تین طلاق کوموضوعِ مذاق بنانے کاذمے دارکون؟ — صادق رضامصباحی،ممبئی

تین طلاق کے مسئلے پرسپریم کورٹ کی سماعت کوابھی صرف تین دن گزرے ہیں مگرججوں کے تبصرےبتارہے ہیں کہ تین طلاق کامسئلہ مذاق کاموضوع بن کررہ گیاہے اوراس میں کوئی اور نہیں ہم مسلمان ہی ملوث ہیں جوایک سال سے اس مسئلے پرصرف بیان بازی کر رہے ہیں،مضامین لکھ رہے ہیں اورتقریریں کررہے ہیں مگراپنے موقف کوثابت کرنے کے لیے ہم نے کچھ بھی نہیں کیا ہے ۔ ہم نے اب تک صرف یہی کیاکہ آیات قرآنیہ اوراحادیث نبویہ سنا سنا کردنیاکواپنامو قف تسلیم کرنے پر مجبورکردیں اوردوسروں کےاعتراضات کوٹھنڈے دل سے سنے بغیراپنی مذہبیت کے جوش میں پائے حقارت سے ٹھکراتے رہیں۔اسی کانتیجہ ہےکہ سپریم کورٹ ہمارے مذہبی معاملے میں مداخلت کرنے پر مجبور ہوئی۔ ہم لاکھ نعرے لگائیں کہ ہمیں اپنے دینی معاملات میں کورٹ اورحکومت کی مداخلت ہرگزمنظورنہیں مگر ہم نے صرف نعرے لگائے ہیں ،اگرکچھ کیاہوتاتویہ معاملہ سپریم کورٹ نہ پہنچتا۔اب جب پہنچ ہی چکاہے تو نتائج بھی ہم ہی کوبھکتناہیں ۔ نتیجہ یہ ہے کہ تین طلاق کوازکاررفتہ قرار دیاجاچکاہےاورہمارادین ایک بارپھردشمنوں کی ہٹ لسٹ میں آچکاہے۔

اس مسئلےپرسپریم کورٹ میں مسلمانوں کی طرف سے دوفریق ہیں ایک جمعیت علمائے ہند اور دوسرا مسلم پرسنل لابورڈ،مسلم پرسنل لابوڈ کی جانب سے کانگریسی لیڈراور وکیل کپل سبل ججوں کے سامنے تین طلاق کے مسئلے کادفاع کر رہے ہیں مگربری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ کیامسلم پرسنل لا بورڈ کے ذمے داروں نے کپل سبل کوسپریم کورٹ بھیجنے سے قبل انہیں اچھی طرح یہ ازبر کرادیاتھا کہ تین طلاق اصلاً کیا ہے۔؟یقیناًنہیں کرایا تھا اور اگرکرایاتھاتووہ مسلمانوں کاموقف ججوں کے سامنے پیش کیوں نہیں کرسکے؟مسلمانوں کوعدلیہ پرپورابھروسہ ہے،عدلیہ کاجوبھی فیصلہ ہوتاہے وہ دلائل اور عقل ونقل کی بنیاد پرہوتاہے۔ اس مسئلے میں بھی سپریم کورٹ شواہدودلائل اورعقل وتجربے کی بنیاد پر ہی فیصلے دے گی اور فیصلہ کیاہوگا،یہ پہلے ہی دن کی سماعت سے معلوم ہوچکاہے ۔مسلم پرسنل لا بورڈ سمیت تمام علمااس بات پر مصرہیں کہ تین طلاق اسلام کاحصہ ہےاوریہ تین ہی ہیں توپھرسوال یہ ہے کہ بورڈکے وکیل کپل سبل بورڈکے اس موقف کوعدالت میں ثابت کیوں نہیں کر پا رہے ہیں؟جب ہمارے علماایک پڑھے لکھے انسان کو،ایک ماہروکیل کوتین طلاق پرمطمئن نہیں کرسکے توپھرکوئی عام آدمی کیسے مطمئن ہوسکے گا؟
دعویٰ کرنا،نعرے لگانااوربات ہے اوردلائل کی بنیادپراپناموقف ثابت کرنااوربات ہے ،ہم اب تک یہی دیکھتے آئے ہیں کہ ہمارے سربرآوردہ حضرات اسٹیجوں پراوراخباری بیانات میں بالعموم نعرے بازی اورجذباتیت کا سہارالیتے ہیں اورجب ثابت کرنے کی باری آتی ہے تب بھی جذبات کی رو انہیں بہالے جاتی ہے۔ہم پتہ نہیں کب سمجھیں گے کہ ہمارامخالف اورہماراجدیدمخاطب مسائل کو صرف سائنسی اور عقلی بنیادوں پرسمجھناچاہتاہےاورہم ہیں کہ صرف قرآن وحدیث کی بنیاد پر سمجھاناچاہتے ہیں۔ آج کی دنیاتفتیش کی ہے ،تجربات کی ہے ، ریسرچ کی ہے،سائنس کی ہے، ٹیکنالوجی کی ہے ،عقل ودانش کی ہے،یہاں کوئی بھی بات محض اس لیے نہیں تسلیم کرلی جاتی کہ وہ پہلے سے چلی آرہی ہے ۔یہاں عقلی دلائل کاسکہ چلتاہے بصورت دیگرہم اورہمارامذہب دونوں ہی موردِ طعن ٹھہرتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہم اپنے لیے جن سازشوں، عداوتوں اورتعصبوں کا حوالہ دیتے ہیں وہ زیادہ ترہماری اسی ذہنیت کی پیداوار ہیں یعنی اپناموقف مؤثر اور قابل قبول ڈھنگ سے ثابت نہ کر پانا۔ تین طلاق سمیت دیگرمسائل بھی ہماری اسی ذہنیت کی وجہ سے میڈیامیں اچھالے جارہے ہیں۔ اسلام دین فطرت ہے وہ کوئی بھی حکم خلاف عقل دے ہی نہیں سکتا بس یہ مذہبی اسکالرز اور علما پر منحصرہے کہ وہ اس کوکیسے ثابت کرتے ہیں ۔ سازش اورتعصب بعض مواقع پر تو ہوسکتی ہے ،ہرموقع پر نہیں کیوں کہ انسان چاہے کتناہی بدترین دشمن ہو،فطرت سے بغاوت نہیں کرسکتا۔
مجھے حیرت ہے کہ اس مسئلے کوموضوعِ بحث بنے ہوئے تقریباایک سال کاعرصہ گزر چکا ہے اوربورڈسمیت تمام ہندوستانی علمااس پرمحض بیان دیتے آ رہے ہیں۔سب کو معلوم تھاکہ یہ مسئلہ سپریم کورٹ جائے گاتوعقل مندی یہ تھی کہ اس سلسلے میں تیاری کی جاتی ،جن وکلا کی خدمات حاصل کرنی تھیں انہیں اچھی طرح بتایاجاتاہے،نقلاوعقلاًہرطرح کے ہتھیارو ں سے انہیں لیس کیاجاتا تاکہ وہ سپریم کورٹ میں بڑی مضبوطی اورطاقت کے ساتھ اسلام کا موقف پیش کر سکیں لیکن افسوس ایسا کچھ بھی نہیں ہوسکا۔تین طلاق کے نام پراپنی دوکان کامال خوب خوب فروخت کیا گیالیکن اسلام کے دفاع کی تیاری بالکل نہیں کی گئی جس کاحشرجوہوناتھا وہ ہورہاہے ۔
ہرچندکہ وزیراعظم نریندرمودی بارباریہ کہہ چکے ہیں کہ مسلمان اس معاملےکوخودہی آپس میں حل کرلیں مگرنریندرمودی جیسے وزیراعظم سے بہتریہ کون جان سکتاہے کہ اس معاملے میں کیاکسی بھی معاملے میں فرقوں میں بٹے ہوئے مسلمان کبھی بھی مل بیٹھ کرمسئلہ حل کرنے کو تیارنہیں ہوں گے ، ایک فرقے والااگرتیاربھی ہوجائے گاتودوسرافرقہ فتویٰ کاقلم دان لےکرسامنے آ جائے گااوریوں سارامعاملہ ٹائے ٹائے فش ہوجائے گا،مگرچوں کہ مودی جی کا’’احساس ذمے داری‘‘ انہیں بارباریہ کہنے پرمجبورکرتا ہے اس لیے بس وہ اپنا’’فرض منصبی ‘‘نبھارہے ہیں اورعلماکے وفودسے ملاقات کرکے اورانہیں مسائل کی یقین دہانی کراکردنیاکی نظروں میں اپنی ساکھ بہتربنارہے ہیں۔واقعہ یہ ہے کہ ہمارے وزیر اعظم کا یہ مشورہ بالکل صائب ہے۔ معاملات و مسائل آپسی مذاکرات سے ہی حل ہوں گے ورنہ ان کی درگت وہی بنے گی جوآج سپریم کورٹ سے تین طلاق کی بن چکی ہے ، سپریم کورٹ سے ہماری شکست ہوچکی ہے کیوں کہ مسلمانوں کا دفاعی وکیل بھی ہماراموقف مضبوطی کے ساتھ پیش کرنے میں ناکام ثابت ہواہے ۔ ایساکیوں ہو رہاہے اس کی بھی چندبنیادی وجوہ ہیں جس کاتذکرہ ہمارے معززہندوستانی علما کے ماتھے پرسلوٹیں بکھیر دے گااورمیں اپنے اندریہ جراء ت نہیں پاتاکہ اس گستاخی کاارتکاب کروں ۔
آپ جذباتی ہوکرنہیں ٹھنڈے دل سے غورکریں کہ سپریم کورٹ میں اسلام کی توہین ہوئی یا نہیں ،اگریہ مسئلہ آپسی مذاکرات سے حل ہوجاتاتوکیاآسمان سرپرٹوٹ پڑتا ؟ ہاں ،آسمان تو نہیں ٹوٹتا البتہ خانقاہوں ،مدرسوں اورشخصتیوں کے بنائے ہوئے مسلکی گھروندے ضرور منہدم ہوجاتے۔ابھی تو صرف تین طلاق کامعاملہ ہے ،سپریم کورٹ نے فی الحال تعددازواج اور یکساں سول کوڈپرسماعت کرنے سے انکارکردیاہے لیکن اس فیصلے سے ایک بات توکھل کرسامنے آچکی ہے کہ مسلمانوں کے دیگر بہت سارے مذہبی اورملی مسائل کی یہی درگت بننے والی ہے کیوں کہ نہ مسلم قائدین مل کربیٹھیں گے اورنہ مسئلہ حل ہوگااس لیے معاملات عدالتوں میں جائیں گےاورہم اپنے دین کی توہین کاسبب بنتے رہیں گےاور تین طلاق کی طرح دیگر مسائل بھی یوں ہی مذاق بن کر رہ جائیں گے۔اس وقت بھی ہم بس ایک ہی رٹارٹایالفظ بولیں گے:سازش۔
 موقع ہم خوددیتے ہیں اپنی جگ ہنسائی کااورٹھیکرہ دوسروں کےسرپھوڑتے ہیں۔آپ مانیں یانہ مانیں مسلم پرسنل لابورڈ بری طرح ناکام ہوچکاہے،وہ مسلمانوں کاموقف ڈھنگ سے پیش نہیں کر سکاہےجس سے مسلمانوں کاتومذاق بن ہی رہاہے ، ہمارا اسلام بھی نشانے پرآچکاہے ۔ اولاً توسپریم کورٹ جاناہی نہیں چاہیے تھا اور اگرپہنچ ہی گیاتھاتوپھراس کی نمائندگی بھرپورطریقے سے ہونی چاہیے تھی مگرہائے افسوس ،ایساکچھ بھی نہ ہوا۔سچی بات یہ ہےکہ یہ محض تین طلاق کامسئلہ نہیں بلکہ یہ مسلمانوں کی حماقتوں اورآپسی ناچاقی کامسئلہ ہے جوسپریم کورٹ پہنچاہے ۔وہ تنظیمیں اور افراد جو سال بھرسے چیخ چیخ کراعلان کرتے رہے کہ ہم تین طلاق کے مسئلے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے  اور ہم حکومت کی مداخلت برداشت نہیں کریں گے ،ان سے پوچھاجاناچاہیے کہ جب آپ کو کورٹ اور حکومت کی مداخلت برداشت نہیں تھی تو پھر یہ معاملہ سپریم کورٹ کس نے پہنچایا؟

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}