بچوں کا رویہ کیسے بدلا جاسکتا ہے ؟ ۔۔۔ جیمس پاو -ترجمہ :محمد اویس سندھو

اس کتاب کا ایک بنیادی نکتہ یہ ہے کہ والدین اور اساتذہ کے پاس طاقت کا ایک ایسا وسیع ذخیرہ ہے جس سے وہ بڑے پر اثر انداز سے بچے کا رویہ بدل سکتے ہیں۔ کئی والدین اس بات کی کوشش تو ضرور کرتے ہیں مگر وہ طریقہ استعمال نہیں کرتے جس سے ان کی طاقت کی عکاسی ہو۔ ہم یہ ثابت کریں گے کہ جو والدین واقعی اپنے بچوں کا رویہ بدلنا چاہتے ہیں وہ ایسا بڑی کامیابی سے کر سکتے ہیں۔

والدین بچوں کے رویہ میں تبدیلی اور بچوں کو بہتر طالب علم بنانے کے لیے کس طرح سے ان پر اثر انداز ہو سکتے ہیں؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اپنے مطالبے کی بہتر ترسیل کے ذریعے۔ یعنی صاف اور واضح انداز میں بتانا کہ بچے کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔ یعنی اصولوں کی شکل میں ان کو بتانا۔
ہمارا انداز سادہ لگتا ہے اور حقیقتاً ایسا ہی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کئی والدین اس بات پر اعتراض کریں اور کہیں کہ وہ یہ سب کچھ آزماچکے ہیں۔ تاہم بہت سے سریری تجربات (Clinical Experience) کے بعد ہمیں پتا چلا ہے کہ اگرچہ سب والدین کچھ نہ کچھ مطالبے کرتے رہتے ہیں لیکن عین اس وقت نہیں جب ان کو غلط رویے جیسے مسئلے کا سامنا ہوتا ہے۔
بے اثر ابلاغ (Ineffective Communication) کی کئی مختلف اقسام ہیں۔ کچھ تو غلط رویوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ دوسرے مطالبے کے قریب ہوتے ہیں۔ لیکن کوئی بھی صحیح طرح سے نہیں بتاتا کہ بچے کو کرنا کیا ہے۔ بعض بچوں کے ساتھ تو کمزور (روکھی پھیکی) ابلاغ بھی کام دے جاتی ہے۔ ایسے بچوں کی پرورش آسان ہوتی ہے۔ تاہم ایک مشکل حساس بچے کو ایسی بات (ابلاغ) کی ضرورت ہوتی ہے جو غیرمبہم ہو۔ ایسا ابلاغ جس کے بارے میں بچہ سو فی صد صحیح سمجھ سکے۔


کرداری مسائل زیادہ تر بے اثر ابلاغ کی وجہ سے ہی جنم لیتے ہیں۔ اگرہم والدین یا اساتذہ کے ابلاغ کا بغور تجزیہ کریں تو پتا چلتا ہے کہ وہ جس قسم کے رویے کا مطالبہ کر رہے ہوتے ہیں انہیں وہی رویہ نتیجے کے طور پر نظر آتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ جو والدین یا اساتذہ کہتے ہیں وہی بچے سمجھتے ہیں۔
وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے خوش دلی اور دلجمعی سے اپنا کام کریں۔ یہ ایک طرح سے غیر حقیقت پسند امید ہے۔ والدین ہونے کے ناطے زیادہ سے زیادہ جس کی ہم امید کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ان کا کردار اعلیٰ ہو یا بچہ ہمارے پسندیدہ رویے اپنانے کی طرف مائل ہو۔
اس باب میں ہم نے بچوں کے تعلیمی تجربات کی اہمیت اور ان کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا جائزہ لیا ہے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ کس طرح لیبلز بہانوں کی صورت اختیار کر جاتے ہیں اور اکثر نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ ہمیں کسی بھی مشکل کو کردار کے عام مسئلہ کے طور پر لینا چاہیے۔ اسی باب میں مشکل اور حساس طبیعت والے بچوں کا بھی ذکر تھا جنہیں زیادہ راہنمائی کی ضرور ت ہوتی ہے۔ آخر میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ہم رویہ تبدیل کر سکتے ہیں لیکن جذبات نہیں۔
‘Don’t let me catch you’
’’مجھے تم نظر نہ آئو‘‘
یا
‘I dare you’
’’تمہاری جرأت‘‘
Kevin ایک اچھی طالب علم تھی اور وہ زیادہ تنگ بھی نہیں کرتی تھی۔ تاہم ایک دن ٹیچر نے اسے امتحان میں نقل کرتے پکڑ لیا۔ غصہ میں ٹیچر چلائی ’’مجھے تم آئندہ یہ کام کرتی نظر نہ آئو‘‘ دو ہفتوں کے بعد Kevin دوبارہ نقل کرتی پکڑی گئی۔
بے اثر ابلاغ کی دوسری مثال:
Tom مسلسل (ہمیشہ) سکول سے گھر دیر سے آیا کرتا تھا۔ اس کی وجہ سے اس کا بھائی اور ماں بہت پریشان تھے کیونکہ وہ تینوں اکٹھے فٹ بال کھیلنے جاتے تھے اس لیے دونوں کو Tom کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔ Tom کی وجہ سے کئی دفعہ ان کی پریکٹس رہ جاتی تھی۔ جب ہمیں پتا چلا کہ Tom کی ماں اسے کیا کہا کرتی تھی تو وہ عموماً یہ تھا ’تمہارا بھائی تمہاری وجہ سے پریکٹس کیوں چھوڑے؟’’اگر تم ایک دن اور دیر سے آئے اور ہماری پریکٹس چھوٹی تو ۔۔۔۔۔ اچھا آئندہ تم اس طرح کرنا سہی!۔۔۔۔۔۔‘‘
Kevin نقل کرنے سے اور Tom دیر سے آنے سے باز نہ آیا۔ دراصل اس قسم کا ابلاغ بے راہروی کو شہہ دیتا ہے۔ کیون Kevin کی ٹیچر نے اسے کبھی نقل نہ کرنے کا نہیں کہا اور اسی طرح Tom کی ماں نے اسے کبھی وقت پر آنے کا نہیں کہا۔
Kevin کی ٹیچر نے اسے کبھی نظر نہ آنے کا کہا ہے اور Tom کی ماں نے اسے دوبارہ کرنے کی جرأت کرنا کہا ہے یہ ہم سب جانتے ہیں کہ dare جرأت کا لفظ ایسا ہے جسے ہم ایک چیلنج کے طور پر لیتے ہیں۔ یہ غلط رویوں کو روکنے کا کوئی براہِ راست مطالبے کا اظہار نہیں کرتا۔
قاری اس بات پر اعتراض کر سکتا ہے کہ بچہ مطلب سے خوب واقف ہوتا ہے۔ تاہم چھوٹے بچے مطلب نہیں سمجھتے۔ شائستہ مفروضے اخذ کرنے یا کہے ہوئے الفاظ سے معنی اخذ کرنے کی اہمیت سے قاصر ہوتے ہیں۔ وہ ہر چیز کو ویسے ہی لیتے ہیں جیسی وہ نظر آتی ہے۔
کسی 4 سالہ بچے کو کال کیجئے او ر اس سے پوچھیں کہ کیا اس کی ماں گھر پر ہے۔ وہ غالباً ’ہاں‘ میں جواب دے گا اور آپ بڑے صبر سے اس طرح اس کے اپنی ماں کو پکڑ کر فون تک لانے کا انتظار کریں گے۔ بچے نے صرف آپ کے الفاظ پر دھیان دیا اور اس بات کو نہیں سمجھا کہ آپ اس کی ماں سے بات کرنا چاہتے ہیں۔
بڑا بچہ شاید آپ کا مطلب جلد ہی سمجھ لے لیکن ضروری نہیں کہ یہ چیز صحیح ہی ہو۔ ایک بڑے بچے کا کام انہی ‘ اپنے والدین اور اپنے اساتذہ کی دنیا کو پرکھنا ہے۔ جب لوگ اپنی دھونس جمانے کی کوشش کرتے ہیں تو بچے سنجیدہ ہوتے ہیں‘ وہ اصل میں یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کون قابل اعتبار ہے اور کون نہیں۔
دوسرے لفظوں میں وہ بات میں رخنے (Loophole) تلاش کر رہے ہوتے ہیں اور اس قسم کی بے اثر بات تو Loophole سے بھری ہوتی ہے۔

اقتباس  از کتاب: آپ کا بچہ کیسے کامیاب ہو

۔ 30 20 480 0304کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیجیے

People Comments (1)

  • qazi inam May 24, 2017 at 9:38 pm

    meri aik kamzori hai k mai facebook pr na urdu mai likhna janta hu na roman mai bachay apnay mood k hotay hain kbhi meri madad kr dety hain kabhi meri soch ko berabt tehreer ka hissa bna dety hain urdu mai likhnay wali bachi to mery hath nae ai to roman mai likhnay wali bhi mood mai hi likh rahi hai bachon ki tarbiyat or un ki ibtedai umer ki pasand or napasand ko musbat rasto pr le kr jana nursery ki class k ander mahiry nafsiyat teacher bacho ko mukhtalif groups mai taqseem kr k un ki tarbiyat ka mal shuru hota hai jis mai walidain bhi mushawarat krty hain inshallah urdu mai is pr aik tehreer ap ki taraf bheju ga

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}