاول 1335ء (جنوری1916ء ) کی بات ہے، کلکتہ کے کسی مجمع میں مولانا نے سیرت پر ایک تقریر فرمائی تھی، اس زمانے میں ’البلاغ‘ جاری ہوگیا تھا اور اس کی ایک اشاعت کو(14،21اور28جنوری 1916ء ) انہوںنے تذکار ولادت نبوی کے لئے وقف کردیا تھا، اسی لیے غالباً یہ تقریر بھی بعد میں مرتب کرالی۔ اس سے سیرت کے بعض نہایت اہم پہلوئوں پر جو روشنی پڑتی ہے وہ کسی تشریح کی محتاج نہیں اور سیرت طیبہ کے بنیادی پہلوئوں کو کسی نے بھی آج تک اس انداز میں پیش نہیں کیا۔
عزیزان ملت! ماہ ربیع الاول کا ورود تمہارے لیے جشن ومسرت کا ایک پیغام عام ہوتا ہے کیونکہ تم کو یاد آجاتا ہے کہ اسی مہینے کے ابتدائی ہفتوں میں خدا کی رحمت عامہ کا دنیا میں ظہور ہوا۔ اسلام کے داعی برحق کی پیدائش سے دنیا کی دائمی غمگینیاں اور سرگشتگیاں ختم کی گئیںﷺ۔
تم خوشیوں اور مسرتوں کے ولولوں سے معمور ہوجاتے ہو، تمہارے اندر خدا کے رسول برحق کی محبت وشیفتگی ایک بے خود انہ جوش ومحویت پیدا کردیتی ہے۔ تم اپنا زیادہ سے زیادہ وقت اسی کی یاد میں،اسی کے تذکرے میں اور اسی محبت کے لذت وسرور میں بسر کرنا چاہتے ہو۔
تم اس کے ذکر وفکر کی مجلسیں منعقد کرتے ہو، ان کی آرائش وزینت میں اپنی محبت ومشقت کی کمائی لٹاتے ہو، خوشبو دار اورتروتازہ پھولوں کے گلدستے سجاتے ہو۔ کا فوری شمعوں کے خوبصورت فانونس اور برقی روشنی کے بہ کثرت کنول روشن کرتے ہو، عطر وگلاب کی مہک اور اگر کی بتیوں کا بخور جب ایوان مجلس کو اچھی طرح معطر کردیتا ہے۔ تو اس وقت مدح وثنا کے زمزوں اوردرودوسلام کے مقدس ترانوں کے اندر اپنے محبوب ومطلوب مقدس کو ڈھونڈتے ہو اور بسا اوقات تمہاری آنکھوں کے آنسو اور تمہارے پُرمحبت دلوں کی آہیں اس کے اسم مبارک سے والہانہ عشق اور اس کے عشق سے حیات روحانی حاصل کرتی ہیں۔
پس کیا مبارک ہیں وہ دل، جنہوں نے اپنے عشق وشیفتگی کے لیے رب السموٰت والارض کے محبوب کو چنا اور کیا پاک ومطہر ہیں وہ زبانیں جو سید المرسلین ورحمت للعلمین کی مدح وثنا میں زمزمہ سنج ہوئیں۔
انہوںنے اپنے عشق وشیفتگی کے لئے اس کی محبوبیت کو دیکھا، جسے خود خدا نے اپنی چاہتوں اورمحبتوں سے ممتاز کیا اور ان کی زبانوں نے اس کی مدح وثنا کی، جس کی مدح وثنا میں خود خدا کی زبان، اس کے ملائکہ اور قدوسیوں کی زبان اورکائنات ارض کی تمام پاک روحوں اور سعید ہستیوں کی زبان، ان کی شریک وہم نوا ہے: ان اللہ وملائکتہ یصلون علی النبی، یاایھا الذین امنوا صلواعلیہ وسلمواتسلیما۔
بلاشبہ محبت نبوی اور عشق محمدی کے یہ پاک ولولے اور یہ مخلصانہ ذوق وشوق تمہاری زندگی کی سب سے زیادہ قیمتی متاع ہے اور تم اپنے ان پاک جذبات کی جتنی بھی حفاظت کرو، کم ہے۔ تمہارا یہ عشق الٰہی ہے، تمہاری یہ محبت ربانی ہے، تمہاری یہ شیفتگی انسانی سعادات اور راست بازی کا سرچشمہ ہے، تم اس وجود مقدس ومطہر سے محبت رکھتے ہو جس کو تمام کائنات انسانی میں سے تمہارے خدا نے ہر طرح کی محبوبتیوں اور ہر قسم کی محمودیتوں کے لیے چن لیا اور محبوبیت عالم کا خلعت اعلیٰ صرف اسی کے وجود اقدس پر راست آیا، کرہ ارض کی سطح پر انسان کے لئے بڑی سے بڑی بات جو لکھی جاسکتی ہے، زیادہ سے زیادہ عشق جوکیا جاسکتا ہے، اعلیٰ سے اعلیٰ مدح وثنا جو زبان پر آسکتی ہے ، غرض انسان کی زبان ، انسان کے لئے جوکچھ کہہ سکتی اور کرسکتی ہے، وہ سب کا سب صرف اسی ایک انسان کامل واکمل کے لئے ہے اور اس کا مستحق اس کے سوا کوئی نہیں۔
خدا کی الوہیت وربوبیت جس طرح وحدہ لاشریک ہے کہ کوئی ہستی اس کی شریک نہیں، اسی طرح اس انسان کامل کی انسانیت اعلیٰ اور عبدیت کبریٰ بھی وحدہ لاشریک ہے کیونکہ اس کی انسانیت وعبدیت میں کوئی اس کا ساجھی نہیں اس کے حسن وجمال فروانیت کا کوئی شریک نہیں:
یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم میں تم دیکھتے ہو کہ تم انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر جہاں کہیں کیا گیا، وہاں ان سب کو ان کے ناموں سے پکارا ہے اور ان کے واقعات کا بھی ذکر کیا ہے تو ان کے ناموں کے ساتھ کیا ہے لیکن اس انسان کامل، اس فرداکمل، اس صفات عبدیہ کے وحدہ لاشریک کا اکثر مقامات میں اس طرح ذکر کیا ہے کہ نہ تو اس کا نام لیا گیا، نہ ہی کسی دوسرے وصف سے نامزد کیا گیا، بلکہ صرف’’عبد‘‘ کے لفظ سے اس کے پروردگار نے اسے یاد فرمایا۔
پس جس کی قدوسیت وجبروتیت کا یہ مرتبہ ہو، اس کی یاد میں جتنی گھڑیاں بھی کٹ جائیں، اس کے عشق میں جتنے آنسو بہہ جائیں، اس کی محبت میں جتنی آہیں بھی نکل جائیں اور اس کی مدح وثنا میں جس قدر بھی زبانیں زمزمہ پیرا ہوں، انسانیت کا حاصل، روح کی سعادت، دل کی طہارت، زندگی کی پاکی اور ربانیت والہیت کی پادشاہی ہے۔
لیکن جب کہ تم اس ماہ مبارک میں یہ سب کچھ کرتے ہو اور اس ماہ کے واقعہ ولادت کی یاد میں خوشیاں مناتے ہو تو اس کی مسرتوں کے اندر تمہیں کبھی اپنا وہ ماتم بھی یاد آتا ہے جس کے بغیر اب تمہاری کوئی خوشی نہیں ہوسکتی؟ کبھی تم نے اس حقیقت پر بھی غور کیا ہے کہ یہ کس کی پیدائش ہے جس کی یاد کے لئے تم سروسامان کرتے ہو؟ یہ کون تھا جس کی ولادت کے تذکرے میں تمہارے لیے خوشیوں اور مسرتوں کا ایسا عزیز پیام ہے؟
آہ! اگر اس مہینے کی آمد تمہارے لیے جشن ومسرت کا پیام ہے، کیونکہ اسی مہینے میں وہ آیا جس نے ہمیں سب کچھ دیا تھا، تو میرے لیے اس سے بڑھ کر اور کسی مہینے میں ماتم نہیں، کیونکہ اس مہینے میں پیدا ہونے والے نے جو کچھ ہمیں دیا تھا، وہ سب ہم نے کھودیا، اس لیے اگر یہ ماہ ایک طرف بخشنے والے کی یاد تازہ کرتا ہے تو دوسری طرف کھونے والوں کے زخم کو بھی تازہ ہوجانا چاہیے۔
تم اپنے گھروں کو مجلسوں سے آباد کرتے ہو، مگر تمہیں اپنے دل کی اجڑی ہوئی بستی کی بھی کچھ خبر ہے، تم کا فوری شمعوں کی قندیلیں روشن کرتے ہو، مگر اپنے دل کی اندھیاری کو دور کرنے کے لئے کوئی چراغ نہیں ڈھونڈتے، تم پھولوں کے گلدستے سجاتے ہو، مگر آہ تمہارے اعمال حسنہ کا پھول مرجھاگیا ہے۔ تم گلاب کے چھینٹوں سے اپنے رومال وآستیں کو معطر کرنا چاہتے ہو، مگر آہ ! تمہاری غفلت کہ تمہاری عظمت اسلامی کی عطربیزی سے دنیا کے مشام روح یکسر محروم ہیں! کاش تمہاری مجلسیں تاریک ہوتیں۔ تمہارے اینٹ اور چونے کے مکانوں کو زیب وزینت کا ایک ذرہ نصیب نہ ہوتا، تمہاری آنکھیں رات رات بھر مجلس آرائیوں میں نہ جاگتیں، تمہاری زبانوں سے ماہ ربیع الاول کی ولادت کے لئے دنیا کچھ نہ سنتی مگر تمہاری روح کی آبادی معمور ہوتی تمہاری زبانوں سے نہیں مگر تمہارے اعمال کے اندر سے اسوہ حسنہ نبوی کی مدح وثنا کے لیے ترانے اٹھتے۔
پھر آہ وہ قوم اور صدآہ اس قوم کی غفلت ونادانی، جس کے لئے ہر جشن ومسرت میں پیام ماتم ہے اور جس کی حیات قومی کا ہر قمقہ عیش فغان حسرت ہوگیا ہے مگر نہ تو ماضی کی عظمتوں میں اس کے لئے کوئی منظر عبرت ہے، نہ حال کے واقعات وحوادث میں کوفی پیام تنبیہ وہوشیار ی ہے اور نہ وہ مستقبل کی تاریکیوں میں زندگی کی کوئی روشنی اپنے سامنے رکھتی ہے۔ اسے اپنی کامجوئیوں اور جشن ومسرت کی بزم آرائیوں سے مہلت نہیں حالانکہ اس کے جشن وطرب کے ہر ورود میں ایک نہ ایک پیام ماتم وعبرت بھی رکھ دیا گیا ہے۔ بشرطیکہ آنکھیں دیکھیں، کان سنیں اوردل کی دانائی غفلت وسرشاری نے چھین نہ لی ہو۔
ماہ ربیع الاول کی یاد میں ہمارے لیے جشن ومسرت کا پیام اس لیے تھا کہ اسی مہینے میں خدا کا وہ فرمان رحمت دنیا میں آیا جس کے ظہور نے دنیا کی ثقاوت وحرمان کا موسم بدل دیا، ظلم وطغیان اور فساد وعصیان کی تاریکیاں مٹ گئیں۔ خدا اور اس کے بندوں کا ٹوٹا ہوا رشتہ جڑ گیا۔ انسانی اخوت ومساوات کی یگانگت نے دشمنیوں اور کینوں کو نابود کردیا اور کلمہ کفر وضلالت کی جگہ کلمہ حق وعدالت کی بادشاہت کا اعلان عام ہوا۔
لیکن دنیا شقاوت وحرمان کے درد سے پھر دُکھیا ہوگئی۔ انسانی شروفساد اور ظلم وطغیان کی تاریکی خدا کی روشنی پر غالب ہونے کے لئے پھیل گئی، سچائی اور راستبازی کی کھیتیوں نے پامالی پائی اور انسانوں کے بے راہ گلے کا کوئی رکھوالا نہ رہا، خدا کی وہ زمین جو صرف خدا ہی کے لئے تھی، غیروں کو دے دی گئی اور اس کے کلمہ حق وعدل کے غمگسارں اور ساتھیوں سے اس کی سطح خالی ہوگئی۔
زمین کی خشکی اور تری دونوں میں انسان کی پیدا کی ہوئی شرارتوں سے فساد پھیل گیا اور زمین کی صلاح وفلاح غارت ہوگئی۔(روم:۱۴)
پھرآہ! تم اس کے آنے کی خوشیاں تو مناتے ہو، پر اس کے ظہور کے مقصد سے غافل ہوگئے ہو اور وہ جس غرض کے لئے آیا تھا، اس کے لئے تمہارے اندر کوئی ٹیس اور چبھن نہیں۔
یہ ماہ ربیع الاول اگر تمہارے لیے خوشیوں کی بہارہے، تو صرف اس لیے کہ اس مہینے میں دنیا کی خزانِ ضلالت ختم ہوئی اور کلمہ حق کا موسم ربیع شروع ہوا۔ پھر اگر آج دنیا کی عدالت سموم ضلالت کے جھونکوں سے مرجھاگئی ہے تو اے غفلت پرستو! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ بہار کی خوشیوں کی رسم تو مناتے ہو،مگر خزاں کی پامالیوں پر نہیں روتے؟
[مولانا ابولکلام آزاد رحمہ اللہ کی اس تقریر کی قارئین دارالشعورمیگزین کے لیے تلخیص پیش کی گئی ہے۔مفصل اور مکمل تقریر کے لیے اصل ماخذ سے رجوع کیا جائے۔
ملاحظہ ہوـ ’’رسول رحمت‘‘ ترتیب :مولانا غلام رسول مہر مرحوم]

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}