بیت اللہ پر اجارہ داری اور مسلم امہ کی ذمہ داری ۔۔۔ رانا عبدالکفیل

چودہ صدیاں پہلے بھی کعبہ پر اجارہ دار بن کر ابوجہل اور اسکی پارٹی نے انسانیت کا جینا حرام کر رکھا تھا ، کعبہ کے متولی ہونے کی وجہ سے عام انسان انکے خلاف کسی مزاحمتی جدوجہد کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے ، تبھی جناب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ پاک نے انسانیت کا راہنما و مسیحا بنا کر بھیجا اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک تاریخ ساز قیادت تشکیل دی۔
جس نے نہ صرف اول درجے میں ابوجہل اور اسکی پارٹی کو پیشانی کے بل گھسیٹا بلکہ عالمی سامراج قیصر و کسری کے ظالم شکنجے سے بھی انسانیت کو نجات عطاء کی۔
آج بھی اسی نمونے پر جدوجہد کی ضرورت ہے جو کہ شعوری بنیاد پر اوّل درجے میں قومی سطح کے استحصالی نظام کو بدلے  اور اگلے درجے میں عالمی سطح کے استحصالی نظام کوللکارے۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}