اُسوہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم — از: شورش کاشمیری

حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و ستائش میں انسان جو کچھ کہہ سکتا ہے اس کو جامی نے اپنے اس مصرع میں ختم کر دیاہے۔

‘‘بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر’’
ایک مسلمان بشرطیکہ وہ توحیدو رسالت کے بارے میں اسی طرح ایمان رکھتا ہے جس طرح کہ قرآن پاک نے اس سے مطالبہ کیا ہے تو حقیقت یہ ہے کہ انسان نے اپنی زبانوں کے جتنے لغت بھی مرتب کیے ہیں اور آوازوں کے جتنے بھی اظہار موجود ہیں۔ ان سب کے احسن و جمیل الفاظ جمع کر لیے جائیں تو بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔ ایک بشر ، خیر البشر آپ صلی اللہ علیہ تعالی علیہ وسلم کی تعریف ہی نہیں کر سکتا پھر انسان کی تعریف ہی کیا؟
جب خدا نے اس محسن انسانیت کی تعریف کی ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی نبوتوں کا سلسلہ ختم کر کے دین ابرہیمی کو آخری دین قرار دیا اور فرمادیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت ہمیں اکمل و کامل نظام حیات دے دیا گیا ہے۔ گویا جس خالق نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت و عظمت کی اپنی زبان میں اظہار کردیا ہو ، اس کے احسن و اکمل و اجمل ہونے پرمخلوق کیا کہہ سکتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہی ایک ایسی عظیم سیرت ہے جہاں زبان و نطق کا ذخیرہ عاجز ہو جاتا ہے۔
ہم سے پہلوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تاریخ سے لے کر ادب تک کے میدانوں میں اتنا کچھ کہا کہ اب اس میں مزید اضافہ نہیں ہو سکتا البتہ یہ ضرور ہے ہم لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت بیان کر کے اپنے لیے سعادت و فلاح کے مواقع پیدا کرتے اور اس تذکرے سے اپنی روح کے لیے طمانیت ، اپنے دل کے لئے روشنی اور اپنے دماغ کے لئے کشادگی پاتے ہیں۔
میں یہی محسوس کرتا ہوں کہ جب بھی مجھے اس موضوع پر بولنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے میں نے اپنے نفس کو علو پایااور اپنے خون میں اس کی گردش کے ساتھ ایک لطافت محسوس کی جو بیان نہیں ہو سکتی لیکن محسوس ضرور ہوتی ہےاور جب محسوس ہوتی ہے تو دل و دماغ کی کائنات مختلف ہوتی ہے جس کا اندازہ وہی لوگ کر سکتے ہیں جو علم کے بجائے عشق اور عقل کے بجائے آرزوں کی لذتوں سے آشنا ہیں۔
مجھ سے پہلے جن علمائے کرام نے سیرۃ کے اوارق مطہرہ پیش کیے ہیں۔ میں ان سے بھی اورا س کے ساتھ کالج کے فاضل اساتذہ سے بھی حتی کہ طلبہ کے ساتھ فکر و نظر کے جو لوگ بیٹھے ہیں یہ سوال ایک استفسار کے طور پر کرنا چاہتا ہوں کہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مضمون وہی رہ گیا ہے جو آپ لوگ بیان کرتے اور پڑھتے یا پڑھاتے ہیں۔ پھر جس پر مسجدوں میں عموماً لب کشائی ہوتی ہے یا جس وقت آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ سرور کائنات تھے وہ محسن انسانیت تھے وہ فخر موجودات تھے۔
وہ سب غایتوں کے غایت اولی تھے ، وہ رحمتہ للعالمین تھے وہ ختم المرسلین تھے۔ وہ ایک ایسے نظام حیات کے داعی تھے جو ازل سے ابد تک انسانیت کے لئے راہنما و معلم ہے، تو محض یہ الفاظ ہی کافی نہیں۔آپ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ان الفاظ کے مطالب کے حقیقتوں کا اظہار اپنے معاشرے کے وجود سے کریں۔ زمانہ آج اس نہج پر آ گیا ہے کہ وہ علم کی تھاہ اس کے عمل میں تلاش کرتا ہے۔ نئی تعلیم نے انسان کو نئی نئی راہوں پر گامزن کر دیا دہے اور وہ اس تلاش میں ہے کہ جو کچھ زبان کہتی ہے نفس اس پر عمل بھی کرتا ہے۔ جس طبقے کے ہاتھ میں اس وقت مذہب کی باگ دوڑ ہے منبر و محراب کی تمام گر م جوشی کے باوجود معاشرے میں مقتدر نہیں اور اس کی وجہ یہ ہےکہ وہ ماضی میں زندگی بسر کر رہا ہے۔
اگرآپ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے جیسا کہ ہم سب اس عقیدہ پر روح کی گہرائیوں کے ساتھ یقین رکھتے ہیں کہ اسلام ہی دین کامل ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہی ہمارے لیے مثالی نمونہ ہے تو یہ سوال جائز طور پر نئے معاشرے کی فضائے دانش و علم سے پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے زبانی جمع خرچ کے سوا کبھی اس کے لیے جدوجہد کی اور آج تک اپنے وجود و معاشرہ پر اس کا اطلاق کیا۔
کتنے لوگ ہیں مقتدر کہلانے کے باوجود اس امر کے لیے کوشاں ہیں کہ قرآن کے نظام کو اس کی حقیقی روح کے ساتھ پیش کریں اور اس معاشرہ میں نافذ کریں جو قرآن و اسلام کے نام پر قائم تو ہوا لیکن جہاں قرآن و اسلام کے نام پر ابھی تک تجربے ہی ہو رہے ہیں اور ان کی عمر اتنی دراز ہے کہ ان لوگوں کی ہمتوں سے اس زلف کے سر ہونے کا سوال ہی خارج البحث ہے۔
جو لوگ مسند رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث کہلاتے ہیں۔ جنہیں اپنے علماء ہونے پر اصرار ہے اور جن کے دماغوں میں یہ بات نقش ہو کر بیٹھی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانیشن ہیں وہ اپنے سینہ پر ہاتھ رکھ کر سامنے آ سکتے ہیں کہ ان کی زندگیاں سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرۃ طیبہ کا عکس ہیں۔ یا ان میں کوئی خوبو اس سیرت اقدس کی پائی جاتی ہے۔ اسلام یہ نہیں کہ ظواہر کی پرستش کی جائے۔ اسلام یہ نہیں کہ منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم و قال اللہ وقال الرسول کا غوغا بلند کیا جائے اور اپنی زندگیاں قال اللہ اور قال الرسول کی نفی پر ہوں۔
علمائے کرام کا یہ شعار ہو گیا ہے کہ وہ عقائد کی مین میخ میں لگے رہتے یا عبادات کے ظواہر پر زور دیتے ہیں۔ عقائد کی درستی شرط اول ، عبادت سے انکار کفر، لیکن سوال یہ ہے اسلام محض اعتقادات و عبادات ہی کا نام ہے یا معاملات بھی اس کے نظام حیات کے جزو اعلی ہیں۔ جو شخص معاملات میں خراب ہوگا وہ اعتقادات یا عبادات میں کبھی دیانت دار نہیں ہو سکتاہے۔
حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر زور دینے والے علماء کا فرض ہے کہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حق بھی ادا کریں۔ کیا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم صرف یہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نمازیں کس طرح ادا کرتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم لباس کس قسم کا پہنتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا کھاتے اور کیا پیتے تھے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی شادیاں کیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کون سے معجزے سر زد ہوئے؟
پیغمبر کی سیرت اس کے معجزے نہیں ہوتے۔ پیغمبر کا معجزہ اس کی سیرت ہوتی ہے جو انسانوں کی سیرتوں پر اپنی چھاپ لگا کر معاشرہ میں انقلاب لے آتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ ان کی سنت ہے، ان کے اعمال اور ان کے افعال ہیں۔ جو لوگ شکلیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مطابق بناتے ہیں اور بزعم خویش اس فکر کے مظہر ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ، تابعی ، تبع تابعی ، فقیہہ و محدث اس قسم کی قبا پہنتے ، اس انداز کے چوغے اوڑھتے اور اس رنگ کی پگڑی باندھتے تھے۔ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے
اس نمونے کا اپنے وجود سے اظہار کیوں نہیں کرتے کہ ساری عمر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا اور جو کھایا روکھا پھیکا کھایا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی روایت کے مطابق ہجرت کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی مسلسل تین روز تک گہیوں کی روٹی میسر نہیں ہوئی۔ دو دو مہینے گھر میں چولہا نہیں جلتا تھا۔اہل بیت کھجور اور پانی پر بسر کرتے تھے ۔ ایسا بھی ہوتا تھا کہ فاقہ کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بات کرنا بھی مشکل ہو جاتا تھا۔ کیا یہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں۔
پائنچے اونچا رکھنا اور تہمد باندھنا ہی سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ کتنے وارثان منبر و محراب ہیں جو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق کھانا کھاتے، کپڑا پہنتے اور ان کے فقر و فاقہ کا ذکر کر کے خود فقر و فاقہ کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔ کیا یہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بغاوت نہیں؟
سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تاجروں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فقرو فاقہ کا ذکر اپنے تن و توش کے لیے فواکہات و مشروبات کے حصول کا ذریعہ بنا رکھا ہے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سوکھی روٹی کا ذکر کر کے اپنے لیے مرغن غذاوں کے دسترخوان بچھاتے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پھٹی ہوئی کملی کا نام لے کر اپنے شانہ پر ریشم کی شال رکھتے اور اپنے بدن کو فاخرہ لباس بخشتے ہیں۔
ان علماء کو آج کے مسائل کااندازہ ہی نہیں کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ آج ہر جگہ اور ہر ملک کے مسلمان اجتماعی حیثیت سے خوار و خراب ہیں۔ اسرائیل کے ہاتھوں نبیوں کی سر زمین پر کیا گزری ؟ عربوں کی شکست فاش صرف ان کے لیے المیہ نہیں یہ اسلام کا ایک جانکاہ حادثہ ہے۔ آخر یہ حادثہ کیوں پیش آیا؟ اب آپ معذرت اور وضاحت کے کتنے ہی پہلو اختیار کریں۔ لیکن آپ اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ اس قوم کے ہاتھوں اسلام کو شکست ہوئی جس کے بارے میں آپ ہر روز نمازوں میں پڑھتے ہے کہ الہ العالمین ہمیں ان لوگوں سے بچا جو لوگ گمراہ “عیسائی” ہو گئے اور جن پر بڑا غضب “یہود” نازل ہوا۔ پھر آپ نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سر زمین کے لوگ ان سے پٹ گئے انہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں نے مارا اوروہ آج اللہ کے دشمنوں سے امداد کے خواہاں ہیں ہمارے لیے اس میں عبرتوں کا ایک خزینہ ہے لیکن ہم اس پر غور نہیں کرتے۔
اے علمائے کرام آپ ان شاخوں میں الجھ گئے ہین جن کی اس زمانے کو ضرورت نہیں ہے، آج کے مسائل بالکل مختلف ہیں۔ جو مسائل اس وقت عالم انسانی کودر پیش ہیں ان میں ایک اقتصاد کا مسئلہ ہے کہ انسان رزق الہی کا یکساں حقدار ہے یااس کی تقسیم کا موجودہ غاصبانہ طریق جائز ہے۔ انسانی دولت کی غیر منصفانہ تقسیم نے سارے معاشرے کو ذہنی طور پر ہلا دیا ہے۔ ہمارے علماء کرام سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ نمونے خود کیوں نہیں اختیار کرتے جو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلی نمونہ ہیں ۔
اسی عمل سے اجتناب کیوں ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی سرمایہ جمع کیا؟ دولت کو گھر میں رکھا، احتکارواکتناز کو اپنی سنت بنایا۔ اسراف و تبذیر کو جائز قرار دیا۔ ۔۔۔۔ کیا وارثان مسند رسول کو سرمایہ داری کا عنفریت پھنکارتا ہو انظر نہیں آتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عمر بھر کوئی اثاثہ رہا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوشش کی کہ جاگیر بنائیں؟ جس رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رحلت کے بعد کوئی
اثاثہ نہ چھوڑا ہو جس کو سونا اور چاندی جمع کرنے سے نفرت ہو۔ اس کے نام پر دعوت و تذکیر کے مجسمے سونا اور چاندی جمع کریں اور شرعی تکلوں کی طرح اڑتے پھریں۔ اس سے بڑھ کر سنت کے خلاف بغاوت کیا ہو سکتی ہے۔
سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان ففتھ کالمسٹوں سے بچانے کی ضرورت ہے جو مسند رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بیٹھ کر سرمایہ داری کا جواز پیدا کرتے ہیں اور نظام زر کی معاونت کے لیے دولت کی منصفانہ تقسیم کےخلاف بیان داغتے ہیں یہ لوگ امپیرلیزم کے ایجنٹ اور سرمایہ داری کے لے پالک ہیں۔ ان کا وجود اسلام کے دل میں ناسور کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ بھی تو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ ایک رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند نہ آئی ، بے چین رہے، بار بار اٹھتے نماز پڑھتے۔ میں نے پوچھا طبیعت ناساز ہے ؟ فرمایا نہیں۔ عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدربے چین کیوں ہیں؟ سرہانے سے چاندی کا اوقیہ نکال کر فرمایا ، چار اوقیہ آئے تھے۔ تین اسی وقت سائلوں کو خیرات کر دیئے ایک رہ گیا ہے۔ خیال تھا شام تک کوئی آ جائے گا تو دے دوں گا۔ لیکن کوئی آیا نہیں اور یہ پڑا رہا۔ اس نے مجھے بے چین رکھا۔ مبادا اسی حال میں موت آ جائے اور یہ چاندی میرے پاس ہو۔
کیا یہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں؟ کیا ہمارے علماء کو یاد نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی کے دروازے پر ریشمی پردے کو دیکھ کر لوٹ آئے تھے فرمایا تھامیں نہیں چاہتا لوگ کہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی نے اپنے دروازہ پر ریشم لٹکا رکھا ہے۔ ہمارے علماء سنت کا یہ روشن متحرک ، بدیہی اور جاندار پہلو پیش کرتے ہوئے کس لیے ہچکچاتے ہیں۔ کیا یہ پہلو بیان کرنے سے ان کے اپنے وجود کی نفی ہوتی ہے؟
اے علماء کرام معاشرہ بڑی تیزی سے بدل رہا ہے اگر انہوں نے چھٹی اور ساتویں صدی ہجری میں زندگی بسر کرنے کا شعار ترک نہ کیا۔ اور سرمایہ دار طاقت کے ایجنٹ بنے رہے تو نئی نسل کا ذہنی انقلاب، جسمانی انقلاب کا راستہ کھول دے گا۔ پھر دماغوں کی بغاوت ان تمام عمارتوں کو ڈھادے گی جن میں ہمارے علماء کی ایک خودرو جماعت بیٹھ کر قال اللہ اور قال الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کا سبق پڑھاتی ہے۔
{یہ تقریر شورش کاشمیری مرحوم نے اسلامیہ کالج لاہور میں کی اس تقریب کی صدارت علامہ علاو الدین صدیقی صدر شعبہ اسلامیات پنجاب یونیورسٹی نے کی ۔ پھر یہ تقریرچٹان میں ۱۲ فروری ۱۹۶۸ کو شائع ہوئی }

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}