ہم قبائل — ابو اشھد

ہم قبائل :یہ حقیر اولاً تو کسی پارٹی اور تنظیم کے  شمار وقطار میں  بلکل نہیں ہے  کیوںکہ دیار غیر میں  دھاڑی دار مزدور ہوں  میری کون سنے گا مجھے کون پڑھے گا لیکن دل کے احساسوں سے  مجبور ہوں جب اپنوں کی  نفرت انگیز رویوں  اور غیر ذمہ دارانہ حرکات وسکنات کو دیکھتا ہوں تو بولنے لکھنے پر مجبور ہو جاتا ہوں۔ میرا مقصد نہ کسی کی ذلالت کا نہ کسی حلقے کی طرف انگلی اٹھانے کا  جو کچھ مقصد ہے وہ یہ کہ اپنے اس سب سے اہم مسئلے پر کچھ سوچ بچار کریں  کہ یہ مظلومیت اور ذلت  کی کالی ابر ظلمت کیوں نہیں مٹ رہی؟ ہم انسانیت  کی سب سے باعزت مقام سے گرے  ہوئے کیوں ہیں سب سے ذلیل و مجبور مظلوم در بدر سب سے کمزور، اور سب سے ذلیل کیوں ہیں ؟ اس علاقے میں اگر کوئی جنگلی بلا ماردے تو اس کے لیے سزا وار ہم  کیوں ہیں مگر کوئ کسی قبائلی  کا خون بہائے تو ساری زبانیں بند  ہوجاتی ہیں ۔ سب قوموں پر برے دن آئے اور رخصت ہوگئے؛ مگر ہماری پستی عروج بہ عروج کی مندر جات اج تک طے کر رہی ہے ذلت و  نفرتوں لا قانونیت و جہالت و دربدری  کے اس اندھے گہرے کنویں سے باہر آنے کی ہماری کوئی کوشش کامیاب کیوں نہیں ہو رہی؟         بے اصولیوں کی مثالیں ہمارے اطراف میں اس قدر بھری پڑی ہیں کہ کسی نشاندہی کی ضرورت نہیں۔ قبائلیوں میں جو ادارے  نظام حکومت و عدالت ہے کاروباری مقصد اور ذاتی مالی فائدوں کے لیے قائم کیے  گئیے ہیں ۔ہم سب کو پتہ ہے وہ  انسانی جانوں کے مارکیٹ کے معیارات کے  مطابق ہیں؛ مگر دوسری طرف ذرا سوچیے، قبائیلوں  کے پاس اس ملک میں کتنے ایسے  ادارے ہیں جو قومی ترقی وفلاح کے مقاصد کی خاطر قائم کیے گئے تھے،ان کا  انتظامی حال دیکھ کر عبرت ہوتی ہے۔ اچھے بہترین  سکول کالج  یونیورسٹی ہسپتال عدالت  وغیرہ وغیرہ 
             افسوس اس بات ہے کہ قبائل اعلیٰ درجے صاحب حیثیت ملکان و خانان و وزیران  کے اندر تنگ نظری کاحال  یہ ہو کہ ایک کام اگر ان کی قیادت وسربراہی میں انجام پایا جائے  چاہے عام عوام کی نسلیں تباہ ہو جائے ہمہ وقت اسی کی اہمیت پر زور دیتے رہیں گے اور تمام خلق کو اس میں مشغول ہونے کی دعوت دیتے رہیں گے پھر اگر اس کی سربراہی کسی اور کو  منتقل ہونے کا کچھ خطرہ آجائے اور وہ کچھ اچھا کرنے کا ترکیب سوجھے تو اب اس کا تذکرہ تو درکنارہ الٹا کردار کشی پر اتر اتے ہیں ۔
            شہرت طلبی نے ہمارے ہر کام کو محض نمائشی بنا دیا ہے۔ہر ایک کو بس اس کی فکر ہے کہ اس کی اور اس کے کام کی کتنی تحسین ہو رہی ہے۔اپنی خبریں چھپوانے کے لیے اخبارات  کو فیس بوکی مافیا کو اشتہارات سے نوازا جاتا ہے۔ کام کو اشتہار کی ضرورت ہوتو وہ بجا؛ مگر یہاں اشتہار کام کی ضرورت کے لیے نہیں بلکہ کام اشتہار کی ضرورت کے لیے ہو گیا ہے۔پستیوں نے ہمارے آخری حدوں کو چھو لیا ہے، 
تو کیوں نا صرف بار ایک موقع محبتوں حقیقتوں کو دیکر انسانی قدروں کو جانچ کر قبائلیوں کے مظلومیت کے لئیے سوچیں ۔شیعہ سنی طوری وزیری مہمند باجوڑی اورکزئ آفریدی سے ہٹ کر ایک انسانی زاویے پر سوچیں ۔
کیا ایسا ممکن  نہیں  ہے 
ہم مل کر ایسی آزادی  اور حل تلاش کریں جو ہمیں اپنی مرضی کے مطابق اور دیگر پاکستانیوں کی طرح  رہنے اور سوچنے کا حق دے اور ہمارے اس حق سے دوسروں کو نقصان بھی نہ پہنچے۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}