بدلتی دنیا کے تقاضے — قاضی انعام

ہمارا پورا خطہ تیزی سے نئی تبدیلیوں کی طرف بڑھ رہا ہے،فارن فنڈنگ اداروں کی آپس کی پراکسی جنگوں کے اندر غریب اور مظلوم عوام لقمہ اجل بن رہے ہیں ،کوئی پیٹ کی پیاس بجھانے کے لیے آغا خان ٹرسٹ کے ساتھ جڑا ہوا ہے، کوئی سعودی عرب کے فنڈز کے ساتھ جڑا ہوا ہے ،کوئی پس پردہ ایرانی امداد کے سہارے زندہ ہے۔

یہ مذہبی فرقہ واریت آج سے پینتیس سال پہلے ضیاء الحق مافیا نے پیدا کی تھی اور یہ سب کسی نا کسی حوالہ سے افغان وار کا حصہ رہے ہیں ،آغا خان ٹرسٹ اپنے سرمائے سے روس کے خلاف جنگ کو سپورٹ کرتا رہا ہے ،صاحبزادہ یعقوب خان براہ راست اسی ٹرسٹ کے آگے جواب دہ تھا،موجودہ خطہ کی صورتحال کے اندر بھاگتا ہوا امریکہ نئے سرے سے روس کے دروازہ پر اپنی بقاء اور سلامتی کی بھیک مانگنے کو تیار کھڑا نظر آرہا ہے تاکہ خطہ کے اندر طاقت کے توازن کو نئے سرے سے قائم رکھ کر چین کے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کو کنٹرول میں رکھا جاسکے،امریکہ کی اس سوچ کی حوصلہ افزائی طالبان فیکٹر اپنے مابعدطبیعاتی نظریات کی وجہ سے کر رہے ہیں ۔

امریکہ روس کو باور کروانا چاہتا ہے مسلم طالبان عفریت ہمارے مشترکہ تاریخی تشخص کے لیے چیلنج ہیں۔اشتراکی روس امریکہ کی نجی عالمی کارپوریشنوں کی مادر پدر آزادی سے نالاں ہے آخر امریکہ کو ان مادر پدر آزاد معاشی کارپوریشنوں کو قومی ملکیت میں لینا پڑے گا،تب امریکہ تقسیم ہونے سے بچتا ہے اور دنیا کا امن بھی ان کو لگام ڈالنے سے قائم رہ سکتا ہے،پاکستان کی خطہ کے اندر نئی تبدیل ہوتی سیاسی صورتحال کے اندر ضیاء باقیات ہر شعبہ زندگی کے اندر پریشان ہیں جنہوں نے انتہائی ارزاں داموں خام مال کی طرح طالبان کی تجارتی سودے بازی امریکی سامراج سے کی ہوئی تھی ،یہ مخصوص طبقہ بذریعہ سعودیہ عرب پھر ایک بار خام مال کی طرح طالبان کا امریکہ کے آگے سودا کرنا چاہتا ہے۔
موجودہ حکمرانوں نے نمک حلالی کرتے ہوئے روس سے سعودیہ عرب کی سلامتی کا پروانہ جاری کروایا تھا جس کو امریکہ نے سعودیہ عرب کے اندر تبدیلی لا کر ردّ کر دیا ہے، جس وجہ سے پاکستان کے اندر بذریعہ سعودیہ عرب سامراجی سپانسرڈ طبقہ نالاں نظر آرہا ہے ،پرنٹ اور کرنٹ میڈیا پر چھایا ہوا یہ طبقہ ریاستی اداروں سے بھی ناراضگی کا اظہار کر رہا ہے ،اس وقت ان رجعت پسندوں کے دانشور ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر تعلیم اور معیشت کے متبادل نظام کی جاہلانہ گفتگو میں الجھے ہوئے نئی تعلیم یافتہ نسل کو کنفیوز کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔

پاکستان کا سماجی ارتقا بنا زمینی سائنسی حقائق سے جڑے کارپوریٹ معیشت کا حصہ بن چکا ہے ،اگر یہی صورتحال چند سال بدستور رہی تو یہ نئی نسل ریاست کے تصور کو رد ّکر کے ملحقہ ریاستوں کے معاشی نظام کا حصہ بن جانے میں اپنی عافیت سمجھے گی ۔پاکستان کی بقاء اور سلامتی اسی میں ہے کہ مذہب کے نام نہاد ٹھیکے داروں سے ریاست کی جان چھڑائی جائے ۔ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر تاریخ کے پہیے کو زبردستی روکنے والے نام نہاد مذہبی دانشوروں سے بھی ملک کی جان چھڑانے کی ضرورت ہے ،ان دانشوروں کے دماغ کے اندر نا تو کوئی دلیل ہے نا اجتہاد کی قوت ۔پرانے اکابرین کے اندر اجتہاد بھی تھا اور دلیل بھی تھی ،جن کو برٹش سامراج نے ان جیسے مسلم موقع پرستوں کو ساتھ ملا کر ابھرنے نہ دیا اور پابند سلاسل رکھا ،ان کے برعکس دوسری طرف ہتھوڑے اور درانتی سے جڑی مابعد طبیعات کارل مارکس کو خدا بنا کر مذہبی ملائیت کی طرح مارکس ازم کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ،دونوں اطراف کی جہالتیں زمینی سائنسی حقائق اور جدلیاتی اصولوں کی نفی کرتے ہوئے اپنی پیدا کردہ شریعتوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ،یہ دونوں طبقے پچھلے70سال سے دیمک کی طرح پاکستان سے جڑے ہوئے اپنی اپنی ڈفلی بجا رہے ہیں اورطفیلی سرمایہ دار کمیشن ایجنٹ موقع پرست تاجر ریاست کو اپنے مفادات کی خاطر کارپوریٹ معیشت کی طرف دھکیل رہے ہیں ،ہماری نئی نسل کارپوریٹ تعلیمی نظام سے جڑ کر قومی ریاست سے بیزار نظر آرہی ہے،کارپوریٹ معیشت کی ایجنٹ سول سوسائٹی اور این جی اوز نئی نسل کے اذہان کو لبرل اور سیکولر ازم کے نام پر’’ یوٹوپیائی‘‘ نسلی لسانی حقوق کی تحریکوں کا حصہ بناکر کارپوریٹ معیشت کے نظام کی طرف دھکیلنے کی کوشش کررہے ہیں ،اور ہماری ترقی پسند ملائیت تاریخ اور حقائق کا ادراک کیے بغیر اس ’’یوٹوپیائی‘‘ کلاس کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}