جنوبی کوریا کا بنیادی نظامِ تعلیم ۔۔۔ ڈاکٹر ممتاز خان

جنوبی کوریا کے تعلیمی ادارے تین حصوں میں تقسیم ہیں۔ کنڈرگارڈن، مڈل و ہائی، یونیورسٹی۔ کورین نیشنل لوگوں کے بچے ہائی سکول لیول تک مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں، جبکہ یونیورسٹی میں بھی اکثر طلبہ کو وظائف مل جاتے ہیں۔ایم فل اور پی ایچ۔ ڈی کی تعلیم کو ملازمت اور انٹر ن شپ کے طور پہ لیا جاتا ہے۔ جن والدین کی آمدن 1900 امریکی ڈالر سے کم ہوتی ہے، حکومت کی طرف سے ان کو امداد بھی ملتی ہے۔
اب اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ کورین سکول کس طرح سے بچوں کی تربیت کرتے ہیں:
کنڈرگارڈن دو سال کا بچہ داخل کرتے ہیں، جو کہ سات سال تک کنڈرگارڈن میں رہتاہے۔ آٹھ سال سے لے کر اٹھارہ سال تک بچہ ہائی سکول میں رہتا ہے۔ جو کہ پاکستان کے انٹرمیڈیٹ کے برابر ہے۔ جس کے بعد چار سال تک یونیورسٹی کی تعلیم ہوتی ہے۔
کنڈرگارڈن اساتذہ صبح ۹ سے شام ۵ یا ۶ بجے تک پڑھاتے ہیں۔ کھانا اور آرام بھی کنڈرگارڈن میں ہی ہوتا ہے۔ کنڈرگارڈن پیپر، بورڈ، اور پلاسٹک سے بچوں کو نئی چیزیں بنانے کا رجحان پیدا کرتے ہیں۔ میڈیا، کھیلونے، اور کارٹون چینل بھی اسی رجحان کو تحریک دیتے ہیں، لہٰذا بچوں میں نئی چیزیں بنانے کا رجحان گھر آ کر بھی برقرار رہتا ہے اور ایک خاص مدت کےبعد بچوں کی فطرت بن جاتی ہے۔ مارکیٹ میں موجود کھیلونوں کی کمپنیاں وہی کھیلونے مارکیٹ میں لانچ کرتی ہیں، جو اصل انڈسٹریل پراڈکٹس کے پروٹوٹیپ ہوتے ہیں۔ اس طرح تمام ادارے مل کر بچوں کی تربیت کرتے ہیں۔ مینوفیکچرنگ کے علاوہ کنڈرگارڈن کے لیول سے ہی بچوں کو ڈانس، گانا، کھانا بنانا، پہاڑوں پہ چڑھنا، قانون کی پابندی، ٹریفک قوانین کی پابندی، اور مذہب سے روشناس کروا دیا جاتا ہے۔
سکولوں میں بچوں کو متوازن کھانا دیا جاتا ہے۔
سکول کا ماحول ہی وقت کی قدروقیمت، اور نظم سکھاتا ہے۔
کورین مائیں بچوں کو منظم بنانے، تعلیم و تربیت کی ذمہ داریوں کو نبھاتی ہیں اور مرد پہ بچوں کی تربیت کا بوجھ کم ہے۔
کنڈرگارڈن کے لیول سے ہی بچوں کو اقوام عالم کا تعارف کرانا شروع کردیا جاتا ہے، جس سے بچوں میں گھومنے اور سیکھنے کا مادہ پروان چڑھتاہے۔ والدین بھی بچوں کو ہفتہ وار بنیادوں پہ شہر کے اندر اور باقی شہروں میں گھوماتے ہیں۔
سیکھنے کا عمل زور زبردستی یا دباؤکی بجائے شوق ہے جو کہ کارٹون، تصویر، اور گیم کے ذریعے پیدا کیا جاتا ہے۔ اور بچوں کی عزت نفس کو مجروح نہیں کیا جاتا ہے۔ جسمانی سزا کا تصور ہائی سکول میں کسی درجے میں موجود ہے لیکن زیادہ سخت نہیں۔
سیکھنے کا عمل قصے کہانیوں کے ذریعے بھی ہوتا ہے، جس سے بچے بور نہیں ہوتے اور بچے پڑھائی کو کھیل ہی سمجھتے ہیں۔
کنڈرگارڈن کے اندر ہی بچوں کو کراٹے، تیراکی، کمپیوٹر گیمز، اور جسمانی کھیل اور صحت کے نظام سے متعارف کروا دیا جاتا ہے۔
اس طرح جب بچہ سات سال کی عمر میں ہائی سکول میں داخل ہوتا ہے تو وہ اپنے اردگرد جدید دنیا کے ماحول، ٹیک، سائنس، زبانوں سے واقف ہو چکا ہوتا ہے۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}