مطالعہ کی عادت: کیا،کیوں اورکیسے؟ — محمدانس حسان

کتابیں علم کےحصول کاایک اہم ذریعہ ہیں! یہی وجہ ہےکہ علمی رسوخ اورپختگی کےلیےمطالعہ اولین شرط سمجھاجاتاہے! 
لیکن سوال پیداہوتاہےکہ کیامطالعہ کیاجائےاورکیسےمطالعہ کیاجائے؟ 
 ١_ سب سےپہلےاپنےآپ سےپوچھیےکہ آپ کوکس چیزکےمطالعے سےدلچسپی ہے؟ اس کاآسان طریقہ یہ ہےکہ اپنےروزمرہ کےمعمولات سےاندازہ لگائیں کہ آپ کس چیزکےمطالعےسےبوریت محسوس نہیں کرتے! مثلا:
(الف)  کچھ لوگوں کو ایک سےزائد اخبارات کی سرخیاں اور کالمز پڑھنےکاشوق ہوتاہےاوروہ اس عمل میں بوریت محسوس نہیں کرتے!تاہم اس میں قباحت یہ ہےکہ وہ لوگ جو اخبارات کےکالمزکواپنی علمی خوراک سمجھتےہیں اکثران کااپناعلمی تجزیہ کمزوراوردوسروں کےمطالعہ کامرہون منت ہوتاہے! اس طرزکےمطالعہ سےعموما ”جولکھاہےوہ سچ ہی لکھا ہے”کارویہ پیداہوتاہے اوراکثراس سےخودسےسوچنےسمجھنےکی صلاحیت بتدریج کمزورسےکمزورہوتی چلی جاتی ہے! 
توکیااخبارات اوران کےکالمزنہیں پڑھنےچاہئیں؟
نہیں! اس کایہ مطلب ہرگزنہیں کہ کالمز نہ پڑھےجائیں! آپ کالمز ضرورپڑھیں لیکن دوسروں کےتجزیوں کی چگالی کرنےکی بجائےخودسےتجزیہ کرنےکی مشق کیجیے! اس کےلیےضروری ہےکہ غیرمرعوب ذہن کےساتھ اورپہلےسےطےشدہ مقدمات کےبرعکس سوچنےکی عادت ڈالیں! اکثربڑی خبریں چھوٹی سرخیوں میں پوشیدہ ہوتی ہیں، بس انہیں درست زاویےسےپرکھنےکی ضرورت ہوتی ہے! ممکن ہےآغازمیں آپ کومشکل ہو لیکن آہستہ آہستہ آپ کےتجزیات میکناکی اندازمیں درست ثابت ہونےلگیں گے!
(ب)  اسی طرح بعض لوگوں کوجاسوسی، تاریخی اوررومانوی ناولز یاشعروشاعری کےمطالعے کابہت شوق ہوتاہےاورہرروزایک ضخیم ناول کواول تاآخرختم کرڈالنےسےبھی ان کےذہن پربوجھ نہیں ڈلتا! لیکن ان حضرات کو ناولزاورشاعری کےدیوان کےعلاوہ اگرکوئی اور کتاب تھمادی جائےتوسربوجھل محسوس ہونےلگتاہے یا غشی طاری ہونےلگتی ہے!
اس طرزکامطالعاتی شغف رکھنےوالوں کو دیکھا گیاہےکہ یہ اکثرخیالی دنیامیں رہتےہیں اورعملی دنیاسےان کاتعلق بہت واجبی سا ہوتاہے! نیز اس سے انفرادی واجتماعی ذمہ داریوں سےفرارکارویہ پیداہوتاہے!
توکیاناولزاورشاعری کامطالعہ درست نہیں؟
میراذاتی تجربہ یہ ہےکہ مطالعہ کا”سٹیمنا”پیداکرنےکےلیےناولز بہت مفیدثابت ہوتےہیں! ناولز ہمیں مطالعےکاتسلسل فراہم کرتےہیں! اس طرزکامطالعہ کرنےوالوں کوچاہیےکہ وہ بتدریج تسلسل کےساتھ پڑھنےکی مشق اپنےثانوی دلچسپی کےفنون سےمتعلق کتب پربھی کریں!
 اسی طرح شاعری ایجازکلام کانام ہے! شاعری کامطالعہ ہمیں سکھاتاہےکہ کم سےکم الفاظ میں زیادہ سےزیادہ معنی کیسےپیداکیےجاسکتےہیں! یادرکھیےکہ انسان کوئی مشین نہیں بلکہ اس میں جذبات کامادہ فطری طورپررکھاگیاہے! شاعری کامطالعہ ذہنی خشکی کوختم کرنےکےنقطہ نظرسےکرناچاہیے اوراس میں مستغرق نہ ہوناچاہیے!
٢_  اکثر یہ بھی دیکھاگیاہےکہ مطالعہ کاشوق رکھنےوالےبعض لوگ ہرطرح کےرطب ویابس کامطالعہ کرڈالناچاہتےہیں! شاعری کی کتاب ہاتھ آئی توپڑھ ڈالی! تفسیرکی کوئی کتاب ہاتھ آگئی تواسےپڑھ ڈالا! کسی نے فقہ کی کسی کتاب کی تعریف کردی تواس کامطالعہ کرڈالا! اس پرطرہ یہ کہ کوئی بھی کتاب مکمل نہیں پڑھتے! اس طرزمطالعہ میں چونکہ کوئی واضح ترتیب سامنےنہیں ہوتی لہذا منتشرمطالعہ انتشارِفکرکاسبب بنتاہے!
توکیامتنوع موضوعات پرکتب نہیں پڑھنی چاہئییں؟
یادرکھیےکہ ہماری زندگی بہت محدودہےاورکتب لامحدود! ایسےمیں مطالعےکی ایک ترتیب اورجہت مقررکرنی چاہیے! ویسےبھی آج کل کادورتخصص کادورہے! اس لیےکوشش کیجیےکہ کسی ایک جہت میں مطالعہ کاتخصصانہ ملکہ پیدا کیجیے! بیشک اپنےمقررکردہ دائرہ کارسےہٹ کربھی مطالعہ کیجیےمگر تب جب موضوع سےمتعلق مطالعہ کرنےکوکچھ نہ ہویاایک طرح کےمطالعہ سےاکتاہٹ محسوس ہونےلگے! یاپھراللہ تعالی نےآپ کوکئی جہات میں علمی وفنی مہارت سےنوازاہو! 
٣_  خواہ یونی ورسٹی سےمتعلق طلبہ ہوں یامدارس سےمتعلق طلبہ! عمومادیکھاگیاہےکہ دونوں کادرسی مطالعہ توہوتاہےلیکن خارجی مطالعہ نہ ہونےکےبرابرہوتاہے! ان سےقطبی یافزکس کےمسائل پوچھ لیجیےمگرغالب وآتش کاکچھ پتہ نہیں! 
توکیادوران تعلیم نصابی کتب کےعلاوہ کتب کےمطالعہ کےسبب تعلیمی بنیادیں کمزورنہ رہ جائیں گی؟
یادرکھیےکہ مطالعےکاذوق پیداکرنےمیں طالب علمی کازمانہ نہایت اہم کرداراداکرتاہے! اگراس زمانہ میں مطالعہ کاذوق پیدانہ ہوتوعموما بعدمیں بھی پیدانہیں ہوتا! لیکن اس حقیقت سےبھی انکارممکن نہیں کہ اگرطالب علم کی توجہ خارجی مطالعہ کی طرف زیادہ ہوتوبسااوقات نصابی کتب کےمطالعےمیں کمزوری درآتی ہے! اس کاحل یہ ہےکہ استادطالب علم کونصابی کتب کارٹالگوانےکی بجائے اس کتاب کی تدریس کےساتھ ساتھ اس کتاب سےمتعلق دیگرکتب  کابھی عمومی تعارف کروائےاوران میں ان کتب کےمطالعہ کی تحریک پیداکرتارہے! ضمنایہ بھی عرض کردوں کہ ایک استادکےلیےیہ بات فرض کےدرجےمیں ہونی چاہیےکہ وہ اپنےفن سےمتعلق کتب کابھرپورمطالعہ رکھتاہو اورکس کتاب کافہم کس کتاب کوپڑھنےکےبعدحاصل ہوگااس کامکمل ادراک رکھتاہو!
٤_  آخری بات یہ کہ اکثردیکھاگیاہےکہ مطالعہ انسان میں انسان دوستی کی بجائے علمی تکبرپیداکردیتاہے! انسان اپنےمطالعہ کےنتائج کوحتمی سمجھنےلگتاہے! اسی پربس نہیں بلکہ اس سےایک قدم آگےبڑھ کروہ دوسروں کےنتائج مطالعہ کی تنقیص کرنےلگتاہے! اسےلگتاہےکہ مطالعہ کےنتیجےمیں جس حقیقت کاادراک اورشعور اسےحاصل ہواہے،وہ اب تک کسی کوحاصل نہیں ہواتھا! یہ علمی سرشاری ایک فطری چیزہےاورحقائق کی تلاش کےسفرمیں اس مرحلےسےبہت سےلوگ گزرےہوں گے! 
لیکن!!!!!!
یادرکھیےکہ محض مطالعہ ہی سب کچھ نہیں! بہت سےلوگ مطالعہ کےمعاملہ میں ایک جیسےہوسکتےہیں لیکن ان میں اگرکوئی چیزفرق پیداکرتی ہےتووہ ان کی تربیت اوراخلاق ہے! علمی تکبرکوانسان دوستی میں بدلنےاورتحمل وبرداشت سےدوسروں کےنتائج مطالعہ کااحترام کرنےکےلیےضروری ہےکہ کسی مرشدصالح کاہاتھ تھاماجائے اوراپنی ذات کواس کےسپردکردیاجائے! 
بطورجملہ معترضہ شایدیہ کہنانامناسب نہ ہو کہ ایک عرصےتک مدارس کےفاضلین کوسندِفضیلت دیکرخانقاہوں کاراستہ دکھایاجاتاتھاتاکہ علمی تفوق کے ساتھ ساتھ وہ اخلاق عالیہ کے محاسن سے بھی متصف ٹھہریں۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}