بی آر ایف اور مستقبل کے چیلنجز — مدثر گل

 اونٹوں والوں سے جب یاریاں لگائی جائیں تو پھر اپنے دروازے بھی اونچے کر لینے چاہئیں ۔ کیونکہ اونٹ کا قداتنا بڑا ہوتا ہے کہ وہ عام دروازے سے نہیں گزرسکتا ۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ دروازہ ہی اس کے قد کاٹھ کے مطابق لگایا جائے۔ ویسے تو پاکستان کے دروازے کا قد کاٹھ  ماشاء اللہ اتنا چھوٹا تونہیں ہےمگر پھر بھی بڑے اونٹ کے داخلے کے لئے ناکافی 
ہے۔
حالیہ دنوں چین نے دی بیلٹ اینڈروڈ انیشیی ایٹو فورم کاآغاز کیا ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ کے اس منصوبے کا پاکستان اولین روح رواں ہے۔ ون بیلٹ اینڈ ون روڈ ایک 30سالہ پرانہ چینی خواب ہے۔ پاکستان میں شاہراہ قراقرم جسے شاہراہ ریشم بھی کہتے ہیں اسی خواب کی تعبیر کے لئے تعمیر کی گئی تھی۔ مگر پھر چین کی کمزور معیشت کی وجہ سے یہ منصوبہ پش پشت ڈال دیا گیا۔ اب دوبارہ اسی خواب کو ایک نئے نام سے چین شرمندہ تعبیر کرنے جارہا ہے۔ 
موجودہ اس منصوبے کے تحت دنیا کی 65فیصد آبادی، دنیا کے تین چوتھائی توانائی کے ذخائر اور دنیا کا 40فیصد جی ڈی پی تک پہنچے گا۔ بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں 130ممالک کے 1500مندوبین اور 29سربراہان مملکت نے شرکت کی۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے دو حصے ہیں۔ ایک کا نام “سلک روڈ اکنامک بیلٹ” ہے۔ اس حصے میں چین سڑکوں اور ریل کے ذریعے خشکی کے راستے مربوط اور جدید ٹریڈ کے ذرائع بنائے گا۔ دوسرے حصے کا نام 21″صدی میری ٹائم سلک روڈ “ہے ۔ اس کے ذریعے چین جنوبی ساحل سے سمندری راستے کے ذریعے مشرقی افریقہ اور بحیرہ روم سے تجارتی روابط قائم کرے گا۔ یعنی خشکی اور سمندری راستے کے ذریعے چین یورپ، افریقہ اور ایشائی ممالک سے بہترین مواصلاتی نظام کے ذریعے منسلک ہوجائے گا۔ اس منصوبے کا عملاً آغاز ہوچکا ہے۔ جس کی مد میں بنگلہ دیش اور سری لنکا میں پلوں اورسڑکوں کا نظام چین کی مدد سے ڈویلپ ہورہا ہے۔ کمبوڈیا میں صنعتی پارک کی تعمیر چین کی مدد سے ہورہی ہے۔ اس بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے لئے سب سے بڑا چیلنج سکیورٹی کا ہے۔ اس کے لئے بھی چین نے پہلی بار ملک سے باہر ایک افریقی ملک میں فوجی اڈے کی تعمیر شروع کردی ہے۔ 
پاکستان اس منصوبے کا اولین فریق اور صف اول کا روح رواں بھی ہے ۔ چین کے بعد پاکستان کو ہی اس کا سب سے زیادہ فائدہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ بیشک چینی نیو ورلڈ آرڈر سے پاکستان سب سے زیادہ فائدہ اٹھاے گا۔ اس وقت چین اقتصادی راہداری کی مد میں 60بلین ڈالر پہلے سے ہی خرچ کر رہا ہے۔ بی آرایف کے سلسلے میں مزید چین نے پاکستان میں بھاشا ڈیم ، گوادر ائیر پورٹ کی تعمیر سمیت 50کروڑ ڈالر کے 6 معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔ بھاشا ڈیم 9 سال میں مکمل ہوگا اور اندازے کے مطابق اس سے موجودہ طلب کے مقابلے دوگنا یعنی 40ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہوسکے گی۔
اب جبکہ یہ واضح نظر آ رہا ہے کہ اس منصوبے کی وجہ سے دنیا میں آنے والی دہائیوں میں بڑی اقتصادی تبدیلیوں کا واضح امکان ہے۔ اگر بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ اسی طرح چلتا رہا تو واضح طور پر پاکستان کی پوزیشن اور حیثیت بھی بدل جائے گی۔ ان حالات کے تناظر میں پاکستان کو نئے اور سنگین چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان کو اس منصوبے کی وجہ سے امریکہ، بھارت اور ایران سے دشمنی مول لینی پڑسکتی ہے۔ بھارت تو خیر اس منصوبے کی کھلم کھلا مخالفت کررہا ہے اور اس کی سب سی بڑی وجہ پاکستان کی ابھرتی اور چین کی مضبوط ہوتی ہوئی معیشت ہے ۔ امریکہ جو کہ اس وقت سپر پاور کی اہمیت رکھتا ہے ہرگز نہیں چاہے گا کہ دو یا تین دہائیوں تک چین کی معیشیت اس سے آگے نکل جائے ۔ اس لئے امریکہ کا دباو بھی زیادہ تر پاکستان پر مختلف حیلے بہانوں سے بڑھتا رہے گا۔ اب آتے ہیں ایران کی طرف۔ ایران گوادر کے نزدیک چاہ بہار میں بھارت کی مدد سے ایک بہت بڑی بندرگاہ تعمیر کر رہا ہے وہ بھی ہرگز نہیں چاہے گا کہ اتنی بڑی سرمایہ کاری کے باوجود اس کی بندرگاہ فلاپ ہو ۔ اس لئے ایران بھی پاکستان کے لئے مشکلات کھڑی کرتا رہے گا۔
جہاں تک میرا خیال ہے اس منصوبے کو اگر کوئی آسانی سے نقصان پہنچا سکتا ہے تووہ ایران ہی ہے ۔ پاکستان اور ایران کی حد بندی پر کوئی مناسب چیک اینڈ بیلنس سسٹم موجود نہیں ہے۔ اور ہمیں یادرکھنا چاہیے کہ ایران کے پاس 60سالہ تجربہ کار جرنل قاسم سلیمانی جیسا شخص موجود ہے ۔ جو جیمز بانڈ ،جرمن جرنلررویل اور گلوکارہ لیڈی گاگا کاحسین امتزاج ہے۔ جرنل قاسم سلیمانی سپاہ پاسداران انقلاب کے “سپاہ قدس”نام ڈویزن کے سربراہ ہیں۔ یہ ڈویزن دوسرے ممالک میں ایران کے لئے کام کرتی ہے۔ 2012شام میں بشارالاسد کی فوج تقریباًشکست کے قریب تھی۔ تب لبنان ، عراق اور افغانستان سے بڑی تعداد میں شیعہ جنگجووں کو شام میں جرنل قاسم سلیمانی نے لا کھڑا کیا۔ 2014عراق میں داعش بغداد کی طرف بڑھنے لگی تو وہاں بھی امریکہ کی مدد سے شیعہ جنگجوں کو منظم کیا۔ 2015میں جرنل قاسم کی کوششوں سے روس بشارالاسد کی مدد کرنے شام آپہنچا۔ 
ان سب باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنے دروازے کو اونچا کرنا ہی ہوگا۔ ہمیں آنے والے حالات کے لئے تیار رہنا ہی ہوگا۔ پاکستان کی ترقی کے لئے بین الاقوامی صورت حال کے ساتھ چلنا ہی ہوگا۔ ان تمام چیلنجز کو متحد ہوکر ہی نمٹنا ہوگا۔ نہیں تو معیشت کا یہ بڑا اونٹھ موجودہ دروازے سے نہیں گزر سکے گا
 
 

People Comments (1)

  • qazi inam May 28, 2017 at 11:49 pm

    شاہ ایران کے دور میں ایران کے ساتھ امریکہ کے تعلقات بہت اچھے تھے ،لیکن امریکہ بذریعہ ایوب خان کی حکومت افغانستان میں اور افغانستان کے راستے روس کے ساتھ چھیڑ خانی کرتا تھا ،مڈبھیڑ کا ہوائی اڈا بھی روس کے ساتھ چھیڑ خانی میں استعمال ہوتا تھا ،اس پورے تاریخی پس منظر کے اندر ہندوستان اور ایران غیر جانب دار تھے ،پھر پاکستان کی مداخلت افغانستان کے اندر بڑھی اور روسی افواج افغانستان میں آگئیں ،ایران اس لیے غیر محفوظ ہوا کہ افغانستان کے اندر ایک خاص عقیدے کے نام پر کفر اور اسلام کی جنگ شروع ہوگئی ،اس جنگ کے پس منظر میں اس زمانے میں ایران چین اور ہدوستان اور سینٹرل ایشیاء اور روس تک کو مسلمان بنانا شامل تھا ،پھر روس کے ساتھ امریکہ کا معاہدہ ہوگیا ،جنگ ختم ہوگئی کفر اور اسلام کی جنگ لڑنے والے عالمی سامراج اور امت مسلمہ کے نزدیک مرتد اور دہشت گرد ٹھہرے ،امریکہ نے افغان وار کو منتقی انجام تک پہنچانے کے لیے خطہ میں ایران پر بھی ایک جنگ مسلط کی جو بذریعہ ڈکیٹر صدام حسین کے ذریعہ تھی ،ایرانی ایک عظیم قوم تھی ،انھوں نے اس جنگ کو جیتا پھر خطہ کے زمینی حقائق تیزی سے تبدیل ہوئے روس ری آرگنائز ہوکر اپنے مفادات کے حوالے سے میدان میں آیااور میدان سجا عرب ریاستیں جن کے زمینی وسائل پچھلے سوا سو سال سے برٹش سامراج کے قبضہ میں جانے کے بعد دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ کے سپرد ہوگئے ،بیچارے عرب حکمران اپنے کلاس کریکٹر اور اقتدار کو بچانے کے لیے امریکہ کے حاشیہ بردار بن کر ایران کو دبانے کے لیے امریکی مفادات کو فرقہ واریت کی جنگ کے ساتھ مجبور ہیں جس طرح ضیاء الحق نے فرقہ واریت کی جنگ کو افغانستان کے ساتھ جوڑا تھا ،چین جس نے بلوچستان کے اندر تاریخ کی سب سے بڑی بھاری انویسٹمنٹ کی ہے وہ بیوقوف نہیں ہے کہ ایران اور ہندوستان اس کے آگے روکاوٹ بنیں ،بلکہ چاہ بہار بندر گاہ بھی چین کے معاشی ایجنڈے کا حصہ ہے ،امریکہ اپنے مفادات کی جنگ بذریعہ ہندوستان پاکستان کے امن کو تباہ کرکے ہندوستان کو اپنے ذریعے راستہ دلوانا چاہتا ہے ،امریکہ کا ایجنڈا ہے پاکستان اور افغانستان کے قبائیلی علاقوں پر مشتمل آزاد پختونستان اور آزاد بلوچستان جہاں پختونوں کا ایک بہت بڑا گروہ آباد ہے ،چین کے لیے پھر بھی یہ درد سر نہیں وہ بلوچستان سے اپنا حق واپس نہیں لے گا ،بذریعہ چین امریکہ ہندوستان اس راہ داری کا حصہ بن سکتے ہیں لیکن پاکستان کے لیے قابل قبول نہیں ،اگر امریکہ عرب وار کے اندر کامیاب ہوتا ہے تو ضرور پاکستان کا جغرافیاء تبدیل ہوگا اور یہ کوریڈور تو سینٹرل ایشیاء تک جانا ہے ،مگر اس کا بذریعہ امریکی مفادات جانا پاکستان کے لیے باعث تشویش ہے ،ایران کو پسماندہ مذہبی ذہنیت کے حوالے سے نا دیکھیں ۔۔اور نا ہی پاکستان کی شیعہ کمیونٹی کے حوالے سے دیکھیں ۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}